علامہ محمد باقر مجلسی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محمد باقر مجلسی
علامه مجلسی.jpg
ذاتی معلومات
مکمل نام محمد باقر بن محمدتقی بن مقصودعلی مجلسی
نسب ان کا سلسلۂ نسب ابو نعیم اصفہانی تک پہنچتا ہے۔
تاریخ ولادت 1037ھ ق
آبائی شہر اصفہان
تاریخ وفات 1110ھ ق
مدفن مسجد جامع اصفہان
نامور اقرباء محمدتقی مجلسی  • ملا صالح مازندرانی
علمی معلومات
اساتذہ محمدتقی مجلسی  • ملا صالح مازندرانی  • فیض کاشانی  • سید علی خان مدنی  • ملا خلیل قزوینی وغیرہ۔
شاگرد افندی اصفہانی  • سید نعمت اللہ جزایری  • ملا محمد رفیع گیلانی  • میر محمد حسین خاتون آبادی وغیرہ۔
تالیفات بحارالانوار  • مرآة العقول  • حلیۃ المتقین  • ملاذ الاخبار  • جلاء العیون وغیرہ۔
سیاسی-سماجی فعالیت
سیاسی قضاوت
سماجی شیخ الاسلام کا منصب


محمد باقر بن محمد تقی (1037ق. - 1110ق.) جو علامہ مجلسی یا مجلسی دوئم کے نام سے معروف ہیں عالم اسلام کے مشہور ترین علماء، فقہاء، محدثین اور صفویہ دور حکومت کے با اثر شیعہ علماء میں شمار ہوتے تھے۔

علامہ مجلسی کو حدیث نگاری کا زیادہ شوق تھا اور عقیدے کے اعتبار سے اخباریوں کے زیادہ نزدیک تھے۔ آپ کی سب سے مشہور تالیف بحار الانوار، احادیث کا ایک بہت بڑا خزینہ ہے جس نے احادیث کی احیاء میں اہم کردار ادا کی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر مشہور آثار میں مرآة العقول، حق الیقین، زاد المعاد، تحفۃ الزائر، عین الحیات، حیاة القلوب، جلاء العیون، حلیۃ المتقین وغیرہ شامل ہیں۔

متعدد قلمی آثار اور شاگردوں کی تربیت کے ذریعے انہوں نے شیعہ ثقافت اور اپنے بعد آنے والے علماء کی علمی روش پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ صفویہ دور حکومت میں سیاسی اور اجتماعی سرگرمیوں کی وجہ سے آپ ہر خاص عام میں نہایت مقبول تھے یہاں تک کہ "شاہ سلیمان صفوی" کے دور میں آپ "شیخ الاسلام" کے مقام پر فائز ہوئے اور سلطان حسین صفوی کے دور میں با اثر شخصیات میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔

ولادت اور نسب

علامہ مجلسی سنہ 1037 ہجری قمری میں اصفہان میں پیدا ہوئے۔[1] ان کی ولادت صفویہ کے دور میں شاہ عباس اول کی بادشاہی کے آخری سال میں ہوئی۔ ان کے والد علامہ محمد تقی مجلسی (مجلسی اول)، اپنے زمانے کے نامور اکابرین اور مجتہدین میں سے تھے اور شیخ بہائی، ملا عبداللہ شوشتری اور میر داماد جیسے برجستہ علماء کے شاگرد رہے ہیں۔ آپ کی والدہ صدر الدین محمد عاشوری قمی کی بیٹی اور علم و فضیلت کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔[2] کہا جاتا ہے کہ آپ کی 3 زوجات تھیں جن سے آپ کے 4 بیٹے اور 5 بیٹیاں تھیں۔[3]

مجلسی خاندان

علامہ مجلسی کا خاندان حالیہ صدیوں کے انتہائی شہرہء آفاق شیعہ خاندانوں میں سے ہے اور اس خاندان میں آج تک 100 سے زیادہ جلیل القدر اور بزرگ علماء گذرے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ان کے دادا ملا مقصود علی کی بڑی شاندار مجالس پڑھا کرتے تھے یا یہ کہ انھوں نے اپنے اشعار میں اپنا تخلص "مجلسی" رکھا تھا اسی وجہ سے ان کا خاندان مجلسی کہلائے گئے اور اسی عنوان سے مشہور ہوئے۔[4] دوسری نقل یہ ہے کہ علامہ محمد باقر کے والد محمد تقی اصفہان میں "مجلس" نامی گاؤں میں رہتے تھے اس وجہ سے یہ خاندان مجلسی کے عنوان سے مشہور ہوئیں۔[5]

