عزرائیل

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
معاد

عزرائیل، درگاہ الہی میں ایک مقرب فرشتہ ہے اور خداوند نے زندہ موجودات کی روح قبص کرنے کا کام ان کے ذمے لگایا ہوا ہے۔ عزرائیل مستقیم طور پر انبیاء اور اولیاء الہی کی روح قبض کرتے ہیں اور ان کے کچھ نمائندے بھی ہیں جو دوسری موجودات کی جان لیتے ہیں اور جب عزرائیل نے تمام موجودات کی جان لے لی اس کے بعد خداوند عالم ان کی جان لے گا۔

صفات و خصوصیات

عزرائیل عبری کا لفظ ہے جو دو جزء عزرا جس کا معنی بندہ اور ئیل جس کا معنی خدا ہے سے تشکیل پایا ہے اور دونوں جزء کی ترکیب کا معنی خدا کا بندہ ہے۔ یہ لفظ سریانی زبان سے عبری زبان میں تبدیل ہوا ہے۔[1]قرآن کریم میں عزرائیل کو ملک الموت کا نام دیا گیا ہے قُلْ يَتَوَفَّاکُمْ مَلَکُ الْمَوْتِ الَّذي وُکِّلَ بِکُمْ ثُمَّ إِلي‏ رَبِّکُمْ تُرْجَعُونَ جس کا کام زندہ موجودات کی روح قبض کرنا ہے۔[2]روایات میں اسے قابض الارواح اور ھادم الذات کا عنوان دیا گیا ہے۔[3]

روایات کے مطابق، عزرائیل خداوند کے دو ناموں القابض اور الممیت کا مظہر ہے۔[4] گویا کہ خداوند انسان کی روح کو قبض کرتا ہے اور وہ یہ کام اپنے فرشتے عزرائیل کے وسیلے سے انجام دیتا ہے۔[5]عزرائیل کی تعبیر مکائیل، اسرافیل اور جبرئیل رئیس ملائکہ کے ساتھ ہوتی ہے۔[6]اسی طرح روایات میں وارد ہوا ہے کہ لوح محفوظ چار رکن (علم، حیات، ارادہ اور قدرت) سے تشکیل پائی ہے اور عزرائیل اس کی قدرت کے رکن کا مظہر ہے۔[7]

بعض روایات کے بقول، پیغمبر(ص) کی عمر کے آخری وقت، جب عزرائیل نے پیغمبر (ص) کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت لی تو اس وقت فاطمہ(س) عزرائیل سے ہمکلام ہوئیں۔[8]اسی طرح بعض روائی منابع میں عزرائیل کے لئے جسمانی صفات ذکر ہوئی ہیں جیسا کہ اس کے چار پر ہیں جو کہ پورے جہان پر پھیلے ہوئے ہیں اور اس کے پاؤں سب سے نیچے والے جہان پر اور سر سب سے اوپر والے آسمان پر ہے۔[9]لیکن شیعہ متکلمین کی نگاہ میں، فرشتوں کے پر پرندوں کے پروں کی طرح نہیں ہیں، کیونکہ فرشتے غیر مادی موجودات ہیں اور انکی صفات و وجود کو روایات میں اس طرح بیان کیا گیا ہے تا کہ عام لوگوں اسے سمجھ سکیں۔[10]

فرائض

روایات میں وارد ہوا ہے کہ جب خداوند نے چاہا کہ حضرت آدم کو خلق کرے، تو فرشتوں کو حکم دیا کہ کچھ زمین اس کے اختیار میں دیں، لیکن ان میں سے عزرائیل کے علاوہ کوئی بھی اس کام پر قادر نہیں تھا، کیونکہ الہیٰ قہر و غلبہ صرف اس کے اختیار میں قرار دیا گیا تھا اور یہی چیز سبب بنی کہ وہ یہ کام انجام دے سکے، اسی وجہ سے خداوند نے تمام زندہ موجودات کی روح قبض کرنے والا کام اس کے سپرد کیا۔[11]

