مسودہ:استنجاء
استنجا سے مراد قضائے حاجت کے بعد پیشاب اور پاخانے کے مقام کو دھونا یا پاک کرنا ہے۔ نماز جیسی عبادات کی ادائیگی کے لئے، جن میں طہارت شرط ہے، استنجا کرنا واجب ہے۔
شیعہ فقہا کا عقیدہ ہے کہ پیشاب کے مقام کو صرف پانی سے پاک کیا جا سکتا ہے؛ تاہم، پاخانے کے مقام کو پاک کرنے کے لئے پانی کے علاوہ پتھر یا ٹشو پیپر جیسی چیزیں بھی استعمال کی جا سکتی ہیں، بشرطیکہ ان سے عینِ نجاست زائل ہو جائے۔
قضائے حاجت کے فوراً بعد استنجا کرنا، پاخانے کے مقام کو پاک کرنے کے لئے دوسری چیزوں کے بجائے پانی استعمال کرنا اور ٹھنڈے پانی سے استنجا کرنا مستحب ہے۔ دائیں ہاتھ سے استنجا کرنا اور ایسے ہاتھ سے استنجا کرنا جس میں ایسی انگوٹھی ہو جس پر اذکار یا متبرک اسامی درج ہوں، مکروہ ہے۔
مفہوم اور مقام بحث
استنجا ایک فقہی اصطلاح ہے،[1] جس سے مراد قضائے حاجت کے بعد پیشاب اور پاخانے کے مقام کو پاک کرنا ہے۔[2] فقہا نے فقہی کتابوں کے بابِ طہارت میں استنجا کے احکام پر بحث کی ہے۔[3] بعض سابقہ امتوں کی شریعتوں میں بھی استنجا کی تاریخی مثالیں بیان کی گئی ہیں۔[4]
بعض مفسرین کے مطابق سورۂ توبہ کی آیت 108 میں طہارت کی صفت کی بنا پر اہلِ قُبا کی تعریف کی گئی ہے۔[5] بعض روایات میں[6] اس طہارت کی تفسیر قضائے حاجت کے بعد پاخانے کے مقام کو پانی سے دھونے کے طور پر کی گئی ہے۔[7] بعض فقہا نے بھی اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے استنجا میں پانی کے استعمال کو مستحب قرار دیا ہے۔[8] اسی طرح ایک روایت میں[9] نقل ہوا ہے کہ سورۂ بقرہ کی آیت 222 کا یہ حصہ «اِنَّ اللّہَ یُحِبُّ التَّوّابینَ و یُحِبُّ المُتَطَہِّرین» (بے شک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے) اس وقت نازل ہوا جب انصار میں سے ایک شخص نے قضائے حاجت کے بعد پانی سے استنجا کیا۔[10]
استنجا کا حکم
استنجا بذاتِ خود واجب نہیں ہے؛[11] تاہم، شیعہ فقہا نے بعض روایات سے استدلال کرتے ہوئے[12] نماز جیسی عبادات کی ادائیگی کے لئے اسے واجب قرار دیا ہے، کیونکہ ان عبادات میں بدن اور لباس کا نجاست سے پاک ہونا شرط ہے۔[13] اس بنا پر اگر کوئی شخص قضائے حاجت کے بعد استنجا کئے بغیر نماز پڑھے تو اس کی نماز باطل ہے اور اسے دوبارہ نماز پڑھنی ہوگی۔[14]
اہلِ سنت کے فقہی مذاہب میں بھی استنجا کو واجب قرار دیا گیا ہے؛[15] تاہم، ابوحنیفہ سے منقول ایک قول کے مطابق اگر نجاست پاخانے کے مقام کی معمول کی حدود سے آگے نہ بڑھی ہو تو استنجا مستحب ہے۔[16]
استنجا کا پانی
پیشاب اور پاخانے کے مقام کو دھونے کے بعد اس سے جدا ہونے والا پانی، مشہور فقہی قول کے مطابق پاک ہے؛[17] بشرطیکہ اس میں نجاست کے ذرات دکھائی نہ دیں اور اس کا رنگ یا بو تبدیل نہ ہوئی ہو۔[18] تاہم، بعض فقہا اسے نجس قرار دیتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک اس سے دوسری چیزیں نجس نہیں ہوتیں۔[19]
استنجا کا طریقہ
