عثمان بن سعید عمری

ویکی شیعہ سے
(عثمان بن سعید سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عثمان بن سعید عَمری
مرقد عثمان بن سعید.jpg

عثمان بن سعید کا مزار
معلومات
مکمل نام عثمان بن سعید
کنیت ابو عمرو
لقب عَمری، سمّان، اسدی ،عسکری
وجہ شہرت پہلا نائب خاص امام زمانہ(ع)
مدفن مسجد درب (بغداد کا مغربی حصہ)
دیگر کارنامے شیعوں اور امام زمانہ کے درمیان رابطہ


عُثمان بن سعید عَمْری (متوفی ۲۶۵ ہجری قمری) جو اَبوعَمرو کے نام سے مشہور ہیں، امام زمانہ(ع) کی غیبت صغری کے زمانے میں نواب اربعہ میں سے پہلے نائب خاص ہیں۔ آپ کو امام ہادی(ع)، امام عسکری(ع) اور امام مہدی(ع) کے اصحاب میں سے جانا گیا ہے لیکن کیا آپ کا شمار امام جواد(ع) کے اصحاب میں بھی ہوتا ہے یا نہیں، اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ سن ۲۶۰ ہجری قمری میں امام مہدی(ع) کی امامت کے آغاز سے لے کر پانچ سال تک آپ امام زمانہ(ع) کے نائب خاص رہے پھر ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے محمد بن عثمان عمری اس عہدہے پر فائز ہوئے۔ نیابت کے دوران آپ بغداد چلے گئے اور نیابت کا پورا عرصہ وہیں پر ہی مقیم رہے۔ بغداد سمیت عراق کے مختلف شہروں میں انہوں نے اپنا وکیل مقرر کیا ہوا تھا جو شرعی وجوہات کو لوگوں سے جمع کرکے ان تک پہنچاتے تھے۔ امام مہدی(ع) نے ان کی وفات پر ان کے بیٹے محمد بن عثمان کو تسلیتی خط تحریر فرمایا۔ مختلف منابع میں عثمان بن سعید کو متعدد القابات سے یاد کیا گیا ہے۔

زندگی‌نامہ

عثمان بن سعید کی تاریخ ولادت سے متعلق کوئی دقیق معلومات نہیں لیکن کہا گیا ہے کہ آپ گیارہ سال کی عمر سے ہی امام محمد تقی(ع) کے خادم کے طور پر امام کے گھر میں کام کرتے تھے اور بعد میں امام نے انہیں اپنا نمائندہ بنایا یوں آپ امام کے با اعتماد اصحاب میں سے تھے۔ [1]

آپ امام ہادی(ع)، امام حسن عسکری(ع) اور امام زمانہ(ع)‌ کے بھی وکیل رہے ہیں اسی بنا پر ہمیشہ ان حضرات معصومین کے بھی مورد اعمتاد ٹھرے ہیں۔ عثمان بن سعید شروع میں سامرا میں رہتے تھے اور امام حسن عسکری(ع) کی شہادت کے بعد وہ بغداد چلے گئے۔ اس وقت سامرا عباسیوں کا دارالخلافہ اور فوجی چھاونی تھا جو اپنی حکومت کے آغاز سے ہی آئمہ معصومین کے ساتھ کوئی اچھا برتاؤ روا نہیں رکھتے تھے۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ احتمال زیادہ قوی ہے کہ عثمان بن سعید نے اسی وجہ سے سامراء سے بغداد کی طرف ہجرت کی اور وہاں پر کرخ نامی جگہے کو جو ایک شیعہ نشین علاقہ تھا، سکونت کیلئے انتخاب کر کے اسے شیعوں کی رہبری کیلئے مرکز قرار دے دیا۔[2]

