توحید پر امام رضا کا مناظرہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
توحید پر امام رضا علیہ السلام کا مناظرہ
عمومی معلومات
فریق اول: امام رضا ؑ
فریق دوم: ایک زندیق
موضوع: توحید
شیعہ منابع: الکافی، توحید، عیون اخبار الرضا، الاحتجاج و بحار الانوار
نتیجہ: زندیق کا مسلمان ہو جانا
مشہور مناظرے
عیسائی اسقف سے امام محمد باقر کا مناظرہحسن بصری کے ساتھ امام باقر کا مناظرہابوقرۃ کے ساتھ امام رضا کا مناظرہامام رضا کا جاثلیق سے مناظرہامام رضا کا رأس الجالوت سے مناظرہسلیمان مروزی سے امام رضا کا مناظرہامام رضا کا عمران صابی سے مناظرهتوحید پر امام رضا کا مناظرہ

توحید پر امام رضا علیہ السلام کا مناظرہ سے مراد وہ حدیث ہے جس میں امام رضا ؑ ایک ایسے شخص سے وجود خدا کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں جو خدا کا منکر ہے۔ اس حدیث میں آپ وجود خدا پر تین استدلال پیش کرتے ہیں اور خدا کا انکار کرنے والے شخص کے اعتراضات کے جواب دیتے ہیں۔

اس حدیث کا متن، احادیث کی شیعہ قدیمی کتب جیسے الکافی، تالیف کلینی (متوفی سنہ 329ھ) اور توحید و عیون اخبار الرضا، تالیف شیخ صدوق (305-381ھ) میں آیا ہے۔ احمد طَبْرسی (چھٹی صدی ہجری میں با حیات) نے بھی احتجاج میں اس روایت کو نقل کیا ہے۔

مناظرہ کا مختصر بیان

مناظرہ توحید میں امام رضا ؑ نے ایک ایسے شخص سے بحث کی ہے جو خدا کے وجود کا منکر ہے۔[1] آغاز گفتگو میں امام رضا نے وجود خدا کے عقیدے کے عاقلانہ ہونے پر استدلال کیا ہے۔ منکر خدا اس کے جواب میں کچھ نہیں کہتا اور وجود خدا کے بارے میں مختلف اعتراضات کرنے لگتا ہے۔ امام رضا اس کے اعتراضات کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ وجود خدا پر دو استدلال مزید بیان کرتے ہیں۔[2] حدیث کے راوی کے بیان کے مطابق، مناظرے کے آخر میں یہ شخص وجود خدا پر ایمان لے آتا ہے۔[3]

وجود خدا کے سلسلہ میں امام رضا ؑ کا استدلال

اس مناظرہ میں امام رضا ؑ نے تین استدلال کئے ہیں: ایک تو بحث کے شروع میں اور مزید دو استدلال ہیں جو منکر خدا کے سوال و جواب کے درمیان پیش ہوئے ہیں۔یہ تینوں استدلال اس طرح سے ہیں:

  • اگر کوئی خدا نہ ہو تو موت کے بعد کفار اور مؤمنین برابر ہوں گے۔ لیکن اگر خدا کا وجود ہو تو کفار جہنم میں جائیں گے اور مومنین جنت میں جائیں گے۔[4]
  • ہم اسے باقاعدہ محسوس کر سکتے ہیں کہ ہم اپنے جسم میں سے نہ کوئی چیز کم کر سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی چیز اس میں بڑھا سکتے ہیں۔ اسی طرح ہم پر خوشی یا غم طاری ہوتا ہے جس کو نہ ہم دور کر سکتے ہیں اور نہ ہی اسے حاصل کر سکتے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے جسم کا کوئی خالق ہے۔[5]
  • آسمانوں کی گردش، ہواؤں اور بادلوں کی پیدائش اور چاند سورج اور ستاروں کی حرکت اور دیگر عجیب و غریب نشانیاں اس بات پر دلیل ہیں کہ کوئی نہ کوئی ہے جس نے انہیں خلق کیا ہے۔[6]

