نماز استسقاء

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
رساله عملیه.jpg
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ


اِسْتِسْقاء، ایک دینی عمل ہے خدا سے بارش طلب کرنے کے لئے، جو خاص آداب کے ساتھ، خاص طور پر خشک سالی کے دوران بجا لایا جاتا ہے۔

لغوی معنی

استسقاء لغت میں "سقی" کے باب استفعال کا مصدر ہے اور اس کے معنی پانی طلب کرنے کے ہیں۔

تاریخچہ

پانی کی قلت کے دوران خداوند متعال سے بارش طلب کرنا، بہت قدیم زمانوں سے مختلف اقوام و ملل میں، معمول رہا ہے۔

استسقاء قرآن میں قرآن

قرآن کریم کی سورہ بقرہ[1] اور سورہ اعراف[2] میں حضرت موسی(ع) کی طرف سے بارش طلب کرنے کی طرف واضح اشارے ہوئے ہیں اور دوسری آیات[3] میں لفظ استسقاء بروئے کار لانے کے بغیر، بارش طلب کرنے کی طرف اشارہ ہوا ہے۔

بارش طلب کرنے کی دعا

ایک دفعہ ایک بادیہ نشیں مسجد میں داخل ہوکر رسول خدا(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اور بارش کی قلت اور شدید قحط کی شکایت کی۔ آپ(ص) منبر پر رونق افروز ہوغے اور حمد الہی بجا لاتے ہوئے فرمایا: "الْحَمْدُ للهِ الَّذِي عَلَا فِي السَّمَاءِ فَكَانَ عَالِياً، وَفِي الْأَرْضِ قَرِيباً دَانِياً، أَقْرَبَ إِلَيْنَا مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ"؛ اور بعد ازاں اللہ کی بارگاہ میں دست بدعا ہوکر التجا کی: "اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثاً مُغِيثاً مَرِيئاً مَرِيعاً غَدَقاً طَبَقاً، عَاجِلاً غَيْرَ رَائِثٍ، نَافِعاً غَيْرَ ضَارٍّ، تَمْلَأُ بِهِ الضَّرْعَ، وَتُنْبِتُ بِهِ الزَّرْعَ، وَتُحْيِي بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا"؛ اور ابھی آپ(ص) کے ہاتھ رو بہ آسماں ہی تھے کہ مدینہ میں شدید بارش کا آغاز ہوا۔[4]

دعا اور حدیث کی کتابوں میں باران رحمت کے نزول کے لئے رسول اکرم(ص)،[5] امام علی(ع)،[6][7][8] امام حسن اور امام حسین علیہما السلام،[9] اور امام رضا(ع)[10] نے متعدد دعائیں وارد ہوئی ہیں۔ امام سجاد(ع) سے بھی ایک بارش کی طلب کی ایک دعا صحیفہ سجادیہ میں منقول ہے۔ (رجوع کریں: دعائے نوزدہم صحیفہ سجادیہ

طلب باراں، خاندان رسالت میں

قبل از اسلام، عرب کے ہاں، استسقاء کے مراسمات کے سلسلے میں، ایک روایت کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ قحط سالی کے دوران رسول اللہ(ص) کے دادا عبدالمطلب نے اپنے پوتے محمد(ص) کو کندھے پر اٹھایا اور خداوند متعال کی بارگاہ میں بارش کی دعا کی۔[11][12]

نیز بعض روایات کے مطابق، ابوطالب(ع) کے زمان میں قحط پڑا تو آپ(ع) عبدالمطلب کے فرزندوں میں سے چند افراد کے ساتھ، خانۂ خدا چلے گئے۔ انھوں نے اپنا مشہور قصیدہ، المعروف بہ قصیدۂ لامیہ اسی سلسلے میں کہا ہے۔[13]

حدیث کے جوامع میں منقول ہے کہ ظہور اسلام کے بعد، رسول اکرم(ص) بذات خود استسقاء کی رسم بجا لاتے رہے ہیں۔[14][15]

مشہورترین تاریخی نمازہائے استسقاء

ایک مشہورترین نماز استسقاء وہ ہے جو امام رضا(ع) نے خشک سالی کی وجہ سے، مامون عباسی کی درخواست پر بپا کی۔[16]

