مسجد جمکران

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مسجد جمکران
مسجد جمکران.jpg
مشخصات
تأسیس: محدث نوری کے مطابق چوتھی صدی ہجری
استعمال: زیارت گاہ
محل وقوع: قم
دیگر اسامی: مسجد صاحب الزمان•مسجد قدمگاہ
معماری
طرز تعمیر: اسلامی معماری

مسجد جمکران، جو شیعوں کے بارہویں امام سے منسوب ہے؛ قم شہر کے مضافات میں واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس مسجد کو چوتھی صدی میں خود حضرتؑ کے حکم پر تعمیر کیا گیا تھا۔ چودہویں صدی کے شیعہ محدث مرزا حسین نوری کے بقول، مسجد جمکران کی تعمیر امام زمانہؑ کے حکم پر ابو الحسن نامی ایک قمی عالم کے توسط سے عمل میں آئی۔ محدث نوری نے حسن بن مثلہ جمکرانی کی حضرت مہدیؑ کے ساتھ ہونے والی ایک ملاقات کا ذکر کیا ہے کہ جس میں امام زمانہؑ نے مسجد جمکران کی تعمیر کا حکم دیا۔ مرزا حسین نوری کے نزدیک یہ واقعہ سنہ ۳۷۳ ھ یا ۳۹۳ ھ کا ہے اور اس کیلئے شیخ صدوق کی کتاب مونس الحزین کا حوالہ دیتے ہیں۔ بعض معاصر محققین نے مسجد کی امام زمانہؑ کیساتھ نسبت میں تردید کا اظہار کیا ہے کہ جس کی دلیل شیعہ رجالی کتب اور اسی طرح شیخ صدوق کی دیگر تصنیفات میں اس واقعے کا مذکور نہ ہونا ہے۔ کچھ مذہبی مراسم جیسے شب برات کا جشن ، دعائے توسل اور دعائے ندبہ اس مسجد میں منعقد کی جاتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بدھ کی رات کو لوگوں کی مسجد جمکران میں حاضری پہلوی دور کے شیعہ عالم شیخ محمد تقی بافقی کے زمانے میں پررونق ہوئی؛ کیونکہ وہ کچھ طلاب کے ہمراہ بدھ کی رات کو مسجد جمکران میں عبادت کرتے تھے۔ مسجد جمکران کی مختلف ادوار میں مرمت اور تعمیر نو کی جاتی رہی ہے؛ اس کی تعمیر کے قدیمی ترین کتبے میں سنہ ۱۱۶۷ ھ کا اشارہ ملتا ہے۔ ۱۳۵۷شمسی میں ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے اس کی عمارت چھوٹی تھی تاہم انقلاب کے بعد اسے بہت وسیع کر دیا گیا ہے۔ اس وقت مسجد جمکران بیرونی ایوانوں، اصلی صحن، شبستانوں، مسجدِ مقام اور دفاتر پر مشتمل ہے۔ مسجد جمکران کے مخصوص اعمال ذکر کیے گئے ہیں؛ منجملہ دو رکعت نماز تحیت مسجد اور دو رکعت نماز امام زمانہؑ۔ محدث نوری نے ان اعمال کو امام زمانہؑ سے منسوب کیا ہے اور شیخ عباس قمی نے انہی سے نقل کرتے ہوئے اسے مفاتیح الجنان میں ذکر کیا ہے۔

محل وقوع اور نام

مسجد جمکران قم شہر کے اطراف میں اور حضرت معصومہؑ کے حرم[1] سے آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور اس کی نسبت شیعوں کے بارہویں امام کی طرف ہے۔[2] جمکران کے دیہات سے نزدیکی کے باعث اس کی شہرت مسجد جمکران کے نام سے ہے۔[3] ماضی میں یہ مسجد ’’مسجدِ قدمگاہ‘‘ کے نام سے مشہور تھی؛[4] اس کی وجہ تسمیہ وہ سنگ مرمر تھا کہ جسے بارہویں امامؑ کی قدمگاہ قرار دیا جاتا تھا۔[5] امام زمانہؑ[6] سے نسبت کی وجہ سے اس مسجد کو ’’مسجد صاحب الزمان‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔[7]