ان کے جد امجد مشہور حافظ و محدث ابو نعیم اصفہانی ہیں۔ آپ کے دادا ملا مقصود علی تھے جو ایک پرہیزگار شاعر اور عالم فاضل سمجھے جاتے ہیں۔[6] ان کی دادی محدث بزرگوار شیخ کمال الدین درویش محمد بن شیخ حسن نطنزی اصفہانی کی بیٹی تھیں۔ ملا محمد باقر کے دو بھائی میرزا عزیز اللہ مجلسی اور ملا عبداللہ مجلسی تھے اور محدث نوری (میرزا حسین نوری) نے ان دو کی مدح کی ہے۔ آمنہ بیگم علامہ مجلسی کی نامی گرامی ہمشیرہ ہیں جو اپنے زمانے کی عالمہ خواتین میں سے تھیں اور ملا صالح مازندرانی کی شریک حیات تھیں۔[7]

طالب علمی

وہ ابتداء ہی سے ایک عالم فاضل باپ کے زیر تربیت قرار پائے اور خود بھی تمام دینی علوم کے حصول کے مشتاق تھے۔ وہ خود لکھتے ہیں:

میں اپنے دور شباب سے ہی مختلف دینی علوم کا شیدائی تھا اور ان سے عشق کرتا تھا اور اللہ کے فضل سے دانش کے بوستانوں تک پہنچ جاتا تھا؛ پھر اس علم کے درست اور نادرست تصورات سے واقف ہوجاتا تھا حتی کہ اس گوناگوں میوؤں اور رنگ برنگ پھولوں کو اپنے لئے فراہم کردیا۔ میں نے ہر چشمے سے ایک گھونٹ پی لیا ہے اور ہر خرمن سے خوشہ چینی کی ہے۔[8]

علمی مرتبت

علامہ مجلسی اسلامی علوم میں اس قدر شہرت رکھتے ہیں کہ ان کی علمی مرتبت ہرگز بیان اور توضیح کے محتاج نہیں ہے۔ وہ ان بزرگوں میں سے ہیں جو خاص جامعیت سے بہرہ مند ہیں۔ وہ تفسیر، حدیث، فقہ، اصول، تاریخ، رجال اور درایہ جیسے علوم ميں سرآمد روزگار تھے۔ بحار الانوار نامی عظيم مجموعے پر اجمالی سی نظر سے اس نکتے کا بآسانی ادراک کیا جاسکتا ہے۔

ان علوم نے فلسفہ اور منطق اور ریاضیات جیسے عقلی علوم نیز ادب، لغت، جغرافیہ، طبّ، نجوم اور علوم غریبہ وغیرہ کے ساتھ مل کر علامہ مجلسی کو ممتاز اور بے مثل شخصیت میں تبدیل کردیا ہے۔

مشکل روایات اور احادیث کے سلسلے میں علامہ کی باریکی بینی اور نکتہ سنجی بہت عمدہ ہے؛ روایات، احادیث اور آیات کے ذیل میں علامہ کے بیانات و توضیحات بہت باریک بینانہ اور عمدہ ہیں اور ان میں خطا بہت کم پائی جاسکتی ہے۔ علامہ روایات اہل بیت(ع) کے علاوہ فقہ میں بھی خاص مہارت رکھتے تھے اگرچہ ان کے فقہی مجلدات ابھی تک قلمی مسودات کی صورت میں ہیں۔

بیٹے کے حق میں باپ کی دعا

محمد باقر مجلسی کے والد محمد تقی مجلسی سے منقول ہے کہ ایک شب نماز شب کے بعد مجھ پر ایک خوش کن کیفیت طاری ہوئی اور اچانک میرے چھوٹے بچے کے رونے کی آواز سنائی دی چنانچہ میں نے بارگاہ رب متعال میں التجا کی:

