مسودہ:بنی اسرائیل کی سرگردانی
بنی اسرائیل کی سرگردانی ان قرآنی داستانوں میں سے ایک ہے جس میں حضرت موسیٰؑ کی نافرمانی کے بعد بنی اسرائیل کو چالیس سال تک سرزمینِ مقدس میں داخل ہونے سے محروم کر دیا گیا اور وہ صحرائے تِیہ میں سرگرداں رہے۔ یہ واقعہ سورہ مائدہ کی آیات 20 تا 26 میں بیان ہوا ہے۔ اس واقعے کی علت، مقام اور کیفیت کے بارے میں تفسیری منابع میں مختلف آراء پیش کی گئی ہیں۔ اسلامی مصادر میں اس دور کے دوران بنی اسرائیل کے لیے بادل کا سایہ فراہم ہونے، مَنّ و سَلویٰ نازل ہونے اور چٹان سے پانی جاری ہونے جیسے واقعات بھی بیان کیے گئے ہیں۔ اس واقعے کا ذکر کتاب مقدس میں بھی ملتا ہے اور اسلامی روایات و تفاسیر میں اسے نافرمانی اور امت میں تفرقے کے نتائج سے خبردار کرنے کے لیے بھی بیان کیا گیا ہے۔
حضرت موسیٰؑ کے حکم سے بنی اسرائیل کی سرپیچی کا انجام
بنی اسرائیل کی سرگردانی قرآن میں بنی اسرائیل سے متعلق بیان ہونے والی قرآنی قصوں میں سے ایک ہے، جس کا ذکر سورہ مائدہ کی آیت نمبر 20 سے لیکر 26 تک میں ہوا ہے۔[1] یہ واقعہ بنی اسرائیل کے مصر سے نکلنے کے بعد اس وقت پیش آیا جب وہ سرزمین مقدس کی حدود تک پہنچے۔[2] حضرت موسیٰ ؑ نے انہیں سرزمینِ مقدس میں داخل ہونے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی دعوت دی، لیکن انہوں نے وہاں کے باشندوں کی طاقت کا بہانہ بنا کر اس حکم کو ماننے سے انکار کر دیا۔[3] اس نافرمانی کے نتیجے میں چالیس سال تک ان کا سرزمینِ مقدس میں داخلہ ممنوع قرار دیا گیا اور وہ صحرائے تِیہ میں سرگرداں رہے۔[4] بعض منابع کے مطابق یہ سرگردانی حضرت موسیٰؑ کی بددعا اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کی قبولیت کے بعد پیش آئی۔[5] بعض تفاسیر میں مذکورہ نافرمانی کے علاوہ،[6] بنی اسرائیل کی چالیس روزہ گوسالہ پرستی[7] کو بھی ان کی سرگردانی کے اسباب میں شمار کیا گیا ہے۔[8] اسی طرح بعض روایات میں بلعم باعوراء کی بددعا کو بھی اس سرگردانی کا سبب قرار دیا گیا ہے؛ تاہم چھٹی صدی ہجری کے مفسر ابوالفتوح رازی نے اس روایت کو عقل و شرع کے منافی قرار دیا ہے۔[9]
ابن خلدون[10] اور بعض مفسرین نے بنی اسرائیل کی چالیس سالہ سرگردانی کو سزا کے ساتھ ساتھ ان کی اصلاح کا ایک موقع بھی قرار دیا ہے۔[11] ان کے مطابق، وہ نسل جو کئی سال تک فرعون کے تسلط میں رہی تھی، ایک آزاد اور خودمختار معاشرہ تشکیل دینے کے لیے ضروری تیاری نہیں رکھتی تھی؛ اس لیے یہ دور ایک ایسی نئی نسل کی تشکیل کا ذریعہ بنا جو اس مقصد کے لیے زیادہ تیار تھی۔[12] بعض محققین نے بھی بنی اسرائیل کی سرگردانی کے اس دور کو ان کی آزمائش اور تربیت کا مرحلہ قرار دیا ہے۔[13]
سرگردانی کا مقام اور کیفیت
بعض منابع میں بنی اسرائیل کی سرگردانی کی جگہ مصر میں صحرائے سینا[14] اور بعض میں چھ فرسخ طول والے کسی علاقے کو قرار دیا گیا ہے۔[15] بنی اسرائیل کی اسی سرگردانی کی نسبت سے اس علاقے کو صحرائے تِیہ کہا گیا ہے۔[16] ان کی سرگردانی کی کیفیت کے بارے میں اسلامی منابع میں مختلف آراء بیان ہوئی ہیں؛ مثلاً یہ کہ انہیں معجزانہ طور پر دوبارہ ان کے نقطۂ آغاز کی طرف لوٹا دیا جاتا تھا یا راستے کی نشانیاں ان سے پوشیدہ ہو جاتی تھیں۔[17] بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ وہ رات کے وقت سفر کرتے اور صبح ہوتے ہی دوبارہ اسی مقام پر پہنچ جاتے جہاں سے انہوں نے سفر شروع کیا تھا۔[18]