امام زمانہؑ سے انتساب

چودہویں صدی کے شیعہ محدث مرزا حسین نوری کی نقل کے مطابق مسجد جمکران چوتھی صدی ہجری میں امام زمانہؑ کے حکم پر ایک قمی عالم سید ابو الحسن کے توسط سے تعمیر ہوئی۔[8] محدث نوری نے حسن بن مثلہ جمکرانی سے نقل کیا ہے کہ وہ ماہ رمضان سنہ ۳۹۳ ھ کو امام کی خدمت میں پہنچا اور اس ملاقات میں امام زمانہؑ نے اس کے ذریعے حسن بن مسلم کو یہ پیغام بھیجا کہ آئندہ اس زمین (وہ زمین کہ جہاں بعد میں مسجد جمکران تعمیر کی گئی) پر کھیتی باڑی نہ کرے اور قمی عالم سید ابو الحسن سے کہے کہ حسن بن مسلم سے اس رقم کو دریافت کر کے اس مقام پر ایک مسجد تعمیر کرے کہ جو اس نے مذکورہ زمین پر چند سال تک کھیتی باڑی کر کے حاصل کی ہے۔[9] اس بنیاد پر اس واقعے کے بعد سید ابو الحسن نے لکڑی کی چھت سے بنی ہوئی ایک مسجد اسی مقام پر تعمیر کی کہ جس کی حد بندی امام زمانہؑ نے فرمائی تھی۔[10]

مآخذ

مسجد جمکران کی تعمیر کا قصہ محدث نوری کی کتب جیسے کلمہ طیبہ[11] ، نجم الثاقب[12] مستدرک الوسائل[13] اور جنۃ الماویٰ[14] میں نقل ہوا ہے۔ محدث نوری نے اس قصے کی نسبت کتاب تاریخ قم کی طرف دی ہے اور لکھا ہے کہ تاریخ قم نے اسے شیخ صدوق کی کتاب مونس الحزین فی معرفۃ الحق والیقین سے نقل کیا ہے۔[15] اسی طرح محدث نوری نے مستدرک الوسائل میں کہا ہے کہ انہوں نے یہ داستان کتاب نقد الرجال کے حاشیے میں آغا محمد علی بن وحید بہبھانی کے قلم سے مرقوم دیکھی ہے۔ (۱۱۴۴-۱۲۱۶ھ) کہ جنہوں نے اس کی نسبت کتاب مونس الحزین فی معرفۃ الدین والیقین کی طرف دی ہے۔[16]

شک و تردید

محدث نوری ((۱۲۵۴-۱۳۲۰ھ) نے مسجد جمکران کا سن تعمیر اپنی کچھ تالیفات میں ۳۹۳ھ[17] اور بعض تالیفات میں ۳۷۳ھ قرار دیا ہے[18] جبکہ کتاب تاریخ قم کے مؤلف ناصر الشریعہ نے یہ احتمال دیا ہے کہ شاید مذکورہ واقعہ سو سال قبل ۲۹۳ھ میں پیش آیا ہو[19] جیسا کہ محدث نوری نے بھی کتاب نقد الرجال کے حاشیے میں اسی تاریخ کو ذکر کیا ہے۔[20] کچھ معاصر محققین نے مسجد جمکران کے واقعے کی امام زمانؑہ سے نسبت کے حوالے سے تردید کا اظہار کیا ہے؛ معاصر محقق علی دوانی نے درج ذیل سوال اٹھائے ہیں: ۱۔ شیخ صدوق کی کتاب ’’مونس الحزین‘‘ کا رجالی کتب میں تذکرہ نہیں ملتا۔ ۲۔ یہ واقعہ کتاب تاریخ قم کے موجودہ پانج ابواب کے ترجمے میں نہیں ہے۔ شیخ صدوق نے اپنی دیگر تصنیفات میں اس واقعے کو ذکر نہیں کیا ہے۔[21]

