مسودہ:ضامن آہو

۔[1]
ضامن آہو امام رضاؑ کے مشہور القابات میں سے ایک ہے۔ یہ لقب لوگوں میں رائج ایک معروف واقعے سے ماخوذ ہے، اگرچہ یہ واقعہ معتبر حدیثی مصادر میں موجود نہیں ہے۔ اس مشہور حکایت کے مطابق ایک ہرن شکاری کے جال میں پھنس جاتا ہے اور اپنے بچوں کو دودھ پلانے کے لیے امام رضاؑ سے مدد طلب کرتا ہے۔ امام رضاؑ اس آہو کی ضمانت دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے بچوں کو دودھ پلا کر دوبارہ شکاری کے پاس واپس آجائے۔ اس واقعے کا قدیم ترین اشارہ چوتھی صدی ہجری کے شاعر علی بن حماد بصری سے منسوب ایک شعر میں ملتا ہے۔
بعض محققین کے نزدیک اس لقب کی اصل بعض معتبر تاریخی واقعات ہیں، مثلاً امام رضاؑ کے روضۂ اقدس میں ہرن کا پناہ لینا، یا سلطان سنجر کے بیٹے کے شفا پانے کا واقعہ، جس کے نتیجے میں امام رضاؑ کی قبر مبارک پر باقاعدہ بارگاہ تعمیر کی گئی۔ بعض روایات میں اس سے ملتے جلتے واقعات رسول اکرمؐ اور بعض دیگر ائمہؑ کے بارے میں بھی نقل ہوئے ہیں۔ ضامنِ آہو کے اس واقعے نے شیعہ ثقافت، شاعری، مصوری اور دیگر فنون پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں اور اسی کو موضوع بنا کر متعدد فن پارے تخلیق کئے گئے ہیں، جن میں ایران کے مشہور آرٹسٹ محمود فرشچیان کا وہ فن پارہ مشہورہے جسے "حریمِ حفاظت" فن پارہ کہا جاتا ہے۔
شیعہ ثقافت میں ضامن آہو
ضامنِ آہو امام علی بن موسیٰ الرضاؑ کے مشہور القابات میں سے ایک ہے، جس کی بنیاد لوگوں میں مشہور ایک داستان پر ہے۔[2] محققین کے مطابق یہ داستان معتبر تاریخی و حدیثی منابع میں موجود نہیں ہے۔[3] حیوانات کی حمایت کے حامل مضمون والی اس معروف روایت کے مطابق،[4] ایک ہرن شکاری کے قبضے میں تھا۔ اس نے امام رضاؑ سے عرض کی کہ اسے اپنے بچوں کو دودھ پلانے کی اجازت دلا دی۔ امامؑ نے شکاری کے سامنے اس کی ضمانت دی۔ ہرن اپنے بچوں کے پاس گیا، دودھ پلایا اور پھر وعدے کے مطابق واپس آگیا۔ شکاری نے اس وفاداری اور امامؑ کے مقام سے متاثر ہوا کہ اس ہرن کو آزاد کردیا۔[5]
کہا جاتا ہے کہ اس داستان کا سب سے قدیم ذکر (تفصیلات کے بغیر) چوتھی صدی ہجری کے شیعہ فقیہ علی بن حماد بصری کے ایک شعر میں ملتا ہے، جسے پہلی مرتبہ کتاب المناقب[6] میں نقل کیا گیا۔[7]
ترجمہ: وہ علی بن موسیٰ ہیں جن کی پناہ میں سب لوگوں کے سامنے ایک ہرن آگیا۔ وہ ہستی جن کے والد مرتضیٰ (امیر المؤمنین علیؑ) ہیں، جو عظمت، رفعت اور سربلندی کے مالک ہیں۔

امام رضاؑ کو ضامنِ آہو کے لقب سے خصوصاً ایران، برصغیر پاک و ہند اور دیگر بہت سے علاقوں میں یاد کیا جاتا ہے۔[8] بعض دینی متون میں "ضامن" ہونے کا مفہوم آہو کی ضمانت نہیں بلکہ اپنے زائرین کی شفاعت کی ضمانت دینا بیان کیا گیا ہے۔[9]
معتبر مصادر میں موجود وہ واقعات جو ضامنِ آہو سے متعلق ہیں
احمد مہدوی دامغانی کے مطابق، امام رضاؑ کو ضامنِ آہو کہنے کی اصل وجہ ایک دوسرا واقعہ ہے، جو قدیم اور معتبر منابع میں موجود ہے۔[10] شیخ صدوق نے کتاب عیون اخبار الرضا میں نقل کیا ہے۔ یہ واقعہ امام رضاؑ کی شہادت کے بعد آنحضرتؑ کے حرم میں رونما ہوا ہے۔ اس واقعے کے مطابق ابومنصور بن عبد الرزاق نامی ایک شخص ایک ہرن کے شکار میں تھا۔ ہرن بھاگتے ہوئے امام رضاؑ کے مزار کی دیوار تک پہنچا اور دیوار کے ایک شگاف میں داخل ہو کر نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ شکاری نے اسے ایک الٰہی نشانی سمجھا اور اس کے بعد ہمیشہ امام رضاؑ کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتا رہا، جو قبول ہوتی رہیں۔[11]
علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں اس سے ملتا جلتا ایک اور واقعہ نقل کیا ہے۔ ان کے مطابق سلطان سنجر کے زمانے میں سلطان یا اس کے ایک وزیر کا بیٹا بیمار تھا۔ وہ شکار کے دوران ایک ایسے ہرن کے پیچھے آیا جو امام رضاؑ کے حرم میں پناہ لے چکا تھا۔ شہزادہ نے یہ منظر دیکھا، قبر مبارک پر حاضر ہوا اور اللہ نے اسے شفا عطا فرما دی۔ اسی واقعے کے بعد سلطان سنجر نے امام رضاؑ کی قبر پر ایک عظیم بارگاہ تعمیر کروائی۔[12] بعض محققین اسی واقعے کو امام رضاؑ کے لقب "ضامنِ آہو" کی اصل بنیاد قرار دیتے ہیں۔[13]
واقعہ رونما ہونے کا مقام
مشہور روایت کے مطابق، ہرن کی ضمانت کا واقعہ امام رضاؑ کے مرو کی جانب سفر کے دوران سمنان اور دامغان کے درمیان پیش آیا، اسی نسبت سے اس مقام کو "آہوان" کہا جانے لگا۔[14] البتہ اس نام کی دوسری وجوہ بھی بیان کی گئی ہیں، مثلاً؛ امام رضاؑ کا اس مقام پر چند ہرنوں سے گفتگو کرنا جنہوں نے آپؑ کو دشمنوں کی خبر دی،[15] یا اس علاقے میں ہرن کا کثرت سے ہونا وغیرہ۔[16]
دیگر معصومینؑ اور آہو کی ضمانت
امام رضاؑ کے علاوہ دیگر معصومینؑ کے بارے میں بھی ہرن کی ضمانت کے واقعات نقل ہوئے ہیں، اگرچہ "ضامنِ آہو" کا لقب صرف امام رضاؑ کے ساتھ مشہور ہوا۔[17] فضل بن حسن طبرسی نے کتاب إعلامُ الوَریٰ میں رسول اکرمؐ کے بارے میں اسی نوعیت کا واقعہ نقل کیا ہے،[18] شیخ مفید نے کتاب الاِختصاص میں امام زین العابدینؑ کے متعلق ایک روایت بیان کی ہے[19] اور محمد بن حسن صفّار نے کتاب بَصائر الدَرَجات میں امام جعفر صادقؑ[20] کے بارے میں ایسا ہی واقعہ نقل کیا ہے۔ بعض محققین کا کہنا ہے کہ مختلف معصومینؑ کے بارے میں اس کے مشابہ واقعات کا پیش آنا عقلاً ناممکن نہیں، بلکہ یہ ایک ممکن امر ہے۔[21]
اس واقعے کے ثقافت اور فن پر اثرات

ضامن آہو کی داستان نے ادب اور فن پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔[22] اس واقعے نے داستان گوئی،[23] تصویری داستان گوئی[24] اور فارسی شاعری پر بڑے پیمانے پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔[25] آٹھویں صدی ہجری کے شاعر تاج الدین حسن بن سلیمان المعروف سلیمی تونی نے اس واقعے کو ایک منفرد انداز میں کربلا کے غم سے جوڑا ہے۔ ان کے مطابق، ہرن نے امام رضاؑ سے دیر سے واپس آنے کی وجہ یہ بیان کی کہ جمعہ کے دن وہ حضرت امام حسینؑ کی مجلسِ عزا میں شریک ہوگیا تھا۔
[26] ترجمہ: ہرن نے عرض کیا: آج جمعہ کا دن تھا۔ میں اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا تو دیکھا کہ جنگل کے تمام جانور حضرت امام حسینؑ کی عزاداری میں اکٹھا ہیں۔ میں بھی اس مقام پر ان کی مجلس میں شریک ہوگیا۔ اے مولا! میری تاخیر کی وجہ اس کے سوا کچھ نہ تھی۔ آپؑ کے قدموں کی خاک پر قربان، اے انسانوں اور جانوں کے بادشاہ!