سید عبدالحسین مرعشی نے سنہ 1900ع‍ میں شیعیانِ زنگبار کو ہدایت کی کہ نماز صبح کے بعد نماز استسقاء بجا لائیں اور نماز کے تمام ہونے پر مینہ برسنا شروع ہوا۔[17]

نیز، ایک مشہور ترین نماز استسقاء، آیۃ اللہ سید محمد تقی خوانساری کی نماز ہے۔

منقول ہے کہ سنہ 1363ھ ق میں ـ جبکہ جرمن مخالف متحدین نے ایران پر قبضہ کرلیا تھا ـ قم میں بارش برسنا منقطع ہوا اور باغات سوکھ گئے اور کھیتیاں خشک ہوئی؛ قحط اور خشک سال سے اہلیان قم کو شدید خطرات لاحق ہوئے تھے۔ سید محمد تقی خوانساری دو دن مسلسل قم کے اطراف کے صحراؤں میں گئے اور نماز استسقاء بپا کی۔ اس نماز میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

اگرچہ معنوی اور غیبی امور پر اعتقاد نہ رکھنے والوں نے اس اقدام کا مذاق اڑایا لیکن دوسرے روز اتنی بارش ہوئی کہ سیلاب جاری ہوا۔[18][19][20][21]

نماز استسقاء کی کیفیت

فقہی لحاظ سے اس سنت کا اصل حصہ وہ مستحب نماز ہے جو باجماعت ادا کی جاتی ہے۔

شیعہ امامیہ کے ہاں اس سنت کی خصوصیات حسب ذیل ہیں:

  • نماز استسقاء کی کیفیت تکبیروں اور قنون کے لحاظ سے نماز عیدین کی مانند ہے۔
  • سورتوں کی قرائت جہریہ ہونی چاہئے اور ان سورتوں کی قرائت کا اہتمام کرنا چاہئے جن کی قرائت نماز عیدین میں مستحب ہے۔
  • مستحب ہے کہ لوگوں کو تین دن تک روزہ رکھنے کی دعوت دی جائے اور تیسرے روز بچوں اور بوڑھوں کے ساتھ صحرا میں چلے جائیں اور منبر کو بھی صحرا منتقل کریں اور مؤذنین امام کے سامنے کھڑے ہوجائیں۔
  • نماز استسقاء کا بہترین وقت نماز عیدین ہی کا مقررہ وقت ہے۔
  • اس نماز میں اذان اور اذان اقامہ کے بجائے تین مرتبہ "الصلاۃ۔۔۔" کہا جائے۔
  • امام، نماز کے آخر میں ذکر و دعا کے بعد، ایک خطبہ دیتا ہے اور اپنی ردا کو الٹ کر (لباس پلٹ کر) (اللہ کی بارگاہ میں عجز و انکسار ظاہر کرتے ہوئے) لوگوں کے ساتھ ہم زبان ہوکر بعض اذکار اور دعائیں زبان پر جاری کرتا ہے اور اللہ تعالی سے بارش طلب کرتا ہے۔[22][23][24]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. سورہ بقرہ، آیت 60۔
  2. اعراف آیت 160۔
  3. ہود، آیت 25 اور نوح، آیات 10-11۔
  4. مجلسی، بحار الأنوار، ج‏91، ص331-332، بحوالہ از: الطوسی، الامالی ، ص75۔
  5. رجوع کریں: مجلسی، بحار الأنوار، ج‏91، ص326-327 و 315-316 بحوالہ از نوادر۔
  6. نہج البلاغہ (نسخہ صبحي صالح)، خطبہ 115 و 143۔
  7. مجلسی، بحار الأنوار، ج‏91، ص334، بحوالہ از از فقہ الرّضا(ع)۔
  8. طوسی، تہذيب الأحكام، ج‏3، ص151-154.
  9. حمیری، قرب الإسناد، ص157-158.
  10. مجلسی، بحار الأنوار، ج‏91، ص333-334، بحوالہ از: فقہ الرّضا علیہ السلام۔
  11. دیکھیں: ابن اثیر، اسد الغابۃ، ج5، ص454-455۔
  12. حلبی، السیرۃ الحلبیۃ، ج1، ص110-111۔
  13. مجلسی، بحارالانوار، ج18، ص3۔
  14. بخاری، صحیح بخاری، ج2، ص15-16۔
  15. مفید، الامالی، ص301-305۔
  16. ابن بابویہ، عیون اخبار الرضا، ج2، ص168 اور بعد کے صفحات۔
  17. روغنی، شیعیان خوجہ در آئینہ تاریخ، ص81
  18. مجلہ حوزہ، شمارہ ‏12، ص‏28 و شمارہ ‏36، ص‏37۔
  19. علماء معاصرین، ص‏312۔
  20. مجلہ مجموعہ حکمت، ص22، ص29 ـ 35۔
  21. مجلہ کیہان فرہنگی، سال سوم، ش 12، ص‏7۔]
  22. مفید، المقنعۃ، ص207-208۔
  23. طوسی، المبسوط، ج1، ص134-135۔
  24. محقق حلی، شرائع الاسلام، ج1، ص108-109۔