اعمال

مسجد جمکران کیلئے مخصوص اعمال ذکر کیے گئے ہیں؛ نماز تحیت مسجد اور نماز امام زمانہ؛[22]

  • پہلی دو رکعتیں؛ نماز تحیت مسجد کی نیت سے ادا کریں۔ ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورہ حمد اور سات مرتبہ سورہ توحید پڑھی جائے اور رکوع اور سجدے کا ذکر سات مرتبہ پڑھا جائے۔[23]
  • دوسری دو رکعتیں؛ نماز امام زمانہؑ کی نیت سے بجا لائے۔ اس نماز کی ہر رکعت میں آیت «ایاک نعبد و ایاک نستعین»[24] کو سو مرتبہ پڑھا جائے اور اس کے بعد باقی سورہ حمد اور پھر سورہ توحید کی قرائت کی جائے۔ پھر رکوع میں سُبحانَ رَبّی العَظیمِ و بِحَمدِہِ اور سجدے میں سُبحانَ رَبّی الاَعلی و بِحَمدِہِ، سات مرتبہ پڑھا جائے گا۔ نماز کے سلام کے بعد ایک مرتبہ لا الہ الا اللہ کہا جائے اور پھر حضرت زہراؑ کی تسبیح پڑھی جائے۔ اس کے بعد نمازی حالت سجدہ میں سو مرتبہ صلوات پڑھے۔[25]

محدث نوری نے مسجد جمکران کے اعمال کی نسبت امام زمانہؑ کی طرف دی ہے اور آپؑ سے نقل کیا ہے کہ ’’لوگ اس جگہ کی طرف رغبت کریں اور اسے عزیز رکھیں‘‘۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ جو شخص یہ چار رکعتی نماز مسجد جمکران میں بجا لائے گا تو وہ اس شخص کی مانند ہے کہ جس نے کعبہ میں نماز ادا کی ہو۔[26] شیخ عباس قمی نے یہ اعمال محدث نوری سے نقل کرتے ہوئے مفاتیح الجنان میں ذکر کیے ہیں۔[27] معاصر محقق اور مورخ علی دوانی نے مسجد جمکران کی امام زمانہؑ سے نسبت میں تردید کے بعد ان اعمال کی صحت میں بھی اظہار تردید کیا ہے۔[28]

شب بدھ اور مذہبی تقریبات

جمکران میں نیمہ شعبان کے مراسم

مسجد جمکران میں بعض مذہبی تقریبات جیسے نیمہ شعبان کا جشن منعقد ہوتا ہے۔[29] مختلف علاقوں کے لوگ مذکورہ ایام میں خصوصی طور پر مسجد میں حاضری دیتے ہیں۔[30] کہا جاتا ہے کہ ان کی تعداد سالانہ ۱۵ ملین افراد تک جا پہنچتی ہے۔[31] تاریخ جامع قم (جو پانچ جلدوں پر مشتمل ہے) کے مصنف علی اصغر فقیہی نے سنہ ۱۳۵۰ شمسی میں مسجد جمکران کو ایران کی ایک بارونق ترین مسجد قرار دیا تھا کہ جس میں شب بدھ ایران کے مختلف شہروں جیسے تہران اور قم کے لوگ حاضر ہوتے تھے۔[32] انہوں نے مسجد جمکران کی رونق کو آیت اللہ محمد تقی یزدی بافقی کے مرہون منت قرار دیا ہے کہ جو منگل کی سہ پہر کو طلاب کی ایک جماعت کے ہمراہ پیدل مسجد جمکران جاتے تھے ، نماز مغرب اور عشا وہیں پر ادا کرتے تھے اور ساری رات وہاں عبادت میں مشغول رہتے تھے۔[33] ناصر الشریعہ کے بقول، اس سے قبل قم کے کچھ لوگ شب جمعہ کو اس مسجد میں عبادت کرتے تھے۔[34]