بعض روایات کی بنیاد پر[20] اہلِ سنت کے برخلاف[21] امامیہ فقہا کا موقف ہے کہ پیشاب کے مقام کو صرف پانی سے پاک کیا جا سکتا ہے۔[22] اکثر فقہا ایک مرتبہ دھونے کو کافی سمجھتے ہیں؛[23] تاہم، بعض فقہا قلیل پانی استعمال کرنے کی صورت میں اور خواتین کے لئے دو مرتبہ دھونا ضروری قرار دیتے ہیں۔[24]
پاخانے کے مقام کو پاک کرنے کے لئے شیعہ اور اہلِ سنت فقہا نے پانی یا پتھر اور ٹشو پیپر جیسی چیزوں کے استعمال کو جائز قرار دیا ہے۔[25] اس کے لئے ضروری ہے کہ نجاست معمول سے زیادہ پاخانے کے مقام کے اطراف تک نہ پہنچی ہو۔[26] بعض فقہا، مثلاً امام خمینی اور آیت اللہ فاضل لنکرانی کا موقف ہے کہ پاخانے کے مقام کو پانی کے علاوہ کسی دوسری چیز سے صاف کرنے پر وہ مقام پاک نہیں ہوتا؛ تاہم، باقی رہ جانے والی نجاست دوسری چیزوں تک منتقل نہیں ہوتی اور ایسی حالت میں نماز پڑھنا صحیح ہے۔[27]
پتھر اور اس جیسی دوسری چیزوں کے استعمال کے بارے میں بھی مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ بعض فقہا تین الگ الگ خشک ٹکڑوں کا استعمال ضروری سمجھتے ہیں؛[28] جب کہ بعض دوسرے فقہا کے نزدیک ایک ہی ٹکڑے کے تین کناروں کا استعمال کافی ہے۔ ان کے نزدیک اصل معیار عینِ نجاست کا زائل ہونا ہے، خواہ ایک ہی ٹکڑے سے ایک مرتبہ صفائی کرنے پر نجاست دور ہو جائے۔[29]
استنجا کے آداب
فقہی منابع میں استنجا کے متعدد آداب اور مستحبات بیان ہوئے ہیں، جن کی تعداد بعض منابع میں 28 تک ذکر کی گئی ہے۔[30] ان میں قضائے حاجت کے فوراً بعد استنجا کرنا،[31] پاخانے کے مقام کو پاک کرنے کے لئے پتھر کے بجائے پانی کو ترجیح دینا،[32] پیشاب کے مقام سے پہلے پاخانے کے مقام کو دھونا،[33] استبراء کرنا،[34] ٹھنڈا پانی استعمال کرنا[35] اور استنجا سے متعلق دعائیں پڑھنا[36] شامل ہیں۔
دائیں ہاتھ سے استنجا کرنا،[37] ایسے ہاتھ سے استنجا کرنا جس میں ایسی انگوٹھی ہو جس پر اذکار، قرآنی آیات یا متبرک اسامی درج ہوں[38] اور دھوپ سے گرم کئے گئے پانی سے استنجا کرنا[39] بھی مکروہ قرار دیا گیا ہے۔
حوالہ جات
- ↑ مشکینی، مصطلحاتالفقہ، ص528۔
- ↑ عاملی، الاصطلاحات الفقہیۃ، ص17۔
- ↑ مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ج1، ص460۔
- ↑ شوکانی، فتح القدیر، ج2، ص462؛ سیوطی، الدر المنثور، ج3، ص278۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: طباطبایی، المیزان، ج9، ص390؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ج16، ص148۔
- ↑ فیض کاشانی، تفسیر الصافی، ج2، ص379؛ بحرانی، البرہان، ج2، ص849، حدیث 4748۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: قمی مشہدی، کنز الدقائق، ج5، ص546؛ حسینی شاہعبدالعظیمی، تفسیر اثناعشری، ج5، ص204؛ طبری، جامع البیان، ج11، ص689۔
- ↑ شیخ انصاری، کتاب الطہارۃ، ج2، ص82؛ موسوی خوئی، التنقیح، ج3، ص514؛ حاجآخوند اراکی، شرح نجاۃ العباد، ص172۔
