رضا (لقب)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

رضا، امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کا مشہور ترین لقب ہے۔[1] جو محبوب (الہی) کے معنی میں ہے۔ [2]

آٹھویں امام کے لقب 'رضا' کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب علی بن موسی (علیہ السلام) نے ولایت‌ عہدی کا عہدہ قبول کیا تو مأمون عباسی نے آپ کو «رضا» کا لقب دیا۔[3] اور آپ کو «رضائے آل محمد» کے نام سے یاد کیا۔[4] لیکن کتاب عیون اخبار الرضا میں روایت بیان ہوئی ہے کہ احمد بن ابی نصر بزنطی نے امام محمد تقی علیہ السلام سے سؤال کیا کہ آپ کے بعض مخالفین کہتے ہیں کہ مأمون نےآپ کے والد کو رضا کا لقب دیا ہے، چونکہ وہ مامون کی ولایت‌ عہدی پر راضی تھے۔ امام جواد (علیہ السلام) نے اس کے جواب میں فرمایا: خدا کی قسم انھوں نے جھوٹ کہا ہے اور ایک برے کام کے مرتکب ہوے ہیں، کیونکہ خدا نے علی بن موسی (علیہ السلام) کو رضا کانام دیا ہے اس لئے کہ وہ آسمان میں خدا کی رضایت کے لائق تھے اور زمین پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور دوسرے اماموں کی رضا تھے۔[5] روایت میں آگے بیان ہوا ہے کہ بزنطی نے امام سے پوچھا کہ کیا آپ کے تمام اجداد سابق (ائمہ معصومین) خدا وند عالم، پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ و ائمہ (علیہ السلام) کی رضایت نہیں رکھتے تھے؟ پھر کیسے ان کے درمیان میں سے صرف آپ کے ہی والد کو «رضا» کا نام دیا گیا ہے؟ امام (علیہ السلام) نے فرمایا: اس لئے کہ میرے والد سے دوستوں اور چاہنے والوں کی طرح ان کے دشمن اور مخالفین بھی راضی تھے اور ان کے آباء و اجداد میں سے کوئی اس طرح سے نہیں تھا۔ اسی وجہ سے ان کے درمیان میں سے صرف میرے والد کو رضا کا لقب دیا گیا ہے۔[6]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. امین، اعیان الشیعہ، ۱۴۰۳ھ ، ج۲، ص۱۳۔
  2. ابن‌ منظور، لسان العرب، ۱۴۱۳ھ ، ج۵، ص۲۳۶۔
  3. مجلسی، بحار الانوار، ۱۳۶۳ہجری شمسی ج۴۹، ص۱۴۶۔
  4. سبط بن جوزی، تذکرۃ الخواص، ۱۴۱۸ھ ، ص۳۱۵۔
  5. صدوق، عیون اخبار الرضا، ۱۳۷۸ھ ، ج۱، ص۱۳۔
  6. عطاردی، مسند الامام الرضا (ع)، ۱۴۰۶ھ ، ص۱۰۔


مآخذ

  • ابن‌ منظور، لسان العرب، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۱۳ھ۔
  • امین عاملی، سید محسن، اعیان الشیعۃ، بیروت،‌ دار التعارف، ۱۴۰۳ھ۔
  • سبط بن جوزی، یوسف بن قزاوغلی، تذکرۃ الخواص من الأمّۃ فی ذکر خصائص الأئمۃ، قم، منشورات الشریف الرضی، ۱۴۱۸ھ۔
  • صدوق ، محد بن علی، عیون اخبار الرضا، تہران، نشر جہان، ۱۳۷۸ھ۔
  • عطاردی، عزیزاللہ، مسند الامام الرضا، مشہد، آستان قدس رضوی، ۱۴۰۶ھ۔
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، تہران، اسلامیہ، ۱۳۶۳ ہجری شمسی۔