اسامی اور القاب

آپ کا نام رجالی منابع میں "عثمان بن سعید" آیا ہے لیکن صرف رجال کشی میں آپ کو "حفص بن عمرو" کے نام سے بھی یاد کیا ہے جو ممکن ہے دوسرے وکلاء کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں کیلئے ان کا رمزی نام یا کوڈ ورڈ ہو۔[3] تمام منابع میں ان کی کنیت ان کے جد پدری سے منسوب کرتے ہوئے "ابوعمرو" مذکور ہے۔ چونکہ ان کا محمد نامی ایک بیٹا تھا اس مناسبت سے بحارالانوار اور سفینۃ البحار میں انہیں "ابومحمد" نیز کہا گیا ہے۔[4][5]

لیکن آپ "عَمْری" کے نام سے مشہور تھے اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ دو وجوہات کی بنا پر انہیں اس لقب سے یاد کیا جاتا تھا؛ ایک یہ کہ امام حسن عسکری(ع) نے خلیفہ سوم (عثمان) کا نام اور لقب (ابوعمرو) دونوں "عثمان بن سعید" کے نام میں جمع ہونے پسند نہیں فرماتے تھے اس بنا پر انہیں "عَمری" کے نام سے خطاب فرماتے تھے۔ دوسری وجہ یہ کہ انہیں ان کے جد پدری "عمرو" کی طرف نسبت دے کر "عمری" کہا جاتا تھا۔[6] محدث قمی نے انہیں "عَمْری" کہلانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ان کی ماں کی طرف سے "عُمَر بْن اَطْرَف اَعْلی" کی طرف نسبت دیتے ہوئے "عمری" کہا جاتا تھا۔[7] [8]

آپ "سمّان" اور "زَیّات" کے لقب سے بھی ملقب تھے کیونکہ آپ روغن اور زیتون کی خرید و فروش کیا کرتے تھے اور حقیقت میں یہ پیشہ انہوں نے اپنی اصلیت کو مخفی رکھنے کیلئے اپنایا تھا کیونکہ آپ امام زمانہ(ع) کی وکالت اور نیابت کی ذمہ داری کو مخفیانہ طور پر انجام دیتے تھے تاکہ حکومت کے نقصان سے محفوظ رہ سکے۔ آپ شیعوں کی جانب سے جمع شدہ اموال اور خطوط کو روغن کے برتنوں میں ڈال کر امام(ع) کی خدمت میں پہنچاتے تھے تاکہ حکومتی کارندے ان چیزوں سے با خبر نہ ہو۔[9]

قبیلہ بنی اسد سے منسوب ہونے کی وجہ سے انہیں "اسدی" اور چونکہ سامراء کے رہنے والے تھے جو فوجی چھاونی یعنی "عسکر" کے طور پر مشہور تھا، اس لئے انہیں "عسکری" کے نام سے بھی یاد کیا کرتے تھے۔[10]

اولاد

عثمان بن سعید کے دو بیٹے تھے:

  1. محمد بن عثمان جو اپنے والد کی وفات کے بعد امام زمانہ(ع) کا دوسرا نائب خاص مقرر ہوئے۔
  2. احمد بن عثمان جن کا نام کسی منابع میں نہیں آیا ہے لیکن امام زمانہ(ع) کے جھوٹے وکلاء کی فہرست میں "ابوبکر محمد بن احمد بن عثمان" نامی ایک شخص کا تذکرہ ملتا ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ "محمد بن عثمان" کا بھتیجا تھا۔[11]

وفات

آپ کی تاریخ وفات بھی ولادت کی طرح نامعلوم ہے لیکن اس حوالے سے دو قول نقل کئے جاتے ہے:

  1. سن ۲۶۷ق سے پہلے: یہ قول علم رجال کے اکثر علماء کا مورد اتفاق ہے۔
  2. سن ۲۸۰ق: اس قول کو ایک توقیع (مکتوب) سے استناد کرتے ہیں جو سن ۲۸۰ق میں نقل ہوئی ہے۔ شیخ طوسی کے مطابق چونکہ اس حدیث کے راوی نے اس روایت کو سن ۲۸۰ق میں سنا ہے اس بنا پر یہ سال "عثمان بن سعید" کی وفات نہ ہونا واضح ہے۔[12]