زیادہ تر مفسرین نے قرآن میں بنی اسرائیل کے سرزمینِ مقدس میں داخلے کی ممانعت[19] کو شرعی حکم کے بجائے تکوینی ممانعت قرار دیا ہے؛ یعنی اللہ تعالیٰ نے مقرر کر دیا تھا کہ بنی اسرائیل چالیس سال تک اس سرزمین میں داخل ہونے کی قدرت سے محروم رہیں گے۔[20]
سرگردانی کے دوران پیش آنے والے واقعات
بنی اسرائیل کی چالیس سالہ سرگردانی مختلف واقعات، حادثات اور نعمتوں کے ساتھ گزری۔[21] بعض مفسرین نے قرآن کی متعدد آیات[22] کو اسی دور سے متعلق قرار دیا ہے:
بنی اسرائیل پر بادل کا سایہ؛ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 57 کی تفسیر میں بعض مفسرین کے مطابق، جب بنی اسرائیل نے بیابان کی گرمی کی شکایت کی اور اپنی نافرمانی پر پشیمان ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے بادل کے ذریعے ان پر سایہ کیا۔[23]
منّ و سلوی کا نزول؛ تفاسیر میں مَنّ و سَلویٰ[24] کو بھی سرگردانی کے دوران بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں شمار کیا گیا ہے۔[25]
چٹان سے چشمہ پھوٹنا؛ تفسیری منابع کے مطابق، جب بنی اسرائیل نے بیابان میں پیاس کی شکایت کی تو حضرت موسیٰؑ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنا عصا چٹان پر مارا، جس کے نتیجے میں بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کے لیے بارہ چشمے جاری ہوگئے۔[26]
حضرت موسی اور ہارون کی وفات؛ زیادہ تر مفسرین نے بعض روایات[27] کی بنیاد پر حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ کی وفات کو بنی اسرائیل کی سرگردانی کے زمانے میں قرار دیا ہے۔[28] اس کے مقابلے میں طبرسی کے مطابق، بعض مفسرین نے انبیاء کے عذاب سے محفوظ ہونے کی دلیل پیش کرتے ہوئے اس بات کو قبول نہیں کیا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون صحرائے تِیہ میں موجود رہے ہوں۔[29] بعض دوسرے علماء نے حضرت ابراہیمؑ کو آگ سے نجات ملنے کے واقعے کی بنیاد پر اس استدلال کو قبول نہیں کیا اور یہ امکان بیان کیا ہے کہ ایسے حالات میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کو نقصان اور عذاب سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔[30]
کتابِ مقدس کے مطابق بنی اسرائیل کی سرگردانی
بنی اسرائیل کی نافرمانی، ان کی سزا اور صحرا میں سرگردانی کا واقعہ کتاب مقدس میں بھی بیان ہوا ہے۔[31] تورات کے ایک اہم حصے سفرِ اعداد میں بنی اسرائیل کی تاریخ کے اسی دور کا بڑی حد تک ذکر ہے۔ عبرانی تورات میں اسے ’’صحرا میں‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔[32] اس بیان کے مطابق، جب بنی اسرائیل کو اپنی سزا کا علم ہوا تو وہ پشیمان ہوئے اور حضرت موسیٰؑ کے حکم کے برخلاف سرزمینِ مقدس میں داخل ہونے کے لیے روانہ ہوگئے؛ لیکن عمالقہ کے ساتھ جنگ میں شکست کھا کر واپس لوٹ آئے۔[33]
اس کے بعد بنی اسرائیل کئی سال تک صحرا میں سرگرداں رہے[34] اور راستے میں مختلف گروہوں سے ان کے مقابلے بھی ہوئے، یہاں تک کہ وہ دریائے اردن کے مشرقی میں دشتِ موآب نامی علاقے میں جاکر آباد ہوئے۔[35] اس دوران ان کے درمیان اخلاقی اور دینی انحرافات اور بیماری پھیلنے جیسے واقعات بھی بیان کیے گئے ہیں۔[36] حضرت موسیٰؑ کی وفات کے بعد یوشع بن نون نے بنی اسرائیل کی قیادت سنبھالی اور انہیں سرزمینِ موعود کی طرف لے کرگئے۔[37]
