مسودہ:اوداج اربعہ
| بعض عملی اور فقہی احکام |
|---|
| یہ مقالہ ایک فقہی موضوع کے بارے میں توصیفی تحریر ہے اور دینی اعمال کے لئے معیار نہیں بن سکتا۔ دینی اعمال کے لئے دیگر مصادر کی طرف رجوع کریں۔ |
اوداج اربعہ یا چار شہ رگیں، مری (کھانے کی نالی) حلقوم (سانس کی نالی) اور ان کے اطراف کی شہ رگوں کو کہتے ہیں، جن کا مکمل اور پے در پے کاٹنا شیعہ فقہ میں تذکیہ اور شرعی ذبح کی شرائط میں سے شمار ہوتا ہے۔
اہل سنت علماء کے درمیان اگرچہ شرعی تذکیہ کی کم از کم شرائط کے بارے میں اختلاف ہے، تاہم ان کے نزدیک بھی ذبح کا کامل ترین طریقہ اوداج اربعہ کو مکمل طور پر کاٹنا ہے۔
تعریف اور مقام بحث
چار شہ رگوں[1] یا اوداج اربعہ[2] سے مراد جانوروں کے حلقوم کے اطراف میں موجود ان چار بڑی رگوں یا اہم نالیوں کو کہا جاتا ہے:[3] جن میں مری یا پانی اور خوراک کی نالی، حلقوم یا سانس کی نالی اور حلقوم کے دونوں طرف کی دو بڑی شاہ رگیں شامل ہیں۔[4] ان چار رگوں کا کاٹنا متعلقہ جانور کی زندگی کے خاتمے کا سبب بنتا ہے۔[5]
اسلامی فقہ میں اوداج اربعہ کا ذکر طہارت[6] اور شکار و ذبح کے باب میں آتا ہے۔[7]
اوداج اربعہ کا کاٹنا شرعی ذبح کی پانچ شرائط میں سے ہے۔[8] مشہور شیعہ فقہا کے مطابق تذکیہ اور ذبیحہ کی حلیت کے لئے ان رگوں کو مکمل طور پر کاٹنا واجب ہے۔[9] اس حکم کی دلیل عبد الرحمن بن حجاج[10] سے مروی روایت ہے۔[11] اس کے مقابلے میں زید شحام سے کچھ روایات بھی نقل ہوئی ہیں جن کا ظاہر اس نظریہ سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔[12] بعض فقہاء نے ان روایات کو ایک دوسرے کے ساتھ تطبیق دینے کی کوشش کی ہے۔[13]
شیعہ فقہا کے نزدیک اگر کسی جانور میں مذکورہ چار رگیں نہ ہوں تو وہ تذکیہ کے قابل نہیں ہے؛ تاہم یہ حکم شکار کے قابل جانوروں پر لاگو نہیں ہوتا۔[14] اونٹ میں نحر (ہنسلی کی دو ہڈیوں کے درمیان میں چھری گاڑنا) کے بعد[15] اوداج اربعہ کاٹے جاتے ہیں۔[16]
اوداج اربعہ کو ان حصوں میں شمار کیا گیا ہے جن کا کھانا حرام ہے۔[17]
شیعہ فقہا میں سے محمد باقر بہبہانی ذبح کے وقت اوداج اربعہ کاٹنے کی شرط کو اسلام کے مخصوص احکام میں شمار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہودیوں، عیسائیوں اور مجوسیوں میں اس شرط کی پابندی ضروری نہیں ہے بلکہ ان کے یہاں جانور کو دوسرے طریقوں سے بھی ذبح کرتے سکتے ہیں۔[18]
اوداج اربعہ کاٹنے کی شرائط
فقہ میں اوداج اربعہ کے صحیح طریقے سے کاٹے جانے کے لئے شرائط ذکر کی گئی ہیں، جو یہ ہیں:
- اکثر فقہا کے مطابق[19] اگر اوداج اربعہ پوری طرح نہ کٹے ہوں یا ان میں سے صرف بعض کٹے ہوں تو ذبیحہ حلال نہ ہوگا[20] اور وہ مردار کے حکم میں ہوگا۔[21] بعض نے اس نظریہ کو مشہور فقہا کا نظریہ قرار دیا ہے[22] اور حتیٰ اس پر اجماع کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔[23] مقدس اردبیلی کے مطابق بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذبح شرعی کے لئے صرف دو شاہ رگوں کو کاٹنا ضروری ہے چار رگوں کا کاٹنا ضروری نہیں۔[24] اسی بنا پر بعض فقہا حلقوم کو کاٹنا اور معمول کے مطابق خون کا نکلنا ذبح کے لئے کافی سمجھتے ہیں؛ اگرچہ احتیاط کے طور پر اوداج اربعہ کاٹنے کے قائل ہیں۔[25] ایک گروہ کا خیال ہے کہ اوداج اربعہ ایک دوسرے سے متصل ہیں اور حلقوم کٹنے سے دیگر رگیں بھی کٹ جاتی ہیں، لہٰذا جو روایات صرف حلقوم کٹنے کی طرف اشارہ کرتی ہیں انہیں اسی معنیٰ پر حمل کی جاتی ہیں۔[26]