عثمان بن سعید کی وفات کے بعد ان کے بیٹے "محمّد بن عثمان" نے انہیں غسل دیا اور بغداد کے "السلام" نامی منطقے کے مغرب میں ایک مشہور و معروف مقام "الدرب" میں سپرد خاک کیا۔ شیخ طوسی فرماتے ہیں کہ سن ۴۰۸ق سے ۴۳۰ق تک آپ اس مقام پر "عثمان بن سعید" کی قبر کی زیارت کرتے تھے۔[13] ان کی آرامگاہ سے متعلق جو چیز موجودہ دور میں معروف ہے وہ یہ ہے کہ ان کی قبر بغداد کے مشرق میں واقع "شورجہ" نامی بازار کے "رصّافہ" نامی مقام پر واقع ہے۔ [14]

اماموں کی نیابت اور وکالت

جو چیز علم رجال کے منابع میں نقل ہوئی ہے اس کے مطابق عثمان بن سعید ائمہ معصومین میں سے تین امام، امام ہادی(ع)، امام عسکری(ع) اور امام زمانہ(ع) کے وکیل اور نائب رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض منابع کے مطابق آپ گیارہ سال کی عمر میں امام محمد تقی(ع) کے خادم کے طور امام کی خدمت کرتے تھے اور یہاں تک امام کا مورد اعتماد قرار پائے تھے کہ امام(ع) بعض اہم امور کی انجام دھی بھی ان کے سپرد فرمایا کرتے تھے۔[15] لیکن بعض شیعہ علماء عثمان بن سعید کی عمر کو مد نظر رکھتے ہوئے اس آخری بات کو غیر قابل قبول قرار دیتے ہیں اور اسے علم رجال کے بزرگان کی ایک فاحش غلطی سے تعبیر کرتے ہیں۔[16]

امام علی النقی(ع) کی وکالت

عثمان بن سعید امام ہادی(ع) کے اصحاب میں سے تھے اور اس بات کی بھی تصریح کی گئی ہے کہ امام نے انہیں اپنا وکیل اور نمائندہ بھی بنایا تھا۔ [17] احمد بن اسحاق قمی نے امام ہادی(ع) سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں "عثمان بن سعید" کو ایک موثق اور امین شخص کے طور پر پیش کرتے ہوئے اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ جو کچھ وہ امام کی طرف نسبت دیتے ہوئے لوگوں تک پہنچاتے ہیں وہ سب کے سب امام ہادی(ع) ہی کی جانب سے ہیں۔[18]

امام عسکری(ع) کی وکالت

عثمان بن سعید، امام ہادی(ع) کے علاوہ امام حسن عسکری(ع) کے لئے بھی مورد اعتماد شخص تھے۔[19] شیخ طوسی نے رجال الطوسی میں عثمان بن سعید کو امام حسن عسکری(ع) کا بھی وکیل قرار دیا ہے۔[20] مختلف احادیث میں نقل ہوا ہے کہ امام حسن عسکری(ع) نے عثمان بن سعید کو مورد خطاب قرار دیتے ہوئے انہیں اپنا وکیل مقرر فرمایا ہے۔ ایک اور جگہ پر یہ بات بهی آئی ہے کہ امام نے اپنے اردگرد موجود افراد کو گواہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ عثمان بن سعید میرا وکیل ہے۔ امام نے عثمان بن سعید کو اپنے تمام وکلاء کا صدر قرار دیا تھا یوں تمام وجوہات امام کے وکلاء کے ذریعے ان تک پہنچتے تھے اور وہ انہیں امام کی خدمت میں پہنچاتے تھے۔[21]

امام حسن عسکری(ع) کی شہادت کے بعد عثمان بن سعید نے آپ(ع) کی تکفین اور تدفین کے مراسم کو انجام دیا جو شیعہ عقاید کے مطابق ان کی امام زمانہ(ع) کے وکیل اور نائب ہونے کی نشانیوں میں سے ہے۔[22]