منکر خدا کے اعتراضات اور امام کے جوابات

توحید پر امام رضا ؑ کے مناظرہ میں وجود خدا کے منکر نے امام رضا ؑ کے ہر استدلال کے بعد کچھ اعتراضات و اشکالات پیش کئے ہیں اور امام نے ہر ایک کا الگ الگ جواب دیا ہے۔ مثلا وہ پوچھتا ہے کہ اگر خدا ہے تو اس کی کیفیت کیا ہے؟ خدا کہاں ہے؟وہ کب سے تھا؟ اگر موجود ہے تو دکھائی کیوں نہیں دیتا؟ اسی طرح وہ اشکال کرتا ہے کہ اگر خدا سمیع و بصیر ہے تو اس کے کان اور آنکھیں ہونا چاہییں۔[7]

امام اس کا جواب دیتے ہیں کہ اللہ کیفیت اور مکان کا خالق ہے تو کیفیت یا مکان اس کے وجود کے بارے میں کیسے تصور کئے جا سکتے ہیں۔ لہذا وہ کسی بھی مکان میں نہیں ہے اور اس کے لئے کیفیت کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح کوئی ایسا زمانہ نہیں جب وہ نہ رہا ہو۔ لہذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ خدا کس زمانے میں وجود میں آیا۔ اللہ کے قابل دید نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اولا اس وجہ سے تاکہ خالق و مخلوق میں کوئی فرق رہے اور دوسرے یہ کہ اللہ اس سے بالاتر ہے کہ آنکھوں سے دیکھا جا سکے یا عقل و خیال سے سمجھا جا سکے۔[8]

اللہ کا سمیع و بصیر ہونا بھی مخلوقات کے دیکھنے اور سننے کی طرح نہیں ہے جس کے لئے کان یا آنکھوں کی ضرورت ہو؛ بلکہ اللہ کو اس وجہ سے سننے والا کہا جاتا ہے کہ وہ آسمان و زمین کی ہر چھوٹی بڑی آواز کو سنتا ہے۔ اسی طرح اس وجہ سے اس کو دیکھنے والا کہتے ہیں کیونکہ وہ ہر چیز کو دیکھتا ہے؛ یہاں تک کہ اندھیری رات میں کالے پتھر پر کالی چیونٹی کے پیروں کے نشانات کو بھی۔[9]

مناظرہ کے مآخذ

توحید پر امام رضا ؑ کے مناظرہ کو قدیم شیعہ محدثین منجملہ کلینی (متوفی سنہ 329ھ) نے الکافی میں[10] اور شیخ صدوق (305-381ھ) نے توحید اور[11] عیون اخبار الرضا میں[12] بیان کیا ہے۔ یہ روایت، کتاب احتجاج تالیف احمد طَبْرسی (چھٹی صدی ہجری میں با حیات) میں بھی ذکر ہوئی ہے۔[13] کلینی کی روایت دوسروں سے چھوٹی ہے اور ان سے تقریبا آدھی ہے۔ یہ حدیث بحارالانوار میں بھی عیون اخبار الرضا اور توحید شیخ صدوق سے نقل ہوئی ہے۔[14]

حدیث کا متن اور ترجمہ

متن ترجمہ
دَخَلَ رَجُلٌ مِنَ الزَّنَادِقَةِ عَلَى الرِّضَا ع وَ عِنْدَه جَمَاعَةٌ فَقَالَ لَه أَبُو الْحَسَنِ ع أَ رَأَيْتَ‏ إِنْ كَانَ الْقَوْلُ قَوْلَكُمْ وَ لَيْسَ‏ هوَ كَمَا تَقُولُونَ أَ لَسْنَا وَ إِيَّاكُمْ شرع سواه [شَرَعاً سَوَاءً] وَ لَا يَضُرُّنَا مَا صَلَّيْنَا وَ صُمْنَا وَ زَكَّيْنَا وَ أَقْرَرْنَا فَسَكَتَ فَقَالَ أَبُو الْحَسَنِ ع وَ إِنْ يَكُنِ الْقَوْلُ قَوْلَنَا وَ هوَ قَوْلُنَا وَ كَمَا نَقُولُ أَ لَسْتُمْ قَدْ هلَكْتُمْ وَ نَجَوْنَا قَالَ رَحِمَكَ اللَّه فَأَوْجِدْنِي كَيْفَ هوَ وَ أَيْنَ هوَ قَالَ وَيْلَكَ إِنَّ الَّذِي ذَهبْتَ إِلَيْه غَلَطٌ وَ هوَ أَيَّنَ الْأَيْنَ‏ وَ كَانَ وَ لَا أَيْنَ وَ كَيَّفَ‏ الْكَيْفَ وَ كَانَ‏ وَ لَا كَيْفَ فَلَا يُعْرَفُ بِكَيْفُوفِيَّةٍ وَ لَا بِأَيْنُونِيَّةٍ وَ لَا يُدْرَكُ بِحَاسَّةٍ وَ لَا يُقَاسُ بِشَيْ‏ءٍ قَالَ الرَّجُلُ فَإِذاً إِنَّه‏ لَا شَيْ‏ءَ إِذَا لَمْ يُدْرَكْ بِحَاسَّةٍ مِنَ الْحَوَاسِّ