بار خدایا! بحق محمد و آل محمد(ص)، اس طفل کو اپنے دین کا مروج اور سیدالمرسلین کے احکام کا مبلغ قرار دے اور اس کے اس قدر توفیقات عطا کر جن کی کوئی انتہا نہ ہو۔[9]منقول ہے کہ محمد تقی مجلسی نے حکم دیا کہ محمد باقر کی والدہ ناپاکی کے ایام میں انہیں دودھ نہ پلائیں۔[10]

مجلسی علماء کی نظر میں

کہا گیا ہے کہ محمد باقر مجلسی پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے صفوی کے دور میں علم حدیث کی نشر و اشاعت کا اہتمام کیا۔[11]

شیخ حر عاملی می‌گوید:

انھوں نے اپنی باریک بینی کو تمام علوم کے لئے وقف کردیا اور اپنے عمیق افکار کو ان [علوم] کی ترویج کی راہ میں بروئے کار لایا ہے۔[12]

محمد بن علی اردبیلی انہیں عظيم عبارتوں کے ساتھ خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔[13]

میرزا محمد تُنِکابُنی کہتے ہیں:

[علامہ مجلسی] کی صرف ایک کتاب "حق الیقین" کی برکت سے ملک شام کے 3000 سنیوں نے مذہب تشیع قبول کیا۔[14]

عبدالعزیز دہلوی، سنی علماء میں سے ہے جس نے شیعہ عقائد کے رد میں قلم فرسائی کی ہے، لکھتا ہے:

اگر شیعہ مذہب کو "محمد باقر مجلسی" کا مذہب کہا جائے تو بجا ہے، وہی ہیں جنہوں نے اس مذہب کو رونق بخشی ہے جبکہ اس سے قبل اس کی عظمت اس قدر نہ تھی۔[15]

اساتذہ اور مشائخ

میرزا حسین نوری نے اپنی کتاب "‌الفیض القدسی فی ترجمۃ العلامۃ المجلسی" میں لکھا ہے کہ علامہ مجلسی نے علماء کی ایک جماعت سے فیض حاصل کیا ہے۔ انھوں نے 18 افراد کے نام ذکر کئے ہیں:[16]

علامہ کے شاگرد اور راوی

بعض علماء نے کہا ہے کہ علامہ مجلسی کے مکتب میں 1000 سے افراد نے زانوئے تلمذ تہہ کیا[17] اور ان کے تمام شاگرد اپنے حلقوں کے نامور علماء اور اپنے زمانے کے أعلام اور اکابرین میں سے تھے۔ میرزا حسین نوری نے ان میں سے 49 افراد کے نام ذکر کئے ہیں۔[18]

سیاسی، علمی اور ثقافتی [تہذيبی] خدمات

  1. صوفیوں کے اعتقادات کے خلاف جدوجہد اور صوفیہ کا مقابلہ۔[19]
  2. فقہ، تفسیر، کلام، حدیث، تاریخ، دعا جیسے موضوعات پر مختلف کتب نیز حدیث کے بے مثل دائرۃ المعارف بحار الانوار کی کی تصنیف و تالیف۔ انھوں نے بحار الانوار میں روایات و احادیث کو اکٹھایا کیا اور ان کو ابواب میں مرتب کیا۔[20]
  3. بعض دینی حوالہ جاتی کتب کی سادہ اور عام فہم فارسی میں تالیف یا ترجمہ، عام لوگوں کے مطالعے کے لئے۔[21]
  4. انتہئی سہولت کے ساتھ لوگوں کے دینی مسائل حل کرنے کے لئے فتاویٰ اور ان کے سوالات کے جوابات دینا۔[22]
  5. مذہبی اصلاحات کرنا، گناہ کے مراکز اور بت خانوں کے خلاف جہاد کرنا اور نشہ آور اشیاء کی ممانعت کرنا۔[23]
  6. نماز جمعہ اور نماز جماعت کو عام کرنا اور وعظ و خطابت کی مجالس کا اہتمام کرنا۔[24]
  7. شاہ سلطان سلمان اور شاہ سلطان حسین کے زمانے میں قضاء اور شیخ الاسلامی کے عہدے قبول کرنا اور اپنے اثر و نفوذ کو بروئے کار لا کر شیعہ تعلیمات اور اصولوں کو ترویج دینا۔[25]
  8. عوامی جھگڑوں اور تنازعات کو حل کرنا۔[26]