- ↑ شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، ج1، ص30، حدیث 59۔
- ↑ طبسی، تمسک العترۃ الطاہرۃ بالقرآن الکریم، ج1، ص36۔
- ↑ انصاری، الموسوعۃ الفقہیۃ المیسرۃ، ج3، ص105۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: کلینی، الکافی، ج3، ص18، حدیث 14؛ شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، ج1، ص47، حدیث 135۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: شیخ طوسی، الخلاف، ج1، ص103-104؛ محقق حلی، المعتبر، ج1، ص127-128؛ نجفی، جواہر الکلام، ج2، ص114۔
- ↑ مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ج1، ص460۔
- ↑ جزیری و دیگران، الفقہ علی المذاہب الأربعۃ، ج1، ص168۔
- ↑ محقق حلی، المعتبر، ج1، ص127؛ فاضل مقداد، کنز العرفان، ج1، ص36۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، ج1، ص16، مسئلہ 25۔
- ↑ اراکی، کتاب الطہارۃ، ج1، ص230۔
- ↑ رسالہ توضیح المسائل آیتاللہ محمداسحاق فیاض، باب طہارت، مسئلہ 68۔
- ↑ دیکھیے: کلینی، الکافی، ج3، ص18، حدیث 8؛ شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، ج1، ص355-356، احادیث 25، 27 اور 28۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: شافعی، الأم، ج1، ص36؛ شوکانی، نیل الأوطار، ج1، ص119؛ کاسانی، بدائع الصنائع، ج1، ص18۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: سید مرتضیٰ، الانتصار، ص97، مسئلہ 8؛ علامہ حلی، نہایۃ الاحکام، ج1، ص86؛ محدث بحرانی، الحدائق الناضرۃ، ج2، ص7۔
- ↑ بنیہاشمی، توضیح المسائل مراجع، ج1، ص59، مسئلہ 66۔
- ↑ بنیہاشمی، توضیح المسائل مراجع، ج1، ص59، مسئلہ 66۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: شیخ طوسی، المبسوط، ج1، ص16؛ محقق حلی، المعتبر، ج1، ص136؛ موسوی عاملی، مدارک الاحکام، ج1، ص167؛ جزیری و دیگران، الفقہ علی المذاہب الأربعۃ، ج1، ص177۔
- ↑ موسوی عاملی، مدارک الاحکام، ج1، ص166۔
- ↑ رسالہ توضیحالمسائل امام خمینی، بخش طہارت، مسئلہ 68؛ رسالہ توضیحالمسائل آیتاللہ محمد فاضل لنکرانی، بخش طہارت، مسئلہ 71۔
- ↑ بنیہاشمی، توضیح المسائل مراجع، ج1، ص60، ذیل مسئلہ 68۔
- ↑ بنیہاشمی، توضیح المسائل مراجع، ج1، ص61، مسئلہ 69۔
- ↑ استرآبادی، شارع النجاۃ، ص336۔
- ↑ محدث بحرانی، الحدائق الناضرۃ، ج2، ص64۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، ج2، ص33۔
- ↑ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، ج1، ص179۔
- ↑ استرآبادی، شارع النجاۃ، ص337۔
- ↑ استرآبادی، شارع النجاۃ، ص339۔
- ↑ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، ج1، ص179۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، ج2، ص70۔
- ↑ محدث بحرانی، الحدائق الناضرۃ، ج2، ص79۔
- ↑ استرآبادی، شارع النجاۃ، ص341۔
مآخذ
- اراکی، محمدعلی، کتاب الطہارۃ، قم، مؤسسہ در راہ حق، پہلی اشاعت، 1413ھ۔