عزرائیل انبیاء اور اولیاء الہیٰ کی مستقیم طور پر روح قبض کرتا ہے۔ لیکن باقی تمام موجودات کی جان اس کے نمائندے لیتے ہیں۔[12]اور یہ کہ کس طرح ممکن ہے کہ عزرائیل، تمام جہان میں ایک ہی وقت میں کئی زندہ موجود کی جان لے سکتا ہے، فلاسفہ اور متکلمین کہتے ہیں: عزرائیل مجرد موجودات سے ہے اور ایک معین مکان میں نہیں ہے کہ اسے ایک مکان سے دوسرے مکان میں جانا پڑھے،[13] بلکہ اس کے لئے یہ سب مادی جہان ایک جیسا ہے، اسی لئے ایک ہی وقت میں کئی زندہ موجودات کو اپنی طرف بلاتا ہے اور انکی روح کو قبض کر لیتا ہے۔[14]

قرآن کریم میں، بہت سی آیات میں روح کے قبض کرنے کی کیفیت بیان کی گئی ہے، بعض آیات میں روح کے قبض ہونے کو خداوند[15]اور بعض دوسری آیات میں عزرائیل[16]اور بعض دیگر آیات میں دوسرے ملائکہ سے نسبت دی گئی ہے،[17]مفسرین کی نگاہ میں ان آیات کا آپس میں اختلاف نہیں ہے، کیونکہ خداوند تعالیٰ فاعل اور روح قبض کرنے کی حقیقی علت ہے، لیکن یہ کام بعض اوقات عزرائیل اور بعض اوقات دوسرے فرشتوں کے وسیلے سے انجام پاتا ہے۔[18] قرآنی آیات سے یہ نتیجہ ملتا ہے کہ تمام فرشتے (کہ عزرائیل بھی ان میں سے ایک ہے) جب خداوند کے حکم سے کوئی وظیفہ انجام دے رہے ہوتے ہیں تو اس وقت خداوند کی تسبیح اور عبادت بھی کر رہے ہوتے ہیں اور اس طرح نہیں ہے کہ ایک وقت میں روح قبض کریں اور پھر کسی دوسرے وقت میں تسبیح اور عبادت کریں بلکہ انکی عبادت وہی کام انجام دینا ہے۔[19]

ساتھی

آیتحَتَّى‌ إِذَا جَاءَ أَحَدَکُمُ‌ الْمَوْتُ‌ تَوَفَّتْهُ‌ رُسُلُنَا[20]اس مطلب کی گواہی دیتی ہے کہ انسانوں کی موت فرشتوں کے ایک گروہ کے ذمے ہے اور روح قبض کرنے کے لئے عزرائیل کے بہت ساتھی اور نمائندے ہیں، جیسے کہ نازعات، سابحات، اور سابقات کہ ہر ایک کے ذمے خاص موجودات کی روح قبض کرنے کا کام ہے، مثال کے طور پر ناشطات کا کام ہے کہ مومنین کی روح کو آرام اور مہربانی سے قبض کرے اور نازعات کا کام کافروں کی روح کو شدت اور عذاب کے ساتھ قبض کرنا ہے۔[21]

قرآن کریم کی آیات میں آیا ہے کہ کافروں کی جان سختی اور عذاب کے ساتھ نکلتی ہے اور موت کے فرشتے، انکے آگے اور پیچھے احاطہ کر لیتے ہیں اور ان کو مارتے ہیں،[22]لیکن مومنین کی روح کو رحمت کے ملائکہ قبض کرتے ہیں اور جب انکی جان لی جاتی ہے تو ان کے ساتھ مہربانی سے پیش آتے ہیں اور انکو بہشت کی بشارت اور خوش خبری دیتے ہیں۔[23]

عزرائیل کی موت

جب تمام جہان ختم ہو جائے گا، اسرافیل پہلی بار صور پھونکے گا، اور تمام زندہ موجودات کی موت کا حکم دیا جائے گا اور تمام موجودات ختم ہو جائے گی، لیکن عزرائیل اور بعض دوسرے فرشتے، جو کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے زندہ رہ جائیں گے اور پہلی بار صور پھونکنے کے بعد جب عزرائیل تمام موجودات کی روح قبض کر لے گا تو خداوند خود اس کی روح کو قبض کرے گا۔[24]