تألیفات

علامہ مجلسی نے مختلف موضوعات میں ستر عناوین کے تحت فارسی اور عربی زبانوں میں کتابیں تالیف کی ہیں۔ الذریعہ الی تصانیف الشیعہ کے مؤلف شیخ آقا بزرگ طہرانی نے لکھا ہے کہ علامہ کی تالیف کردہ کتب کی تعداد 169 مجلدات تک پہنچتی ہے۔

  1. 110 جلدوں پر مشتمل مجموعۂ حدیث "بحارالانوار" جس کو "عظیم شیعہ دائرۃ المعارف" کہا گیا ہے۔
  2. 26 جلدوں پر مشتمل مرآة العقول في شرح الکافی شیخ کلینی۔
  3. 16 مجلدات پر مشتمل شیخ طوسی کی کتاب تہذیب الاحکام کی شرح، ملاذ الاخیار في فهم تهذيب الاخبار 16 مجلدات۔
  4. الوجیزة فی الرجال
  5. عقائد کے موضوع پر فارسی زبان میں حق الیقین۔
  6. فارسی زبان میں مہینوں اور ایام کی دعاؤں اور اعمال پر مشتمل کتاب "زاد المعاد
  7. شرح الاربعین.
  8. زیارات پر مشتمل فارسی زبان کی کتاب "تحفۃ الزائر
  9. فارسی زبان میں آیات و احادیث [[معصومین(ع) سے مأخوذ مواعظ اور حکمتوں پر مشتمل کتاب عین الحیات۔
  10. قرآن اور دعا اور ان کی تلاوت و قرائت کے فضائل اور ثواب کے سلسلے میں کتاب "مشکاة الانوار
  11. حیاة القلوب انبیاء کے حالات زندگی، رسول الہة(ص) کی حیات و سیرت کے سلسلے نیز امامت کے بارے میں۔
  12. چودہ معصومین کی تاریخ و مصائب کے بارے میں کتاب جلاء العیون۔
  13. آداب معاشرت، اور روزمرہ فردی اور معاشرتی زندگی کے آداب و مستحبات کے سلسلے میں فارسی زبان میں لکھی گئی کتاب حلیۃ المتقین۔ [27]
  14. الفرائد الطریقیہ فی شرح الصحیفۃ السجادیۃ۔
  15. ربیع الاسابیع۔
  16. رسالۂ الدیات۔
  17. رسالۃ الاعتقاد۔
  18. رسالۃ الاوزان۔
  19. رسالۃ الشکوک۔
  20. مقباس المصابیح۔
  21. المسائل الهندیة۔
  22. صراط النجاة.[28]

وفات

محمدباقر مجلسی بالآخر بالآخر 27 رمضان المبارک سنہ 1110 ہجری کو 70 سال کی عمر میں شہر اصفہان میں دنیا سے رخصت ہوئے۔[29] علامہ اپنی وصیت کے مطابق اصفہان کی مسجد جامع کے کے ساتھ اپنے والد بزرگوار کے پہلو میں سپرد خاک کئے گئے۔ بعض شعراء نے ان کی تاریخ وفات کے بار اشعار کہے ہیں:[30]

ماه رمضان چه بیست و هفتش کم شد٭٭٭تاریخ وفات باقر اعلم شد
ترجمہ: ماہ رمضان کی ستائیسویں تاریخ باقر اعلم کی وفات کی تاریخ ٹہری