امتِ اسلام کو سرگردانی سے خبردار کرنا
حضرت امام محمد باقرؑ سے منقول ایک روایت[38] میں رسول خداؐ کی رحلت کے بعد امتِ اسلام کی صورتِ حال کو بنی اسرائیل کی سرگردانی سے تشبیہ دی گئی ہے۔ وجی تشبیہ یہ کہ مسلمان امام علیؑ کی امامت کو پہچاننے اور اسے قبول کرنے کے معاملے میں چالیس سال تک سرگرداں رہے۔[39] علامہ مجلسی نے اس روایت کی بنیاد پر اس دور کا آغاز رسول خداؐ کی جانب سے امام علیؑ کو اپنا جانشین مقرر کیے جانے کے اعلان قرار دیا ہے، جو مدینہ کی طرف ہجرت سے پہلے ہوا تھا۔[40]
امام علیؑ نے بھی نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر 166 میں بنی اسرائیل کی نافرمانی کے بعد پیش آنے والی سرگردانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو تفرقے اور حق کی نصرت میں کوتاہی سے خبردار کیا ہے۔[41] بعض مفسرین نے بھی بنی اسرائیل کے اس واقعے سے استناد کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کو افراد اور معاشروں کے حالات اور انجام میں تبدیلی کا ایک مؤثر عامل قرار دیا ہے۔[42]
حوالہ جات
- ↑ اسدی، «وادی سرگردانی؛ بررسی روایت عہد عتیق و قرآن کریم دربارہ وادی تیہ»، ص6۔
- ↑ مرکز فرہنگ ومعارف قرآن، دائرة المعارف قرآن کریم، ج2، ص520؛ قُرَشی، تفسیر احسن الحدیث، ج3، ص47۔
- ↑ نمونہ کے لیے ملاحظہ کیجیے: طباطبایی، المیزان، ج5، ص292؛ سید قطب، فی ظلال القرآن، ج2، ص870-871؛ فیضالاسلام، ترجمہ و تفسیر قرآن، ج1، ص222۔
- ↑ نمونہ کے لیے ملاحظہ کیجیے: عیاشی، التفسیر، ج1، ص304، حدیث 70؛ مَغنیہ، التفسیر الکاشف، ج3، ص44؛ ابنکثیر، تفسیر القرآن العظیم، ج3، ص71؛ ہاشمی رفسنجانی، تفسیر راہنما، ج4، ص240۔
- ↑ فیض کاشانی، تفسیر الصافی، ج2، ص24؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج4، ص343؛ مدرسی، من ہدی القرآن، ج2، ص349؛ فیضالاسلام، ترجمہ و تفسیر قرآن، ج1، ص223۔
- ↑ سورۂ مائدہ آیہ 24-26۔
- ↑ شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج3، ص491۔
- ↑ مرکز فرہنگ ومعارف قرآن، دائرۃ المعارف قرآن کریم، ج9، ص264۔
- ↑ ابوالفتوح رازی، روض الجنان ج9، ص14۔
- ↑ ابنخلدون، تاریخ ابنخلدون، ج1، ص141-142۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج4، ص344؛ سید قطب، فی ظلال القرآن، ج2، ص871۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج4، ص344؛ سید قطب، فی ظلال القرآن، ج2، ص871؛ ابنخلدون، تاریخ ابنخلدون، مؤسسہ اعلمی، ج1، ص141-142۔
- ↑ اسدی، «وادی سرگردانی؛ بررسی روایت عہد عتیق و قرآن کریم دربارہ وادی تیہ»، ص8۔
- ↑ عیاشی، التفسیر، ج1، ص305-306۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، ج3، ص281۔
- ↑ شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج3، ص490۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، ج3، ص281۔
- ↑ عیاشی، التفسیر، ج1، ص304، حدیث 74؛ شیخ مفید، الإختصاص، ص265؛ بحرانی، البرہان، ج2، ص267، حدیث 3011۔
- ↑ سورہ مائدہ، آیہ 26۔
- ↑ نمونہ کے لیے ملاحظہ کیجیے: شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج3، ص490؛ طباطبایی، المیزان، ج5، ص294؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ج11، ص336۔