- استرآبادی (میرداماد)، محمدباقر، شارع النجاۃ فی أحکام العبادات، قم، مؤسسہ دائرۃ المعارف، پہلی اشاعت، 1426ھ۔
- امام خمینی، سید روحاللہ، تحریر الوسیلۃ، قم، مؤسسہ مطبوعاتی إسماعیلیان، دوسری اشاعت، 1390ھ۔
- امام خمینی، سید روحاللّٰہ، توضیح المسائل، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، آٹھویں اشاعت، 1392ہجری شمسی۔
- انصاری، محمدعلی، الموسوعۃ الفقہیۃ المیسرۃ، قم، مجمع الفکر الإسلامی، پہلی اشاعت، 1420ھ۔
- بحرانی، سید ہاشم بن سلیمان، البرہان فی تفسیر القرآن، مصحح: قسم الدراسات الإسلامیۃ مؤسسۃ البعثۃ، قم، مؤسسہ بعثہ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔
- بنیہاشمی خمینی، سید محمدحسن و احسان اصولی، توضیح المسائل مراجع مطابق با فتاوای سیزدہ نفر از مراجع معظم تقلید، قم، دفترِ اسلامی مطبوعات، جامعہ مدرسینِ حوزۂ علمیہ قم، آٹھویں اشاعت، 1381ہجری شمسی۔
- جزیری، عبدالرحمن، غروی، سید محمد، مازح، یاسر، الفقہ علی المذاہب الأربعۃ و مذہب أہل البیت وفقاً لمذہب أہل البیت(ع)، بیروت، دار الثقلین، پہلی اشاعت، 1419ھ۔
- حاجآخوند اراکی، ملا ابوطالب، شرح نجاۃ العباد، قم، دفترِ اسلامی مطبوعات، جامعہ مدرسینِ حوزۂ علمیہ قم، پہلی اشاعت، 1420ھ۔
- حسینی شاہعبدالعظیمی، حسین بن احمد، تفسیر اثناعشری، میقات پبلشرز، تہران، پہلی اشاعت، 1363ہجری شمسی۔
- سیوطی، جلالالدین، الدر المنثور فی تفسیر المأثور، قم، کتابخانہ آیۃاللہ مرعشی نجفی، 1404ھ۔
- شافعی، محمد بن إدریس، الأم، بیروت، دار المعرفۃ، بینا، 1410ھ۔
- شوکانی، محمد بن علی، فتح القدیر، دمشق، دار ابنکثیر، پہلی اشاعت، 1414ھ۔
- شوکانی، محمد بن علی، نیل الأوطار، تحقیق: عصام الدین الصبابطی، مصر، دار الحدیث، پہلی اشاعت، 1413ھ۔
- شہرکانی، ابراہیم اسماعیل، معجم المصطلحات الفقہیۃ، قم، ذوی القربی، پہلی اشاعت، 1430ھ۔
- شیخ انصاری، مرتضی، کتاب الطہارۃ، قم، عالمی بزرگداشت شیخ اعظم انصاری، پہلی اشاعت، 1415ھ۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، من لا یحضرہ الفقیہ، محقق و مصحح: علیاکبر غفاری، قم، دفتر اسلامی پبلشرز، دوسری اشاعت، 1413ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، المبسوط فی فقہ الإمامیۃ، محقق و مصحح: سید محمدتقی کشفی، تہران، المکتبۃ المرتضویۃ لإحیاء الآثار الجعفریۃ، تیسری اشاعت، 1387ہجری شمسی۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، الخلاف، مصحح: علی خراسانی و دیگران، قم، دفتر اسلامی پبلشرز، پہلی اشاعت، 1407ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، تہذیب الاحکام، محقق: حسن موسوی خرسان، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
- طباطبایی یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ الوثقی، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، دوسری اشاعت، 1409ھ۔
- طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، دوسری اشاعت، 1390ھ۔