پاورقی حاشیے

  1. اعیان الشیعہ، ج9، ص182. ریحانۃ الادب، ج5، ص196.
  2. الذریعۃ، ج1، ص151. بحارالانوار، ج102، ص105.
  3. کرمانشاہی، مرآت الاحوال جہان نما، ص۱۲۲. مجلسی، بحارالانوار، ج۱۰۲، ص۱۰۵- ۱۴۳.
  4. بحارالانوار، ج102، ص105.
  5. خدمات علامہ مجلسی، مکتب اسلام، سال 47، شماره 7، ص50.
  6. بحارالانوار، ج102، ص105.
  7. ریاض العلماء، ج5، ص407.
  8. بحارالانوار، ج1، ص2.
  9. بحارالانوار، ج102، ص11.
  10. قصص العلماء، ص209.
  11. بحارالانوار، ج102، ص107 و 108.
  12. بحارالانوار، ج107، ص104.
  13. جامع الرواة، ج2، ص78: حرف میم کےذیل میں لکھتے ہیں: محمد باقر بن محمد تقی بن مقصود علی الملقب "مجلسی" مد ظلہ العالی، ہمارے استاد اور شیخ اور اسلام اور مسلمانوں کے شیخ، خاتم الجتہدین امام علامہ محقق مدقق، جلیل القدر، عظیم الشان، اعلی منزلت، یگانۂ روزگار اور اہنے دہر میں منفرد، ثبت اور عین، کثیر العلم، بہترین تصانیف کے مالک، ان کی شان بلند ہے اور قدر عظیم ہے، رتبہ اتنا ممتاز ہے، علوم نقلیہ اور عقلیہ پر اتنا عبور رکھتے ہیں اور اتنے باریک بین، صائب الرائے، معتبر، عادل اور امانت دار ہیں اور اس قدر صاحب شہرت ہیں کہ ان کے لئے کسی ذکر و بیان کی ضرورت نہیں ہے اور اس قدر بلند ہیں کہ الفاظ ان کی بلندی کا احاطہ نہیں کرتے۔۔۔
  14. قصص العلماء، ص205.
  15. بحوالۂ: محسن امین العاملی، اعیان الشیعه، ج9، ص183.
  16. بحارالانوار، ج102، ص76 – 83.
  17. الکنی و الالقاب، ج3، ص147. بحارالانوار، ج102، ص13.
  18. بحارالانوار، ج102، ص83 – 104.
  19. لؤلؤ البحرین، ص55.
  20. بحارالانوار، ج102، ص28.
  21. عین الحیاه، ص4.
  22. بحارالانوار، ج102، ص28.
  23. الکنی و الالقاب، ج3، ص148.
  24. الکنی و الالقاب، ج3، ص148. روضات الجنات، ص131.
  25. مستدرک الوسائل، ج3، ص408.
  26. مستدرک الوسائل، ج3، ص408. الکنی و الالقاب، ج3، ص149.
  27. اس کتاب کا اردو ترجمہ "تہذیب الاسلام" کے عنوان سے بر صغیر میں شائع ہوچکا ہے۔
  28. اعیان الشیعه، ج9، ص183.
  29. الکنی و الالقاب، ج3، ص149.
  30. الکنی و الالقاب، ج3، ص149.


مآخذ

  • امین عاملی، سیدمحسن، اعیان الشیعة، بیروت، دار التعارف للمطبوعات۔
  • تهرانی، آقا بزرگ، الذریعة، بیروت، دار الأضواء، 1403 ہجری۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، مؤسسة الوفاء، 1403 ہجری۔
  • مدرس، محمد علی، ریحانه الادب فی تراجم المعروفین بالکنیه او اللقب، تهران، خیام، 1369ہجری شمسی۔
  • افندی، عبد الله بن عیسی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، قم، خیام۔
  • کرمانشاهی، آقا احمد، مرآت الاحوال جهان نما، قم، انصاریان، 1373ہجری شمسی۔
  • تنکابنی، میرزا محمد، قصص العلماء۔
  • قمی، عباس، الکنی والألقاب، تهران، صدر۔
  • بحرانی، یوسف بن احمد، لولوالبحرین۔
  • مجلسی، محمد باقر، عین الحیاة، قم، جامعه مدرسین۔
  • خوانساری، محمد باقر، روضات الجنات فی احوال العلماء و السادات، قم، اسماعیلیان۔
  • نوری، میرزا حسین، مستدرک الوسایل، بیروت، آل البیت، 1408 ہجری۔