مختصر تاریخ اور نشیب وفراز

مسجد جمکران کی ایک قدیمی تصویر

مرزا حسین نوری کی نقل کردہ حکایت کے مطابق مسجد جمکران کی تعمیر چوتھی صدی ہجری کو عمل میں لائی گئی۔[35] سید حسین مدرسی طباطبائی نے احتمال دیا ہے کہ مسجد جمکران وہی مسجد خطاب اسدی ہے کہ جسے تاریخ قم کے مطابق دوسری صدی ہجری کے اوائل میں جمکران میں تعمیر کیا گیا تھا۔[36] [نوٹ 1] کچھ دیگر محققین نے مسجد جمکران کو مذکورہ مسجد سے ہٹ کر ایک اور مسجد قرار دیا ہے اور محدث نوری کی نقل کے مطابق اسے چوتھی صدی ہجری میں تعمیر کیا گیا۔[37] اس کے باوجود تاریخی منابع میں مسجد جمکران کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ صرف کتاب خلاصۃ التواریخ میں ۹۸۶ہجری کے واقعات کے ضمن میں میر غیاث الدین محمد میر میران کے حالات میں آیا ہے کہ وہ قم کے دیہات لنگرود میں قیام کے دوران بعض اوقات جمکران میں اس مقام پر کہ جسے مقام امام زمانؑ کہا جاتا ہے، اعتکاف کرتے تھے۔[38] تاریخ کے معاصر محقق علی اصغر فقیہی کے بقول ان کی اس مقام سے مراد مسجد جمکران تھی۔[39]

مسجد کی تعمیر

مسجد جمکران مختلف ادوار میں تعمیر نو اور مرمت کے مراحل سے گزرتی رہی۔ اس کتبے کے مطابق کہ جس پر ۱۱۶۷قمری کی تاریخ ثبت ہے؛ مرزا علی اکبر جمکرانی نے سنہ ۱۱۶۷قمری میں مسجد کی تعمیر کی۔ اسی طرح مذکورہ کتبے کی بنیاد پر اس زمانے میں یہ عمارت 5×17 میٹر کے ابعاد پر مشتمل تھی جبکہ جنوب میں ایک صحن 17×13 میٹر کا تھا۔[40] [نوٹ 2] بعد میں علی قلی جمکرانی نے مسجد کے صحن کی تعمیر کا آغاز کیا مگر صحن نامکمل رہ گیا یہاں تک کہ علی اصغر خان اتابک نے مظفر الدین شاہ قاجار(۱۲۳۲-۱۲۸۵شمسی) کی حکومت کے اوائل میں اسے تعمیر کیا۔[41] پہلوی دور کے قمی عالم شیخ محمد تقی بافقی (متوفی ۱۳۲۵شمسی) نے مسجد میں کچھ تعمیرات انجام دیں۔[42] اسی طرح سید محمد آقا زادہ نامی ایک شخص نے ۱۳۳۲شمسی میں مسجد کے کچھ حصوں کو تعمیر کیا اور صحن کے جنوب میں ایک ہال کی بنیاد ڈالی۔[43] جنوب مشرقی حصے میں اینٹوں سے بنا ہوا ۱۷ میٹر اونچا گلدستہ موجود ہے کہ جسے کتبے کے مطابق ۱۳۱۸شمسی میں تعمیر کیا گیا۔[44]