فَقَالَ أَبُو الْحَسَنِ ع وَيْلَكَ لَمَّا عَجَزَتْ حَوَاسُّكَ عَنْ إِدْرَاكِه أَنْكَرْتَ رُبُوبِيَّتَه وَ نَحْنُ إِذَا عَجَزَتْ‏ حَوَاسُّنَا عَنْ إِدْرَاكِه أَيْقَنَّا أَنَّه رَبُّنَا وَ أَنَّه شَيْ‏ءٌ بِخِلَافِ‏ الْأَشْيَاءِ

قَالَ الرَّجُلُ فَأَخْبِرْنِي مَتَى كَانَ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ ع أَخْبِرْنِي مَتَى لَمْ يَكُنْ فَأُخْبِرَكَ مَتَى كَانَ قَالَ الرَّجُلُ فَمَا الدَّلِيلُ عَلَيْه قَالَ أَبُو الْحَسَنِ إِنِّي لَمَّا نَظَرْتُ إِلَى جَسَدِي فَلَمْ يُمْكِنِّي‏ زِيَادَةٌ وَ لَا نُقْصَانٌ فِي الْعَرْضِ وَ طَوْلٍ وَ دَفْعُ الْمَكَارِه عَنْه وَ جَرُّ الْمَنْفَعَةِ إِلَيْه عَلِمْتُ أَنَّ لِهذَا الْبُنْيَانِ بَانِياً فَأَقْرَرْتُ بِه مَعَ مَا أَرَى مِنْ دَوَرَانِ الْفَلَكِ بِقُدْرَتِه وَ إِنْشَاءِ السَّحَابِ وَ تَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَ مَجْرَى الشَّمْسِ وَ الْقَمَرِ وَ النُّجُومِ وَ غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْآيَاتِ الْعَجِيبَاتِ الْمُتْقَنَاتِ عَلِمْتُ أَنَّ لِهذَا مُقَدِّراً وَ مُنْشِئاً

قَالَ الرَّجُلُ فَلِمَ احْتَجَبَ فَقَالَ أَبُو الْحَسَنِ إِنَّ الْحِجَابَ عَلَى الْخَلْقِ لِكَثْرَةِ ذُنُوبِهمْ فَأَمَّا هوَ فَلَا يَخْفَى عَلَيْه خَافِيَةٌ فِي آنَاءِ اللَّيْلِ وَ النَّهارِ قَالَ فَلِمَ لَا يُدْرِكُه حَاسَّةُ الْأَبْصَارِ قَالَ لِلْفَرْقِ بَيْنَه وَ بَيْنَ خَلْقِه الَّذِينَ تُدْرِكُهمْ حَاسَّةُ الْأَبْصَارِ مِنْهمْ وَ مِنْ غَيْرِهمْ ثُمَّ هوَ أَجَلُّ مِنْ أَنْ يُدْرِكَه بَصَرٌ أَوْ يُحِيطَه وَهمٌ أَوْ يَضْبِطَه عَقْلٌ

قَالَ فَحُدَّه لِي قَالَ لَا حَدَّ لَه قَالَ وَ لِمَ قَالَ لِأَنَّ كُلَّ مَحْدُودٍ مُتَنَاه إِلَى حَدٍّ وَ إِذَا احْتَمَلَ التَّحْدِيدَ احْتَمَلَ الزِّيَادَةَ وَ إِذَا احْتَمَلَ الزِّيَادَةَ احْتَمَلَ النُّقْصَانَ فَهوَ غَيْرُ مَحْدُودٍ وَ لَا مُتَزَائِدٍ وَ لَا مُتَنَاقِصٍ وَ لَا مُتَجَزِّئٍ وَ لَا مُتَوَهمٍ