حوالہ جات

  1. دهخدا، ج۳، ۱۳۴۱ش، ص۲۲۴.
  2. سوره سجده، آیہ ۱۱.
  3. شفیعی، «ملک‌الموت»، ۱۳۹۰ش، ج۱۵، ص۴۹۰.
  4. حسینی طهرانی، معاد‌شناسی، ۱۳۶۱ش، ج۶، ص۲۱۱.
  5. شجاعی، ملائکہ، ۱۳۸۵ش، ص۱۱۵.
  6. رجالی تهرانی، فرشتگان تحقیقی قرآنی روایی و عقلی، ۱۳۷۶ش، ص۱۰۶.
  7. ابن فناری، ۱۳۷۴ش، مصباح‌الانس، ۱۳۷۴،ص۴۰۳.
  8. ابن شهر آشوب، ج۳، ص۱۱۶؛ مجلسی، ج۲۲، ص۵۲۷-۵۲۸
  9. شفیعی، «ملک‌الموت»، ۱۳۹۰ش، ج۱۵، ص۴۹۰.
  10. طباطبایی،المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۸، ص۱۷۰.
  11. رستمی وآل‌ بویہ، سیری در اسرار فرشتگان، ۱۳۹۳ش، ص۲۶۸.
  12. طهرانی، معاد شناسی، ۱۳۷۶ش، ص۲۱۲.
  13. مطهری، حرکت و زمان در فلسفه اسلامی، ۱۳۸۹ش، ج۱، ص۱۷۸.
  14. طباطبایی، انسان از آغاز تا انجام، ۱۳۸۸ش، ص۶۶.
  15. سوره زمر، آیہ ۴۲.
  16. سوره سجده، آیہ ۱۱.
  17. سوره انعام، آیه۶۳.
  18. طهرانی، معاد شناسی، ۱۳۶۱ش، ص۲۰۸.
  19. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۴، ص۲۶۵.
  20. سوره انعام، آیہ ۶۱.
  21. آلوسی، روح‌المعانی، ۱۴۱۵ق، ج۳۰، ص۲۳.
  22. سوره انفال، آیه۵۰.
  23. سوره نحل، آیہ ۳۲.
  24. موسوی خمینی، شرح دعای سحر، ۱۳۸۶ش، ص۶۵.


مآخذ

  • ابن فناری، محمد بن همزه، مصباح الانس، تهران، نشر موالی، ۱۳۷۴ش.
  • آلوسی، سید محمود، بیروت، دارالکتب العلمیة، ۱۴۱۵ق.
  • حسینی طهرانی، محمد حسین، معاد شناسی ج۱، تهران، نشر حکمت، ۱۳۶۱ش.
  • دهخدا، علی اکبر، فرهنگ لغت دهخدا، تهران، مؤسسه لغت نامہ دهخدا، ۱۳۴۱ش.
  • رجالی تهرانی، علی رضا، فرشتگان تحقیقی قرآنی روایی و عقلی، قم، انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی، ۱۳۷۶ش.
  • رستمی، محمد زمان و طاهره آل بویہ، سیری در اسرار فرشتگان با رویکردی قرآنی و عرفانی، قم، پژوهشگاه علوم و فرهنگ اسلامی، ۱۳۹۳ش.
  • شجاعی، محمد، ملائکه، تهران، انتشارات وثوق، ۱۳۸۵ش.
  • شفیعی، سعید، «ملک‌ الموت»، شفیعی، ج۱۵، تهران، انتشارات حکمت، ۱۳۹۴ش.
  • طباطبایی، محمد حسین، انسان از آغاز تا انجام، ترجمہ صادق لاریجانی، بہ کوشش هادی خسرو شاهی، قم، بوستان کتاب، ۱۳۸۸ش.
  • طباطبایی، محمد حسین، تفسیر المیزان، قم،انتشارات جامعہ مدرسین، ۱۴۱۷ق.
  • مطهری، مرتضی، حرکت و زمان در فلسفہ اسلامی، ج۱، تهران، انتشارات صدرا، ۱۳۸۹ش.
  • موسوی خمینی، روح الله، شرح دعای سحر، تهران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثارامام خمینی، ۱۳۸۶ش.