مفتاح الفلاح (کتاب)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مفتاح الفلاح (کتاب)  
کتاب مفتاح الفلاح.jpg
مؤلف شیخ بہائی (متوفای 1030 ق)
اصل عنوان مِفْتاحُ الْفَلاح فی عَمَلِ الْیَوْم وَاللّیلَۃ مِنَ الْواجباتِ وَالْمُسْتَحَبّات
مقام اشاعت قم
زبان عربی
مجموعہ 1 جلد
موضوع ادعیہ و یومیہ اعمال
اسلوب حدیثی
ناشر دار الکتب الاسلامی

مِفْتاحُ الْفَلاح فی عَمَلِ الْیَوْم وَاللّیلَۃ مِنَ الْواجباتِ وَالْمُسْتَحَبّات عربی میں، شیخ بہائی محمد بن حسین عاملی، متوفیٰ سنہ 1031ھ ق، کی کتاب ہے۔ مؤلف نے اس کتاب کے چھ ابواب میں دعاؤں، اور واجب و مستحب اعمال اور ہر مسلمان کے لئے پسندیدہ آداب، کو بیان کیا ہے۔ یہ کتاب صاحبان علم و دانش کے یہاں، ہمیشہ سے بڑی اہمیت کی حامل رہی ہے اور اس کے بارے میں متعدد بار تحقیقات ہوئی ہیں۔

مؤلف کا مختصر تعارف

مفصل مضمون: شیخ بہائی

بہاء الدین عاملی؛ (ولادت سنہ 953 ـ وفات 1031 یا 1030 ھ) محمد بن عزّالدین حسین متخلص بہ بہائی و معروف بہ شیخ بہائی، فقیہ، محدث، حکیم، ریاضی دان، سائنسدان اور سائنس کے کئے شعبوں کے ماہر دانشور تھے جو دسویں اور گیارہویں صدی ہجری میں گذرے ہیں۔ ان کی علمی اور ادبی کاوشوں کے مصنف یا مؤلف اور متعدد تاریخی عمارتوں کے خالق ہیں۔

شیخ بہائی صفوی دور کے اعلی ترین دینی منصب شیخ الاسلامی پر فائز تھے۔

نام کتاب

شیخ بہائی کتاب کے دیباچے میں لکھتے ہیں: میں نے اس کا نام مفتاح الفلاح رکھا ہے۔[1] سید محسن امین اس کتاب کو مفتاح الفلاح فی عمل الیوم و اللیلۃ کا نام دیتے ہیں۔[2] آقا بزرگ طہرانی، نے اس کا تذکرہ مفتاح الفلاح فی الاعمال و الادعیۃ الابدیۃ فی الیوم و اللیلۃ کے عنوان سے کیا ہے۔[3] کتاب کی دیگر طباعتوں میں بھی مفتاح الفلاح فی عمل الیوم و اللیلۃ من الواجبات و المستحبات مذکور ہے۔

تالیف کے محرکات

شیخ بہائی نے یہ کتاب ایک جماعت کی درخواست پر لکھی ہے تا کہ ایک مسلمان شب و روز کے دوران، اپنے تمام اعمال اس کے مطابق انجام دے سکے؛ لہذا انھوں نے واجب، مستحب نمازوں، وضو، طہارت وغیرہ کو بھی اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔[4]

طرز تصنیف

مصنف نے کتاب کے مختلف ابواب کے ضمن میں دقیق و باریک بینانہ علمی اور روائی بحث کرکے مختلف نظریات کی نفی کرتے ہیں یا پھر انہیں ثابت کرتے ہیں۔ منجملہ شیخ بہائی نے تسبیحات حضرت زہرا(س) کے سلسلے میں تفصیلی بحث کی ہے۔
علاوہ ازیں انھوں نے لباس پہننے، کھانے اور پینے، مسواک کرنے کے آداب، وقتِ زوالِ آفتاب کے تعین کی روش، وغیرہ کو بھی مختلف فصول اور مختلف مناسبتوں سے بیان کیا ہے۔
شیخ بہائی کتاب کی ہر فصل میں، چند روایات نقل کرتے اور مختلف موضوعات کو پیش کرتے ہیں اور پھر روایات کے الفاظ کی وضاحت اور اس فصل کے مبہم اور مشکل مسائل کی تشریح کرتے ہیں۔[5]

مندرجات کتاب

مفتاح الفلاح پر ایک مختصر دیباچہ لکھا گیا ہے جو کتاب کے سبب تالیف اور ہر باب کے مختصر تعارف، پر مشتمل ہے۔ مؤلف شب و روز کے اعمال کو چھ ابواب میں تقسیم کیا ہے اور ہر حصے کے لئے ایک باب مختص کررکھا ہے۔

