حضرت عزیر کا زندہ ہونا
حضرت عُزیرؑ کا زندہ ہونا، قرآنِ کریم کی داستانوں میں سے ہے جس میں سو(100) سال بعد حضرت عزیر کے زندہ ہونے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ معاد اور مردوں کو زندہ کرنے پر خدا کی قدرت کے قرآنی دلائل میں شمار ہوتا ہے۔ اسی طرح شیعہ اس واقعے کو عقیدہ رجعت کے قرآنی دلیلوں کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
حضرت عزیر کے زندہ ہونے کا واقعہ سورۂ بقرہ آیت نمبر 259 میں بیان ہوا ہے۔ اس آیت کے مطابق حضرت عُزیر نے ایک ایسا قریہ دیکھا جس کے مکین مرچکے تھے اور ان کی ہڈیاں بوسیدہ ہو چکی تھیں۔ اس وقت حضرت عُزیرؑ نے اپنے آپ سے سوال کیا کہ "کس طرح یہ بوسیدہ ہڈیاں دوبارہ زندہ ہون گی؟" اسی بنیاد پر اللہ نے اُنہیں سو (100) کی موت دے دی اور پھر زندہ کیا۔ بعض مورخین کے مطابق یہ واقعہ جناب عیسی کی ولادت کے 450 سال قبل پیش آیا ہے۔
قرآن میں حضرت عزیر کی موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی داستان
سورۂ بقرہ آیت نمبر 259 میں ایک شخص کی داستان بیان ہوئی ہے جس کا گزر ایک قریہ سے ہوا جو مکمل طور سے خراب ہوچکا تھا اور اس کے مکین مرچکے تھے اور ان کی ہڈیاں بوسیدہ ہو چکی تھیں۔[1] مفسرین نے اس شخص کو حضرت عزیر قرار دیا ہے۔ اس آیت کے مطابق حضرت عُزیر نے اپنے آپ سے سوال کیا کہ "کس طرح خدا انہیں دوبارہ زندہ کرے گا؟"[2] اسی وقت اللہ نے اُن کی جان لے لی اور سو (100) برس بعد انہیں زندہ کیا، پھر ان سے اس جگہ رہنے کی مدت دریافت کی تو انہین نے گمان کیا کہ ایک دن، یا اس سے بھی کم ، اس جگہ رہے ہیں ۔" خداوند متعال نے انہیں باخبر کیا کہ وہ سو(100) سال سے زیادہ وہاں رہے ہیں !"[3] اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کی حقیقیت اور اپنی قدرت کو حضرت عزیر کے سامنے نمایاں کرنے کے لئے ان کا کھانا جو وہ اپنے ساتھ لائے تھے ، صحیح و سالم رکھا، لیکن اُن کی سواری جو کہ ایک گدھا تھا مرچکا تھا اور اس کی ہڈیاں سڑ گئی تھیں۔[4] پھر اللہ نے اُن کے سامنے گدھے کو زندہ کیا۔ پہلے ہڈیاں جوڑی گئیں، پھر ان پر گوشت چڑھا، اور یوں وہ مکمل طور پر زندہ ہوگیا۔[5] بعض مؤرخین کے مطابق، یہ واقعہ جناب عیسی کی ولادت کے تقریباً 450 سال قبل پیش آیا ہے۔ اور جناب عُزیرؑ کی پہلی موت، جناب عیسی کی ولادت 560 پہلے جانا ہے ۔[6] فیض کاشانی کے مطابق روایت میں یہ واقعہ حضرت یحییٰؑ کی شہادت کے بعد اور بخت نصر کے ہاتھوں بنی اسرائیل کے قتل عام کے بعد پیش آیا ہے ۔[7]
حضرت عُزیرؑ نے اپنی شناخت کیسے کروائی؟
شیخ طبرسی کے مطابق جب حضرت عُزیرؑ سو سال بعد زندہ ہو کر اپنے شہر واپس آئے۔[8] انہوں نے ایک باغ سے توریت کی کتاب نکالی جو اُن کے والد نے دفن کی تھی، اور اُسے لوگوں کے سامنے ازبر (زبانی) پڑھ کر اپنی شناخت کروائی۔[9] اس کے علاوہ ان کے گھریلو خادم جو نابینا ہو چکا تھا کی بینائی کو واپس لانے کا معجزہ دوسرا اقدام تھا جسے حضرت عزیر نے اپنی شناخت کروانے کے لئے انجام دیا۔[10]
داستان عزیر معاد اور رجعت کی دلیل
مفسرین اور علمائے اسلام نے حضرت عُزیرؑ کے زندہ ہونے کو ، موت کے بعد مردوں کے زندہ ہونے اور معاد کے ممکن اور سچ ہونے کی ایک واضح نشانی قرار دیا ہے۔[11] علامہ طباطبائی (متوفی: 1360ش) کے مطابق حضرت عزیر کے زندہ ہونے کا واقعہ حضرت ابراہیمؑ کے توسط سے چار پرندوں کا زندہ ہونے کے واقعے اور نمرود کے ساتھ حضرت ابراہیم کے مناظرے در حقیقت اللہ کی طرف سے انسانوں کی ہدایت کے لئے انجام پانے والے اقدامات میں سے ہیں جس کی طرف سورۂ بقرہ آیت نمبر 257 میں اشارہ کیا گیا ہے۔[12]
شیخ احمد مصطفی مراغی (مصری مفسز، متوفی: 1364ھ) جیسے بعض مفسرین چونکہ اس دنیا میں مردوں کے زندہ ہونے کو محال سمجھتے ہیں لھذا وہ کہتے ہیں کہ حضرت عُزیرؑ حقیقی طور پر فوت نہیں ہوئے تھے، بلکہ محض کما میں چلے گئے تھے۔[13] تاہم علامہ طباطبائی نے ایسے دعووں کو بے بنیاد اور بلا دلیل قرار دیا۔[14]
اسی طرح شیعہ علما اس واقعے کو رجعت (قیامت سے پہلے بعض افراد کا دنیا میں دوبارہ آنا) جو کہ شیعوں کے اعتقادات میں سے ایک ہے، کی قرآنی دلائل شمار کرتے ہیں۔[15]