- چار رگوں کو گلے کے نچلے ابھار کے نیچے سے مکمل طور پر کاٹنا چاہئے؛[27] کیونکہ بصورت دیگر تمام اوداج اربعہ نہیں کٹتے۔[28]
- بعض کا خیال ہے کہ اوداج اربعہ کا کٹنا گلے کے سامنے کی طرف سے ہونا چاہئے[29] لیکن ایک گروہ نے گردن کے پیچھے کی طرف سے بھی ذبح کرنے کو، اگر اوداج کٹنے کے بعد جانور زندہ رہے تو صحیح قرار دیا ہے؛[30] البتہ اسے مکروہ سمجھتے ہیں۔[31]
- اوداج اربعہ کا کٹنا جانور کے مرنے سے پہلے پے در پے ہونا چاہئے؛[32] یعنی ذبح میں تواتر عرفی واجب ہے۔[33]
- اوداج اربعہ کٹنے کے بعد جانور کی حرکت اور حس ختم ہونے کا انتظار کرنا چاہئے، پھر دوسرے اعضاء الگ کئے جائیں؛ ورنہ جانور شدید تکلیف اور درد میں مبتلا ہوگا۔[34]
- بعض کا خیال ہے کہ تذکیہ ہونے کا یقین نہ ہو بلکہ شک ہو تو اصل استصحاب کی بنا پر تذکیہ محقق نہ ہونے[35] اور اصل عدم تذکیہ پر بنا رکھی جائے گی۔[36]
اہل سنت کا نظریہ
اہل سنت فقہا میں اوداج اربعہ کو کاٹنے کی کم از کم مقدار کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے؛ تاہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ تزکیہ کا بہترین اور مکمل ترین طریقہ اوداج اربعہ کا مکمل کاٹنا ہی ہے۔[37] شیخ طوسی نے کتاب الخلاف میں اہل سنت کے بعض فقہا کے آراء نقل کرنے کے بعد صراحت کی ہے کہ یہ نظریات کافی پختہ نہیں ہیں اور احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ گردن کی چاروں رگوں کو مکمل طور پر کاٹا جائے۔[38]
حوالہ جات
- ↑ فاضل لنکرانی، احکام جوانان، 1427ھ، ص173۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج 36، ص105؛ امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، قم، ج 2، ص147؛ عاملی، الاصطلاحات الفقہیۃ، 1413ھ، ص25۔
- ↑ فاضل لنکرانی، رسالہ توضیح المسائل، 1426ھ، ص523؛ منتظری، رسالہ استفتاءات، قم، ج 1، ص287۔
- ↑ مثال کے لئے ملاحظہ کریں: طوسی، الخلاف، 1407ھ، ج 6، ص47؛ حلی، تحریر الأحکام الشرعیۃ، 1420ھ، ج 4، ص624؛ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج 36، ص105؛ ابن جنید، مجموعۃ فتاوی ابن جنید، 1416ھ، ص315۔
- ↑ فیومی، المصباح المنیر، قم، ج 2، ص652؛ حمیری، شمس العلوم، 1420ھ، ج11، ص7105۔
- ↑ خویی، التنقیح، 1418ھ، الطہارۃ2، ص15؛ تبریزی، تنقیح مبانی العروۃ - کتاب الطہارۃ، 1426ھ، ج 2، ص54۔
- ↑ جمعی از پژوہشگران، فرہنگ فقہ، 1426ھ، ج 1، ص715۔
- ↑ حلی، إرشاد الأذہان، 1410ھ، ج 2، ص107؛ اردبیلی، مجمع الفائدۃ، 1403ھ، ج 11، ص95؛ نجفی، سفینۃ النجاۃ، 1423ھ، ج 3، ص16۔
- ↑ طوسی، الخلاف، 1407ھ، ج 6، ص47؛ محقق حلی، شرائع الإسلام، 1408ھ، ج 3، ص160؛ نجفی، سفینۃ النجاۃ، 1423ھ، ج 3، ص16؛ شہید ثانی، مسالک الأفہام، 1413ھ، ج 11، ص473؛ فیض کاشانی، مفاتیح الشرائع، قم، ج 2، ص201؛ جمعی از پژوہشگران، فرہنگ فقہ، 1426ھ، ج 3، ص702؛ جمعی از مؤلفان، مجلۃ فقہ أہل البیتؑ، قم، ج 9، ص176۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج6، ص228؛ صدوق، من لایحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج3، ص326۔
