امام رضا کا جاثلیق سے مناظرہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
نصرانی جاثلیق سے امام رضاؑ کا مناظرہ
عمومی معلومات
فریق اول: امام رضاؑ
فریق دوم: جاثلیق نصرانی
موضوع: نبوت، حضرت محمدؐ • بشریت حضرت عیسیؑ
اصلی راوی: حسن بن محمد نوفلی
مکان: مَرْو، دربار مأمون عباسی
شیعہ منابع: توحیدعیون اخبار الرضا
نتیجہ: جاثلیق نصرانی کا شکست پزیری
مشہور مناظرے
عیسائی اسقف سے امام محمد باقر کا مناظرہحسن بصری کے ساتھ امام باقر کا مناظرہابوقرۃ کے ساتھ امام رضا کا مناظرہامام رضا کا جاثلیق سے مناظرہامام رضا کا رأس الجالوت سے مناظرہسلیمان مروزی سے امام رضا کا مناظرہامام رضا کا عمران صابی سے مناظرهتوحید پر امام رضا کا مناظرہ

جاثَلیق نصرانی سے امام رضاؑ کا مناظرہ، ایک علمی و کلامی نشست ہے جس میں نبوت پیغمبر اسلامؐ اور حضرت عیسی کے بشر ہونے پر بحث ہوئی ہے۔ یہ بحث ایک ایسی نشست میں ہوئی جہاں مأمون خلیفہ عباسی، کی منشاء کے مطابق یہودی، عیسائی، زرتشتی و صابئی ادیان کے متعدد علماء نے امام رضاؑ سے مناظرہ کیا۔

اس مناظرہ کی گفتگو کو سب سے پہلے توحید و عیون اخبار الرضا، میں شیخ صدوق نے نقل کیا۔ ‌حسن بن محمد نوفلی اس حدیث، کے راوی کے بقول امام رضاؑ نے اِنجیل، عیسائیوں کی دینی کتاب، کی بنیاد پر حضرت محمدؐ کی نبوت پر استدلال پیش کیا۔ اسی طرح سے انجیل سے استناد کرتے ہوئے آپ نے ثابت کیا کہ حضرت عیسیٰؑ بشر تھے خدا نہیں تھے۔ اس روایت کی بنیاد پہ، جاثلیق نے اس مناظرہ میں شکست کھائی اور اس سے امام رضاؑ کے سوالوں کا جواب نہیں بن پڑا۔

مناظرہ کا پس منظر

جاثَلیق سے امام رضاؑ، کے مناظرہ کے بارے میں ایک حدیث میں ملتا ہے کہ امامؑ نے اس مناظرہ میں عیسائی، یہودی، زرتشتی اور صابئی علماء سے مناظرہ کیا۔[1] حسن بن محمد نوفلی اس مناظرہ کے راوی کے فرمودات کے مطابق یہ مناظرہ خود مأمون خلیفہ عباسی کی منشاء کے مطابق ہوا۔ جب امام رضاؑ مدینہ سے مرو مأمون عباسی کے پاس پہنچے تو مامون نے مختلف ادیان و مذاہب کے متعدد علماء کو ایک جگہ جمع ہوکے امام رضاؑ سے کلامی اور اعتقادی گفتگو کرنے کی دعوت دی۔[2] نوفلی بیان کرتا ہے کہ اس مناظرہ کے ذریعہ مامون عباسی امام رضاؑ کا امتحان لینا چاہتا تھا۔[3]

جاثَلیق عیسائیوں کا بزرگ ہے وہ اس جلسہ میں سب سے پہلا وہ شخص ہے جس نے امام رضاؑ سے مناظرہ کیا۔ اس کے علاوہ، رأس‌ الجالوت (یہودیوں کا بڑا عالم)، صابئین کے بڑے عالم ہربِذ (زرتشتیوں کا بڑا عالم) اور عِمران صابی بھی اس نشست میں موجود تھا اور مناظرہ کر رہا تھا۔[4]

امام رضاؑ کی روش

مناظرہ، کی ابتدا میں جاثَلیق مأمون ـ ‌کہ جو اس سے کہتا کہ وہ امام سے مناظرہ شروع کرے‌ـ سے کہتا ہے کہ تو تمہارے پیغمبر کے دین اور ان پر نازل ہونے والی کتاب کو نہیں مانتا ،میں ان سے کیسے مناظرہ کروں؟ امام رضاؑ اس کو جواب دیتے ہیں کہ مناظرہ کے دوران وہ اس کو اِنجیل، عیسائیوں کی مذہبی کتاب سے استناد کریں گے جاثلیق فورا قبول کر لیتا ہے اور کہتا ہے ایسی صورت میں انکار نہیں کر سکتا۔[5] اور اس طرح سے امام رضاؑ یہاں مناظرہ میں اپنی باتوں کے اثبات کے لئے انجیل کے بہت سے شواہد پیش کرتے ہیں۔[6]

موضوع

امام رضاؑ اور جاثلیق، کے درمیان اس مناظرہ میں دو اصلی بحثیں ہیں: ایک حضرت محمدؐ کی اثباتِ نبوّت کی بحث اور دوسری حضرت عیسی خدا یا بشر ہونے کے بارے میں بحث۔ ان دونوں بحث کے درمیان کچھ جانبی مسائل پہ بھی بات ہوئی مثلا حضرت عیسی کے حواریوں کی تعداد[7] اور انجیل کے اصلی نسخہ کی گمشدگی۔[8]

امام رضاؑ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوّت کے اثبات میں، انجیل اور توریت کی ان عبارتوں کو بعنوان شاہد پیش کیا جن میں ایک پیغمبر کی حضرت محمدؐ کی نشانیوں کے ساتھ بشارت دی گئی تھی۔ اس میں آپ نے فرمایا کہ انجیل میں ہے کہ یوحنّای دیلمی نے کہا مسیح نے مجھے دین محمّدِ عربى سے آشنا کرایا ہے اور مجھے خوشخبری دی ہے کہ انکے بعد وہ ضرور آئیں گے میں نے بھی یہ خوشخبری حواریوں کو سنائی اور وہ اس پر ایمان لے آئے۔[9] اسی طرح سے حضرت عیسىٰ نے انجیل میں کہا ہے کہ میں تمہارے اور اپنے رب کی طرف چلا جاوں گا اور اس کے بعد فارِقلیطا آئے گا۔[10]

حضرت عیسیٰ کے خدا ہونے سے متعلق عیسائیوں کے اعتقاد پہ امامؑ نے دو اعتراض پیش کئے:

ایک یہ کہ اگر عیسیٰ خدا تھے، تو انکو نماز نہیں پڑھنی چاہئے جبکہ وہ نماز پڑھتے تھے اور روزہ بھی رکھتے تھے؛ کیونکہ اگر وہ نمازیں پڑھیں گے اور روزے رکھیں گے تو سوال یہ ہوگا کہ جو خود خدا ہے وہ کس کے لئے نمازیں پڑھتا ہے اور کس کے لئے روزے رکھتا ہے۔[11]

دوسرا استدلال جاثلیق کی اس بات کی رو سے ہے کہ وہ کہتا تھا کہ عیسیٰ خدا ہیں کیونکہ وہ مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور پیسی جیسے مرض میں مبتلا مریضوں کو شفا دیتے ہیں۔[12] امام رضاؑ اس پر اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دوسرے انبیاء علیہم السلام بھی یہ کارنامہ انجام دیتے تھے۔ اس لئے انکو بھی خدا ماننا چاہئے؛ جب کہ عیسائی ان کو خدا نہیں مانتے۔ مثال کے طور پہ یَسَع بھی مردوں کو زندہ کرتے تھے نابینا اور پیسی کے مریضوں کو شفا دیتے تھے۔ اسی طرح جناب حِزقیل نبی نے بھی 35 ہزار لوگوں کو انکی موت کے ساٹھ سال بعد زندہ کیا۔[13]

نتیجہ

حدیث کے راوی کے بقول جاثَلیق اس مناظرہ میں کئی جگہ پہ امامؑ کے اعتراض کا جواب دینے سے قاصر رہا اور اس نے سکوت اختیار کیا۔ مثال کے طور پہ جب امامؑ نے اس سے پوچھا کہ اگر حضرت عیسیٰ خدا تھے تو وہ کس کے لئے نماز پڑھتے تھے کس کے لئے روزہ رکھتے تھے تو جاثلیق سے کوئی جواب نہیں بن پایا اور وہ خاموش رہا۔[14]

اسی طرح جب امام رضاؑ نے انجیل سے پیغمبر اسلامؐ کی نبوّت اور حضرت عیسیٰ کے بشر ہونے کے اثبات میں دلیل پیش کی تو، جاثلیق نے امامؑ سے اجازت طلب کی کہ وہ اس کا جواب نہ دے۔[15] مناظرہ کے اختتام میں جاثلیق نے امام رضا ؑ سے کہا: میرا خیال ہے کہ مسلمان علماء کے درمیان کوئی بھی امام رضاؑ جیسا نہیں ہے۔[16]