- ↑ اسدی، «وادی سرگردانی؛ بررسی روایت عہد عتیق و قرآن کریم دربارہ وادی تیہ»، ص9۔
- ↑ شیخ طوسی، التبیان، ج1، ص259 و 269؛ طبرسی، مجمع البیان، ج1، ص243-244؛ ابنکثیر، تفسیر القرآن العظیم، ج1، ص168-172۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، ج1، ص243؛ شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج3، ص258؛ طباطبایی، المیزان، ج1، ص205۔
- ↑ قُرَشی، تفسیر احسن الحدیث، ج4، ص22۔
- ↑ شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج3، ص258-259؛ طبرسی، مجمع البیان، ج1، ص243۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، ج1، ص250؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ج3، ص528؛ فیض کاشانی، تفسیر الصافی، ج1، ص136-137۔
- ↑ نمونہ کے لیے ملاحظہ کیجیے: کوفی اہوازی، الزہد، ص80، حدیث 215؛ کلینی، الکافی، ج3، ص112، حدیث 4؛ شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمۃ، ج1، ص154، حدیث 17۔
- ↑ نمونہ کے لیے ملاحظہ کیجیے: طبرسی، قمی، تفسیر القمی، ج1، ص165؛ شریف لاہیجی، تفسیر شریف لاہیجی، ج1، ص638؛ شاہعبدالعظیمی، تفسیر إثنی عشری، ج3، ص60۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، ج3، ص281۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، ج3، ص281۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: کتاب مقدس، کتاب اعداد، باب 14، آیہ 26-36۔
- ↑ بطرس، قاموس الکتاب المقدس، ص609۔
- ↑ کتاب مقدس، کتاب اعداد، باب 14، آیہ 1-45۔
- ↑ شرکۃ ماستر میدیا، التفسیر التطبیقی للکتاب المقدس، ص270-271۔
- ↑ کتاب مقدس، کتاب اعداد، باب 20، آیہ 14-21 و باب 21، آیہ 1-35 و باب 22، آیہ 1۔
- ↑ کتاب مقدس، کتاب اعداد، باب 23، آیہ 1-13 و باب 25، آیہ 1-9۔
- ↑ کتاب مقدس، کتاب یوشع، باب 1، آیہ 1-4۔
- ↑ عیاشی، التفسیر، ج1، ص303-304، حدیث 68۔
- ↑ رضایی اصفہانی، تفسیر قرآن مہر، ج5، ص93۔
- ↑ مجلسی، بحار الانوار، ج13، ص180۔
- ↑ نہج البلاغۃ (للصبحی صالح)۔ خطبۂ 166، ص241۔
- ↑ قُرَشی، تفسیر احسن الحدیث، ج3، ص50۔
مآخذ
- قرآن کریم۔
- ابوالفتوح رازی، حسین بن علی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیر القرآن، مصحح: محمدمہدی ناصح و محمدجعفر یاحقی، مشہد، بنیاد پژوہشہای اسلامی آستان قدس رضوی، پہلی اشاعت، 1371ہجری شمسی۔
- ابنخلدون، عبد الرحمان بن محمد، تاریخ ابنخلدون، بیروت، مؤسسہ اعلمی، بے تا۔
- ابنکثیر دمشقی، اسماعیل بن عمرو، تفسیر القرآن العظیم، تحقیق: محمد حسین شمس الدین، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، منشورات محمدعلی بیضون، پہلی اشاعت، 1419ھ۔
- اسدی، علی، «وادی سرگردانی بررسی روایت عهد عتیق و قرآن کریم دربارة وادی تیه» (وادیِ سرگردانی؛ عہدِ عتیق اور قرآنِ کریم میں وادیِ تیہ کے واقعات کا جائزہ)، علمی تحقیقی جریدہ معرفت ادیان، سال دوم، شمارہ اول، سرما 1389ہجری شمسی۔
- بحرانی، سید ہاشم بن سلیمان، البرہان فی تفسیر القرآن، مصحح: قسم الدراسات الإسلامیۃ مؤسسۃ البعثۃ، قم، مؤسسہ بعثہ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔
- بطرس عبدالملک و دیگران، قاموس الکتاب المقدس، قاہرہ، دارالثقافۃ، نویں اشاعت، 1994ء۔
- رضایی اصفہانی، محمدعلی، تفسیر قرآن مہر، قم، پژوہشہای تفسیر و علوم قرآن، پہلی اشاعت، 1387ہجری شمسی۔
