مسجد جمکران

ويکی شيعه سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
مسجد جمکران
مسجد جمکران گنبد و گلدسته.jpg
بنیادی معلومات
بانی خَطّاب اسدی
استعمال مسجد
مکان قم
دوسرے نام مسجد صاحب الزمان. مسجد قدم گاہ...
مرتبط واقعات قم کی پہلی مسجد
وضاحتیں
وضعیت استعمال میں

مسجد جمکران، شہر قم کے اطراف میں امام زمان(عج) کے نام سے منسوب مسجد ہے، حسن بن مثلہ جمکرانی نے امام زمان(عج) کے حکم سے اس مسجد کو بنایا ہے. مسجد جمکران پچاس صدی شمسی تک ایک چھوٹی اور سادہ سی مسجد تھی، لیکن ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد اس مسجد کی نئی تعمیر کی گئی اور اس کی زمین کو وسعت دی گئی. عصر حاضر میں یہ مسجد مختلف حصوں جیسے مراسم اور تبلیغات، عمومی روابط، لائبریری، انتشارات اور تحقیق، ثبت کرامات، نذر اور ہدیہ، میں تقسیم ہے اور ہر سال تقریباً پندرہ میلیون لوگ اس مسجد کی زیارت کے لئے آتے ہیں.

نام

یہ مسجد پہلے مسجد قدمگاہ کے نام سے مشہور تھی.[1]اور پھر کیونکہ یہ جمکران نام کے دیہات کے ساتھ ہے، اس لئے مسجد جمکران کے نام سے مشہور ہو گئی. اسی طرح حضرت مہدی(عج) کے ساتھ منسوب ہونے کی وجہ سے اسے مسجد صاحب الزمان بھی کہتے ہیں. [2]

جمکران کا علاقہ

جمکران ماضی میں ایک اہم دیہات تھا اور اس کا نام قم کی تاریخی کتاب (چوتھی صدی) میں کئی بار ذکر ہوا ہے. حسن بن محمد قمی کے بقول،[3]جمکران قم کا پہلا دیہات تھا کہ جم ملک نے اسے تعمیر کیا تھا. اور اس کے بقول اس کی بنیاد حضرت سلیمان(ع) نے رکھی ہے اور اس کے محلوں، اور اس دیہات کے آتشکدوں کو جلین پسر ماکین نام کے شخص نے بنایا ہے. قاجار کے زمانے میں جمکران میں کھیتی باڑی کی جاتی تھی.[4]

پہلی مسجد

قم کی تاریخ میں، اشعریوں کی کوفہ سے اس شہر ہجرت سے پہلے قم میں پہلی مسجد جو دوسری صدی کے اوائل میں بنائی گئی، وہ مسجد جمکران تھی، خطاب اسدی نے اس کی بنیاد رکھی اور وہ اکیلا اس مسجد میں پڑھتا تھا.[5]

مدرسی طباطبائی[6]نے احتمال دیا ہے کہ یہ یہی مسجد جمکران جو اب ہے یہ وہی خطاب اسدی کی مسجد ہے اورکوفہ میں قیام مختار کے وقت، اور غاضریہ میں ساکن قبیلہ بنی اسد کے لوگ جو کہ وہاں سے بھاگ جمکران آئے اس کے بعد، یہ مسجد مشہور ہوئی.

مسجد بنانے کی وجہ

محدث نوری نے جنہ الماوی میں نقل کیا ہے، کہ حسن بن مثلہ جمکرانی کہتا ہے:

منگل کی رات، ١٧ رمضان المبارک سنہ ٣٩٣ھ.ق کو کچھ لوگ میرے گھر کے دروازے پر آئے اور مجھے نیند سے جگا کر کہا: امام زمان(عج) نے تمہیں بلایا ہے. وہ مجھے اسی جگہ جہاں پر اب مسجد جمکران ہے لے آئے، امام(عج) نے مجھے میرے اپنے نام سے آواز دی اور فرمایا:
جاؤ حسن مسلم جو کہ اس زمین میں کھیتی باڑی کرتا ہے اسے کہو: یہ شریف زمین ہے اور حق تعالیٰ نے اس سرزمین کو انتخاب کیا ہے اور اس کے بعد یہاں پر زراعت نہ کرے. میں نے عرض کیا: اے میرے مولا مجھے کوئی دلیل چاہیے ہے ورنہ لوگ میری بات کا یقین نہیں کریں گے، آپ(عج) نے فرمایا:
تم جاؤ اور اس حکم کو انجام دو، ہم اس کے لئے نشانی بھی قرار دیں گے اور اسی طرح سید ابوالحسن (قم کے ایک عالم) سے کہو کہ اس زمین پر مسجد تعمیر کرے. اور جعفر کاشانی کے ریوڑ سے ایک بھیڑ خرید کر اسی مکان پر قربانی کرنا اور اس کا گوشت کو بیماروں میں تقسیم کرو، جو بیمار اس گوشت کو کھائے گا، حق تعالیٰ اسے شفا دے گا. امام(عج) نے ایک خاص نماز کا حکم بھی دیا.
صبح اسی رات والی جگہ پر گیا اور وہاں پر کچھ زنجیروں کو مشاہدہ کیا جو کہ مسجد کی حدود کو دکھا رہی تھیں جیسے امام(عج) نے فرمایا تھا، اس کے بعد قم سید ابوالحسن کے پاس گیا اور جب اس کے گھر کے دروازے پر پہنچا، تو اس کے خادم نے کہا: آیا تم جمکران سے آئے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں! خادم نے کہا: سید سحری سے تمہاری انتظار میں ہے. سید نے میرا احترام کیا اور کہا: اے حسن بن مثلہ میں سو رہا تھا کہ ایک شخص نے مجھے کہا:
جمکران سے حسن بن مثلہ تمہارے پاس آئے گا، وہ جو کچھ کہے اس پر اعتماد کرنا. اس کے بعد میں نے گذشتہ رات والا ماجرہ بیان کیا. ہم دونوں جمکران کی طرف چلے، جعفر کاشانی کے ریوڑ کو دیکھا، ایک بھیڑ میری طرف دوڑ کر آ گئی، جعفر نے قسم اٹھائی کہ یہ بھیڑ میرے ریوڑ میں نہ تھی اور آج تک میں نے اسے نہیں دیکھا ہے، بہر حال اس بھیڑ کو مسجد والی جگہ پر لائے اور ذبح کیا اور اس کے گوشت کو جس بیمار نے تناول کیا اسے شفا ملی. اس کے بعد سید ابوالحسن نے اس جگہ ایک مسجد بنائی جس کی چھت لکڑی کی تھی. [7]

مسجد جمکران کی داستان کا مآخذ

مسجد جمکران کے بارے میں مشہور قول، اس حکایت کو بیان کرتا ہے کہ جو میرزا حسین نوری (١٢٥٤-١٣٢٠ق) میں اپنی کتاب جملہ نجم الثاقب[8]اور جنۃ الماوی میں نقل کی ہے. بحار الانوار کے مصنفوں نے اس داستان کو جنۃ الماوی سے بحارالانوار میں منتقل کیا.[9]

نوری نے کتاب نجم ثاقب میں اس داستان کو قم کی تاریخی کتاب سے نسبت دی ہے. اور لکھا ہے کہ تاریخ قم کے مولف نے اس ماجرہ کو کتاب مونس الحزین فی معرفۃ الحق والیقین (شیخ صدوق) سے نقل کیا ہے.[10]لیکن اپنی کتاب مستدرک الوسائل میں کہتا ہے کہ یہ داستان کتاب نقد الرجال کے حاشیے میں ہے جو آقا محمد علی فرزند وحید بہبہانی کے خط (١١٤٤-١٢١٦ق) میں مشاہدہ کی ہے. اور وہ کہتا ہے کہ اس نے مونس الحزین نام کی کتاب شیخ صدوق کی فہرست میں مشاہدہ نہیں کی ہے اور نتیجہ حاصل کرتا ہے کہ شاید جو تاریخ نقد الرجال کے حاشیے میں نقل ہوئی ہے وہ غلط ہو.[11]

نجم ثاقب کے مولفین، نے اس کی تصحیح کی ہے کہ شیخ صدوق کی کتابوں میں کوئی مونس الحزین نام کی کتاب آج تک نہیں ملی ہے. انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ماجرہ تاریخ قم کے ترجمے میں موجود نہیں ہے اور تاریخ قم کی اصلی کتاب بھی درحال حاضر موجود نہیں ہے.[12]

مسجد جمکران کی نماز

بیان کئے گئے قول کے مطابق امام زمان(عج) نے حسن بن مثلہ سے فرمایا: لوگوں کو کہو اس مقام کی طرف رغبت پیدا کریں اور اسے عزیز سمجھیں اور اس مقام پر چار رکعات نماز ادا کریں.