امام زمانہ(ع) کی نیابت

امام حسن عسکری(ع) نے عثمان بن سعید کی نیابت کو واضح الفاظ میں بیان کیا ہے۔ آپ(ع) نے اپنے فرزند ارجمند یعنی امام مہدی(ع) کو اپنے اصحاب میں سے چالیس افراد کو دکھا کر ان چالیس افراد سے فرمایا کہ امام زمانہ(ع) کی غیبت کے دوران عثمان بن سعید کی اطاعت کریں۔ [23] ایک اور روایت کے مطابق خود امام مہدی(ع) نے اہل قم کے ساتھ ملاقات میں عثمان بن سعید کی نیابت کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے ان کو عثمان کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔[24]

تسلیت نامہ سے اقتباس

"تمہارے والد ایک سعادتمند اور خوشبخت زندگی گزار کر پسندیدہ حالت میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ خدا ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے اور انہیں اولیاء، سادات اور اپنے موالیوں کے ساتھ محشور فرمائے۔ خدا ان کے چہرے کو تروتازہ اور شاداب رکھے، ان کے گناہوں کو معاف فرمائے اور تمہیں ان کی مصیبت میں اجر عظیم اور صبر جمیل عنایت فرمائے۔ تم مصیبت زدہ ہو اور ہم بھی تمہارے غم میں برابر کے شریک ہیں اور تمہارے والد کی موت نے ہمیں وحشت میں ڈال دیا پس خداانہیں اپنی رحمت واسعہ کے ذریعے ابدی زندگی میں خوش و خرم رکھے۔"


عثمان بن سعید سامراء میں حکومتی کارندوں کی کڑی نگرانی اور دشمنوں کی فراوانی کی وجہ سے امام زمانہ(ع) کے حکم سے بغداد چلا گیا۔"غیبت امام زمانہ کی سیاسی تاریخ" نامی کتاب کے مصنف جاسم حسین کے مطابق سامراء اگرچہ عباسی حکومت کا دارالخلافہ تھا لیکن ہمیشہ آئمہ مخالف سپاہیوں کی کثیر تعداد کی موجود کی وجہ سے ایک لحاظ سے فوجی چھاونی کی حیثیت بھی رکھتا تھا اور دوسری طرف سے عثمان بن سعید بھی حکومتی کارندوں کی نظروں سے دور رہ کر وکالت اور نیابت کے اس منظم سلسلے کی قیادت کرنا چاہتے تھے اسی لئے انہوں نے بغداد کی طرف ہجرت کیا اور "کرخ" نامی ایک شیعہ نشین علاقے کو شیعوں کا مرکز قرار دے دیا۔[25]

عثمان اپنی نیابت کے دوران گرد و نواح کے مختلف علاقوں میں موجود اپنے وکلاء کی قیادت کرتے تھے اور ان سے وجوہات شرعیہ کو وصول کرکے انہیں امام زمانہ(ع) کی خدمت میں پہنچاتے تھے۔ اسی طرح وہ شیعوں کے طرف سے لکھے گئے مختلف سوالات اور عرائض کے جواب میں حضرت امام مہدی(ع) کے نصایح اور توقیعات کو متعلقہ اشخاص تک پہنچاتے تھے۔[26]

آپ کی وفات پر امام کا تسلیت نامہ

امام زمانہ(ع) نے عثمان بن سعید کی موت پر ان کے بیٹے محمد بن عثمان کو تسلیت نامہ ارسال فرمایا۔ اس تحریر میں بارہویں امام نے عثمان بن سعید کی نسبت اپنی رضایت کا مکمل اظہار فرمایا اور ان کے حق میں طلب مغفرت فرمائی۔ اسی طرح آپ(ع) نے عثمان کی موت پر احساس غربت اور تنہایی کا اظہار فرمایا اور ان کے بیٹے محمد بن عثمان کو ان کی جگہ اپنا دوسرا نائب خاص مقرر فرمایا۔[27]

آپ کے معاونین

نیابت خاص کے اس عرصے میں عثمان بن سعید نے اپنے تین مشہور وکلاء، احمد بن اسحاق قمی، محمد قطان اور حاجز بن یزید وشّاء کو اپنا معاون مقرر کیا جو دوسرے شہروں میں موجود وکلاء کے ساتھ رابطہ برقرار کرنے اور ان کے کاموں پر نظارت کرنے میں عثمان بن سعید کے مددگار اور معاونین میں سے تھے۔ [28]