- ↑ جمعی از مؤلفان، مجلۃ فقہ أہل البیتؑ، قم، ج 9، ص176۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج6، ص228؛ طوسی، تہذیب الاحکام، 1407ھ، ج9، ص51۔
- ↑ جمعی از مؤلفان، مجلۃ فقہ أہل البیتؑ، قم، ج 9، ص176۔
- ↑ صدر، ما وراء الفقہ، 1420ھ، ج 7، ص272۔
- ↑ نجفی، سفینۃ النجاۃ، 1423ھ، ج 3، ص16۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج 36، ص119؛ بہجت، جامع المسائل، 1426ھ، ج 4، ص515۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج 36، ص343۔
- ↑ بہبہانی، حاشیۃ مجمع الفائدۃ، 1417ھ، ص650۔
- ↑ اردبیلی، مجمع الفائدۃ، 1403ھ، ج 11، ص95۔
- ↑ حلی، تحریر الأحکام الشرعیۃ، 1420، ج 4، ص624؛ نراقی، مستند الشیعۃ، 1415ھ، ج 15، ص405؛ نجفی، سفینۃ النجاۃ، 1423ھ، ج 3، ص16۔
- ↑ فاضل لنکرانی، جامع المسائل، قم، ج 1، ص354۔
- ↑ محقق حلی، شرائع الإسلام، 1408ھ، ج 3، ص160؛ جزیری، الفقہ، 1419ھ، ج 1، ص973۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج 36، ص105، بہ نقل از ابن البراج۔
- ↑ اردبیلی، مجمع الفائدۃ، 1403ھ، ج 11، ص95۔
- ↑ فیض کاشانی، النخبۃ، 1418ھ، ص236۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ؛ حائری، ریاض المسائل، 1418ھ، ج 13، ص318؛ سبزواری، مہذب الأحکام، 1413ھ، ج 23، ص64؛ منتظری، الأحکام الشرعیۃ، 1413ھ، ص503۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج 36، ص120؛ نجفی، سفینۃ النجاۃ، 1423ھ، ج 3، ص16؛ امام خمینی، توضیح المسائل محشی، 1424ھ، ج 2، ص571؛ فاضل لنکرانی، احکام جوانان، 1427ھ، ص173؛ اراکی، المسائل الواضحۃ، 1414ھ، ج 2، ص126؛ شبیری زنجانی، رسالہ توضیح المسائل، 1430ھ، ص564۔
- ↑ اصفہانی، وسیلۃ النجاۃ، 1422ھ، ص606؛ فاضل لنکرانی، تفصیل الشریعۃ، 1424ھ، ص370۔
- ↑ گلپایگانی، مجمع المسائل، 1409ھ، ج 2، ص334۔
- ↑ حلی، إرشاد الأذہان، 1410ھ، ج 2، ص108 ؛ جمعی از پژوہشگران، فرہنگ فقہ، 1426ھ، ج 3، ص703۔
- ↑ شیرازی، منتخب المسائل، بی تا، ص121۔
- ↑ منتظری، الأحکام الشرعیۃ، 1413ھ، ص503؛ جمعی از پژوہشگران، فرہنگ فقہ، 1426ھ، ج 3، ص703۔
- ↑ بہجت، جامع المسائل، 1426ھ، ج 4، ص522۔
- ↑ منسوب بہ امام رضاؑ، طب الرضاؑ، ص223۔
- ↑ تبریزی، تنقیح مبانی العروۃ، 1426ھ، ج 2، ص54؛ جمعی از مؤلفان، مجلۃ فقہ أہل البیتؑ عربی، ج 9، ص177۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج 36، ص120۔
- ↑ جمعی از مؤلفان، مجلۃ فقہ أہل البیتؑ عربی، ج 9، ص177۔
- ↑ طوسی، الخلاف، 1407ھ، ج 6، ص48۔
مآخذ
- ابن جنید اسکافی، محمد بن احمد، مجموعۃ فتاوی ابن جنید، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1416ھ۔
- اراکی، محمدعلی، المسائل الواضحۃ، قم، انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم، 1414ھ۔
- اردبیلی، احمد بن علی، مجمع الفائدۃ و البرہان فی شرح إرشاد الأذہان، تحقیق آقا مجتبی عراقی و علی پناہ اشتہاردی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1403ھ۔
- اصفہانی، سید ابوالحسن، وسیلۃ النجاۃ (مع حواشی الإمام الخمینی)، قم، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی قدس سرہ، 1422ھ۔
- امام خمینی، سید روح اللّہ، استفتاءات، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پانچویں اشاعت، 1422ھ۔
- امام خمینی، سید روح اللّہ، تحریر الوسیلۃ، قم، مؤسسہ مطبوعات دارالعلم، بی تا.
- امام خمینی، سید روح اللّہ، توضیح المسائل (محشّی - امام خمینی)، قم، دفتر انتشارات اسلامی، آٹھویں اشاعت، 1424ھ۔
- بہبہانی، محمدباقر، حاشیۃ مجمع الفائدۃ و البرہان، قم، مؤسسۃ العلامۃ المجدد الوحید البہبہانی، 1417ھ۔
- بہجت، محمدتقی، جامع المسائل، قم، دفتر معظم لہ، 1426ھ۔
- تبریزی، جواد بن علی، تنقیح مبانی العروۃ - کتاب الطہارۃ، قم، دارالصدیقۃ الشہیدۃ(س)، 1426ھ۔
- جزیری، عبدالرحمن، سید محمد غروی، یاسر مازح، الفقہ علی المذاہب الأربعۃ و مذہب أہل البیتؑ، بیروت، دارالثقلین، 1419ھ۔
- جمعی از پژوہشگران زیر نظر سید محمود ہاشمی شاہرودی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیتؑ، قم، مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی بر مذہب اہل بیتؑ، 1426ھ۔
- جمعی از مؤلفان، مجلۃ فقہ أہل البیتؑ، عربی، قم، مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی بر مذہب اہل بیتؑ، بی تا۔
- حائری، سید علی بن محمد، ریاض المسائل، قم، مؤسسہ آل البیتؑ، 1418ھ۔
- حلّی، حسن بن یوسف، إرشاد الأذہان إلی أحکام الإیمان، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1410ھ۔
- حلّی، حسن بن یوسف، تحریر الأحکام الشرعیۃ علی مذہب الإمامیۃ، قم، مؤسسہ امام صادقؑ، 1420ھ۔
- حلی، حسن بن یوسف، مختلف الشیعۃ فی أحکام الشریعۃ، قم، دفتر انتشارات اسلامی، دوسری اشاعت، 1413ھ۔
- حمیری، نشوان بن سعید، شمس العلوم و دواء کلام العرب من الکلوم، بیروت، دارالفکر المعاصر، 1420ھ۔
- خویی، سید ابوالقاسم، التنقیح فی شرح العروۃ الوثقی، قم، تحت اشراف جناب آقای لطفی، 1418ھ۔
- خویی، سید ابوالقاسم، موسوعۃ الإمام الخوئی، قم، مؤسسۃ إحیاء آثار الإمام الخوئی رہ، 1418ھ۔
- سبزواری، سید عبدالأعلی، مہذّب الأحکام، قم، مؤسسہ المنار، چوتھی اشاعت، 1413ھ۔
- شبر، سید علی، العمل الأبقی فی شرح العروۃ الوثقی، نجف اشرف، مطبعۃ النجف، 1383ھ۔
- شبیری زنجانی، سید موسی، رسالہ توضیح المسائل، قم، انتشارات سلسبیل، 1430ھ۔
- شہید اول، محمد بن مکی، اللمعۃ الدمشقیۃ فی فقہ الإمامیۃ، محمدتقی و علی اصغر مروارید، بیروت، دارالتراث، 1410ھ۔
- شہید ثانی، زین الدین بن علی، مسالک الأفہام إلی تنقیح شرائع الإسلام، قم، مؤسسۃ المعارف الإسلامیۃ، 1413ھ۔
- شیرازی، سید محمد، منتخب المسائل الإسلامیۃ، بی جا، بی تا۔
- صدر، سید محمد، ما وراء الفقہ، بیروت، دارالأضواء للطباعۃ و النشر و التوزیع، 1420ھ۔
- صدوق، محمد بن علی، من لایحضرہ الفقیہ، قم، دفتر انتشارات اسلامی، دوسری اشاعت، 1413ھ۔
- طوسی، محمد بن حسن، الخلاف، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1407ھ۔