ضامن آہو کے موضوع پر متعدد تصویری شاہکار بھی تخلیق کیے گئے ہیں، جن میں استاد محمود فرشچیان کا مشہور فن پارہ "حریمِ حفاظت" خاص شہرت رکھتا ہے۔[27] تیرہویں صدی ہجری اور اس سے پہلے کے شعراء کے کلام میں بھی امام رضاؑ کو "ضامن" کہا گیا ہے، لیکن چودھویں صدی ہجری کے بعد اس موضوع پر شاعری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔[28] ان میں سے ایک شاعر محمد یزدی نے یہ اشعار کہے ہیں:
ترجمہ: اگر تیری آنکھوں کا آہو دل چرا لے تو کیا غم، جب طوس کا بادشاہ خود ضامنِ آہو ہے۔
[30] ترجمہ: اے آہوں اور ہرنوں کے ضامن! آپ غزلوں کا حسین ترین مضمون ہیں۔ آپ کا عشق اشعار کی دھن ہے اور آپ کی یاد ضرب المثلوں کے ساز کی مضراب ہے۔ جب شکاری آپ جیسے ہوں تو دام سے رہائی کی آرزو بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔ تمام معانی آپ کی معرفت پر حیران ہیں اور غزلوں کی ہرہرن آپ کے حسن و جاذبیت کی اسیر ہے۔ آپ کی بارگاہ پر حاضری نو بیاہتا دلہنوں کا سرمایۂ افتخار ہے اور آپ کی زیارت ان کی زندگی کی خوشیوں کا آغاز۔ بے شمار زائر اپنے دلوں کی آرزوئیں لے کر حاضر ہوتے ہیں؛ کوئی بوڑھا کسی کے سہارے اور کوئی بچہ اپنے والدین کی آغوش میں۔
حوالہ جات
- ↑ خزائی و دیگران، «مقایسه ساختار و مفهوم در آثار نقاشی برگرفته از قصه ضامن آهو»، ص43۔
- ↑ میرآقایی، «ضامن آہو و تجلی آن در شعر فارسی»، ص11۔
- ↑ محمدی ریشہری و دیگران، حکمتنامہ رضوی، 1393شمسی، ج1، ص26۔
- ↑ خزائی و دیگران، «بررسی ارتباط آموزههای دینی با ساختار و مفہوم در قصہ ضامن آہو»، ص89۔
- ↑ میرآقایی، «ضامن آہو و تجلی آن در شعر فارسی»، ص11۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: ابنشہرآشوب، المناقب، 1379ھ، ج4، ص348۔
- ↑ برجی، «آہو»، ص236-237۔
- ↑ برجی، «آہو»، ص206۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: علامہ مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج53، ص315؛ جزائری، کشف الاسرار، 1408ھ، ج1، ص273؛ بحرانی اصفہانی، عوالم العلوم، 1413ھ، ج22، ص10۔
- ↑ مہدوی دامغانی، چہار مقالہ دربارہ مولی الموالی علی(ع) و داستان ضامن آہو، 1385شمسی، ص113۔
- ↑ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، 1378ھ، ج2، ص285-286۔
- ↑ علامہ مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج48، ص328۔
- ↑ الیوسفی الغروی، «شبہۃ و ردّ: السائح التائہ»، ص199۔
- ↑ حقیقت، «آہوان»، ص885۔
- ↑ عرفانمنش، جغرافیای تاریخی ہجرت امام رضا(ع) از مدینہ تا مرو، 1376شمسی، ص116۔
- ↑ «سفرنامہ خراسان»، 1388شمسی، ص630۔
- ↑ برجی، «آہو»، ص206۔
- ↑ طبرسی، اعلام الوری، 1417ھ، ج1، ص81۔
- ↑ شیخ مفید، الاختصاص، 1413ھ، ص299۔
- ↑ صفار، بصائر الدرجات، 1404ھ، ص349۔
- ↑ جزایری، ریاض الابرار، 1427ھ، ج2، ص21۔
- ↑ خزائی و دیگران، «مقایسہ ساختار و مفہوم در آثار نقاشی برگرفتہ از قصہ ضامن آہو»، ص40۔
- ↑ سیّدان، «نقالی»، ص553۔
- ↑ محدثی، فرہنگ عاشورا، 1376شمسی، ص86۔
- ↑ میرآقایی، «ضامن آہو و تجلی آن در شعر فارسی»، ص15۔
- ↑ شورای جہانی مراکز شیعی،https://www.wocoshiac.org/fa/shia-contex-fa/shiite-poems-and-poets/shiite-poems/zamene-ahoo
- ↑ خزائی و دیگران، «مقایسہ ساختار و مفہوم در آثار نقاشی برگرفتہ از قصہ ضامن آہو»، ص41۔
- ↑ میرآقایی، «ضامن آہو و تجلی آن در شعر فارسی»، ص18۔