اسلامی جمہوریہ میں عمارت کی توسیع

ایران میں سنہ ۱۳۵۷شمسی میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد حوزہ علمیہ قم کی شوریٰ نے مسجد جمکران کے بورڈ آف ٹرسٹیز کا تقرر کیا اور ادارہ اوقاف و امور خیریہ نے معاملات کی نگرانی کا ذمہ سنبھال لیا[45] کہ جس کے بعد مسجد کی توسیع کا کام تیز ہو گیا۔ اس کے بعد چالیس ایکڑ زمین مسجد جمکران کے قبضے میں آ گئی کہ جس میں سے ساڑھے پانچ ایکڑ اصلی صحن سے مختص ہے۔[46] اسی طرح سنہ ۱۳۸۲شمسی میں ایک منصوبے کی منظوری عمل میں لائی گئی کہ جس کے مطابق مسجد جمکران کیلئے تقریبا ۲۵۰ ایکڑ زمین کو مدنظر رکھا گیا اور تقریبا ۳۰ ہزار مربع میٹر اراضی کو مسجدِ مقام اور شبستانوں کیلئے مخصوص کیا گیا اور باقی صحن، دفتری امور اور خدمت رسانی کیلئے درکار عمارات کیلئے مخصوص کر دئیے گئے۔ اس منصوبے کے تحت سوائے مسجد مقام کے مسجد کی باقی تمام عمارت کو از سر نو تعمیر کیا گیا۔[47] مسجد جمکران کا انتظام مختلف شعبہ جات جیسے شعبہ تقریبات و تبلیغات ، روابط عامہ، کتب خانہ، پبلیکیشنز، شعبہ اندراج کرامات ، نذر و نیاز و تحائف؛ کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ مسجد جمکران کے موجودہ متولی محمد حسین رحیمیان ہیں۔ ان سے پہلے ابو القاسم وافی مسجد جمکران کے منتظم تھے۔[48]

معماری اور عمارت

مسجد جمکران مجموعی طور پر مختلف حصوں جیسے مسجد مقام، شبستان، مرکزی صحن اور دفاتر پر مشتمل ہے۔

مسجد مقام

مسجد جمکران کے مرکزی شبستان کی عمارت کا نام مسجد مقام ہے اور اس کا رقبہ تقریبا ۱۱۰۰ مربع میٹر ہے۔ مسجد کا اندرونی ایوان تین داخلی راستوں کے ذریعے شبستان کی طرف کھلتا ہے۔ ایوان کے اطراف میں ۶۰ میٹر اونچے دو مینار ہیں۔ شبستان کے آٹھ ستون ہیں کہ جن کے اوپر دھات کے ڈھانچے سے تعمیر کردہ مسجد کا گنبد ہے۔ گنبد کے ابتدائی حصے میں ۲۳ کھڑکیاں بنائی گئی ہیں کہ جن سے شبستان کی روشنی کا انتظام ہوتا ہے۔ گنبد کی بیرونی سطح بھی فیروزی اینٹوں سے ڈھکی ہوئی ہے اور اس کے اندر کی الواح «یا مہدی ادرکنی» کی عبارت سے مزین ہیں۔ گنبد کی اندرونی الواح کو معرق کاشی کاری سے مزین کیا گیا ہے۔ اسی طرح ستون، محراب اور شبستان کے داخلی ایوان اور ان کے دونوں اطراف کے مینار معرق کاشی کاری اور مقرنس کاری کا خوبصورت نمونہ ہیں۔[49]

اصلی صحن

مسجد جمکران کے چھ داخلی دروازے ہیں کہ جن میں سے شمال مشرقی دروازہ سیدھا اصل شبستان کی طرف کھلتا ہے۔[50] صحن کے اطراف میں مینار تعمیر کیے گئے ہیں اور مسجد جمکران کی انتظامیہ کے بقول ان کی تعداد چودہ تک جا پہنچے گی۔[51]