جعفر کذاب کا واقعہ

امام حسن عسکری(ع) کی شہادت کے بعد آپ کے بھائی جعفر نے جھوٹی نیابت کا اعلان کیا اسی بنا پر شیعوں کے یہاں وہ جعفر کذاب کے نام سے جانا جاتا ہے۔ امام حسن عسکری(ع) کے ایک صحابی احمد بن اسحاق نے جعفر کے مدعا کی درستی اور نادرستی کو ثابت کرنے کیلئے ایک خط لکھا اور عثمان بن سعید کے توسط سے اسے حضرت امام مہدی(ع) تک پہنچایا۔ اس خط کے جواب میں امام(ع) نے واضح دلائل اور شدید الفاظ میں جعفر کی امامت کے دعوے کو رد کیا اور انہیں مفسد اور تارک نماز کہ کر مورد خطاب قرار دیا اور فرمایا کہ یہ شخص حلال و حرام کی تشخیص نہیں دے سکتا اور اس کی نافرمانی کی علامتیں واضح اور آشکار ہیں۔[29]

زیارت‌ نامہ

علامہ مجلسی نے بحارالانوار میں عثمان بن سعید کیلئے ایک زیارت نامہ نقل کرتے ہوئے یہ تصریح کی ہے کہ اس زیارت نامے کو انہوں نے ایک شیعہ عالم کے کسی قدیمی نسخے میں پایا ہے۔ اگرچہ علامہ مجلسی نے اس کتاب کے نام اور اس کے مصنف کے بارے میں کوئی اشارہ تک نہیں کیا ہے۔[30]