- ↑ احمدی بیرجندی و نقویزادہ، مدایح رضوی در شعر فارسی، 1377شمسی، ص132۔
- ↑ ۔https://kouchesaresher.blogfa.com/category/14
مآخذ
- ابنشہرآشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابیطالب(ع)، قم، علامہ، 1379ھ۔
- احمدی بیرجندی، احمد، و سید علی نقویزادہ، مدایح رضوی در شعر فارسی، مشہد، بنیاد پژوہشہای اسلامی، 1377ہجری شمسی۔
- الیوسفی الغروی، محمدہادی، «شبہۃ و ردّ: السائِحُ التائِہ»، در مجلۀ رسالۃ الثقلین، شمارہ 4، ذوالحجۃ 1413ھ۔
- برجی، یعقوبعلی، مدخل «آہو»، در دانشنامہ امام رضا، قم، مرکز بین المللی ترجمہ و نشر المصطفی، 1394ہجری شمسی۔
- جزایری، سید نعمتاللہ، ریاض الابرار فی مناقب الائمۃ الاطہار، بیروت، مؤسسۃ التاریخ العربی، 1427ھ۔
- جزایری، سید نعمتاللہ، کشف الاسرار فی شرح الاستبصار، قم، مؤسسہ دار الکتاب، 1408ھ۔
- حقیقت (رفیع)، عبدالرفیع، «آہوان»، وحید، شمارہ 46، مہر 1346ہجری شمسی۔
- خزائی، محمد، و حجتاللہ حسنوند، و غلامعلی حاتم، و محمد عارف، «بررسی ارتباط آموزہہای دینی با ساختار و مفہوم در قصہ ضامن آہو»(قصہ ضامن آہو میں دینی تعلیمات اور ساخت و مفہوم کے باہمی تعلق کا جائزہ)، در مجلہ تخصصی زبان و ادب فارسی، شمارہ 52، خزاں، 1401ہجری شمسی۔
- خزائی، محمد، و حجتاللہ حسنوند، و غلامعلی حاتم، و محمد عارف، «مقایسہ ساختار و مفہوم در آثار نقاشی برگرفتہ از قصہ ضامن آہو»(ضامنِ آہو کے قصے سے ماخوذ مصوری کے فن پاروں کی ساخت اور مفہوم کا تقابلی جائزہ)، در مجلہ پیکرہ، شمارہ 24، گرما، 1400ہجری شمسی۔
- «سفرنامہ خراسان»، در کتاب سفرنامہہای خطی فارسی تألیف گروہی از نویسندگان، تہران، نشر اختران، 1388ہجری شمسی۔
- سیّدان، مریم، «نقالی»، در جلد ششم از دانشنامہ زبان و ادب فارسی، تہران، فرہنگستان زبان و ادب فارسی، 1384ہجری شمسی۔
- شیخ مفید، محمد بن محمد بن نعمان، الاختصاص، قم، المؤتمر العالمی لألفیۃ الشیخ مفید، 1413ھ۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، عیون أخبار الرضا(ع)، تہران، جہان، 1378ھ۔
- صفار، محمدبنحسن، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمد(ص)، قم، کتابخانہ آیتاللہ مرعشی نجفی(رہ)، 1404ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، اعلام الوری بأعلام الہدی، قم، مؤسسۃ آلالبیت(ع)، 1417ھ۔
- عرفانمنش، جلیل، جغرافیای تاریخی ہجرت امام رضا(ع) از مدینہ تا مرو، مشہد، بنیاد پژوہشہای اسلامی، 1376ہجری شمسی۔
- علامہ مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار الجامعۃ لدُرَر أخبار الائمہ الأطہار(ع)، بیروت، دار اِحیاء التراث العربی، 1403ھ۔
- محدثی، جواد، فرہنگ عاشورا، قم، نشر معروف، 1376ہجری شمسی۔
- محمدی ریشہری، محمد، و گروہی از پژوہشگران، حکمتنامہ رضوی، قم، دار الحدیث، 1393ہجری شمسی۔
- بحرانی اصفہانی، عبداللہ بن نوراللہ، عوالم العلوم و المعارف و الاحوال من الآيات و الاخبار و الاقوال، تحقیق: محمدباقر موحد ابطحی اصفہانی، قم، مؤسسۃ الامام المہدی(عج)، 1413ھ۔
- مہدوی دامغانی، احمد، چہار مقالہ دربارہ مولی الموالی علی(ع) و داستان ضامن آہو، تہران، امیرکبیر، 1385ہجری شمسی۔
- میرآقایی، سید ہادی، «ضامن آہو و تجلی آن در شعر فارسی»(ضامن آہو اور فارسی شعر میں اس کی تجلیاں)، مجلہ فرہنگ مردم، شمارہ 43 و 44، خزاں و گرما، 1391ہجری شمسی۔