نجمہ خاتون

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
نجمہ زوجہ امام موسی کاظم
کوائف
نام: نجمہ خاتون
اولاد: امام علی رضا (ع)، فاطمہ معصومہ (ع)
مشہور اقارب: امام موسی کاظم (شوہر)
وجہ شہرت: زوجہ امام موسی کاظم
محل زندگی: مدینہ
مدفن: مشربہ ام ابراہیم

نجمہ خاتون، امام موسی کاظم علیہ السلام کی زوجہ اور امام علی رضا علیہ السلام و فاطمہ معصومہ (ع) کی والدہ ہیں۔ یہ ایک کنیز تھیں جنہیں حمیدہ زوجہ امام صادق نے خرید کر امام موسی کاظم کو بخش دیا تھا۔ بعض جگہ آپ کا نام تکتم ذکر ہوا ہے۔

حسب و نسب

آپ بزرگ عجمی کنیز تھیں جو عربوں کے درمیان پیدا ہوئیں۔ بعض نے انہیں شمال آفریقہ کے شہر نوبہ اور بعض نے انہیں فرانس کے جنوب میں واقع جزیرے مارسی کا کہا ہے۔ اس لحاظ سے خیزران مرسیہ اور شقراء نوبیہ کے ناموں سے بھی جانی جاتی ہیں۔

نام اور القاب

آپ کا معروف ترین نام نجمہ خاتون ہے لیکن نوبیہ اروی، سمانہ، تکتم اور خیزران بھی ذکر ہوئے ہیں۔ آپ کا لقب شقراء اور کنیت ام البنین ہے۔ شیخ صدوق کی روایت کے مطابق جب نجمہ خاتون امام موسی کاظم سے متعلق ہوئیں تو آپ کا نام تکتم رکھا گیا اور جب امام رضا کی ولادت ہوئی تو طاہرہ رکھا گیا۔

ازدواج

امام موسی کاظم سے ان کی شادی کی تاریخ معلوم نہیں ہے۔ حمیدہ خاتون نے خواب دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اُنہیں حکم دیا کہ نجمہ کی شادی موسی کاظم سے کر دو۔ جلد ہی اس کے یہاں ایک بیٹا متولد ہوگا۔ میں نے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے نجمہ کی شادی امام موسی کاظم سے کر دی۔

مقام و منزلت

امام جعفر صادق ؑ کی زوجہ امام موسی کاظم سے خطاب کرتے ہوئے کہتی ہیں:

میں نے اس سے زیادہ مرتبے کی حامل کسی کنیز کو نہیں دیکھا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جلد ہی خداوند کریم اس سے ایک نسل کو واضح اور آشکار کرے گا۔[1] غلام فروش (جس سے نجمہ خاتون کو خریدا گیا) سے منقول ہے کہ اہل کتاب کی ایک خاتون نے نجمہ خاتون سے ایک عظیم فرزند متولد ہونے کی خبر دی تھی۔[2]۔

شیخ صدوق نے بھی علی بن میثم سے ایسی ہی ایک روایت، اس خواب کی طرف اشارہ کرتے جو حمیدہ خاتون نے دیکھا تھا، نقل کی ہے: رسول اللہ نے حمیدہ سے فرمایا: یہ کنیز نجمہ موسی کاظم کو بخش دو کیونکہ جلد ہی اس سے دنیا کے افضل ترین مولود کی پیدائش ہوگی لہذا وہ انہیں امام موسی کاظم کو بخش دیتی ہیں اس وقت وہ دو شیزہ تھیں۔[3][4] امام موسی کاظم نے بھی اس واقعہ کو بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول خدا (ص) کے حکم سے نجمہ کو خریدا ہے۔[5]۔

عبادت

نجمہ خاتون سے منسوب مقبرہ، تخریب سے پہلے

امام رضا ؑ فرماتے میں کہ میری والدہ میرے حمل کے دوران کسی قسم کے بوجھ کا احساس نہیں کرتی تھیں نیز وہ اس دوران اپنے خواب میں تسبیح و تحلیل کی آواز سنتی تو بیدار ہو جاتیں لیکن وہاں پر کسی کو موجود نہ پاتیں۔ میری والدہ ایک عابدہ اور با فضیلت خاتون تھیں جو کثرت سے ذکر خدا میں مشغول رہتیں۔

ایک اور روایت میں آیا ہے: نجمہ خاتون نے امام علی رضا کے حمل کے دوران نماز اور عبادت کو انجام دینے کی خاطر ایک کنیز کی درخواست کی۔[6]

وفات اور محل دفن

نجمہ خاتون کی تاریخ وفات کے بارے میں اطلاعات دسترس میں نہیں ہیں۔ البتہ بعض اقوال کے مطابق ان کا محل دفن جنت البقیع کے مشرقی علاقہ العوالی میں واقع مشربہ ام ابراہیم میں حمیدہ زوجہ امام صادق کے پہلو میں ذکر ہوا ہے۔[7]

حوالہ جات

  1. صدوق،امالی، ص۲۴
  2. عیون أخبار الرضا علیہ ‌السلام، ج۱، ص۱۸
  3. صدوق،امالی، ص۲۶
  4. صدوق، عیون اخبار الرضا، ج ۲، ص ۲۴
  5. إثبات الوصیہ، المسعودی،ص:۲۰۲
  6. عیون أخبار الرضا علیہ‌ السلام، ج۱، ص۱۵
  7. فدك و العوالي، الحسيني الجلالي ،ص:55


مآخذ

  • اربلی، علی بن عسیی (۶۹۲ ھ)، کشف الغمہ، مصحح رسولی محلاتی، بنی ہاشمی، تبریز، ۱۳۸۱ق، چاپ اول.
  • شیخ کلینی، کافی، علی اکبر غفاری، ہفت جلدی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، چاپ سوم، ۱۳۶۷ش.
  • صدوق، محمد بن علی، امالی، ترجمہ کمره‌ای، تہران، کتابخانہ اسلامیہ، ۱۳۶۲ش.
  • صدوق، محمد، عیون اخبار الرضا، تحقیق حسین اعلمی، بیروت، مؤسسہ الاعلمی للمطبوعات، ۱۴۰۴ ه.
  • قائمی، علی، درمکتب عالم آل محمد، انتشارات امیری، بہار ۷۸، قم.
  • قمی، حسین بن محمد بن حسن (۳۷۸)، تاریخ قم، ترجمہ حسن بن علی بن حسن عبد الملک قمی (در ۸۰۵)، تحقیق سید جلال الدین تہرانی، تہران، توس، ۱۳۶۱ش.
  • مسعودی، علی بن حسین، اثبات الوصیہ، انصاریان، قم، ۱۴۲۶ق، چاپ سوم.
  • مجمل التواریخ و القصص، مؤلف مجہول (نوشتہ در ۵۲۰)، تحقیق ملک الشعراء بہار، تہران، کلالہ خاور، بی‌تا.
  • مظفری، حیدر، مادران چہارده معصوم، مرکز جہانی علوم اسلامی، قم، 1382ش، چاپ اول.