- سید قطب، ابراہیم حسین شاذلی، فی ظلال القرآن، بیروت، دارالشروق، پندرہویں اشاعت، 1408ھ۔
- شاہعبدالعظیمی، حسین، تفسیر إثنی عشری، تہران، نشر میقات، پہلی اشاعت، 1363ھ۔
- شرکۃ ماستر میدیا، التفسیر التطبیقی للکتاب المقدس، قاہرہ، شرکۃ ماستر میدیا، 1997ء۔
- شریف لاہیجی، محمد بن علی، تفسیر شریف لاہیجی، تحقیق: حسینی ارموی (محدث)، میر جلال الدین، تہران، دفتر نشر داد، پہلی اشاعت، 1373ہجری شمسی۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، کمال الدین و تمام النعمۃ، تحقیق و تصحیح: علیاکبر غفاری، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، دوسری اشاعت، 1395ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، با مقدمہ: شیخ آقابزرگ تہرانی، تحقیق: احمد قصیرعاملی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، پہلی اشاعت، بے تا۔
- شیخ مفید، محمد بن محمد، الإختصاص، مصحح: علیاکبر غفاری و محمود محرمی زرندی، قم، کنگرہ جہانی ہزارہ شیخ مفید، پہلی اشاعت، 1413ھ۔
- طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، تیسری اشاعت، 1352ہجری شمسی۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مقدمہ: محمدجواد بلاغی، مصحح: فضلاللہ یزدی طباطبایی و ہاشم رسولی، بیروت، دارالمعرفۃ، دوسری اشاعت، 1408ھ۔
- عیاشی، محمد بن مسعود، التفسیر، محقق و مصحح: ہاشم رسولی محلاتی، تہران، المطبعۃ العلمیۃ، پہلی اشاعت، 1380ھ۔
- فخر رازی، محمد بن عمر، التفسیر الکبیر (مفاتیح الغیب)، بیروت، دار احیاء التراث العربی، تیسری اشاعت، 1420ھ۔
- فیض کاشانی، ملامحسن، تفسیر الصافی، تحقیق: حسین اعلمی، تہران، انتشارات الصدر، دوسری اشاعت، 1415ھ۔
- فیضالاسلام اصفہانی، علینقی، ترجمہ و تفسیر قرآن عظیم، تہران، نشر فقیہ، پہلی اشاعت، 1378ہجری شمسی۔
- قرشی، سید علیاکبر، تفسیر احسن الحدیث، تہران، بنیاد بعثت، تیسری اشاعت، 1377ہجری شمسی۔
- قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، محقق و مصحح: سید طیب موسوی جزائری، قم، دار الکتاب، تیسری اشاعت، 1404ھ۔
- کتاب مقدس، بہ ہمت انجمن کتاب مقدس، ترجمہ: جماعت بریتش وفورن بیبل سوسائیتی، لندن، مطبع دروگولین، پہلی اشاعت، 1895م.
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تحقیق و تصحیح: علیاکبر غفاری، محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
- کوفی اہوازی، حسین بن سعید، الزہد، تحقیق و تصحیح: غلامرضا عرفانیان یزدی، قم، المطبعۃ العلمیۃ، دوسری اشاعت، 1402ھ۔
- مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، دوسری اشاعت، 1403ھ۔
- مدرسی، محمدتقی، من ہدی القرآن، تہران، دار محبی الحسین(ع)، پہلی اشاعت، 1419ھ۔
- مرکز فرہنگ ومعارف قرآن، دائرۃ المعارف قرآن کریم، قم، موسسہ بوستان کتاب، پہلی اشاعت، 1382ہجری شمسی۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔
- مَغنیہ، محمدجواد، تفسیر الکاشف، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1424ھ۔
- نہج البلاغۃ، تصحیح: صبحی صالح، قم، نشر ہجرت، پہلی اشاعت، 1414ھ۔
- ہاشمی رفسنجانی، اکبر، تفسیر راہنما، قم، موسسہ بوستان کتاب (مرکز چاپ و نشر دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم)، پانچویں اشاعت، 1386ہجری شمسی۔