- طبری، محمد بن جریر، جامع البیان عن تأویل آی القرآن (تفسیر طبری)، بیجا، دار ہجر للطباعۃ و النشر و التوزیع و الإعلان، پہلی اشاعت، 1422ھ۔
- طبسی، محمدجعفر، تمسک العترۃ الطاہرۃ بالقرآن الکریم، قم، مرکز فقہی ائمہ اطہار(ع)، پہلی اشاعت، 1392ہجری شمسی۔
- عاملی، یاسین عیسی، الاصطلاحات الفقہیۃ فی الرسائل العملیۃ، بیروت، دار البلاغۃ للطباعۃ و النشر و التوزیع، بیروت، پہلی اشاعت، 1413ھ۔
- علامہ حلّی، حسن بن یوسف، تذکرۃ الفقہاء، مصحح: گروہ پژوہش مؤسسہ آل البیت(ع)، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، قم، پہلی اشاعت، 1414ھ۔
- علامہ حلّی، حسن بن یوسف، نہایۃ الاحکام فی معرفۃ الأحکام، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، پہلی اشاعت، 1419ھ۔
- فاضل لنکرانی، محمد، رسالہ توضیح المسائل، قم، بے نا، 114ویں اشاعت، 1426ھ۔
- فاضل مقداد، جمالالدین، کنز العرفان فی فقہ القرآن، قم، مرتضوی پبلشرز، پہلی اشاعت، 1425ھ۔
- فخر رازی، محمد بن عمر، التفسیر الکبیر (مفاتیح الغیب)، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، تیسری اشاعت، 1420ھ۔
- فیاض، محمداسحاق، رسالہ توضیح المسائل، قم، مجلسی پبلشرز، پہلی اشاعت، 1426ھ۔
- فیض کاشانی، ملا محسن، تفسیر الصافی، تحقیق: حسین اعلمی، تہران، الصدر پبلشرز، دوسری اشاعت، 1415ھ۔
- قمی مشہدی، محمد بن محمدرضا، تفسیر کنز الدقائق و بحر الغرائب، تہران، وزارت ثقافت و ارشاد اسلامی، 1368ہجری شمسی۔
- کاسانی، أبوبکر بن مسعود، بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع، بیجا، دار الکتب العلمیۃ، دوسری اشاعت، 1406ھ۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق و مصحح: علیاکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
- مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ مطابق با مذہب اہلبیت(ع)، زیر نظر سید محمود شاہرودی، قم، مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، پہلی اشاعت، 1426ھ۔
- محدث بحرانی، یوسف بن احمد، الحدائق الناضرۃ فی أحکام العترۃ الطاہرۃ، محقق و مصحح: محمدتقی ایروانی، مقرم، سید عبدالرزاق، قم، دفتر اسلامی پبلشرز، پہلی اشاعت، 1405ھ۔
- مشکینی اردبیلی، علی، مصطلحات الفقہ، تحقیق: حمید احمدی جلفایی، قم، مؤسسہ علمی فرہنگی دار الحدیث. سازمان چاپ و نشر، پہلی اشاعت، 1392ہجری شمسی۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الإسلامیۃ، دسویں اشاعت، 1371ہجری شمسی۔
- موسوی خویی، سید ابوالقاسم، التنقیح فی شرح العروۃ الوثقی، مقرر: میرزاعلی غروی، قم، پہلی اشاعت، 1418ھ۔
- موسوی عاملی، محمد بن علی، مدارک الاحکام فی شرح عبادات شرایع الاسلام، بیروت، مؤسسہ آل البیت(ع)، 1411ھ۔
- نجفی، محمدحسن، جَواہر الکلام فی شرحِ شرائعِ الاسلام، تصحیح عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دارُ اِحیاء التُّراثِ العربی، ساتویں اشاعت، 1404ھ۔