السَّلَامُ عَلَیک أَیها الْعَبْدُ الصَّالِحُ النَّاصِحُ لِلَّه وَ لِرَسُولِه وَ لِأَوْلِیائِه الْمُجِدُّ فِی خِدْمَة مُلُوک الْخَلَائِقِ أُمَنَاءِ اللَّه وَ أَصْفِیائِه السَّلَامُ عَلَیک أَیها الْبَابُ الْأَعْظَمُ وَ الصِّرَاطُ الْأَقْوَمُ وَ الْوَلِی الْأَکرَمُ السَّلَامُ عَلَیک أَیها الْمُتَوَّجُ بِالْأَنْوَارِ الْإِمَامِیة الْمُتَسَرْبِلُ بِالْجَلَابِیبِ الْمَهدِیة الْمَخْصُوصُ بِالْأَسْرَارِ الْأَحْمَدِیة وَ الشُّهبِ الْعَلَوِیة وَ الْمَوَالِیدِ الْفَاطِمِیة السَّلَامُ عَلَیک یا قُرَّة الْعُیونِ وَ السِّرَّ الْمَکنُونَ السَّلَامُ عَلَیک یا فَرَجَ الْقُلُوبِ وَ نِهایة الْمَطْلُوبِ السَّلَامُ عَلَیک یا شَمْسَ الْمُؤْمِنِینَ وَ رُکنَ الْأَشْیاعِ الْمُنْقَطِعِینَ السَّلَامُ عَلَی وَلِی الْأَیتَامِ وَ عَمِیدِ الْجَحَاجِحَة الْکرَامِ السَّلَامُ عَلَی الْوَسِیلَة إِلَی سِرِّ اللَّه فِی الْخَلَائِقِ وَ خَلِیفَة وَلِی اللَّه الْفَاتِقِ الرَّاتِقِ السَّلَامُ عَلَیک یا نَائِبَ قُوَّامِ الْإِسْلَامِ وَ بَهاءِ الْأَیامِ وَ حُجَّة اللَّه الْمَلِک الْعَلَّامِ عَلَی الْخَاصِّ وَ الْعَامِّ الْفَارُوقَ بَینَ الْحَلَالِ وَ الْحَرَامِ وَ النُّورَ الزَّاهرَ وَ الْمَجْدَ الْبَاهرَ فِی کلِّ مَوْقِفٍ وَ مَقَامٍ السَّلَامُ عَلَیک یا وَلِی بَقِیة الْأَنْبِیاءِ وَ خِیرَة إِلَه السَّمَاءِ الْمُخْتَصَّ بِأَعْلَی مَرَاتِبِ الْمَلِک الْعَظِیمِ الْمُنْجِی مِنْ مَتَالِفِ الْعَطَبِ الْعَمِیمِ ذی [ذَا اللِّوَاءِ الْمَنْصُورِ وَ الْعَلَمِ الْمَنْشُورِ وَ الْعِلْمِ الْمَسْتُورِ الْمَحَجَّة الْعُظْمَی وَ الْحُجَّة الْکبْرَی سُلَالَة الْمُقَدَّسِینَ وَ ذُرِّیة الْمُرْسَلِینَ وَ ابْنَ خَاتِمِ النَّبِیینَ وَ بَهجَة الْعَابِدِینَ وَ رُکنَ الْمُوَحِّدِینَ وَ وَارِثَ الْخِیرَة الطَّاهرِینَ صَلَّی اللَّه عَلَیهمْ صَلَاة لَا تَنْفَدُ وَ إِنْ نَفِدَ الدَّهرُ وَ لَا تَحُولُ وَ إِنْ حَالَ الزَّمَنُ وَ الْعَصْرُ اللَّهمَّ إِنِّی أُقَدِّمُ بَینَ یدَی سُؤَالِی الِاعْتِرَافَ لَک بِالْوَحْدَانِیة وَ لِمُحَمَّدٍ بِالنُّبُوَّة وَ لِعَلِی بِالْإِمَامَة وَ لِذُرِّیتِهمَا بِالْعِصْمَة وَ فَرْضِ الطَّاعَة وَ بِهذَا الْوَلِی الرَّشِیدِ وَ الْمَوْلَی السَّدِیدِ أَبِی مُحَمَّدٍ عُثْمَانَ بْنِ سَعِیدٍ أَتَوَسَّلُ إِلَی اللَّه بِالشَّفَاعَة إِلَیه لِیشْفَعَ إِلَی شُفَعَائِه وَ أَهلِ مَوَدَّتِه وَ خُلَصَائِه أَنْ یسْتَنْقِذُونِی مِنْ مَکارِه الدُّنْیا وَ الْآخِرَة اللَّهمَّ إِنِّی أَتَوَسَّلُ إِلَیک بِعَبْدِک عُثْمَانَ بْنِ سَعِیدٍ وَ أُقَدِّمُه بَینَ یدَی حَوَائِجِی أَنْ تُصَلِّی عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ شِیعَتِه وَ أَوْلِیائِه وَ أَنْ تَغْفِرَ لِی الْحُوبَ وَ الْخَطَایا وَ تَسْتُرَ عَلَی الزَّلَلَ وَ السَّیئَاتِ وَ تَرْزُقَنِی السَّلَامَة مِنَ الرَّزَایا فَکنْ لِی یا وَلِی اللَّه شَافِعاً نَافِعاً وَ رُکناً مَنِیعاً دَافِعاً فَقَدْ أَلْقَیتُ إِلَیک بِالْآمَالِ وَ وَثِقْتُ مِنْک بِتَخْفِیفِ الْأَثْقَالِ وَ قَرَعْتُ بِک یا سَیدِی بَابَ الْحَاجَة وَ رَجَوْتُ مِنْک جَمِیلَ سِفَارَتِک وَ حُصُولَ الْفَلَاحِ بِمَقَامِ غِیاثٍ أَعْتَمِدُ عَلَیه وَ أَقْصِدُ إِلَیه وَ أَطْرَحُ نَفْسِی بَینَ یدَیه وَ السَّلَامُ عَلَیک وَ رَحْمَة اللَّه وَ بَرَکاتُه ثُمَّ صَلِّ صَلَاة الزِّیارَة وَ أَهدِها لَه وَ لِشُرَکائِه فِی النِّیابَة صَلَّی اللَّه عَلَیهمْ أَجْمَعِینَ ثُمَّ وَدِّعْه مُسْتَقْبِلًا لَه إِنْ شَاءَ اللَّه تَعَالَی.

