زرتشتی عالم سے امام رضا کا مناظرہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
زرتشتی عالم سے امام رضاؑ کا مناظرہ
عمومی معلومات
فریق اول: امام علی رضاؑ
فریق دوم: زرتشتی عالم ہربذ
موضوع: اثبات نبوت حضرت موسیؑ، حضرت عیسیؑ و حضرت محمدؐ
اصلی راوی: حسن بن محمد نوفلی
مکان: مرو
زمان: سنہ 201 سے 203 ھ
اعتبار سند: ضعیف
شیعہ منابع: توحید، عیون اخبار الرضا
مشہور مناظرے
عیسائی اسقف سے امام محمد باقر کا مناظرہحسن بصری کے ساتھ امام باقر کا مناظرہابوقرۃ کے ساتھ امام رضا کا مناظرہامام رضا کا جاثلیق سے مناظرہامام رضا کا رأس الجالوت سے مناظرہسلیمان مروزی سے امام رضا کا مناظرہامام رضا کا عمران صابی سے مناظرهتوحید پر امام رضا کا مناظرہ

زرتشتی عالم کے ساتھ امام رضاؑ کا مناظرہ، امام علی رضا علیہ السلام اور زرتشتی عالم هِربِذ کے درمیان حضرت موسیؑ، حضرت عیسیؑ و حضرت محمدؐ کی نبوت کے اثبات کے سلسلہ میں ہونے والی علمی گفتگو ہے۔ اس مناظرہ میں زرتشتی عالم ان احادیث کو پیش کرتا ہے جو زرتشت کے معجزات کے طور پر ان تک پہنچی ہیں اور جنہیں وہ زرتشت کی نبوت کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ امامؑ اسی دلیل کو دوسرے انبیاء کی نبوت کو ثابت کرنے کے لئے دلیل بناتے ہیں اور یہودیوں، عیسائیوں اور اسلامی انبیاء کی نبوت کو اثبات کرتے ہیں۔

یہ گفتگو اس مجلس میں ہوئی جس میں مامون عباسی کی درخواست پر امام رضاؑ نے یہودی، مسیحی، زرتشتی اور صائبی علماء سے بطور مفضل بحث کی۔ اس حدیث مناظرہ کو سب سے پہلے شیخ صدوق نے اپنی کتاب عیون اخبار الرضاؑ میں نقل کیا ہے۔

شیخ کی روایت کے مطابق، زرتشتی عالم ہربذ امام کے اعتراض کے جواب میں لا جواب ہو جاتا ہے اور بہت جلدی بحث کو ختم کر دیتا ہے۔

سبب تشکیل و موضوع مناظرہ

زرتشتی عالم ہربذ اکبر کے ساتھ امام علی رضا علیہ السلام کا مناظرہ ایک مختصر گفتگو پر مشتمل ہے۔ جس میں زرتشت، حضرت موسی (ع)، حضرت عیسی (ع) اور حضرت محمد (ص) کی نبوت کے اثبات کے سلسلہ میں بحث ہوئی ہے۔ یہ مناظرہ مامون عباسی کی درخواست پر تشکیل پایا۔ جب امام رضا (ع) مدینہ سے مرو تشریف لائے تو اس نے مسیحی، یہودی، زرتشتی و صائبی علماء کو دعوت دی کہ وہ آئیں اور امام (ع) سے مناظرہ کریں۔[1]

اس جلسہ میں جاثلیق (بزرگ عیسائی عالم)، راس الجالوت (بزرگ یہودی عالم)، صائبیوں کے بزرگ علماء منجملہ عمران صائبی حاضر تھے اور انہوں نے مناظرہ میں حصہ لیا۔[2] اس مناظرہ کے راوی حسن بن محمد نوفلی نے اس مناظرہ کا مقصد مامون کے ذریعہ امام (ع) کا امتحان لینا ذکر کیا ہے۔[3]

متن مناظرہ

  • زرتشتی عالم ہربذ: زرتشت نے وہ معجزات انجام دیئے جو ان سے پہلے کسی نے انجام نہیں دیئے۔ البتہ ہم نے انہیں نہیں دیکھا ہے لیکن ہمارے بزرگوں نے اس بارے میں ہمیں خبریں دی ہیں کہ انہوں نے ہمارے لئے ان چیزوں کو حلال کیا ہے جو دوسروں نے حلال نہیں کیا تھا۔ لہذا ہم ان کی پیروی کرتے ہیں۔
  • امامؑ نے فرمایا: کیا ایسا نہیں ہے کہ آپ ان خبروں کی وجہ سے ان کی پیروی کرتے ہیں کہ جو آپ تک پہنچیں ہیں۔
  • عالم نے جواب دیا: ہاں ایسا ہی ہے۔
  • امامؑ نے فرمایا: گذشتہ ساری امتوں نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔ انبیاء کے معجزات کے سلسلہ میں نقل ہونے والی خبریں، حضرت موسیؑ، حضرت عیسیؑ اور حضرت محمدؐ کے معجزات بھی ان کی امتوں تک پہنچے ہیں۔ تو پھر کیا سبب ہے کہ آپ ان کی نبوت پر ایمان نہیں رکھتے؟ جبکہ آپ ان متعدد اور یقین آور خبروں کی بنیاد پر کہ جو معجزات زرتشت لیکر آئے ہیں اور دوسرے انبیاء نہیں لائے ان کے اوپر ایمان لائے ہیں؟

زرتشتی عالم امام کی اس دلیل کے جواب میں خاموش ہو گئے۔[4] [نوٹ 1]