حدیث کے مآخذ

مناظرہ کا متن سب سے پہلی بار شیخ صدوق (305-381ھ) نے اپنی کتاب توحید[17] اور عیون اخبار الرضا،[18] میں ذکر کیا ہے۔ احمد بن علی طَبرسی (چھٹی صدی ہجری کے عالم) نے احتجاج میں اس مناظرہ کا خلاصہ ذکر کیا ہے۔[19] علامہ مجلسی نے بھی بحارالانوار میں اس حدیث کو شیخ صدوق کی دو کتابوں سے نقل کیا ہے۔[20]

سند حدیث کا اعتبار

علمائے رجال خاص طور سے اس حدیث کے راویوں کے سلسلہ، کے بارے میں اختلاف نظر رکھتے ہیں۔ ایک گروہ نے ان تمام لوگوں کو ثقہ جانا ہے اور ایک دوسرے گروہ نے ان میں سے بعض کو غیر ثقہ شمار کیا ہے۔[21] اس کے علاوہ یہ حدیث، مُرسَل ہے؛ یعنی اس کے بعض راوی ذکر نہیں ہوئے ہیں۔ اس بنیاد پہ اس حدیث کو سند کے اعتبار سے، ضعیف قرار دیتے ہیں۔[22] اس کے باوجود بعض اس بات کے قائل ہیں کہ یہ حدیث، ضعیفِ مقبول ہے؛ یعنی سند کے لحاظ سے ضعیف ہونے کے باوجود بھی اس کی بنیاد پر عمل ہوتا ہے؛ کیونکہ شیخ صدوق جیسا معتبر عالم دین اس کو روایت کرتا ہے اور وہ صرف ان روایتوں کو نقل کرتے ہیں جنکا امام معصومؑ سے صادر ہونے کا انکو یقین ہوتا ہے۔[23]

متن و ترجمہ

متن ترجمہ
فَقَالَ يَا جَاثَلِيقُ هَذَا ابْنُ عَمِّي عَلِيُّ بْنُ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ وَ هُوَ مِنْ وُلْدِ فَاطِمَةَ بِنْتِ نَبِيِّنَا وَ ابْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَأُحِبُّ أَنْ تُكَلِّمَهُ أَوْ تُحَاجَّهُ وَ تُنْصِفَهُ فَقَالَ الْجَاثَلِيقُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ كَيْفَ أُحَاجُّ رَجُلًا يَحْتَجُّ عَلَيَّ بِكِتَابٍ أَنَا مُنْكِرُهُ وَ نَبِيٍّ لَا أُومِنُ بِهِ فَقَالَ لَهُ الرِّضَا ع يَا نَصْرَانِيُّ فَإِنِ احْتَجَجْتُ عَلَيْكَ بِإِنْجِيلِكَ أَ تُقِرُّ بِهِ قَالَ الْجَاثَلِيقُ وَ هَلْ أَقْدِرُ عَلَى رَفْعِ مَا نَطَقَ بِهِ الْإِنْجِيلُ نَعَمْ وَ اللَّهِ أُقِرُّ بِهِ عَلَى رَغْمِ أَنْفِي فَقَالَ لَهُ الرِّضَا ع سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ وَ اسْمَعِ‏ الْجَوَابَ فَقَالَ الْجَاثَلِيقُ مَا تَقُولُ فِي نُبُوَّةِ عِيسَى وَ كِتَابِهِ هَلْ‏