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. جاسم حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ۱۳۸۵ش، ص۱۴۲.
  2. جاسم حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ۱۳۸۵ش، ص۱۴۹.
  3. طوسی، اختیار معرفۃ الرجال، ص۸۱۳.
  4. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۹۹، ص۲۹۳.
  5. قمی، سفینۃ البحار، ۱۴۱۴ق، ج۶، ص۱۴۵.
  6. طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۳۵۴.
  7. قمی، سفینۃ البحار، ۱۴۱۴ق، ج۶، ص۱۴۵.
  8. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۹۹، ص۳۱۰.
  9. طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۳۵۴.
  10. طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۳۵۴.
  11. صدر، تاریخ الغیبہ، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۷۹.
  12. طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۲۳۲.
  13. طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۲۳۲.
  14. رہ توشہ عتبات عالیات، ص۳۶۷.
  15. ابن شہرآشوب، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۳۸۰.
  16. شوشتری، قاموس الرجال، ۱۴۱۰ق، ج۲، ص۲۴۹.
  17. طوسی، رجال طوسی، ۱۴۱۵ق، ص۳۸۹.
  18. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۵۱، ص۳۴۴.
  19. طوسی،الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۲۳۱-۲۲۹.
  20. طوسی، رجال طوسی، ۱۴۱۵ق، ص۴۰۱.
  21. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۵۰، ص۳۲۳.
  22. طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۲۳۱و۳۵۶.
  23. طوسی، الغیبہ، ص۲۳۲- ۲۳۱، صدوق، کمال الدین، ص۴۳۵.
  24. صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۲، ص۴۷۶.
  25. جاسم حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ۱۳۸۵ش، ص۱۴۹.
  26. رہ توشہ عتبات عالیات، ص۳۶۴.
  27. طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۳۶۱.
  28. جباری، سازمان وکالت، ۱۳۸۲ش، ج۱، ص۸۲.
  29. طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳ق، ج۲، ص۴۶۸.
  30. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۹۹، ص۲۹۳.


مآخذ

  • صدوق، محمد بن علی، کمال الدین و تمام النعمہ، تہران، اسلامیہ، ۱۳۹۵ق.
  • طوسی، محمد بن حسن، اختیار معرفۃ الرجال، تحقیق: سید مہدی رجایی، مؤسسہ آل البیت، بی‌تا.
  • طوسی، محمد بن حسن، الغیبۃ، قم، مؤسسۃ المعارف الاسلامیۃ، ۱۴۱۱ق.
  • طوسی، محمد بن حسن، رجال الطوسی، قم، جامعہ مدرسین، ۱۴۱۵ق.
  • جاسم محمد حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ترجمہ محمد تقی آیت‌اللہی، تہران، امیرکبیر، ۱۳۸۵ش.
  • قمی، عباس، سفینۃ البحار و مدینۃ الحکم و الآثار، قم، اسوہ، ۱۴۱۴ق.
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، بیروت، مؤسسہ الوفاء، ۱۴۰۳ق.
  • صدر، سید محمد، تاریخ الغیبہ، بیروت، دارالتعارف، ۱۴۱۲ق.
  • ابن شہر آشوب مازندرانی، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب، قم، علامہ، ۱۳۷۹ق.
  • جمعی از نویسندگان، رہ توشہ عتبات عالیات، تہران، نشر مشعر، ۱۳۹۱ش.
  • شوشتری، محمدتقی، قاموس الرجال، قم، جامعہ مدرسین، ۱۴۱۹ق.
  • طبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج، مشہد، مرتضی، ۱۴۰۳ق.
  • جاسم محمد حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ترجمہ محمد تقی آیت‌اللہی، تہران، امیرکبیر، ۱۳۸۵ش.
  • جباری، محمدرضا، سازمان وکالت و نقش آن در عصر ائمۃ علیہم السلام، قم، مؤسسہ آموزش پژوہشی امام خمینی، ۱۳۸۲ش.
  • جمعی از نویسندگان، رہ‌توشہ عتبات عالیات، تہران، مشعر، ۱۳۸۸ش.