پہلی دو رکعات:

مسجد کے احترام کی نیت سے ہے، ہر رکعات میں ایک مرتبہ سورہ حمد اور سات مرتبہ سورہ قل ھو اللہ احد پڑھی جائے اور رکوع و سجود کے ذکر کو سات مرتبہ پڑھا جائے.

دوسری دو رکعات:

دو رکعات امام زمان(عج) کی نیت سے ہے، پہلی رکعات میں سورہ حمد شروع کریں اور جب ایاک نعبد و ایاک نستعین پر پہنچیں تو اسے سو بار دہرائیں اور اس کے بعد سورہ حمد مکمل کریں اور سورہ قل ھو اللہ ایک بار قرائت کریں اور رکوع پھر رکوع میں جائیں اور سات مرتبہ ذکر سبحان ربی العظیم و بحمدہ کو سات بار پڑھیں اور پھر سجدے میں جائیں اور ذکر سبحان ربی الاعلی و بحمدہ کو سات بار دہرائیں.

دوسری رکعات کو بھی اسی ترتیب کے ساتھ بجا لائیں، نماز کے سلام کے بعد ایک بار ذکر لا الہ الا اللہ پڑھیں اور ساتھ ہی حضرت فاطمہ زہراء(س) کی تسبیح پڑھیں اور اس کے بعد سجدے میں جا کر سو مرتبہ درود شریف پڑھیں.

تاریخی منابع میں مسجد جمکران

اس مسجد کے بارے میں، کسی بھی تاریخی منابع میں کوئی ذکر نہیں ہے اور فقط منشی قمی[13]، نے سنہ ٩٨٦، میں میرغیاث الدین محمد میر میران کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ جب قم کے دیہات لنجرود میں آتے، تو کبھی کبھی اس مکان پر امام زمان(عج) کے احترام کی وجہ سے جمکران میں اعتکاف کرتے، فقیہی کے بقول[14]اس مقام سے مراد مسجد جمکران ہے. ایک اور اطلاع کے مطابق، مسجد کے تاریخی کتیبہ میں درج ایک شعر جس کی تاریخ ١١٦٧ ہے اور اس شعر میں مسجد کی تعمیر کے سال کی طرف اشارہ ہوا ہے.[15]ظاہراً اسی زمانے میں مسجد کی طرف ایک راستہ نکالا گیا. [16] قاجاریہ دور کے اواخر اور پہلوی دور کے اوائل میں، مسجد کی عمارت بہت پرانی اور آدھی ویران ہو چکی تھی.[17]

معماری

قاضی احمد قمی اور کتیبہ سنہ ١١٦٧ کے مطابق، مسجد افشاریہ دور سے قبل بنائی گئی ہے، لیکن صفوی دور کی معماری میں مسجد جمکران کے بارے میں کوئی درست اطلاع موجود نہیں ہے.[18]

مسجد کے کتیبے کے مطابق، میرزا علی اکبر جمکرانی نے سنہ ١١٦٧ق میں اسے تعمیر کیا، ایک ستون دار مسجد جس کی لمبائی چوڑائی ٥بائی ١٧ میٹر اور مسجد میں چار فرش بچھائے گئے تھے، جنوب کا صحن ١٣بائی١٧ میٹر تھا[19]ناصری دور میں، حاجی علیقلی جمکرانی نے صحن کی تعمیر کروائی جس پر تین لاکھ تومان خرچ کیا. علی اصغر خان اتابک نے مظفرالدین شاہ کی حکومت کے اوائل میں (١٣١٣-١٣٢٤) مسجد اور صحن کی تعمیر کی اور صحن کے اطراف میں کمرے اور ھال بنوائے اور پانی ذخیرہ کرنے کے لئے دو کنویں، ایک صحن کے اندر اور دوسرا صحن کے باہر، تعمیر کیا. [20]

آیت اللہ محمد تقی بافقی نے بھی مسجد کی تعمیر کے لئے کام کیا اور وہاں پانی کے کنویں کو اضافہ کیا.[21] قاجاریہ دور میں مسجد کی تعمیر، کے ساتھ اس کچھ تزئینات بھی بڑھائی گئیں من جملہ دیواروں پر ڈیڑھ میٹر کی بلندی تک سات رنگ کی ٹائلیں لگائی گئیں اور اوپر والے حصے میں سنہری اور نیلے رنگ کے اسلیمی نقوش سے تزئین کیا گیا اورخاص قسم کی ٹائلوں سے مسجد کے درمیانی حصے میں سورہ جمعہ کی کچھ آیات کو لکھا گیا.