حضرت عُزیرؑ کی عمر
امام محمد باقرؑ سے منقول ہے کہ حضرت عُزیرؑ کی عمر پہلی موت کے وقت ان کی عمر 30 سال تھی۔[16] اس حدیث کے مطابق حضرت عزیر کے ایک جڑواں بھائی بھی تھے، وہ دونوں ایک ہی دن پیدا ہوئے اور ایک ہی دن وفات پائے۔ لیکن حضرت عُزیرؑ کی مجموعی عمر 50 سال (چونکہ حضرت عزیر سو سال موت کی حالت رہے) جبکہ ان کے بھائی کی عمر 150 سال تھی۔[17] حضرت علیؑ سے منقول ایک حدیث کے مطابق جب حضرت عُزیرؑ سفر پر روانہ ہوئے تو اُن کی عمر 50 سال تھی، اور اُن کی بیوی حاملہ تھی۔ جب وہ 100 سال بعد لوٹے تو اُن کا بیٹا 100 سالہ بوڑھا تھا، مگر حضرت عُزیرؑ جوانی کی حالت میں پچاس سالہ نظر آتے تھے۔[18]
حدیثی منابع میں امام محمد باقرؑ کا ایک عیسائی عالم سے مناظرہ نقل ہوا ہے جو شام میں ہوا تھا۔[19] اس مناظرے میں عیسائی عالم نے سوال کیا: "دو جڑواں بھائی جو ایک ہی دن پیدا ہوئے اور ایک ہی دن اس دنیا سے چلے گئے، تو ان میں سے ایک کی عمر 50 اور دوسرے کی 150 سال کیسے ہو سکتی ہے؟" امامؑ نے حضرت عُزیرؑ اور عزرہ کا واقعہ بیان کیا اور واضح کیا کہ چونکہ عُزیرؑ 100 سال موت کی حالت میں رہے، لہٰذا وہ اپنی زندگی میں اپنے بھائی سے 100 سال کم زندہ رہے۔[20]
حوالہ جات
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374ش، ج2، ص294۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374ش، ج2، ص294۔
- ↑ جوادی آملی، تفسیر تسنیم، 1388ش، ج12، ص260۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374ش، ج2، ص298۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374ش، ج2، ص300۔
- ↑ ابنعاشور، التحریر و التنویر، 1420ھ، ج2، ص509۔
- ↑ فیض کاشانی، تفسیر الصافی،1416ھ، 1374ش، ج1، ص291۔
- ↑ طبرسی، مجمعالبیان، 1408ھ، ج2، ص641۔
- ↑ طبرسی، مجمعالبیان، 1408ھ، ج2، ص641۔
- ↑ شاہعبدالعظیمی، تفسیر اثنیعشری، 1363ش، ج1، ص472-473۔
- ↑ جوادی آملی، تفسیر تسنیم، 1388ش، ج12، ص275۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1352ش، ج2، ص359۔
- ↑ مراغی، تفسیر المراغی، دارالفکر، ج3، ص22۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1352ش، ج2، ص362۔
- ↑ حر عاملی، الایقاظ من الہجعہ، 1362ش، ص3؛ جعفری، تفسیر کوثر، 1398ش، ج2، ص9-10۔
- ↑ حویزی، تفسیر نور الثقلین، 1415ھ، ج1، ص271۔
- ↑ حویزی، تفسیر نور الثقلین، 1415ھ، ج1، ص271۔
- ↑ بحرانی، البرہان، 1415ھ، ج1، ص534۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج8، ص122۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج8، ص123۔
مآخذ
- ابنعاشور، محمدطاہر، التحریر و التنویر من التفسیر، بیروت، مؤسسہ التاریخ العربی، چاپ اول، 1420ھ۔
- بحرانی، ہاشم بن سلیمان، البرہان فی تفسیر القرآن، قم، مؤسسۃ البعثہ، چاپ اول، 1415ھ۔
- جعفری، یعقوب، تفسیر کوثر، قم، ہجرت، چاپ سوم، 1398ہجری شمسی۔
- جوادی آملی، عبداللہ، تفسیر تسنیم، قم، مرکز نشر اسرا، چاپ دوم، 1388ہجری شمسی۔
- حر عاملی، محمد بن حسن، الایقاظ من الہجعہ بالبرہان علی الرجعہ، تصحیح ہاشم رسولی، ترجمہ احمد جنتی، تہران، نوید، 1362ہجری شمسی۔
- حویزی، عبدعلی بن جمعہ، تفسیر نور الثقلین، قم، اسماعیلیان، چاپ چہارم، 1415ھ۔
- شاہعبدالعظیمی، حسین، تفسیر اثنیعشری، تہران، میقات، چاپ اول، 1363ہجری شمسی۔
- طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، چاپ سوم، 1352ہجری شمسی۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دارالمعرفہ، چاپ دوم، 1408ھ۔
- فیض کاشانی، محمد بن شاہمرتضی، تفسیر الصافی، تہران، مکتبۃ الصدر، چاپ دوم، 1373ہجری شمسی۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تحقیق علیاکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، چاپ چہارم، 1407ھ۔
- مراغی، احمد مصطفی، تفسیر المراغی، بیروت، دارالفکر، چاپ اول، بیتا.
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، چاپ سی و دوم، 1374ہجری شمسی۔