مآخذ

  • قرآن کریم۔
  • ابن اثیر، علی، اسد الغابۃ، قاہرہ، 1280-1286ھ ق۔
  • ابن بابویہ، محمد، عیون اخبار الرضا(ع)، قم، 1377ھ ق۔
  • ابن بابویہ، محمد، من لایحضرہ الفقیہ، بہ کوشش حسن موسوی خرسان، نجف، 1377ھ ق۔
  • ابن حزم، علی، المحلی، بیروت، دارالافاق الجدیدۃ۔
  • ابن رشد، محمد، بدایۃ المجتہد، بیروت، 1406ھ ق / 1986ع‍۔
  • ابن قاسم، عبدالرحمان، المدونۃ الکبری، قاہرہ، 1324- 1325ھ ق۔
  • ابن قدامہ، عبداللہ، المغنی، بیروت، 1404ھ ق / 1984ع‍۔
  • ابن مرتضی، احمد، البحرالزخار، بیروت، 1394ھ ق /1975ع‍۔
  • ابن ہبیرہ، یحیی، الافصاح، بہ کوشش محمد راغب طباخ، حلب، 1366ھ ق /1947ع‍۔
  • بخاری، محمد، صحیح، استانبول، 1315ھ ق۔
  • حلبی، علی، السیرۃ الحلبیۃ، قاہرہ، 1320ھ ق۔
  • حمیری، عبداللہ بن جعفر، قرب الاسناد۔
  • شافعی، محمد، الام، بیروت، دارالمعرفۃ۔
  • شیبانی، محمد بن حسن، الاصل، حیدرآباد دکن، 1386ھ ق /1966ع‍۔
  • شیبانی، محمد بن حسن، الحجۃ علی اہل المدینہ، حیدرآباد دکن، 1385ھ ق /1965ع‍۔
  • طوسی، محمدبن حسن، تہذیب الاحکام، بہ کوشش حسن موسوی خرسان، نجف، 1379ھ ق۔
  • الطوسي، محمد بن حسن، الامالي، قم 1414ھ ق۔
  • طوسی، محمدبن حسن، الخلاف، تہران، 1377ھ ق۔
  • طوسی، محمد بن حسن، المبسوط، تہران، 1388ھ ق۔
  • قدوری، احمد، «المختصر»، ہمراہ اللباب غنیمی، بہ کوشش محمد محیی الدین عبدالحمید، قاہرہ، 1383ھ ق /1963ع‍۔
  • قفال، محمد، حلیۃ العلماء، بہ کوشش یاسین احمد ابراہیم درادکہ، عمان، 1988ع‍۔
  • کاسانی، ابوبکر، بدائع الصنائع، قاہرہ، 1406ق /1986ع‍۔
  • ُ مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، 1404ق /1984ع‍۔‌
  • محقق حلی، جعفر، شرائع الاسلام، بہ کوشش عبدالحسین محمدعلی، نجف، 1389ھ ق /1969ع‍۔
  • مجلسی، بحار الانوار.
  • مفید، محمد، الامالی، بہ کوشش حسین استاد ولی و علی اکبر غفاری، قم، 1403ھ ق۔
  • مفید، المقنعۃ، قم، 1410ھ ق۔
  • نہج البلاغۃ۔
  • الہادی الی الحق، یحیی، الاحکام، 1410ھ ق / 1990ع‍۔

بیرونی ربط