ابواب کتاب

  • باب اول، وہ اعمال ہیں جو بین الطلوعین (طلوع فجر اور طلوع آفتاب کے درمیان) انجام دیئے جاتے ہیں خواہ وہ واجب ہوں خواہ مستحب ہوں۔
  • باب دوئم، طلوع آفتاب سے ظہرِ شرعی تک کے مخصوص اعمال پر مشتمل ہے۔
  • باب سوئم، زوال آفتاب سے غروب آفتاب تک کے اعمال کے لئے مختص ہے۔
  • باب چہارم، مختص ہے غروب آفتاب سے سونے کے وقت تک کے اعمال کے لئے۔
  • باب پنجم، سونے کے وقت سے لے کر نصف شب تک کے اعمال پر مشتمل ہے، سونے کے آداب اور تسبیحات حضرت زہرا(س) کو اسی حصے میں بیان کیا گیا ہے۔
  • باب ششم، نصف شب سے طلوع فجر تک کے اعمال پر مشتمل ہے۔
  • خاتمۂ کتاب، جو سورہ حمد کی تفسیر پر مشتمل ہے۔[6]

امام(ع) کی سفارش

شیخ عباس قمی اپنی کتاب سفینۃ البحار میں نقل کرتے ہیں:

قاضی معزالدین محمد بن تقی الدین اصفہانی جو شاہ عباس کے دور میں اصفہان کے قاضی اور فقہاء و متکلمین میں سے تھے، ریاضیات میں مہارت تامّہ کے حامل اور علامہ مجلسی کے مشائخ و اساتذہ میں شامل تھے، ان سے منقول ہے، وہ کہتے ہیں: ایک رات خواب میں ایک امام(ع) کا شرف دیدار حاصل ہوا، جنہوں نے مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا: کتاب مفتاح الفلاح سے نسخہ برداری کرو اور اس میں مندرجہ احکامات پر عمل کرو؛ میں جاگا تو تمام علمائے عصر سے پوچھا اور سب نے کہا کہ انھوں نے اب تک اس کتاب کا نام تک نہیں سنا ہے؛ اور شیخ بہائی اس وقت لشکر سلطانی کے ہمراہ ایران کے کسی علاقے کے سفر پر گئے تھے۔

شیخ واپس آئے تو میں نے اس کتاب کے بارے میں سوال کیا۔ انھوں نے فرمایا: میں نے اس سفر کے دوران دعاؤں کی ایک کتاب لکھی جس کا عنوان مفتاح الفلاح ہے لیکن اب تک میں نے اس کا نام اصحاب میں سے کسی کو بھی نہیں بتایا۔ میں نے اپنا خواب سنایا تو شیخ آبدیدہ ہوئے اور کتاب کا نسخہ میرے سپرد کیا اور یہ سب سے پہلا نسخہ ہے جو شیخ کے قلمی نسخے سے لکھا گیا ہے۔[7]

کتاب کے بارے میں تحقیقات

تراجم

  • ترجمہ بقلم: آقا جمال خوانساری، متوفٰی 1125 ھ۔
  • ترجمہ بقلم: محمد شریف بن احمد جیلانی، جو عروۃ النجاح فی ترجمۃ مفتاح الفلاح کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ جناب جیلانی نے کتاب کے آخری حصے یعنی تفسیرِ سورہ حمد کو حذف کیا ہے اور اس کے عوض اس میں ایام ہفتہ کی دعاؤں، معصومین کی زیارات اور دعائے کمیل، سمات وغیرہ کا اضافہ کیا ہے۔
  • ترجمہ بعنوان آداب عباسی بقلم: صدر الدین محمد بن محب تبریزی، جو شیخ بہائی کے شاگرد تھے اور انھوں نے اس کتاب کا ترجمہ مؤلف کے ایام حیات میں ہی مکمل کیا ہے۔ کتاب کا ایک نسخہ بعنوان خلاصۂ آداب عباسی موجود ہے جس میں سے شیخ بہائی کے حواشی اور بیانات کو حذف کیا گیا ہے۔
  • ترجمہ بعنوان التحفۃ النوابیۃ بقلم: سید محمد جعفر حسینی، جو 9 ابواب میں مرتب کیا گیا ہے؛ پہلے چھ ابواب مفتاح الفلاح کے مطابق ہے، جبکہ اس میں تین ابواب کا اضافہ کیا گیا ہے جن رجب المرجب، شعبان المعظم اور رمضان المبارک کے اعمال اور آدابِ دعا و زیارات پر مشتمل ہے۔
  • منہاج النجاح فی ترجمۃ مفتاح الفلاح، بقلم علی بن طیفور بسطامی، جو انھوں نے سنہ 1062 ھ میں مکمل کیا ہے۔
  • ایک ترجمہ، ایک نامعلوم شخص نے سرانجام دیا ہے جس کا ایک نسخہ کتب خانۂ محمد علی خوانساری میں محفوظ ہے۔[8]