تُنْكِرُ مِنْهُمَا شَيْئاً قَالَ الرِّضَا أَنَا مُقِرٌّ بِنُبُوَّةِ عِيسَى وَ كِتَابِهِ وَ مَا بَشَّرَ بِهِ أُمَّتَهُ وَ أَقَرَّتْ بِهِ الْحَوَارِيُّونَ وَ كَافِرٌ بِنُبُوَّةِ كُلِّ عِيسًى لَمْ يُقِرَّ بِنُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ ص وَ بِكِتَابِهِ وَ لَمْ يُبَشِّرْ بِهِ أُمَّتَهُ قَالَ الْجَاثَلِيقُ أَ لَيْسَ إِنَّمَا نَقْطَعُ الْأَحْكَامَ‏ بِشَاهِدَيْ عَدْلٍ قَالَ ع بَلَى قَالَ فَأَقِمْ شَاهِدَيْنِ مِنْ غَيْرِ أَهْلِ مِلَّتِكَ عَلَى نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ ص مِمَّنْ لَا تُنْكِرُهُ النَّصْرَانِيَّةُ وَ سَلْنَا مِثْلَ‏ ذَلِكَ مِنْ غَيْرِ أَهْلِ مِلَّتِنَا قَالَ الرِّضَا ع أَلْآنَ جِئْتَ بِالنَّصِفَةِ يَا نَصْرَانِيُّ أَ لَا تَقْبَلُ مِنِّي الْعَدْلَ الْمُقَدَّمَ عِنْدَ الْمَسِيحِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ع قَالَ الْجَاثَلِيقُ وَ مَنْ هَذَا الْعَدْلُ سَمِّهِ لِي قَالَ مَا تَقُولُ فِي يُوحَنَّا الدَّيْلَمِيِّ قَالَ بَخْ بَخْ ذَكَرْتَ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى الْمَسِيحِ قَالَ فَأَقْسَمْتُ عَلَيْكَ هَلْ نَطَقَ الْإِنْجِيلُ أَنَّ يُوحَنَّا قَالَ إِنَّمَا الْمَسِيحُ أَخْبَرَنِي بِدِينِ مُحَمَّدٍ الْعَرَبِيِّ وَ بَشَّرَنِي بِهِ أَنَّهُ يَكُونُ مِنْ بَعْدِهِ فَبَشَّرْتُ بِهِ الْحَوَارِيِّينَ‏ فَآمَنُوا بِهِ قَالَ الْجَاثَلِيقُ‏ قَدْ ذَكَرَ ذَلِكَ يُوحَنَّا عَنِ الْمَسِيحِ وَ بَشَّرَ بِنُبُوَّةِ رَجُلٍ وَ بِأَهْلِ بَيْتِهِ وَ وَصِيِّهِ وَ لَمْ يُلَخِّصْ مَتَى يَكُونُ ذَلِكَ وَ لَمْ تسم [يُسَمِ‏] لَنَا الْقَوْمَ فَنَعْرِفَهُمْ قَالَ الرِّضَا ع فَإِنْ جِئْنَاكَ بِمَنْ يَقْرَأُ الْإِنْجِيلَ فَتَلَا عَلَيْكَ ذِكْرَ مُحَمَّدٍ وَ أَهْلِ بَيْتِهِ وَ أُمَّتِهِ أَ تُؤْمِنُ بِهِ قَالَ سَدِيداً قَالَ الرِّضَا ع لِنِسْطَاسَ الرُّومِيِّ كَيْفَ حِفْظُكَ لِلسِّفْرِ الثَّالِثِ مِنَ الْإِنْجِيلِ قَالَ مَا أَحْفَظَنِي لَهُ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى رَأْسِ الْجَالُوتِ فَقَالَ أَ لَسْتَ تَقْرَأُ الْإِنْجِيلَ قَالَ بَلَى لَعَمْرِي قَالَ فَخُذْ عَلَى السِّفْرِ فَإِنْ كَانَ فِيهِ ذِكْرُ مُحَمَّدٍ وَ أَهْلِ بَيْتِهِ وَ أُمَّتِهِ فَاشْهَدُوا لِي وَ إِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ ذِكْرُهُ فَلَا تَشْهَدُوا لِي ثُمَّ قَرَأَ ع السِّفْرَ الثَّالِثَ حَتَّى بَلَغَ ذِكْرَ النَّبِيِّ ص وَقَفَ ثُمَّ قَالَ يَا نَصْرَانِيُّ إِنِّي أَسْأَلُكَ‏ بِحَقِّ الْمَسِيحِ وَ أُمِّهِ أَ تَعْلَمُ‏ أَنِّي عَالِمٌ بِالْإِنْجِيلِ قَالَ نَعَمْ ثُمَّ تَلَا عَلَيْنَا ذِكْرَ مُحَمَّدٍ وَ أَهْلِ بَيْتِهِ وَ أُمَّتِهِ ثُمَّ قَالَ مَا تَقُولُ يَا نَصْرَانِيُّ هَذَا قَوْلُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ع فَإِنْ كَذَّبْتَ بِمَا يَنْطِقُ بِهِ الْإِنْجِيلُ فَقَدْ كَذَّبْتَ مُوسَى وَ عِيسَى ع وَ مَتَى أَنْكَرْتَ هَذَا الذِّكْرَ وَجَبَ عَلَيْكَ الْقَتْلُ لِأَنَّكَ تَكُونُ قَدْ كَفَرْتَ‏ بِرَبِّكَ وَ نَبِيِّكَ وَ بِكِتَابِكَ قَالَ الْجَاثَلِيقُ لَا أُنْكِرُ مَا قَدْ بَانَ لِي فِي الْإِنْجِيلِ وَ إِنِّي لَمُقِرٌّ بِهِ قَالَ الرِّضَا ع اشْهَدُوا عَلَى إِقْرَارِهِ ثُمَّ قَالَ يَا جَاثَلِيقُ سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ قَالَ الْجَاثَلِيقُ أَخْبِرْنِي عَنْ حَوَارِيِّ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ع كَمْ كَانَ عِدَّتُهُمْ وَ عَنْ عُلَمَاءِ الْإِنْجِيلِ كَمْ كَانُوا قَالَ الرِّضَا ع عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ‏ أَمَّا الْحَوَارِيُّونَ فَكَانُوا اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا وَ كَانَ أَعْلَمُهُمْ وَ أَفْضَلُهُمْ أَلُوقَا وَ أَمَّا عُلَمَاءُ النَّصَارَى فَكَانُوا ثَلَاثَةَ رِجَالٍ يُوحَنَّا الْأَكْبَرُ بِأَجٍ‏ وَ يُوحَنَّا بِقَرْقِيسِيَا وَ يُوحَنَّا الدَّيْلَمِيُّ بِرِجَازَ وَ عِنْدَهُ كَانَ ذِكْرُ النَّبِيِّ ص وَ ذِكْرُ أَهْلِ بَيْتِهِ وَ أُمَّتِهِ وَ هُوَ الَّذِي بَشَّرَ أُمَّةَ عِيسَى وَ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِهِ ثُمَّ قَالَ لَهُ يَا نَصْرَانِيُّ وَ اللَّهِ إِنَّا لَنُؤْمِنُ‏ بِعِيسَى الَّذِي آمَنَ بِمُحَمَّدٍ ص وَ مَا نَنْقِمُ عَلَى عِيسَاكُمْ‏ شَيْئاً إِلَّا ضَعْفَهُ وَ قِلَّةَ صِيَامِهِ وَ صَلَاتِهِ‏ قَالَ الْجَاثَلِيقُ أَفْسَدْتَ وَ اللَّهِ عِلْمَكَ وَ ضَعَّفْتَ أَمْرَكَ وَ مَا كُنْتُ ظَنَنْتُ إِلَّا أَنَّكَ أَعْلَمُ أَهْلِ الْإِسْلَامِ قَالَ الرِّضَا ع وَ كَيْفَ ذَاكَ قَالَ الْجَاثَلِيقُ مِنْ قَوْلِكَ أَنَّ عِيسَى كَانَ ضَعِيفاً قَلِيلَ الصِّيَامِ قَلِيلَ الصَّلَاةِ وَ مَا أَفْطَرَ عِيسَى يَوْماً قَطُّ وَ لَا نَامَ بِلَيْلٍ قَطُّ وَ مَا زَالَ صَائِمَ الدَّهْرِ وَ قَائِمَ اللَّيْلِ قَالَ الرِّضَا ع فَلِمَنْ كَانَ يَصُومُ وَ يُصَلِّي قَالَ‏ فَخَرِسَ الْجَاثَلِيقُ وَ انْقَطَعَ قَالَ الرِّضَا ع يَا نَصْرَانِيُّ أَسْأَلُكَ عَنْ مَسْأَلَةٍ قَالَ سَلْ فَإِنْ كَانَ عِنْدِي عِلْمُهَا أَجَبْتُكَ قَالَ الرِّضَا ع مَا أَنْكَرْتَ أَنَّ عِيسَى ع كَانَ يُحْيِي الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ قَالَ الْجَاثَلِيقُ أَنْكَرْتُ ذَلِكَ مِنْ أَجْلِ‏ أَنَّ مَنْ أَحْيَا الْمَوْتَى وَ أَبْرَأَ الْأَكْمَهَ وَ الْأَبْرَصَ فَهُوَ رَبٌّ مُسْتَحِقٌّ لِأَنْ يُعْبَدَ قَالَ الرِّضَا ع فَإِنَّ الْيَسَعَ قَدْ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ عِيسَى ع مَشَى عَلَى الْمَاءِ وَ أَحْيَا الْمَوْتَى وَ أَبْرَأَ الْأَكْمَهَ وَ الْأَبْرَصَ فَلَمْ تَتَّخِذْهُ أُمَّتُهُ رَبّاً وَ لَمْ يَعْبُدْهُ أَحَدٌ مِنْ دُونِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ لَقَدْ صَنَعَ حِزْقِيلُ‏ النَّبِيُّ ع مِثْلَ مَا صَنَعَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَأَحْيَا خَمْسَةً وَ ثَلَاثِينَ أَلْفَ رَجُلٍ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِمْ بِسِتِّينَ سَنَةً ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى رَأْسِ الْجَالُوتِ فَقَالَ لَهُ يَا رَأْسَ الْجَالُوتِ أَ تَجِدُ هَؤُلَاءِ فِي شَبَابِ بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي التَّوْرَاةِ اخْتَارَهُمْ بُخْتَ‏نَصَّرُ مِنْ سَبْيِ بَنِي إِسْرَائِيلَ حِينَ غَزَا بَيْتَ الْمَقْدِسِ ثُمَّ انْصَرَفَ بِهِمْ إِلَى بَابِلَ فَأَرْسَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ إِلَيْهِمْ فَأَحْيَاهُمْ هَذَا فِي التَّوْرَاةِ لَا يَدْفَعُهُ إِلَّا كَافِرٌ مِنْكُمْ قَالَ رَأْسُ الْجَالُوتِ قَدْ سَمِعْنَا بِهِ وَ عَرَفْنَاهُ قَالَ صَدَقْتَ ثُمَّ قَالَ يَا يَهُودِيُّ خُذْ عَلَى هَذَا السِّفْرِ مِنَ التَّوْرَاةِ فَتَلَا ع عَلَيْنَا مِنَ التَّوْرَاةِ آيَاتٍ فَأَقْبَلَ الْيَهُودِيُّ يَتَرَجَّجُ‏ لِقِرَاءَتِهِ وَ يَتَعَجَّبُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّصْرَانِيِ‏ فَقَالَ يَا نَصْرَانِيُّ أَ فَهَؤُلَاءِ كَانُوا قَبْلَ عِيسَى أَمْ عِيسَى كَانَ قَبْلَهُمْ قَالَ بَلْ كَانُوا قَبْلَهُ فَقَالَ الرِّضَا ع لَقَدِ اجْتَمَعَتْ قُرَيْشٌ عَلَى‏ رَسُولِ اللَّهِ ص فَسَأَلُوهُ أَنْ يُحْيِيَ لَهُمْ مَوْتَاهُمْ فَوَجَّهَ مَعَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ع فَقَالَ لَهُ اذْهَبْ إِلَى الْجَبَّانَةِ فَنَادِ بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ الَّذِينَ يَسْأَلُونَ عَنْهُمْ بِأَعْلَى صَوْتِكَ يَا فُلَانُ وَ يَا فُلَانُ وَ يَا فُلَانُ يَقُولُ لَكُمْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ص قُومُوا بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ فَقَامُوا يَنْفُضُونَ التُّرَابَ عَنْ رُءُوسِهِمْ فَأَقْبَلَتْ قُرَيْشٌ يَسْأَلُهُمْ عَنْ أُمُورِهِمْ ثُمَّ أَخْبَرُوهُمْ أَنَّ مُحَمَّداً قَدْ بُعِثَ نَبِيّاً فَقَالُوا وَدِدْنَا أَنَّا أَدْرَكْنَاهُ فَنُؤْمِنُ بِهِ وَ لَقَدْ أَبْرَأَ الْأَكْمَهَ وَ الْأَبْرَصَ وَ الْمَجَانِينَ وَ كَلَّمَهُ الْبَهَائِمُ وَ الطَّيْرُ وَ الْجِنُّ وَ الشَّيَاطِينُ وَ لَمْ نَتَّخِذْهُ رَبّاً مِنْ دُونِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ لَمْ نُنْكِرْ لِأَحَدٍ مِنْ هَؤُلَاءِ فَضْلَهُمْ فَمَتَى اتَّخَذْتُمْ عِيسَى رَبّاً جَازَ لَكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا الْيَسَعَ وَ حِزْقِيلَ رَبّاً لِأَنَّهُمَا قَدْ صَنَعَا مِثْلَ مَا صَنَعَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ع مِنْ إِحْيَاءِ الْمَوْتَى وَ غَيْرِهِ وَ إِنَّ قَوْماً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ خَرَجُوا مِنْ بِلَادِهِمْ مِنَ الطَّاعُونِ‏ وَ هُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ‏ فَأَمَاتَهُمُ اللَّهُ فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ فَعَمَدَ أَهْلُ تِلْكَ الْقَرْيَةِ فَحَظَرُوا عَلَيْهِمْ حَظِيرَةً فَلَمْ يَزَالُوا فِيهَا حَتَّى نَخِرَتْ‏ عِظَامُهُمْ وَ صَارُوا رَمِيماً فَمَرَّ بِهِمْ نَبِيٌّ مِنْ أَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَتَعَجَّبَ مِنْهُمْ وَ مِنْ كَثْرَةِ الْعِظَامِ الْبَالِيَةِ فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ إِلَيْهِ أَ تُحِبُّ أَنْ أُحْيِيَهُمْ لَكَ فَتُنْذِرَهُمْ قَالَ نَعَمْ يَا رَبِّ فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ إِلَيْهِ أَنْ نَادِهِمْ فَقَالَ أَيَّتُهَا الْعِظَامُ الْبَالِيَةُ قُومِي بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ فَقَامُوا أَحْيَاءً أَجْمَعُونَ يَنْفُضُونَ التُّرَابَ عَنْ رُءُوسِهِمْ ثُمَّ إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ ع حِينَ أَخَذَ الطَّيْرَ فَقَطَعَهُنَّ قِطَعاً ثُمَّ وَضَعَ‏ عَلى‏ كُلِّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْءاً ثُمَّ نَادَاهُنَّ فَأَقْبَلْنَ سَعْياً إِلَيْهِ ثُمَّ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ ع وَ أَصْحَابُهُ السَّبْعُونَ الَّذِينَ اخْتَارَهُمْ‏ صَارُوا مَعَهُ إِلَى الْجَبَلِ فَقَالُوا لَهُ إِنَّكَ قَدْ رَأَيْتَ اللَّهَ سُبْحَانَهُ فَأَرِنَاهُ كَمَا رَأَيْتَهُ فَقَالَ‏ لَهُمْ إِنِّي لَمْ أَرَهُ فَقَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً ... فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ فَاحْتَرَقُوا عَنْ آخِرِهِمْ وَ بَقِيَ مُوسَى وَحِيداً فَقَالَ يَا رَبِّ اخْتَرْتُ سَبْعِينَ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَجِئْتُ بِهِمْ وَ أَرْجِعُ وَحْدِي‏ فَكَيْفَ يُصَدِّقُنِي‏ قَوْمِي بِمَا أُخْبِرُهُمْ بِهِ فَ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُمْ مِنْ قَبْلُ وَ إِيَّايَ أَ تُهْلِكُنا بِما فَعَلَ السُّفَهاءُ مِنَّا فَأَحْيَاهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِمْ وَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ ذَكَرْتُهُ لَكَ مِنْ هَذَا لَا تَقْدِرُ عَلَى دَفْعِهِ لِأَنَّ التَّوْرَاةَ وَ الْإِنْجِيلَ وَ الزَّبُورَ وَ الْفُرْقَانَ قَدْ نَطَقَتْ بِهِ فَإِنْ كَانَ كُلُّ مَنْ أَحْيَا الْمَوْتَى وَ أَبْرَأَ الْأَكْمَهَ وَ الْأَبْرَصَ وَ الْمَجَانِينَ يُتَّخَذُ رَبّاً مِنْ دُونِ اللَّهِ فَاتَّخِذْ هَؤُلَاءِ كُلَّهُمْ أَرْبَاباً مَا تَقُولُ يَا يَهُودِيُ‏ فَقَالَ الْجَاثَلِيقُ الْقَوْلُ قَوْلُكَ وَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى رَأْسِ الْجَالُوتِ فَقَالَ يَا يَهُودِيُّ أَقْبِلْ عَلَيَّ أَسْأَلْكَ بِالْعَشْرِ الْآيَاتِ الَّتِي أُنْزِلَتْ عَلَى مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ ع هَلْ تَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ مَكْتُوباً بِنَبَإِ مُحَمَّدٍ ص وَ أُمَّتِهِ إِذَا جَاءَتِ الْأُمَّةُ الْأَخِيرَةُ أَتْبَاعُ رَاكِبِ الْبَعِيرِ يُسَبِّحُونَ الرَّبَّ جِدّاً جِدّاً تَسْبِيحاً جَدِيداً فِي الْكَنَائِسِ الْجُدُدِ فليفرغ [فَلْيَفْزَعْ‏] بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَيْهِمْ وَ إِلَى مَلِكِهِمْ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُهُمْ فَإِنَّ بِأَيْدِيهِمْ‏ سُيُوفاً يَنْتَقِمُونَ بِهَا مِنَ الْأُمَمِ الْكَافِرَةِ فِي أَقْطَارِ الْأَرْضِ أَ هَكَذَا هُوَ فِي التَّوْرَاةِ مَكْتُوبٌ قَالَ رَأْسُ الْجَالُوتِ نَعَمْ إِنَّا لَنَجِدُهُ كَذَلِكَ ثُمَّ قَالَ لِلْجَاثَلِيقِ يَا نَصْرَانِيُّ كَيْفَ عِلْمُكَ بِكِتَابِ شَعْيَا ع قَالَ أَعْرِفُهُ حَرْفاً حَرْفاً قَالَ لَهُمَا أَ تَعْرِفَانِ هَذَا مِنْ كَلَامِهِ يَا قَوْمِ إِنِّي رَأَيْتُ صُورَةَ رَاكِبِ الْحِمَارِ لَابِساً جَلَابِيبَ النُّورِ وَ رَأَيْتُ رَاكِبَ الْبَعِيرِ ضَوْءٌ مِثْلُ ضَوْءِ الْقَمَرِ فَقَالا قَدْ قَالَ ذَلِكَ شَعْيَا ع قَالَ الرِّضَا ع يَا نَصْرَانِيُّ هَلْ تَعْرِفُ فِي الْإِنْجِيلِ قَوْلَ عِيسَى ع إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَى رَبِّكُمْ وَ رَبِّي وَ الْبَارِقْلِيطَا جَاءَ هُوَ الَّذِي يَشْهَدُ لِي بِالْحَقِّ كَمَا شَهِدْتُ لَهُ وَ هُوَ الَّذِي يُفَسِّرُ لَكُمْ كُلَّ شَيْ‏ءٍ وَ هُوَ الَّذِي يُبْدِئُ فَضَائِحَ الْأُمَمِ وَ هُوَ الَّذِي يَكْسِرُ عَمُودَ الْكُفْرِ فَقَالَ الْجَاثَلِيقُ مَا ذَكَرْتَ شَيْئاً مِنَ الْإِنْجِيلِ‏ إِلَّا وَ نَحْنُ مُقِرُّونَ بِهِ فَقَالَ أَ تَجِدُ هَذَا فِي الْإِنْجِيلِ ثَابِتاً يَا جَاثَلِيقُ قَالَ نَعَمْ قَالَ الرِّضَا ع يَا جَاثَلِيقُ أَ لَا تُخْبِرُنِي عَنِ الْإِنْجِيلِ الْأَوَّلِ حِينَ افْتَقَدْتُمُوهُ عِنْدَ مَنْ وَجَدْتُمُوهُ وَ مَنْ وَضَعَ لَكُمْ هَذَا الْإِنْجِيلَ فَقَالَ لَهُ مَا افْتَقَدْنَا الْإِنْجِيلَ إِلَّا يَوْماً وَاحِداً حَتَّى وَجَدْنَاهُ غَضّاً طَرِيّاً فَأَخْرَجَهُ إِلَيْنَا يُوحَنَّا وَ مَتَّى فَقَالَ لَهُ الرِّضَا ع مَا أَقَلَّ مَعْرِفَتَكَ بِسُنَنِ‏ الْإِنْجِيلِ وَ عُلَمَائِهِ فَإِنْ كَانَ هَذَا كَمَا تَزْعُمُ فَلِمَ اخْتَلَفْتُمْ فِي الْإِنْجِيلِ وَ إِنَّمَا وَقَعَ الِاخْتِلَافُ فِي هَذَا الْإِنْجِيلِ الَّذِي فِي أَيَادِيكُمُ‏ الْيَوْمَ فَلَوْ كَانَ عَلَى الْعَهْدِ الْأَوَّلِ لَمْ تَخْتَلِفُوا فِيهِ وَ لَكِنِّي مُفِيدُكَ عِلْمَ ذَلِكَ اعْلَمْ أَنَّهُ لَمَّا افْتُقِدَ الْإِنْجِيلُ الْأَوَّلُ اجْتَمَعَتِ النَّصَارَى إِلَى عُلَمَائِهِمْ فَقَالُوا لَهُمْ قُتِلَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ع وَ افْتَقَدْنَا الْإِنْجِيلَ وَ أَنْتُمُ الْعُلَمَاءُ فَمَا عِنْدَكُمْ فَقَالَ لَهُمْ أَلُوقَا وَ مرقابوس‏ إِنَّ الْإِنْجِيلَ فِي صُدُورِنَا وَ نَحْنُ نُخْرِجُهُ إِلَيْكُمْ سِفْراً سِفْراً فِي كُلِّ أَحَدٍ فَلَا تَحْزَنُوا عَلَيْهِ وَ لَا تُخْلُوا الْكَنَائِسَ فَإِنَّا سَنَتْلُوهُ عَلَيْكُمْ فِي كُلِّ أَحَدٍ سِفْراً سِفْراً حَتَّى نَجْمَعَهُ كُلَّهُ فَقَعَدَ أَلُوقَا وَ مرقابوس وَ يُوحَنَّا وَ مَتَّى فَوَضَعُوا لَكُمْ هَذَا الْإِنْجِيلَ بَعْدَ مَا افْتَقَدْتُمُ الْإِنْجِيلَ الْأَوَّلَ وَ إِنَّمَا كَانَ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةُ تَلَامِيذَ تَلَامِيذِ الْأَوَّلِينَ أَ عَلِمْتَ ذَلِكَ فَقَالَ الْجَاثَلِيقُ أَمَّا هَذَا فَلَمْ أَعْلَمْهُ وَ قَدْ عَلِمْتُهُ الْآنَ وَ قَدْ بَانَ لِي‏ مِنْ فَضْلِ عِلْمِكَ بِالْإِنْجِيلِ وَ سَمِعْتُ أَشْيَاءَ مِمَّا عَلِمْتُهُ شَهِدَ قَلْبِي أَنَّهَا حَقٌّ فَاسْتَزَدْتُ‏ كَثِيراً مِنَ الْفَهْمِ فَقَالَ لَهُ الرِّضَا ع فَكَيْفَ شَهَادَةُ هَؤُلَاءِ عِنْدَكَ قَالَ جَائِزَةٌ هَؤُلَاءِ عُلَمَاءُ الْإِنْجِيلِ وَ كُلَّمَا شَهِدُوا بِهِ فَهُوَ حَقٌّ قَالَ الرِّضَا ع لِلْمَأْمُونِ وَ مَنْ حَضَرَهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَ مِنْ غَيْرِهِمْ اشْهَدُوا عَلَيْهِ قَالُوا قَدْ شَهِدْنَا ثُمَّ قَالَ ع لِلْجَاثَلِيقِ بِحَقِّ الِابْنِ وَ أُمِّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ مَتَّى قَالَ إِنَّ الْمَسِيحَ هُوَ ابْنُ دَاوُدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ يَهُوذَا بْنِ خضرون‏ فَقَالَ مرقابوس فِي نِسْبَةِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ع إِنَّهُ كَلِمَةُ اللَّهِ‏ أَحَلَّهَا فِي جَسَدِ الْآدَمِيِّ فَصَارَتْ إِنْسَاناً وَ قَالَ أَلُوقَا إِنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ع وَ أُمَّهُ كَانَا إِنْسَانَيْنِ مِنْ لَحْمٍ وَ دَمٍ فَدَخَلَ فِيهَا الرُّوحُ الْقُدُسُ ثُمَّ إِنَّكَ تَقُولُ مِنْ شَهَادَةِ عِيسَى عَلَى نَفْسِهِ حَقّاً أَقُولُ لَكُمْ يَا مَعْشَرَ الْحَوَارِيِّينَ إِنَّهُ لَا يَصْعَدُ إِلَى السَّمَاءِ إِلَّا مَنْ نَزَلَ مِنْهَا إِلَّا رَاكِبَ الْبَعِيرِ خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءِ فَإِنَّهُ يَصْعَدُ إِلَى السَّمَاءِ وَ يَنْزِلُ فَمَا تَقُولُ فِي هَذَا الْقَوْلِ قَالَ الْجَاثَلِيقُ هَذَا قَوْلُ عِيسَى لَا نُنْكِرُهُ قَالَ الرِّضَا ع فَمَا تَقُولُ فِي شَهَادَةِ أَلُوقَا وَ مرقابوس وَ مَتَّى عَلَى عِيسَى وَ مَا نَسَبُوهُ إِلَيْهِ قَالَ الْجَاثَلِيقُ كَذَبُوا عَلَى عِيسَى فَقَالَ الرِّضَا ع يَا قَوْمِ أَ لَيْسَ قَدْ زَكَّاهُمْ وَ شَهِدَ أَنَّهُمْ عُلَمَاءُ الْإِنْجِيلِ وَ قَوْلَهُمْ حَقٌّ فَقَالَ الْجَاثَلِيقُ‏ يَا عَالِمَ الْمُسْلِمِينَ أُحِبُّ أَنْ تُعْفِيَنِي مِنْ أَمْرِ هَؤُلَاءِ قَالَ الرِّضَا ع فَإِنَّا قَدْ فَعَلْنَا سَلْ يَا نَصْرَانِيُّ عَمَّا بَدَا لَكَ قَالَ الْجَاثَلِيقُ لِيَسْأَلْكَ غَيْرِي فَلَا وَ حَقِّ الْمَسِيحِ مَا ظَنَنْتُ أَنَّ فِي عُلَمَاءِ الْمُسْلِمِينَ مِثْلَك‏.[24]