شبستان

اصل مضمون: چاہ عريضہ مسجد مقام کی عمارت کے پیچھے اور مسجد کے بیرونی احاطے میں ایک کنواں ہے کہ جو چاہ عريضہ کے نام سے معروف ہے۔[52] کچھ شیعہ اس کنویں کے مقدس ہونے کا عقیدہ رکھنے کی بنا پر امام زمانہؑ کے نام اپنے عریضے اور خط اس کنویں میں ڈالتے ہیں۔[53] بعض محققین کے بقول کنویں کے حوالے سے کوئی سند نہیں مل سکی ہے اور مراجع تقلید میں سے کوئی بھی اس کی قداست کا قائل نہیں ہے۔[54] اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر[55] آیت اللہ خامنہ ای اور مرجع تقلید آیت اللہ مکارم شیرازی[56] نے مذکورہ کنویں میں خطوط ڈالنے کی مخالفت کی ہے۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ محراب مسجد کے درمیان ایک چھوٹا کنواں موجود ہے کہ کچھ زائرین تبرک کے عنوان سے اس کے اندر سے مٹی اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح محراب میں ایک پتھر کا ٹکڑا بھی موجود ہے کہ جس کے وسط میں ایک بڑے قدم کا نشان مسجدِ قدمگاہ کی علامت کے طور پر کندا کیا گیا تھا کہ جسے ۱۳۵۰ھ میں آیت اللہ فیض قمی متوفی ۱۳۷۰ھ کے حکم پر بدعت کا نشان ہونے کے سبب محو کر دیا گیا ہے۔[57]

مزید مطالعہ

  • جعفر میر عظیمی نے اپنی کتاب ’’مسجد مقدس جمکران: صاحب الزمان کی تجلی گاہ‘‘؛ میں پہلے مسجد جمکران کی تاریخ کا ذکر کیا ہے[58] پھر اس کے بارے میں چند علما اور مراجع تقلید کے اقوال ذکر کیے ہیں۔[59] آگے چل کر اس مسجد میں ظاہر ہونے والی بعض کرامات اور مسجد کے احترام کے حوالے سے چند اشعار کو جمع کیا ہے۔[60] مسجد جمکران پبلشرز نے اس کتاب کو چند بار زیور طبع سے آراستہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

