مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:حضرت داؤدؑ کا دو بھائیوں کے درمیان فیصلہ

ویکی شیعہ سے

حضرت داؤدؑ کا دو بھائیوں کے درمیان فیصلہ قرآنی قصوں میں سے ایک ہے۔ اس قصے میں ایک بھائی حضرت داؤدؑ سے شکایت کرتا ہے کہ اس کے بھائی کے پاس 99 بھیڑیں ہیں جبکہ اس کے پاس صرف ایک بھیڑی ہے،[1] (میش یعنی مادہ بھیڑ[2]) اور اس کا بھائی وہ بھی چھیننا چاہتا ہے۔[3] مدعی حضرت داؤدؑ سے درخواست کرتا ہے کہ بغیر کسی ظلم کے منصفانہ فیصلہ کریں۔[4] حضرت داؤدؑ نے مدعی کی باتیں سننے کے بعد دوسرے فریق کی باتیں سننے یا اس سے گواہ طلب کیے بغیر[5] اس کے عمل کو ظلم قرار دیتے ہوئے[6] اس کے خلاف فیصلہ صادر کردیا۔[7] اس واقعے کا ذکر سورہ ص میں آیا ہے۔[8]

بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ فیصلے کی درخواست اس وقت کی گئی جب حضرت داؤدؑ عبادت میں مشغول تھے[9] اور کچھ لوگ اچانک[10] ان کے پاس آئے۔[11] پہرے داروں کے باوجود[12] ان کا اچانک آنا حضرت داؤدؑ کے لیے باعثِ خوف بنا[13] اور اس وجہ سے انہوں نے پورے معاملے کی جانچ کیے بغیر فیصلے میں عجلت سے کام لیا۔[14] بعض مفسرین آیت کے شواہد کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ حضرت داؤدؑ کے پاس آنے والے دو گروہ تھے، دو افراد نہیں۔[15] مفسرین کا اس بات پر اختلاف ہے کہ حضرت داؤدؑ کے پاس آنے والے کون تھے؛ سید محمد حسین فضل اللہ انہیں فرشتہ قرار دیتے ہیں،[16] محمد جواد مغنیہ کے مطابق وہ انسان تھے[17] اور شیخ طوسی بھی ظاہرِ آیت کے مطابق انہیں انسان ہی خیال کرتے ہیں۔[18]

حضرت داؤدؑ کا قصور قضاوت کے آداب کی رعایت نہ کرنا تھا؛[19] فیصلے میں دونوں فریقوں کی باتیں سننا ضروری ہوتا ہے، لیکن آپ نے دوسرے فریق کی بات سنے بغیر اس کو مورد الزام ٹھہرایا۔[20] فخر الدین رازی نے یہ احتمال دیا ہے کہ شاید حضرت داؤدؑ کا فیصلہ اس شرط پر مبنی تھا کہ پہلا شخص سچا ہے اور دوسرا ظالم ہے۔[21] بعض مفسرین نے حضرت داؤدؑ کے اس عمل کو "ترک اولی" (بہتر کام کو چھوڑ دینا) قرار دیا ہے، گناہ نہیں،[22] کیونکہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں اور گناہ نہیں کرتے۔[23] اسی وجہ سے حضرت داؤدؑ نے اس واقعے کے بعد اللہ سے طلب مغفرت کیا[24] اور اللہ نے انہیں اپنے عفو و بخشش سے نوازا۔[25]

سید محمد حسین فضل اللہ اس واقعے کو ایک تمثیل قرار دیتے ہیں جس کا مقصد حضرت داؤدؑ کو آنے والے فیصلوں کے لیے تیار کرنا تھا۔ اس بنا پر، کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا تھا اور ان کی توبہ محض اللہ کے سامنے عاجزی کا اظہار تھی۔[26]

حضرت داؤدؑ کا یہ فیصلہ ان کے لیے ایک امتحان الہی کے طور پر جانا جاتا ہے،[27] کیونکہ اس سے پہلے انہیں حکمت اور فیصلہ کن کلام [28] (وہ کلام جو حق و باطل میں تمیز کرتا ہے۔[29]) عطا کیا جا چکا تھا۔[30] امام رضاؑ سے منقول ہے کہ حضرت داؤدؑ نے گمان کیا کہ ان سے زیادہ کوئی عالم نہیں ہے تو اللہ نے انہیں اس فیصلے کے ذریعے آزمایا۔[31] امام جعفر صادقؑ سے بھی مروی ہے کہ امام مہدیؑ ظہور کے بعد لوگوں میں اسی طرح فیصلہ کریں گے جیسے حضرت داؤدؑ فیصلہ کیا کرتے تھے۔[32]