حوالہ جات

  1. فیض قمی، ۱۳۴۹ش، ج۲، ص۶۶۷.
  2. میرعظیمی، ۱۳۸۳ش، ص۵۸.
  3. قمی، کتاب تاریخ قم، ۱۳۶۱ش، ص۶۰ـ۶۱
  4. قم‌نامه، ص۹۶ـ۹۷.
  5. حسن بن محمد قمی، ص ۳۸.
  6. ج ۲، ص ۱۶۳ ـ ۱۶۴.
  7. نجم الثاقب، ص ۳۸۳ تا ۳۸۸؛ ناصر الشریعه، ص ۲۳۴ ـ ۲۳۷
  8. نوری، حسین، نجم الثاقب، انتشارات مسجد جمکران، ج۲، ص ۴۵۴
  9. بحار الانوار، ج ۵۳، ص ۲۴۹. ناشران کتاب بحار الانوار همه کتاب جنة الماوی را در جلد ۵۳ بحار الانوار آورده اند.
  10. نوری، حسین، نجم الثاقب، انتشارات مسجد جمکران، ج۲، ص ۴۵۴
  11. نوری، حسین،‌ مستدرک الوسائل، ج۳، ص ۴۴۷
  12. نجم الثاقب، انتشارات مسجد جمکران، ج۲، ص ۴۵۴
  13. منشی قمی، خلاصه التواریخ، ج ۲، ص ۱۰۱۹
  14. فقیهی، قم در مسیر تاریخ، ص ۱۷۱.
  15. مدرسی طباطبائی،تربت پاکان .... ، ج ۲، ص ۱۶۴ ـ ۱۶۵؛ فیض قمی، گنجینه آثار قم، ج ۲، ص ۶۶۹ ـ ۶۷۰
  16. قریشی، راهنمای مصور قم و جمکران، ص ۶۶.
  17. فقیهی، تاریخ مذهبی قم، ص ۲۷۴.
  18. مدرسی طباطبائی، ج ۲، ص ۱۶۴؛ فیض قمی، ج ۲، ص ۶۷۰
  19. فیض قمی، ج ۲، ص ۶۶۷
  20. ناصرالشریعه، ص۲۳۳
  21. کوچک زاده، ص۲۴۶

مآخذ

  • حسن بن محمد قمی، کتاب تاریخ قم ، ترجمه حسن بن علی قمی، چاپ جلال الدین طهرانی، تهران، ۱۳۶۱ش.
  • زندیه، حسن، مسجد جمکران ، مسجد، ش ۲۵، فروردین و اردیبهشت، ۱۳۷۵ش.
  • فقیهی، علی اصغر، تاریخ مذهبی قم ، قم، ۱۳۷۸ش.
  • فقیهی، علی اصغر، قم در مسیر تاریخ ، نامه قم، ش ۷ و ۸، پاییز و زمستان ۱۳۷۸ش.
  • فیض قمی، عباس، کتاب گنجینه آثار قم ، قم، ۱۳۴۹ ـ ۱۳۵۰ش.
  • قریشی، جواد، راهنمای مصوّر قم و جمکران ، قم، ۱۳۸۲ش.
  • کتابچه تفصیل حالات و املاک و مستغلات و قنوات و بلوکات دارالایمان قم ، در قم نامه: مجموعه مقالات و متون درباره قم، حسین مدرسی طباطبائی، *قم، کتابخانه آیت اللّه مرعشی نجفی، ۱۳۶۴ش.
  • کوچک زاده، محمدرضا، تاریخچه قم و مساجد تاریخی آن ، قم، ۱۳۸۰ش.
  • مدرسی طباطبائی، تربت پاکان آثار و بناهای قدیم محدوده کنونی دارالمؤمنین قم، ق، م ۱۳۵۵ش.
  • منشی قمی، احمد، خلاصة التواریخ ، چاپ احسان اشراقی، تهران، ۱۳۵۹ ـ ۱۳۶۳ش.
  • میرعظیمی، جعفر، مسجد مقدّس جمکران تجلیگاه صاحب الزمان ، قم، ۱۳۸۳ش.
  • ناصرالشریعه، محمدحسین، تاریخ قم ، چاپ علی دوانی، تهران، ۱۳۸۳ش.
  • نوری، حسین، کتاب نجم الثّاقب ، قم، ۱۴۱۲ق.
  • ویژه نامه جمکران، قم، مسجد مقدّس جمکران، ۱۳۸۴ش.