گیلری

حوالہ جات

  1. خان‌محمدی، «چاہ عريضہ جمکران؛ از خرافہ تا واقعیت»، ص۱۶۲۔
  2. نوری، جنۃ المأوی، ۱۴۲۷ھ، ص۵۴-۵۸؛ نوری، نجم الثاقب، ۱۳۸۴ھ، ج۲، ص۴۵۴-۴۵۸؛ نوری، کلمہ طیبہ، ۱۳۸۰شمسی، ص۶۸۲-۶۸۶۔
  3. عرب، مدخل مسجد جمکران، ص۷۴۷۔
  4. فیض قمی، گنجینہ آثار قم، ۱۳۴۹شمسی، ج۲، ص۶۶۷، منقول از دانشنامہ جہان اسلام، مدخل مسجد جمکران، ص۷۴۷۔
  5. ناصر الشریعہ، تاریخ قم، ۱۳۸۳شمسی، ص۲۳۳۔
  6. عرب، مدخل مسجد جمکران، ص۷۴۷۔
  7. مدرسی طباطبائی، تربت پاکان، ۱۳۳۵شمسی، ج۲، ص۱۶۴۔
  8. نوری، جنۃ المأوی، ۱۴۲۷ھ، ص۵۴-۵۸۔
  9. نوری، جنۃ المأوی، ۱۴۲۷ھ، ص۵۴-۵۸۔
  10. نوری، جنۃ المأوی، ۱۴۲۷ھ، ص۵۴-۵۸؛ نوری، نجم الثاقب، ۱۳۸۴ھ، ج۲، ص۴۵۴-۴۵۸؛ نوری، کلمہ طیبہ، ۱۳۸۰شمسی، ص۶۸۲-۶۸۶۔
  11. نوری، کلمہ طیبہ،۱۳۸۰شمسی، ص۶۸۲-۶۸۶۔
  12. نوری، کلمہ طیبہ، ۱۳۸۰شمسی، ص۶۸۲-۶۸۶۔
  13. نوری،‌ مستدرک الوسائل، ۱۴۸ھ، ج۳، ص۴۴۷۔
  14. نوری، جنۃ المأوی، ۱۴۲۷ھ، ص۵۴-۵۸۔
  15. نوری، جنۃ المأوی، ۱۴۲۷ھ، ص۵۴۔
  16. نوری،‌ مستدرک الوسائل، ۱۴۸ھ، ج۳، ص۴۳۲ و ۴۴۷۔
  17. نوری، جنۃ المأوی، ۱۴۲۷ھ، ص۵۴-۵۸، ص۳۸۳-۳۸۸؛ نوری، کلمہ طیبہ، ۱۳۸۰شمسی، ص۶۸۲-۶۸۶۔
  18. نوری،‌ مستدرک الوسائل، ۱۴۸ھ، ج۳، ص۴۴۷؛ نوری، نجم الثاقب، ۱۳۸۴ھ، ج۲، ص۴۵۸۔
  19. ناصر الشریعہ، تاریخ قم، ۱۳۸۳شمسی، ص۲۳۹۔
  20. نوری، نجم الثاقب، ۱۳۸۴ھ، ج۲، ص۴۵۸۔
  21. ناصر الشریعہ، تاریخ قم، ۱۳۸۳شمسی، ص۲۹-۳۰۔
  22. نوری، جنۃ المأوی، ۱۴۲۷ھ، ص۵۶؛ نوری، کلمہ طیبہ، ۱۳۸۰شمسی، ص۶۸۴۔
  23. قمی، کلیات مفاتیح الجنان، نماز مسجد جمکران، ص۴۲۷-۴۲۹۔
  24. سورہ حمد، آیہ ۵۔
  25. نوری، جنۃ المأوی، ص۵۵-۵۶؛ نوری، نجم الثاقب، ۱۳۸۴ھ، ج۲، ص۴۵۶؛ قمی، کلیات مفاتیح الجنان، نماز مسجد جمکران، ص۴۲۷-۴۲۹۔
  26. نوری، جنۃ المأوی، ۱۴۲۷ھ، ص۵۶؛ نوری، کلمہ طیبہ، ۱۳۸۰شمسی، ص۶۸۴؛ قمی، کلیات مفاتیح الجنان، نماز مسجد جمکران، ص۴۲۹۔
  27. قمی، کلیات مفاتیح الجنان، نماز مسجد جمکران، ص۴۲۷-۴۲۹۔
  28. ناصر الشریعہ، تاریخ قم، ۱۳۸۳شمسی، ص۳۰۔
  29. ملاحظہ کیجئے: «اعلام برنامہ ہای ویژہ نیمہ شعبان در مسجد مقدس جمکران»۔
  30. خان‌محمدی، «چاہ عريضہ جمکران از خرافہ تا واقعیت»، ص۱۶۲۔
  31. ویژہ‌نامہ جمکران، ۱۳۸۴شمسی، ص۷-۱۱، منقول از دانشنامہ جہان اسلام، مدخل مسجد جمکران، ص۷۴۸۔
  32. فقیہی، تاریخ مذہبی قم، ۱۳۸۶شمسی، ص۲۷۳۔
  33. فقیہی، تاریخ مذہبی قم، ۱۳۸۶شمسی، ص۲۷۳-۲۷۴۔
  34. ناصر الشریعہ، تاریخ قم، ۱۳۸۳شمسی، ص۲۳۳۔