قَالَ الرَّجُلُ فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِكُمْ إِنَّه لَطِيفٌ وَ سَمِيعٌ وَ حَكِيمٌ وَ بَصِيرٌ وَ عَلِيمٌ أَ يَكُونُ السَّمِيعُ‏ إِلَّا بِأُذُنٍ وَ الْبَصِيرُ إِلَّا بِالْعَيْنِ وَ اللَّطِيفُ‏ إِلَّا بِالْعَمَلِ بِالْيَدَيْنِ وَ الْحَكِيمُ إِلَّا بِالصَّنْعَةِ

فَقَالَ أَبُو الْحَسَنِ ع إِنَّ اللَّطِيفَ مِنَّا عَلَى حَدِّ اتِّخَاذِ الصَّنْعَةِ أَ وَ مَا رَأَيْتَ الرَّجُلَ يَتَّخِذُ شَيْئاً يَلْطُفُ‏ فِي اتِّخَاذِه فَيُقَالُ مَا أَلْطَفَ فُلَاناً فَكَيْفَ لَا يُقَالُ لِلْخَالِقِ الْجَلِيلِ لَطِيفٌ إِذْ خَلَقَ خَلْقاً لَطِيفاً وَ جَلِيلًا وَ رَكَّبَ فِي الْحَيَوَانِ مِنْه أَرْوَاحَها وَ خَلَقَ كُلَّ جِنْسٍ مُتَبَايِناً مِنْ جِنْسِه فِي الصُّورَةِ لَا يُشْبِه بَعْضُه بَعْضاً فَكُلٌّ لَه لُطْفٌ‏ مِنَ الْخَالِقِ اللَّطِيفِ الْخَبِيرِ فِي تَرْكِيبِ صُورَتِه ثُمَّ نَظَرْنَا إِلَى‏ ‌الْأَشْجَارِ وَ حَمْلِها أَطَائِبَها الْمَأْكُولَةَ فَقُلْنَا عِنْدَ ذَلِكَ إِنَّ خَالِقَنَا لَطِيفٌ لَا كَلُطْفِ خَلْقِه فِي صَنْعَتِهمْ

وَ قُلْنَا إِنَّه سَمِيعٌ لَا يَخْفَى عَلَيْه أَصْوَاتُ خَلْقِه مَا بَيْنَ الْعَرْشِ إِلَى الثَّرَى مِنَ الذَّرَّةِ إِلَى أَكْبَرَ مِنْها فِي بَرِّها وَ بَحْرِها وَ لَا يَشْتَبِه عَلَيْه لُغَاتُها فَقُلْنَا عِنْدَ ذَلِكَ إِنَّه سَمِيعٌ لَا بِأُذُنٍ وَ قُلْنَا إِنَّه بَصِيرٌ لَا بِبَصَرٍ لِأَنَّه يَرَى أَثَرَ الذَّرَّةِ السَّحْمَاءِ فِي اللَّيْلَةِ الظَّلْمَاءِ عَلَى الصَّخْرَةِ السَّوْدَاءِ وَ يَرَى دَبِيبَ النَّمْلِ‏ فِي اللَّيْلَةِ الدُّجُنَّةِ وَ يَرَى مَضَارَّها وَ مَنَافِعَها وَ أَثَرَ سِفَادِها وَ فِرَاخَها وَ نَسْلَها فَقُلْنَا عِنْدَ ذَلِكَ إِنَّه بَصِيرٌ لَا كَبَصَرِ خَلْقِه قَالَ فَمَا بَرِحَ‏ حَتَّى أَسْلَمَ وَ فِيه كَلَامٌ غَيْرُ هذَا۔[15]