منابع حدیث

اس مناظرہ کا متن سب سے پہلے شیخ صدوق (305۔381 ھ) کی کتاب توحید[5] و عیون اخبار الرضا[6] میں ذکر ہوا ہے۔ اس کے بعد احمد بن علی طبرسی (چھٹی صدی ہجری) نے اسے اپنی کتاب الاحتجاج میں نقل کیا ہے۔[7] کتاب بحار الانوار میں یہ حدیث شیخ صدوق کی دونوں کتابوں سے نقل ہوئی ہے۔[8]

اعتبار سند حدیث

علمائے رجال اس حدیث کے سلسلہ سند میں اختلاف نظر رکھتے ہیں۔ ایک گروہ اس سلسلہ کے تمام روات کو ثقہ مانتا ہے۔ دوسرا گروہ اس سلسلہ کے بعض روات کو غیر ثقہ مانتا ہے۔[9] اس کے علاوہ اس حدیث کی سند مرسل ہے یعنی اس سلسلہ سند میں بعض راوی ذکر نہیں ہیں۔ اس بناء پر اس حدیث کو سند کے اعتبار سے ضعیف مانتے ہیں۔[10] اس کے باوجود بعض کا ماننا ہے کہ یہ حدیث ضعیف مقبول ہے؛ یعنی سند کے ضعف کے باوجود اس پر عمل ہوتا ہے۔ اس لئے کہ شیخ صدوق جیسے معتبر عالم نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور وہ فقط ان روایات کو نقل کرتے تھے جن کے معصومیں علیہم السلام سے صادر ہونے کے بارے میں انہیں اطمینان ہوتا تھا۔[11]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. شیخ صدوق، توحید، ۱۳۹۸ق، ص۴۱۷-۴۱۸؛ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، ۱۳۷۸ق، ج۱، ص۱۵۴-۱۵۵.
  2. شیخ صدوق، توحید، ۱۳۹۸ق، ص۴۱۷-۴۴۱؛ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، ۱۳۷۸ق، ج۱، ص۱۵۴-۱۷۵.
  3. شیخ صدوق، توحید، ۱۳۹۸ق، ص۴۱۹؛ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، ۱۳۷۸ق، ج۱، ص۱۵۵.
  4. طبرسی، احمد بن علی، احتجاج، ج۲، ص ۴۲۴.
  5. شیخ صدوق، توحید، ۱۳۹۸ق، ص۴۱۹.
  6. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، ۱۳۷۸ق، ج۱، ص۱۶۷-۱۶۸.
  7. طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳ق، ج۲، ص۴۲۴.
  8. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۱۰، ص۳۱۰.
  9. خسرویان، «بررسی و تحلیل سند مناظرات امام رضا(ع) در عراق و خراسان»، ص۱۱۲-۱۱۳، ۱۱۶-۱۲۵.
  10. خسرویان، «بررسی و تحلیل سند مناظرات امام رضا(ع) در عراق و خراسان»، ص۱۲۶.
  11. خسرویان، «بررسی و تحلیل سند مناظرات امام رضا(ع) در عراق و خراسان»، ص۱۲۶.
  1. ثُمَّ دَعَاؑ بِالْهِرْبِذِ الْأَکبَرِ فَقَالَ لَهُ الرِّضَاؑ أَخْبِرْنِی عَنْ زَرْدَهُشْتَ الَّذِی تَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِی مَا حُجَّتُک عَلَی نُبُوَّتِهِ قَالَ إِنَّهُ أَتَی بِمَا لَمْ یأْتِنَا أَحَدٌ قَبْلَهُ وَ لَمْ نَشْهَدْهُ وَ لَکنَّ الْأَخْبَارَ مِنْ أَسْلَافِنَا وَرَدَتْ عَلَینَا بِأَنَّهُ أَحَلَّ لَنَا مَا لَمْ یحِلَّهُ غَیرُهُ فَاتَّبَعْنَاهُ قَالَ أَفَلَیسَ إِنَّمَا أَتَتْکمُ الْأَخْبَارُ فَاتَّبَعْتُمُوهُ قَالَ بَلَی قَالَ فَکذَلِک سَائِرُ الْأُمَمِ السَّالِفَةِ أَتَتْهُمُ الْأَخْبَارُ بِمَا أَتَی بِهِ النَّبِیونَ وَ أَتَی بِهِ مُوسَی وَ عِیسَی وَ مُحَمَّدٌ فَمَا عُذْرُکمْ فِی تَرْک الْإِقْرَارِ لَهُمْ إِذْ کنْتُمْ إِنَّمَا أَقْرَرْتُمْ بِزَرْدَهُشْتَ مِنْ قِبَلِ الْأَخْبَارِ الْمُتَوَاتِرَةِ بِأَنَّهُ جَاءَ بِمَا لَمْ یجِئْ بِهِ غَیرُهُ فَانْقَطَعَ الْهِرْبِذُ مَکانَه

منابع

  • خسرویان قلہ‌ زو، جعفر، «بررسی و تحلیل سند مناظرات امام رضا(ع) در عراق و خراسان»، در پژوهش‌های قرآن و حدیث، شماره ۱، ۱۳۹۷ش
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، التوحید، تحقیق و تصحیح هاشم حسینی، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزه علمیه قم، چاپ اول، ۱۳۹۸ھ
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، عیون اخبار الرضا، تحقیق و تصحیح مهدی لاجوردی، تهران، نشر جهان، چاپ اول، ۱۳۷۸ش
  • طبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج علی اهل اللجاج، تحقیق و تصحیح محمدباقر خرسان، مشهد، نشر مرتضی، چاپ اول، ۱۴۰۳ھ
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار الجامعة لدرر اخبار الائمة الاطهار، بیروت، دار احیاء‌ التراث العربی، چاپ دوم، ۱۴۰۳ھ