مأمون نے جاثلیق کی طرف رخ کر کے کہا: اے جاثلیق، آپ، علىّ بن موسى بن جعفر ہیں میرے چچیرے بھائی اور اولاد فاطمہ، ہمارے نبی کی بیٹی اور علىّ بن ابى طالب، صلوات‌اللَّہ علیہم ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تم ان سے گفتگو کرو بحث کرو ان کے سامنے اپنی دلیلیں پیش کرو اور خود فیصلہ کرو۔

جاثلیق نے کہا: ائے امیر مؤمنین، میں اس سے بحث کیسے کر سکتا ہوں جو کسی ایسی کتاب سے استدلال کرے جس پر میں اعتقاد ہی نہیں رکھتا یا کسی ایسے پیغمبر کی باتوں سے استناد کرے جس کی نبوّت کو میں مانتا ہی نہیں؟ اس وقت امامؑ نے فرمایا: آئے عیسائی انسان، کیا اگر میں انجیل سے دلیل لاوں تو قبول کرو گے؟ جاثلیق نے کہا: جی بالکل کیا میں انجیل کی باتوں کا منکر ہو سکتا ہوں؟ خدا کی قسم وہ چاہے کتنی بھی کڑوی کیوں نہ ہو میں قبول کروں گا۔ امام نے فرمایا: اب تم کو جو پوچھنا ہو پوچھو تم کو جواب مل جائے گا۔جاثلیق نے سوال کیا: آپ حضرت عیسىٰ کی نبوّت اور ان پر نازل شدہ کتاب کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں؟ کیا آپ ان دونوں چیزوں کا انکار کرتے ہیں؟ امامؑ نے جواب دیا: میں حضرت عیسیٰ اور ان کی کتاب اور جو انھوں نے اپنی امّت کو بشارت دی ہے اور جن جن چیزوں پہ حواریون عیسیٰ ایمان رکھتے ہیں میں بھی ایمان رکھتا ہوں اور ہر وہ عیسیٰ جو نبوّت محمّد صلى اللَّہ علیہ و آلہ اور انکی کتاب پر ایمان نہیں رکھتا اور اس نے اپنی امّت کو انکی بشارت نہیں دی ہے اسکا انکاری ہوں۔ جاثلیق نے کہا: کیا ایسا نہیں کہ ہر حکم کے لئے دو گواہ کی ضرورت ہوتی ہے؟ امام نے فرمایا: کیوں نہیں۔ اس نے کہا: ان دو گواہوں کا تعارف کرائیے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ آپ کے ہم مذہب نہ ہوں اور عیسائی مذھب انکو مانتا ہو اور اسی طرح سے ہم سے بھی آپ گواہوں کا مطالبہ کریں۔ امامؑ نے فرمایا: تم نے انصاف کے تقاضوں کے تحت بات کی۔ کیا اس عادل شخص کو مانتے ہو جسکا مقام و مرتبہ حضرت مسیح کے نزدیک بلند تھا؟ جاثلیق نے کہا: یہ کون شخص ہے؟ انکا نام بتائیے۔امام نے فرمایا: یوحنّا دیلمی کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اس نے کہا: کیا کہنے انکا آپ نے عیسائیوں کے محبوب ترین شخص کا نام لیا ہے۔ امامؑ نے فرمایا: میں تمہیں قسم دیتا ہوں بتاو کیا انجیل میں یہ نہیں آیا ہے کہ یوحنّا نے کہا: مسیح نے مجھے دین محمد عربی سے آگاہ کیا ہے اور بشارت دی ہے کہ وہ ان کے بعد آئیں گے اور میں بھی حواریون کو یہ خّوش خبری سنائی اور وہ اس پر ایمان لے آئے۔ جاثلیق نے کہا: جی، یوحنّا نے حضرت مسیح سے اس طرح کی بات نقل کی ہے اور جس میں انھوں نے ایک کسی شخص کی نبوّت کے بارے میں اس طرح کی بشارت دی ہے اور انکے اہل بیت اور انکے وصیّ کے بارے میں بھی خوشخبری سنائی ہے لیکن انھوں نے یہ معیّن نہیں کیا ہے کہ واقعہ کب رونما ہوگا اور اس آنے والے کا بھی تعارف نہیں کرایا کہ ہم اس پر ایمان لا سکیں اور اس کو پہچان سکیں۔ امامؑ نے فرمایا: اگر کوئی انجیل پڑھنے والے کو یہاں بلایا جائے تا محمّد اور انکے اہل بیت اور انکی امّت سے متعلق باتوں کو تمہارے لئے پڑھے تو تم ایمان لاو گے؟ اس نے کہا: بالکل آپ نے بہت اچھی بات کہی۔ امامؑ نسطاس رومى سے فرمایا: انجیل کا سفر ثالث تمہیں کہاں تک حفظ ہے؟ اس نے کہا کہ مجھے وہ تمام و کمال حفظ ہے۔ پھر امام نے راس الجالوت کی طرف رخ کیا اور پوچھا: کیا تم انجیل پڑھی ہے؟ اس نے کہا: جی بالکل۔ امام نے فرمایا: میں سفر ثالث کو پڑھتا ہوں اگر اس میں محمّد انکی آل اور انکی امّت کے متعلق بات ہو تو گواہی دینا اور نہ ہو تو گواہی مت دینا۔ پھر امام نے سفر ثالث کو پڑھنا شروع کیا اور جب مورد بحث مطلب تک امام پہچے تو امام نے توقف کیا اور فرمایا: میں تمہیں مسیح اورانکے ماں کی حق کی قسم دیتا ہوں، کیا تم نے یہ جان لیا ہے کہ میں انجیل کا بھی عالم ہوں؟ اس نے جواب دیا: جی بالکل۔ پھر امام نے محمّد اور آل محمّد اور انکی امّت سے مربوط مسائل کی تلاوت کی اور فرمایا: اب کیا کہتے ہو؟ یہ حضرت مسیحؑ کی بعینہ گفتگو ہے۔ اگر تم نے انجیل کی باتوں کا انکار کیا تو گویا موسیٰ اور عیسیٰ علیہماالسلام کا انکار کیا اور اگر تم اس انکار تک پہچے تو تمہارا قتل واجب ہے؛ کیونکہ تم نے خدا و رسول اور اسکی کتاب کا انکار کردیا۔ جاثلیق کہتا ہے: کہ وہ جو انجیل سے میرے لئے واضح ہو میں اسکا انکار نہیں کر سکتا بلکہ میں اس پر ایمان کامل رکھتا ہوں۔ امام نے فرمایا: اس کے اقرار پہ گواہ رہنا۔ امام نے مزید فرمایا: تم کو جو پوچھنا ہو پوچھو؟ جاثلیق نے سوال کیا؟ حضرت عیسیٰ کے حوّاری اور علمائے انجیل کی تعداد کیا ہے؟ امامؑ نے فرمایا: تم نے اس سوال کے اہل سے سوال کیا۔ امام نے کہا جناب عیسیٰ کے حواریون کی تعداد بارہ تھی جن میں سب زیادہ عالم و فاضل، اَلوقا تھے۔ اور علمائے عیسائی کی تین لوگ تھے: یوحنّاى اکبر در اَج، یوحنّا قرقیسیا میں اور یوحنّای دیلمى رجّاز میں جن کے پاس وہ مطالب جو پیغمبر اسلام صلى اللَّہ علیہ و آلہ و سلّم اور انکے اہل ‌بیت اور انکی امّت سے متعلق تھے موجود تھا اور وہی تھے جنھوں نے امّت عیسى اور قوم بنى‌ اسرائیل کو حضرت محمّد کی نبوّت اور انکے اہل بیت اور امّت کی خوشخبری سنائی تھی۔