- طوسی، محمد بن حسن، تہذیب الاحکام، تحقیق خرسان، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، 1407ھ۔
- عاملی، یاسین عیسی، الاصطلاحات الفقہیۃ فی الرسائل العملیۃ، بیروت، دارالبلاغۃ للطباعۃ و النشر و التوزیع، 1413ھ۔
- فاضل لنکرانی، محمد، احکام جوانان، قم، انتشارات امیر قلم، پنتیسویں اشاعت، 1427ھ۔
- فاضل لنکرانی، محمد، تفصیل الشریعۃ - الوقف، الوصیۃ، الأیمان و النذور، الکفارات، الصید، قم، مرکز فقہی ائمہ اطہارؑ، 1424ھ۔
- فاضل لنکرانی، محمد، تفصیل الشریعۃ فی شرح تحریر الوسیلۃ - النجاسات و أحکامہا، قم، مؤلف، 1409ھ۔
- فاضل لنکرانی، محمد، جامع المسائل (فارسی)، قم، انتشارات امیر قلم، گیارہویں اشاعت، بی تا۔
- فاضل لنکرانی، محمد، رسالہ توضیح المسائل، قم، بی جا،114ویں اشاعت، 1426ھ۔
- فیض کاشانی، محمد محسن، مفاتیح الشرائع، قم، انتشارات کتابخانہ آیۃ اللہ مرعشی نجفی، بی تا۔
- فیض کاشانی، محمدمحسن، الشافی فی العقائد و الأخلاق و الأحکام، تہران، دار نشر اللوح المحفوظ، 1425ھ۔
- فیض کاشانی، محمدمحسن، النخبۃ فی الحکمۃ العملیۃ و الأحکام الشرعیۃ، تہران، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، دوسری اشاعت، 1418ھ۔
- فیومی، احمد بن محمد مقری، المصباح المنیر فی غریب الشرح الکبیر للرافعی، قم، منشورات دارالرضی، بی تا۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تحقیق علی اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران، دارالکتب الإسلامیۃ، 1407ھ۔
- گلپایگانی، سید محمدرضا، مجمع المسائل للگلبایگانی، قم، دارالقرآن الکریم، دوسری اشاعت، 1409ھ۔
- مجلسی، محمدباقر، مرآۃ العقول فی شرح أخبار آل الرسول، تہران، دارالکتب الإسلامیۃ، دوسری اشاعت، 1404ھ۔
- محقق حلی، جعفر بن حسن، شرائع الإسلام فی مسائل الحلال و الحرام، قم، مؤسسہ اسماعیلیان، 1408ھ۔
- محمود، عبدالرحمان، معجم المصطلحات و الألفاظ الفقہیۃ، بی جا، بی تا۔
- منتظری نجف آبادی، حسین علی، الأحکام الشرعیۃ علی مذہب أہل البیتؑ، قم، نشر تفکر، 1413ھ۔
- منتظری نجف آبادی، حسین علی، رسالہ استفتاءات، قم، بی جا، بی تا۔
- منسوب بہ امام رضاؑ، طبّ الإمام الرضاؑ، (طب و بہداشت از امام رضا علیہ السلام)، ترجمہ تہران، معراجی، چھٹی اشاعت، 1381ہجری شمسی۔
- نجفی، کاشف الغطاء، احمد بن علی، سفینۃ النجاۃ و مشکاۃ الہدی و مصباح السعادات، نجف اشرف، مؤسسہ کاشف الغطاء، 1423ھ۔
- نجفی، محمدحسن، جواہر الکلام فی شرح شرائع الإسلام، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، ساتویں اشاعت، 1404ھ۔
- نراقی، مولی احمد بن محمدمہدی، مستند الشیعۃ فی أحکام الشریعۃ، قم، مؤسسہ آل البیتؑ، 1415ھ۔