مروج الذہب و معادن الجوہر (کتاب)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مروج الذہب و معادن الجوہر
مروج-الذهب.jpg
مؤلف: علی بن حسین مسعودی
زبان: عربی
موضوع: تاریخ
ناشر: دار الہجرہ


مُروجُ الذَّہَب و مَعادنُ الجَوہَر عربی زبان میں لکھی جانے والی ایک تاریخی کتاب ہے۔ یہ چوتھی صدی ہجری کے شیعہ مؤرخ علی بن حسین مسعودی کی تصنیف ہے۔ مروج الذہب دنیا، مسلمانوں اور دیگر اقوام کی تاریخ پر مشتمل ہے۔ تاریخ نگاری میں موضوعی روش اپنائی گئی ہے۔ ہر چند مصنف نے موضوعی اور سالوں کے اعتبار کی روش کو اکٹھا اختیار کیا اور ایک موضوع کی تاریخ بیان کرتے ہوئے ترتیب زمانی کو پیش نظر رکھا ہے۔

مؤلف

تفصیلی مضمون: علی بن حسین مسعودی

علی بن حسین مسعودی چوتھی صدی ہجری کا شیعہ تاریخ نگار اور جغرافیہ دان ہے۔ اس کے آثار میں سے مروج الذہب اور التنبیہ و الاشراف ہیں۔ تاریخی واقعات کے نقل میں غیر جانبدارنہ روش اپنانے کی بدولت اس کے مذہب کے متعلق معلوم نہیں ہے۔ اسکے باوجود تراجم و شیعہ رجال کی کتب میں وہ ایک شیعہ مذہب کا پیروکار ذکر ہوا ہے۔ بہت سے معاصرین بھی اسے شیعہ مانتے ہیں اور اس کے شیعہ مذہب سے ہونے کے دعوی پر وافی شواہد ذکر کرتے ہیں۔

سبب تألیف

مسعودی نے ابتدائی طور پر اخبار الزمان و من ابادہ الحدثان ۳۰ جلدوں میں لکھی پھر اسے مختصر کیا اور اس کا نام الکتاب الاوسط رکھا پھر اس کی بھی تلخیص کی اور اس کا نام مروج الذہب نام رکھا۔ اس نے بہترین اور اعلی ترین مطالب اپنی کتاب کے لئے انتخاب کیے۔[1] اس لحاظ سے اس نے کتاب کا نام مروج الذہب انتخاب کیا۔ وہ لکھتا ہے:

وہ چیز جس نے مجھے تاریخ جہان، گذشتہ انبیا، بادشاہوں اور اقوام کی تاریخ لکھنے پر مائل کیا۔ وہ ان علما اور صاحبان حکمت کی پیروی تھی کہ جنہوں نے پسندیدہ، منظم دانش اور قدیمی آثار چھوڑے۔ ان کی تصانیف موفق یا مقصر، مفصل یا مختصر تھیں اور میں نے دیکھا کہ واقعات زمانہ میں آئے دن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہر رہا ہے بہت سے ایسے واقعات ہیں جو نظروں سے مخفی ہو گئے، واقعہ کی نسبت ہر شخص کیلئے اتنا ہی حصہ ہے جتنا وہ اس کی طرف توجہ کرتا ہےہر اقلیم مین عجائب ہیں جن سے ان کے اہل ہی آگاہ ہیں،اپنے ہی علاقے میں رہنے والا اور صرف اپنے علاقے کی معلومات رکھنے والا اس شخص کے برابر نہیں ہو سکتا جس نے اپنی زندگی کو دنیا کے سفر میں گزارا ہو اور اس نے معدنوں سے دقیق معلومات استخراج کی ہو۔[2]

مآخذ کتاب

مسعودی نے کتاب کے مقدمے میں اس کی فہرست اور اس زمانے تک موجود تاریخ کی اہم ترین کتب کا ذکر کیا اور اپنی کتاب کی مآخذ کتابوں کے نام لئے ہیں۔ نیز وہ تاریخ طبری کو مفید اور فوائد پر مشتمل کتاب سمجھتا ہے۔

مسعودی نے جن افراد سے اپنی کتاب میں مطالب نقل کئے ان کے اسما: ہیثم بن عدی ابن اسحاق، ابو مخنف، محمد بن سائب کلبی، واقدی و مدائنی ہیں۔[3]

مضامین

مروج الذہب کے دو حصے ہیں:

  • پہلا حصہ: یہ حصہ بعثت سے پہلے تک کی تاریخ پرمشتمل ہے جس میں تاریخ خلقت، انبیا اور مختلف اقوام کے حالات اور تحقیق بیان ہوئی ہے۔
  • دوسرا حصہ: یہ حصہ بعثت پیغمبر سے شروع ہو کر ۳۳۶ ھ ق کے سال تک کے واقعات پر مشتمل ہے۔[4]

مقام کتاب

مروج الذہب ۳۳۲ ق میں لکھی گئی دوبارہ اسے ۳۳۶ ق اور ۳۵۴ ق میں ایک نظر دیکھا گیا۔ مسعودی کی شہرت اسی کتاب کی مرہون منت ہے۔ یہ اثر مشرق وسطی میں وسیع پیمانے پر قابل استفادہ رہا۔[5]

ترجمہ و طباعت

اشپرنگر نے اس کے کچھ حصے کا انگریزی میں ترجمہ کیا اور لندن سے ۱۸۴۱ عیسوی میں طبع ہوا۔ باربیہ دومینار نے اس کے مکمل متن کی تحقیق کی اور فرانسوی میں ترجمہ کیا اور اسے ۷۷-۱۸۶۱ ع پیرس سے چھپوایا۔[6]

فارسی ترجمے:

ترجمۂ مرزا حیدر علی فخر الادباء نے ۱۳۱۶ ق ترجمہ کیا۔ اس کا نسخہ تہران کے کتابخانہ مجلس شورای اسلامی میں موجود ہے۔ ترجمۂ رائج مروج الذہببقلم ابو القاسم پایندہ ہے جو ۲ جلدوں پر مشتمل انتشارات علمی و فرہنگی سے چھپا۔

داستان‌ ہای مروج الذہب کے نام سے ترجمہ بتوسط وہاب جعفری بھی طبع ہوا ہے۔[7]

حوالہ جات

  1. مسعودی، مروج الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۱و۲.
  2. مسعودی، ترجمہ مروج الذہب، ج۱، ص۳.
  3. کتابخانہ دیجیتال نور.
  4. مسعودی، ترجمہ مروج الذہب، ج۱، ص۱۰.
  5. علیرضا عسگری، مسعودی و «التنبیہ و الاشراف»، ۱۳۷۶ش.
  6. علیرضا عسگری، مسعودی و «التنبیہ و الاشراف»، ۱۳۷۶ش.
  7. خانہ کتاب.


مآخذ

  • مسعودی، علی بن الحسین، مروج الذہب، تحقیق اسعد داغر، قم، دار الہجرة، ۱۴۰۹ق.
  • مسعودی، علی بن الحسین، مروج الذہب، ترجمہ پایندہ.
  • علیرضا عسگری، مسعودی و «التنبیہ و الاشراف»، مقالات و بررسی‌ہا، زمستان ۱۳۷۶ - شمارہ ۶۲.
  • کتاب شناخت نورالسیرہ، مرکز تحقیقات رایانہ‌ای علوم اسلامی نور.