امام رضاؑ کے پاس ایک زندیق آیا، جبکہ آپ کے پاس کچھ لوگ پہلے سے موجود تھے۔آپ نے زندیق سے کہا کہ کیا تم نے کبھی غور کیا کہ اگر بالفرض تم لوگوں کی یہ غلط بات صحیح ہو کہ نہ کوئی جنت ہے نہ جہنم، تو ہم اور آپ برابر ہیں اور یہ نماز، روزہ اور زکات نیز دیگر ہمارے ایمان و اقرار ہمارے لئے اگر کوئی فائدہ نہ رکھتے ہوں تو نقصان دہ بھی نہیں ہوں گے۔ اس دہریہ نے خاموشی اختیار کی۔ آپ نے کہا (لیکن) اگر ہماری بات صحیح ہو کہ اللہ اور جنت و جہنم کا وجود ہے، جیساکہ درست بھی یہی ہے تو کیا ایسا نہیں ہوگا کہ آپ ہلاک ہو جائیں گے اور ہم نجات پا جائیں گے؟ (تو پھر آپ ہمارے قول کے قائل کیوں نہیں ہوتے ہیں۔) اس نے کہا رحمک اللہ آپ مجھے بتائیے کہ خدا کیسا ہے اور کہاں ہے؟ آپ نے کہا وائے ہو تم پر۔ یہ سوچنا ہی غلط اور باطل ہے۔ ہمارا پروردگار تو ہر جگہ کا خالق ہے تو وہ اس وقت بھی تھا جب کوئی جگہ نہیں تھی اور وہ ہر کیفیت کا خالق ہے لہذا اس کے وجود کی کوئی کیفیت نہیں ہے۔ تو وہ کہاں اور کیفیت کے ذریعہ نہیں پہچانا جا سکتا اور حواس پنجگانہ سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اور اس پر کسی چیز کا قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ اس شخص نے کہا کونسی چیز حواس پنجگانہ سے درک نہیں کی جا سکتی۔

آپ نے فرمایا وائے ہو تجھ پر! تیرے حواس پنجگانہ یعنی آنکھ، کان، ناک، زبان اور ہاتھ پر اس کو دیکھنے، سننے، سونگھنے، چکھنے اور چھونے سے عاجز ہیں اور اس کا ادراک نہیں کر سکتے ہیں اس لئے تو خدا کا انکار کر رہا ہے۔ اور ہمارے حواس پنجگانہ کیونکہ اس کا ادراک نہیں کر سکتے ہمیں اسی لئے یقین ہو گیا ہے کہ وہ ہمارا پروردگار ہے اور یہ کہ وہ ان سب چیزوں سے الگ کوئی وجود رکھتا ہے۔

دہریہ نے کہا تو مجھے بتائیے کہ آپ کا خدا کس زمانے میں تھا؟ آپ نے فرمایا تم ہمیں بتاؤ کہ وہ کب نہیں تھا تاکہ میں بتاؤں کہ وہ کس زمانے میں تھا۔ دہریہ نے کہا تو پھر آپ اس کے وجود کی دلیل بیان فرمائیں۔ آپ نے کہا کہ میں اپنے بدن کو دیکھتا ہوں کہ میرے لئے ممکن نہیں ہے کہ اس کی لمبائی یا چوڑائی میں کچھ کمی زیادتی کروں اور میرے لئے ممکن نہیں ہے کہ اپنے بدن سے پریشانیوں اور غموں کو دور کروں اور اس کے لئے فائدہ مند چیزوں یعنی اس کی بہتری کو حاصل کروں لہذا مجھے پتہ چلتا ہے کہ اس عمارت کے لئے کوئی خالق ہے اور کوئی ہے جس نے بدن کے اس ڈھانچہ کو بنایا ہے۔ لہذا میں نے اس کا اقرار کیا کہ میں اس چرخ کہن کو دیکھتا ہوں جو اسی کی قدرت سے مسلسل گردش کر رہا ہے، اسی طرح آسمان میں بادلوں کو پیدا کرنا، مختلف ہواؤں کا چلنا، سورج چاند ستاروں کا سفر جاری رہنا وغیرہ یہ سب عجیب و غریب اور مضبوط علامتیں ہیں۔ لہذا مجھے معلوم ہوا کہ کوئی ہے جس نے انہیں خاص اندازے میں خلق کیا ہے۔

دہریہ نے کہا تو پھر یہ خدا ہم سے پوشیدہ کیوں ہے؟ آپ نے کہا مخلوقات کے اوپر جو حجاب ہے وہ تو ان کے بہت سے گناہوں کی وجہ سے ہے۔ لیکن خدا کے اوپر دن رات کے کسی بھی وقت کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ اس نے کہا تو ہماری آنکھیں اسے کیوں نہیں دیکھتی ہیں؟ فرمایا تاکہ خالق اور مخلوق کے درمیان فرق ہو کہ مخلوق کو آنکھ دیکھتی ہے اور خدا جل شانہ اس سے بہت بالاتر ہے کہ آنکھ اس کو درک کرے اور وہم اس پر احاطہ کرے اور عقل اس کو سمجھ سکے۔