اس وقت آپ نے فرمایا: اے عیسائی، خدا کی قسم میں اس عیسیٰ کا ماننے والا ہوں جو محمّد صلى اللَّہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان رکھتا ہے ایمان اور «تمہارے عیسیٰ، پہ بھی مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے مگر یہ کہ وہ ضعیف و ناتوان تھے جسکی وجہ سے نماز و روزہ کے کم پابند تھے۔ جاثلیق کہتا ہے: خدا کی قسم آپ نے یہ بات کہ کے آپ نے اپنی کمزوری اور کم علمی کا اعلان کردیا۔ میں یہ سوچتا تھا کہ آپ مسلمانوں کے درمیان عالم ترین فرد ہوں گے۔ امامؑ نے فرمایا: مگر کیا ہوا؟ اس نے کہا: آپ فرما رہے ہیں کہ عیسیٰ ضعیف و ناتوں تھے نماز و روزہ کی پابندی نہیں کر پاتے تھے جبکہ عیسیٰ نے ایک دن بھی بغیر روزہ کے نہیں گذارا وہ ایک رات بھی نہیں سوئے وہ دن میں روزہ رکھتے تھے اور رات میں شب زندہ داری کرتے تھے۔ امام نے فرمایا: اگر ایسا ہے تو یہ بتاو کہ عیسیٰ کس کے تقرب کے لئے روزہ رکھتے تھے اور نمازیں پڑھتے تھے؟! جاثلیق امامؑ کا سوال سن کے خاموش ہوگیا۔ امامؑ نے فرمایا: میں ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں؟ جاثلیق نے کہا: جی پوچھئے، اگر مجھے جواب آتا ہوا تو میں ضرور جواب دوں گا۔ امام نے فرمایا: تم اس بات کے منکر کیوں ہو کہ عیسیٰ اذن الہی سے مردوں کو زندہ کرتے تھے؟ جاثلیق نے کہا: کیونکہ وہ جو مردوں کو زندہ کرے، نابینا کو بینا بناتا ہے اور کوڑھی کو شفا دیتا ہے وہ خدا ہوتا ہے اور وہی لائق عبادت ہے۔ امامؑ نے فرمایا: یسع بھی حضرت عیسیٰ کی طرح ان کارناموں کو انجام دیتے تھے: پانی پہ چلتے تھے، مردوں کو زندہ کرتے تھے، نابینا اور کوڑھ کے مرض میں مبتلا لوگوں کو شفا دیتے تھے، لیکن انکی امّت نے انکو خدا نہیں مانا اور کسی نے انکی پرستش نہیں کی۔ «حزقیل» نبی بھی حضرت عیسیٰ بن مریم کی طرح مردوں کو زندہ کرتے تھے، انھوں نے پینتیس 35 ہزار لوگوں کو ان کی موت کے ساٹھ سال بعد زندی کیا۔ اور اس وقت آپ نے راس الجالوت کی طرف متوجہ ہو کر کہا: کیا توریت میں جوانان بنی اسرائیل کے ایک گروہ کے متعلق یہ باتیں تم نے پڑھی ہیں؟ بخت‌‏ نَصَّر نے ان کو بنی اسرائیل کے قیدیوں کے درمیان سے جو بیت المقدس پہ حملہ کے وقت اسیر ہوئے تھے چنا اور بابل لے گیا۔ خداوند عالم نے اسکو انکی طرف بھیجا اور اس نے انکو زندہ کیا۔ یہ بات توریت میں ہے اور جو بھی تم میں سے اسکا انکار کرے وہ کافر ہے۔ راس الجالوت نے کہا: ہاں ہم نے یہ بات سنی ہے اور ہم اس سے باخبر ہیں۔ امامؑ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ اب غور سے سنو اور دیکھو میں توریت کا یہ سفر صحیح پڑھ رہا ہوں؟ پھر امامؑ نے توریت کی کچھ آیتوں کی تلاوت کی۔ یہودی امام کی تلاوت اور کی آواز پہ دائیں اور بائیں جھوم رہے تھے اور سخت متعجب تھے۔ امام جاثلیق کی طرف متوجہ ہوئے اور اس سے پوچھا؟ کیا یہ لوگ عیسیٰ سے پہلے تھے یا عیسیٰ ان سے پہلے تھے؟ اس نے جواب دیا: یہ لوگ عیسیٰ سے پہلے تھے۔ امام نے فرمایا: ایک بار قریش کے سارے ررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں آپ سے درخواست کی کہ وہ انکے مردوں کو زندہ کریں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام علی ابن ابی طالب علیہما السلام کو ان لوگوں کے ساتھ صحرا یا (قبرستان) کی طرف بھیجا اور فرمایا صحرا (قبرستان) میں جاو اور بلند آواز میں جن مردوں کو یہ لوگ زندہ کروانا چاہتے ہیں پکارو اور کہو: محمد خدا کے رسول نے کہا ہے: اذن الہی سے اٹھ کھڑے ہو۔ امام علیؑ نے وہی کیا جو کہا گیا تھا سب اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوئے اس عالم میں کہ اپنے سروں کی مٹّی جھاڑ رہے تھے قریش ان سے اپنے اپنے سوال کر رہے تھے اور اسی ضمن میں انھوں نے: محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم رسول خدا ہوگئے ہیں۔ قبروں سے اٹھنے والے مردوں نے جواب دیا: اے کاش ہم انھیں درک کرتے اور ان پر ایمان لاتے۔ رسول خدا بھی نابینا کو بینا کرتے تھے کوڑی اور دیوانوں کو شفا دیا کرتے تھے حیوانات، پرنگان اور جنّ شیاطین سے باتیں کرتے تھے لیکن ہم اپنے نبی کو خدا نہیں مانتے جبکہ ہم عیسیٰ حزقیل اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و علیہم اجمعین کی ان تمام فضیلتوں کا انکار بھی نہیں کرتے تم اگر عیسیٰ کو خدا مانتے ہو تو تمہیں یسع اور حزقیل کو بھی خدا ماننا چاہئے کی کیونکہ وہ بھی مردوں کو زندہ کرتے تھے اور عیسیٰؑ جیسے دوسرے معجزات رکھتے تھے۔ بنی اسرائیل کا ایک گروہ جن کی تعداد ہزار تھی، طاعون کے ڈر سے شہر سے باہر نکل گئی لیکن خدا نے ان سب کی جان ایک لمحہ میں لے لی۔ شہر کے رہنے والوں نے وہاں کی حدبندی کرکے انکے جنازوں کو وہیں پہ چھوڑ دیا اور انکی ہڈیاں تک بوسیدہ ہو گئیں۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک نبی کا وہاں سے گذر ہوا اس نے اس کثیر تعداد میں ہڈیوں کو دیکھ کے تعجب کیا۔ خداوند متعال نے اس پہ وحی کی کہ: کیا میں ان لوگوں کو تمہارے لئے زندہ کروں تا کہ تم انھیں آخرت سے ڈرا کے اپنے دین کی تبلیغ کرو؟ نبی نے کہا: ہاں۔ خداوند عالم نے وحی نازل کی کہ: ان لوگوں کو پکارو۔ اس نبی نے ویسا ہی کیا اور اس طرح آواز لگائی: اے بوسیدہ ہڈیوں، اذن الہی سے اٹھ کھڑے ہو۔ وہ سب کے سب زندہ ہو گئے مٹّی جھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اسی طرح سے ابراہیم خلیل اللہؑ نے جب پرندوں کو پکڑا اور انکی بوٹی بوٹی کی اور پہاڑوں پہ رکھ دیا اور پھر انھیں پکارا تو وہ سب زندہ ہو گئے۔ موسیٰ بن عمرانؑ نے بھی جن ستّر لوگوں کا انتخاب کیا تھا اور وہ سب انکے ساتھ پہاڑ پہ گئے تھے اور انھوں نے جناب موسیٰ سے سوال کیا: کیا آپ نے خدا کو دیکھا ہے، ہمیں بھی خدا کو دکھائیے۔ جناب موسیٰ نے جواب دیا: میں نے اسکو نہیں دیکھا، لیکن وہ لوگ اپنی بات پہ اڑ گئے اور انھوں نے کہا: «لَنْ نُؤْمِنَ لَک حَتَّى نَرَى اللَّہ جَہرَةً» (جب تک ہم خدا کو نہیں دیکھ لے گیں آپ پر ایمان نہیں لائیں گے (سورہ بقرہ، آیہ 55))۔ جس کے نتیجہ میں ایک بجلی نے انکو جلا کے رکھ دیا وہ نابود ہوگئے اور موسیٰ تنہا رہ گئے انھوں نے اللہ سے فریاد کی پروردگارا میں نے بنی اسرائیل سے ستّر لوگوں کا انتخاب کیا اور یہاں لے کے آیا اب جو میں تنہا جاوں گا تو میری قوم میری بات کیسے مانے گی کہ یہاں کیا حادثہ رونما ہوا؟ اگر تو چاہتا تو پہلے ہی مجھے اور ان سب کو پہلے ہی ہلاک ک ردیتا۔ کیا تو غیر عاقلانہ کاموں کی وجہ سے ہمیں ہلاک کر دے گا؟ (سورہ اعراف کی آیہ 155 کا مضمون)۔ خدا نے انکی موت کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کیا۔ اس کے بعد امامؑ نے فرمایا: ان تمام باتوں میں سے تم کسی ایک بات کا بھی انکار نہیں کر سکتے؛ کیونکہ یہ سب باتیں توریت، انجیل، زبور، اور قرآن کی آیتوں کا مضمون ہیں۔ اگر ایسا ہے کہ جو بھی مردوں کو زندہ کرے نابینا کوڑھی اور دیوانوں کو شفا دے خدا ہے تو ان لوگوں کو بھی خدا مانو۔ بتاو کیا کہتے ہو؟ جاثلیق نے کہا: بیشک آپ نے صحیح فرمایا کوئی معبود نہیں ہے سوائے اللہ کے۔ آپ، راس الجالوت کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: میں تمہیں ان دس آیتوں کی قسم دیتا ہوں جو موسی بن عمرانؑ پہ نازل ہوئیں تھی بتاو کہ کیا محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور انکی امّت کی خبر توریت میں نہیں ہے؟ (وہ خبر اس طرح سے ہے:) «اس زمانہ میں آخری امّت، اس شتر سوار کے پیروکار، آئیں گے اور خدا کی خوب خوب تسبیح کریں گے؛ نئے معبد وں میں میں ذکر۔ اس وقت، بنی اسرائیل ان کی طرف اور انکے سردار کی طرف دوڑ پڑیں تا کہ انکے دلوں کو اطمئنان حاصل ہو؛ کیونکہ وہ ہاتھوں میں تلواریں لے کے (محارب) کافروں سے انتقام لے رہے ہوں گے۔ کیا یہ بات توریت میں اسی طرح سے نہیں لکھی ہوئی ہے؟ راس الجالوت نے کہا: جی ہم نے توریت میں اسکو ایسے ہی دیکھا ہے۔ پھر امامؑ نے جاثلیق سے کہا تم «شعیا» کتاب سے کس حد تک واقف ہو؟ اس نے کہا: میں اسکا ایک ایک حرف جانتا ہوں۔ پھر امام نے ان دونوں سے کہا: کیا یہ مانتے ہو کہ یہ بات اس میں ہے«آئے لوگوں، میں نے اس درازگوش پہ بیٹھے شخص کی تصویر دیکھی ہے اس عالم میں کہ وہ لباس نورانی میں تھا اور اس شتر سوار کو دیکھا جو چاند کی طرح چمک رہا تھا؟» ان دونوں نے جواب دیا : جی شعیبا میں اس طرح کی بات ہے۔ امامؑ نے فرمایا: کیا انجیل میں حضرت عیسیٰؑ کی اس بات سے آگاہ ہو: «میں تمہارے اور اپنے رب کی طرف جا رہا ہوں اور فارقلیطا آئے گا» اور وہ ہے جو میرے نفع میں میرے حق کی گواہی دے گا جس طرح میں نے اسکے لئے گواہی دی ہے۔ اور وہی ہے جو تمہارے لئے ہر چیز کی تفسیر کرے گا اور وہی ہے جو امّتوں کی رسوائیاں انکے لئے آشکار کرے گا۔ وہ ہے جو خیمہ کفر کے ستون کو منھدم کرے گا۔ جاثلیق نے کہا: آپ جو بھی انجیل سے پڑھیں گے ہم اس کو مانتے ہیں۔ امامؑ نے فرمایا: کیا مانتے ہو کہ یہ بات انجیل میں موجود ہے؟ انھوں نے کہا: جی۔ امامؑ نے پھر فرمایا: جب تم نے انجیل اوّل کو کھو دیا تو اسکو کس کے پاس سے لیا کس نے یہ انجیل تمہارے لئے بنائی؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم نے صرف ایک دن انجیل کو کھویا اور اس کے بعد اسکو تروتازہ پا لیا۔ یوحنّا اور متّی نے اسکو ہمارے لئے مہیہ کیا۔ امامؑ نے فرمایا: تم انجیل اور اسکے علماء کی داستان سے ناواقف ہو؛ اگر ایسا ہی جو تم کہ رہے ہو تو پھر انجیل کے بارے میں تمہارے درمیان اتنا شدید اختلاف کیوں ہے؟ یہ اختلافات اسی انجیل کے بارے میں جو ابھی تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اگر روز اوّل کی طرح یہ انجیل ہوتی تو اس کے بارے میں تم اختلاف کا شکار نہ ہوتے۔ میں تمہیں بتاتا ہوں اور یہ واضح کرتا ہوں: جب انجیل اوّل گم ہوئی، عیسائی اپنے علماء کے پاس گئے اور انھوں نے کہا: عیسیٰ بن مریم قتل کر دیئے گئے اور ہم نے انجیل بھی گم کر دی ہے۔ آپ علماء کے پاس کیا ہے؟ الوقا اور مرقابوس نے کہا: ہمیں انجیل یاد ہے اور ہم ہر اتوار کو اس کا ایک سفر تمہارے لئے لائیں گے۔ رنجیدہ نہ ہو اور کلیسا کو نہ چھوڑو۔ ہم ہر اتوار انجیل سے ایک سفر تمہارے لئے پڑھا کریں گے تا کہ پوری انجیل جمع ہوجائے۔ اس کے بعد الوقا، مرقابوس، یوحنّا اور متی بیٹھے اور انھوں نے تمہاری گم شدہ انجیل کو دوبارہ لکھوایا اور یہ چار لوگ سب سے پہلے شاگرد ہیں۔ کیا تم یہ بات جانتے تھے؟ جاثلیق نے کہا: میں یہ بات نہیں جانتا تھا آپ کی برکت سے یہ بات میرے لئے روشن ہوگئی یہ بات ہم نے آپ سے سنی ہے۔ ہمارا دل یہ گواہی دیتا ہے کہ یہ باتیں حق ہیں۔ ہم نے آپ کی باتوں سے بہت فیض اٹھایا۔ امامؑ نے فرمایا: تمہارے عقیدہ میں انکی گواہی کیسی ہے؟ اس نے کہا: ان کی گواہی پورے طور پر قابل قبول ہے۔ یہ انجیل کے علماء ہیں جسکی یہ تائید کر دیں یا جسکی یہ گواہی دے دیں وہ حق ہے۔ امامؑ نے مامون سے اسکے گھر والوں اور وہاں حاضر تمام لوگوں سے کہا: تم سب گواہ رہنا۔ انھوں نے کہا: ہم گواہ ہیں۔ پھر امامؑ نے جاثلیق سے کہا: تمہیں بیٹے عیسیٰؑ اور انکی ماں مریم علیہا السلام کے حق کی قسم، کیا تمہیں معلوم ہے کہ متّی نے کہا ہے کہ: مسیح، داود بن ابراہیم بن اسحاق بن یعقوب بن یہوذا بن خضرون کے بیٹے ہیں اور مرقابوس نے عیسیٰؑ کے حسب و نسب کے بارے میں کہا ہے: وہ «کلمہ» خدا ہیں خدا نے انکو جسد انسانی میں قرار دیا اور انسانی صورت عطا کی۔ والوقا نے کہا ہے: عیسیٰ بن مریم علیہماالسّلام اور انکی ماں خون و گوشت سے مرکب وہ انسان تھے جسمیں روح القدس نے حلول کیا تھا۔ جب کہ تم یہ بھی مانتے ہو کہ حضرت عیسیٰ نے اپنے بارے میں فرمایا: «اے حواریون، میں تمہیں حق و صداقت کے ساتھ بتاتا ہوں کہ: کوئی بھی آسمان پہ نہیں جا سکتا مگر یہ وہ آسمان سے آیا ہو مگر وہ شتر سوار، خاتم الانبیاء کہ وہ آسمان پہ جائیں گے بھی اور آئیں گے بھی۔» اس بارے میں تمہاری کیا نظر ہے؟ جاثلیق نے کہا: یہ حضرت عیسیٰ کی بات ہے اور ہم اس سے انکاری نہیں ہو سکتے۔ امامؑ نے فرمایا: تمہاری رائے حضرت عیسیٰ کے اصل و نسب کے بارے میں، الوقا، مرقابوس اور متّی کی گواہی کے سلسلہ میں کیا ہے؟ جاثلیق نے کہا: انھوں نے عیسیٰ پہ بہتان باندھا ہے۔ امامؑ نے وہاں حاضر لوگوں سے کہا: کیا ابھی اس نے ان لوگوں کی صداقت کی تائید نہیں کی تھی اس نے نہیں کہا تھا کہ یہ انجیل کے علماء ہیں اور انکی باتیں صحیح اور حق ہیں؟ جاثلیق نے کہا: اے مسلمانوں کے عالم، آپ مجھے ان چار لوگوں کے متعلق معاف فرمائیں۔ امامؑ نے فرمایا: ٹھیک ہے میں نے معاف کیا۔ اب تم کو جو پوچھنا ہو پوچھ لو۔ جاثلیق نے کہا: اب بہتر ہوگا کہ میں کوئی سوال نہ کروں۔ میں نے یہ سونچا بھی نہیں تھا کہ مسلمانوں کے درمیان کوئی آپ جیسا عالم موجود ہوگا۔[25]