حوالہ جات

  1. طباطبائی، المیزان، 1417ھ، ج17، ص192۔
  2. حسینی ہمدانی، انوار درخشان، 1404ھ، ج14، ص109۔
  3. حسینی ہمدانی، انوار درخشان، 1404ھ، ج14، ص109۔
  4. طباطبائی، المیزان، 1417ھ، ج17، ص192؛ مدرسی، من ہدی القرآن، 1419ھ، ج11، ص339۔
  5. مدرسی، من ہدی القرآن، 1419ھ، ج11، ص340۔
  6. سورہ ص، آیہ 24۔
  7. شیرازی، تبیین القرآن، 1423ھ، ص466۔
  8. سورہ ص، آیات 21 - 25۔
  9. مغنیہ، تفسیر الکاشف، 1424ھ، ج6، ص372۔
  10. فضل‌اللہ، تفسیر من وحی القرآن، 1419ھ، ج19، ص246۔
  11. حسینی شیرازی، تبیین القرآن، 1423ھ، ص466۔
  12. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج19، ص245۔
  13. فضل‌اللہ، تفسیر من وحی القرآن، 1419ھ، ج19، ص246۔
  14. حسینی شیرازی، تبیین القرآن، 1423ھ، ص466۔
  15. شیخ طوسی، التبیان، بیروت، ج8، ص551؛ طیب، أطیب البیان، 1378شمسی، ج11، ص231۔
  16. فضل‌اللہ، تفسیر من وحی القرآن، 1419ھ، ج19، ص249۔
  17. مغنیہ، تفسیر الکاشف، 1424ھ، ج6، ص373۔
  18. شیخ طوسی، التبیان، بیروت، ج8، ص552۔
  19. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج19، ص248۔
  20. شیخ طوسی، التبیان، بیروت، ج8، ص553۔
  21. فخر رازی، مفاتیح الغیب، 1420ھ، ج26، ص384۔
  22. طیب، أطیب البیان، 1378شمسی، ج11، ص235۔
  23. طباطبائی، المیزان، 1417ھ، ج17، ص194۔
  24. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج19، ص248۔
  25. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج19، ص249۔
  26. فضل‌اللہ، تفسیر من وحی القرآن، 1419ھ، ج19، ص249۔
  27. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج19، ص244۔
  28. سورہ ص، آیہ 20۔
  29. شیرازی، تبیین القرآن، 1423ھ، ص466۔
  30. قرائتی، تفسیر نور، 1383شمسی، ج10، ص93۔
  31. قمی، تفسیر القمی، 1404ھ، ج2، ص233۔
  32. کلینی، الکافی، 1429ھ، ج2، ص632۔

مآخذ

  • حسینی شیرازی، سید محمد، تبیین القرآن، بیروت، دارالعلوم، دوسری اشاعت، 1423ھ۔
  • حسینی ہمدانی، سید محمدحسین، انوار درخشان، تحقیق: محمدباقر بہبودی، تہران، کتابفروشی لطفی، پہلی اشاعت، 1404ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، با مقدمہ: شیخ آقابزرگ تہرانی، تحقیق: احمد قصیرعاملی، بیروت،‌ دار احیاء التراث العربی، بی‌تا۔
  • طباطبائی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پانچویں اشاعت، 1417ھ۔
  • طیب، سید عبدالحسین، اطیب البیان فی تفسیر القرآن، تہران، انتشارات اسلام، دوسری اشاعت، 1378ہجری شمسی۔
  • فخر رازی، محمد بن عمر، مفاتیح الغیب، بیروت،‌ دار احیاء التراث العربی، تیسری اشاعت، 1420ھ۔
  • فضل‌اللہ، سید محمدحسین، تفسیر من وحی القرآن، بیروت،‌ دار الملاک للطباعۃ و النشر، دوسری اشاعت، 1419ھ۔
  • قرائتی، محسن، تفسیر نور، تہران، مرکز فرہنگی درسہایی از قرآن، گیارہویں اشاعت، 1383ہجری شمسی۔
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، محقق و مصحح: سیدطیب موسوی جزائری، قم، دارالکتاب، تیسری اشاعت، 1404ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، قم، دارالحدیث، پہلی اشاعت، 1429ھ۔
  • مدرسی، سید محمدتقی، من ہدی القرآن، تہران، دارمحبی الحسین، پہلی اشاعت، 1419ھ۔
  • مغنیہ، محمدجواد، تفسیر الکاشف، تہران، دارالکتب الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1424ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