شرحیں

  • مفتاح الفلاح پر ایک بار آقا جمال خوانساری نے شرح لکھی ہے۔
  • شرح مفتاح الفلاح بقلم: محمد بن سلیمان تنکابنی۔
  • لسان الصباح فی شرح کلام البہائی فی اوائل مفتاح الفلاح فی بیان الفجرین، بقلم: سید مفتی میر عباس۔
  • فلق الصباح فی شرح مفتاح الفلاح بقلم: شیخ سلیمان بن عبداللہ بحرانی، متوفٰی 1121 ھ۔

تلخیص

کتاب فتح المفتاح، جو شیخ بہائی کے ایک شاگرد نے تالیف کی ہے۔

حواشی

کتاب پر لکھے گئے حواشی میں سے بعض کے عناوین حسب ذیل ہیں:

  1. مؤلف شیخ بہائی کا حاشیہ؛
  2. حاشیہ بقلم: ملا اسماعیل خواجوئی، متوفٰی 1173 ھ؛
  3. حاشیہ بقلم: محمد طاہر بار فروشی مازندرانی؛
  4. حاشیہ بقلم: سید محسن امین صاحب اعیان الشیعۃ؛
  5. حاشیہ بقلم: محمد جعفر یزدی
  6. حاشیہ بقلم: عبدالعظیم امام؛
  7. حاشیہ بقلم: سید حسین حسینی مرعشی آملی، المعروف بہ خلیفہ سلطان، جو شیخ بہائی کے شاگردوں میں سے ہیں۔

تکملہ

مِنہاجُ الصّلاح فی واجبات الصّلوات الیَومیّۃ و مَندوباتِہا و زُبدَۃ اَعمال السُّنّۃ و الادعیَۃ الاَسابیع بقلم: ملا نظر علی بن محمد محسن گیلانی، جو انھوں نے مفتاح الفلاح کو مکمل کرنے کی غرض سے لکھی ہے۔[9]

کتاب کے نسخے

اب تک مفتاح الفلاح کے 300 قلمی نسخوں کا سراغ لگایا جا چکا ہے جن میں 137 کا تعلق گیارہویں صدی ہجری سے، 70 کا بارہویں صدی سے، 34 کا تیرہویں صدی سے اور 9 کا تعلق چودہویں صدی ہجری سے ہے۔ ان میں سے 48 نسخوں پر تاریخ کتابت ثبت نہیں ہوئی ہے۔[10]

طباعتیں

کتاب مفتاح الفلاح بسال 1304 ھ، ممبئی میں، 1317 ھ کو تہران میں، اور 1324 ھ کو مصر میں زیور طبع سے آراستہ ہوئی ہے اور بعد از آں اس کو متعدد بار شائع کیا گیا ہے۔

حوالہ جات

  1. شیخ بہائی، مفتاح الفلاح، ص2۔
  2. امین العاملی، اعیان الشیعۃ، ص244۔
  3. آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ، ج21، ص339۔
  4. شیخ بہائی، مفتاح الفلاح، ص2۔
  5. کتاب‌شناخت فقہ جامع اہل بیت۔
  6. فہرست کتاب۔
  7. بسطامی، منہاج النجاح، ص2۔
  8. آقا بزرگ، الذریعہ، ج4، ص138۔
  9. محمود ملکی، کتاب شناخت مفتاح الفلاح۔
  10. محمود ملکی، کتابشناخت مفتاح الفلاح.


مآخذ

  • بہائی عاملی، محمد بن حسین، مفتاح الفلاح، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات۔
  • آقا بزرگ طہرانی، محمد محسن، الذریعۃ الی تصانیف الشیعۃ، بیروت، دارالاضواء۔
  • امین العاملی، سید محسن، اعیان الشیعۃ، بیروت، دارالتعارف۔
  • بسطامی، علی بن طیفور، منهاج النجاح فی ترجمۃ مفتاح الفلاح، تہران، حکمت، 1384ھ ش۔