حوالہ جات

  1. شیخ صدوق، توحید، 1398ھ۔ ص417-441؛ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، 1378ھ۔ ج1، ص154-175۔
  2. شیخ صدوق، توحید، 1398ھ۔ ص417-418؛ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، 1378ھ۔ ج1، ص154-155۔
  3. شیخ صدوق، توحید، 1398ھ۔ ص419؛ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، 1378ھ۔ ج1، ص155۔
  4. شیخ صدوق، توحید، 1398ھ۔ ص417-441؛ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، 1378ھ۔ ج1، ص154-175۔
  5. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، 1378ھ۔ ج1، ص156۔
  6. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، 1378ھ۔ ج1، ص157-163۔
  7. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، 1378ھ۔ ج1، ص158۔
  8. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، 1378ھ۔ ج1، ص162-163۔
  9. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، 1378ھ۔ ج1، ص157۔
  10. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، 1378ھ۔ ج1، ص162۔
  11. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، 1378ھ۔ ج1، ص159۔
  12. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، 1378ھ۔ ج1، ص159۔
  13. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، 1378ھ۔ ج1، ص159۔
  14. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، 1378ھ۔ ج1، ص159؛ شیخ صدوق، توحید، 1398ھ۔ ص421۔
  15. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، 1378ھ۔ ج1، ص163-164؛ شیخ صدوق، توحید، 1398ھ۔ ص426-427۔
  16. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، 1378ھ۔ ج1، ص164؛ شیخ صدوق، توحید، 1398ھ۔ ص427۔
  17. شیخ صدوق، توحید، 1398ھ۔ ص417-441۔
  18. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، 1378ھ۔ ج1، ص154-175۔
  19. طبرسی، الاحتجاج، 1403ھ۔ ج2، ص415-425۔
  20. مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ۔ ج10، ص299-318۔
  21. خسرویان، «بررسی و تحلیل سند مناظرات امام رضاؑ در عراق و خراسان»، ص112-113، 116-125۔
  22. خسرویان، «بررسی و تحلیل سند مناظرات امام رضاؑ در عراق و خراسان»، ص126۔
  23. خسرویان، «بررسی و تحلیل سند مناظرات امام رضاؑ در عراق و خراسان»، ص126۔
  24. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، 1378ھ۔ ج1، ص156-164۔
  25. شیخ صدوق، ترجمہ عیون اخبار الرضا، 1372ش، ص317-332۔

متعلقہ مضامین

مآخذ

  • خسرویان قلہ‌زو، جعفر، «بررسی و تحلیل سند مناظرات امام رضاؑ در عراق و خراسان»، در پژوہش‌ہای قرآن و حدیث، شمارہ 1، 1397ش۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، التوحید، تحقیق و تصحیح ہاشم حسینی، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، چاپ اول، 1398ھ۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، ترجمہ عیون اخبار الرضا‏، ترجمہ علی‌ اکبر غفاری و حمید رضا مستفید، تہران، نشر صدوق، چاپ اول، 1372ش۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، عیون اخبار الرضا، تحقیق و تصحیح مہدی لاجوردی، تہران، نشر جہان، چاپ اول، 1378ش۔
  • طبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج علی اہل اللجاج، تحقیق و تصحیح محمدباقر خرسان، مشہد، نشر مرتضی، چاپ اول، 1403ھ۔
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار الجامعة لدرر اخبار الائمة الاطہار، بیروت، دار احیاء‌ التراث العربی، چاپ دوم، 1403ھ۔