  35. نوری، جنۃ المأوی، ۱۴۲۷ھ، ص۵۴-۵۸؛ نوری، نجم الثاقب، ۱۳۸۴ھ، ج۲، ص۴۵۴-۴۵۸؛ نوری، کلمہ طیبہ، ۱۳۸۰شمسی، ص۶۸۲-۶۸۶۔
  36. مدرسی طباطبائی، تربت پاکان، ۱۳۳۵شمسی، ج۲، ص۱۶۳-۱۶۴۔
  37. فقیہی، تاریخ مذہبی قم، ۱۳۸۶شمسی، ص۲۷۲۔
  38. منشی قمی، خلاصۃ التواریخ، ۱۳۵۹-۱۳۶۳شمسی، ج۲، ص۱۰۱۹، منقول از دانشنامہ جہان اسلام، مدخل مسجد جمکران، ص۷۴۷۔
  39. فقیہی، «قم در مسیر تاریخ»، ص۱۷۱، منقول از دانشنامہ جہان اسلام، مدخل مسجد جمکران، ص۷۴۷۔
  40. مدرسی طباطبائی، تربت پاکان، ۱۳۳۵شمسی، ج۲، ص۱۶۴۔
  41. ناصر الشریعہ، تاریخ قم، ۱۳۸۳شمسی، ص۲۳۳۔
  42. کوچک‌زادہ، تاریخچہ قم و مساجد تاریخی آن، ۱۳۸۰شمسی، ص۲۴۶، منقول از دانشنامہ جہان اسلام، مدخل مسجد جمکران، ص۷۴۸۔
  43. فیض قمی، گنجینہ آثار قم، ۱۳۴۹-۱۳۵۰شمسی، ج۲، ص۶۶۸، ۶۷۱، منقول از دانشنامہ جہان اسلام، مدخل مسجد جمکران، ص۷۴۸۔
  44. فیض قمی، گنجینہ آثار قم، ۱۳۴۹-۱۳۵۰شمسی، ج۲، ص۶۷۰-۶۷۲، منقول از دانشنامہ جہان اسلام، مدخل مسجد جمکران، ص۷۴۸۔
  45. زندیہ، «مسجد جمکران»، ص۸۰، منقول از دانشنامہ جہان اسلام، مدخل مسجد جمکران، ص۷۴۸۔
  46. زندیہ، «مسجد جمکران»، ص۷۸، منقول از دانشنامہ جہان اسلام، مدخل مسجد جمکران، ص۷۴۹۔
  47. عرب، «مسجد جمکران»، ج۱۰، ص۷۴۹۔
  48. «تولیت مسجد مقدس جمکران»۔۔
  49. عرب، «مسجد جمکران»، ج۱۰، ص۷۴۹۔
  50. «معماری مسجد مقدس جمکران؛ دومین مقصد گردشگری مذہبی در قم»۔
  51. «توسعہ مسجد جمکران نیازمند ۱۷۰ میلیارد تومان اعتبار است»۔
  52. خان‌محمدی، «چاہ عريضہ جمکران از خرافہ تا واقعیت»، ص۱۶۲۔
  53. خان‌محمدی، «چاہ عريضہ جمکران از خرافہ تا واقعیت»، ص۱۶۳۔
  54. خان‌محمدی، «چاہ عريضہ جمکران از خرافہ تا واقعیت»، ص۱۷۵۔
  55. مسیح در شب قدر، ۱۳۹۳شمسی، ص۴۳۱۔
  56. «چاہ عريضہ در مسجد جمکران»۔
  57. فیض قمی، گنجینہ آثار قم، ۱۳۴۹-۱۳۵۰شمسی، ج۲، ص۶۶۸، منقول از دانشنامہ جہان اسلام، مدخل مسجد جمکران، ص۷۴۸۔
  58. میرعظیمی، مسجد مقدس جمکران، ۱۳۷۸شمسی، ص۲۷-۳۵۔
  59. میرعظیمی، مسجد مقدس جمکران، ۱۳۷۸شمسی، ص۳۷-۶۸۔
  60. میرعظیمی، مسجد مقدس جمکران، ۱۳۷۸شمسی، ص۷۰-۱۷۸۔


نوٹ

  1. کتاب تاریخ قم کی نقل کے مطابق قم میں تعمیر کی جانے والی پہلی مسجد جمکران گاؤں کی مسجد تھی کہ جسے خطاب اسدی نے اشعریوں کی کوفہ سے اس شہر کی طرف ہجرت سے پہلے دوسری صدی ہجری کے اوائل میں تعمیر کیا۔ (قمی، تاریخ قم، ۱۳۶۱ھ، ص۳۸)۔
  2. ناصر الشریعہ نے سنہ تعمیر اور کتبے کی تاریخ ۱۱۵۸ھ ذکر کی ہے۔ (ناصر الشریعہ، تاریخ قم، ۱۳۸۳شمسی، ص۲۳۳)۔