اس نے کہا تو میرے لئے اس کے حدود بیان کیجیے۔ آپ نے فرمایا اس کی کوئی حد نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ اس کی کوئی حد کیوں نہیں ہے؟ کہا کیونکہ ہر حد رکھنے والا کسی حد پر جاکر ختم ہو جائے گا؛ اور جس چیز کی حد ہوتی ہے اس میں زدیاتی کا تصور ہوتا ہے اور جس چیز میں زیادتی کا تصور ہے اس میں کمی کا تصور بھی ہوگا۔ لہذا خدا نہ تو محدود ہے اور نہ زیادتی پذیر ہے اور نہ ہی کمی پذیر۔ نہ اس کے اجزاء ہیں اور نہ ہی وہ وہم میں آسکتا ہے۔

دہریہ نے کہا تو پھر آپ لوگوں کے یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ وہ لطیف ہے، سمیع ہے، حکیم ہے، بصیر ہے اور علیم ہے؟ کیا بغیر کان کے سننے والا سکتا ہے؟ کیا بغیر آنکھ کے کوئی دیکھنے والا ہوسکتا ہے؟ کیا لطافت و نزاکت کو ہاتھوں سے چھوئے بغیر محسوس کیا جا سکتا ہے؟ اور کیا حکمت ایک ہنر اور صنعت نہیں ہے؟

آپ نے کہا ہمارے درمیان لطیف ایک ہنر و صنعت کی حد تک ہے۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اگر کوئی شخص ایسی چیز بنائے جس کے بنانے میں اس نے نزاکت اور استحکام سے کام لیا ہو تو کہتے ہیں کہ اس نے کتنا لطیف بنایا ہے اسے؟ تو اس خالق کائنات کو لطیف کیوں نہیں کہیں گے جس نے لطیف و جلیل مخلوقات بنائی ہیں اور حیوانات کی ترکیب و تعمیر میں نر اور مادہ پیدا کئے ہیں اور ہر جنس کو اپنی ہم جنس سے بالکل الگ اور ممتاز قرار دیا کہ کسی کی بھی صورت ایک دوسرے سے ملتی جلتی نہیں ہے۔ تو ان کی ترکیب و تصویر بنانے میں اس خالق لطیف و خبیر کی ایک لطافت اور نزاکت ہے۔ اس کے بعد درختوں کو دیکھیں جو پاکیزہ کھانے کی چیزیں لئے ہوئے ہیں۔ تو اس صورت میں ہم کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار لطیف ہے، مخلوق کی اس لطافت کی طرح نہیں جو وہ اپنی مصنوعات میں رکھتے ہیں۔

اور ہم کہتے ہیں کہ وہ ایسا خالق ہے جو سمیع ہے، یعنی آسمان سے زمین کی تہوں تک کی کوئی آواز اس سے پوشیدہ نہیں رہتی، چاہے وہ آواز ایک ذرہ کی ہو یا دریاؤں اور بیابانوں میں موجود اس سے بڑی کسی چیز کی؛ اور اس کے اوپر کوئی زبان مشتبہ نہیں ہوتی ہے تو اس وقت ہم کہتے ہیں کہ وہ سننے والا ہے لیکن کانوں کے ذریعہ نہیں؛ اسے ہم کہتے ہیں کہ وہ دیکھنے والا ہے لیکن آنکھوں کے ذریعے؛ اس لئے کہ وہ اندھیری رات میں کالے پتھر پر کالی چیونٹی کے پیروں کے نشانات کو بھی دیکھتا ہے اور اندھیری رات میں آہستہ چلنے والی چیونٹی کے راستے کو بھی دیکھتا ہے اور ان کے نفع نقصان کو بھی دیکھتا ہے، ان کے نر مادہ کے باہمی تعلقات، ان کے بچے اور ان کی نسل و اولاد کو دیکھتا ہے۔ لہذا اس موقع پر ہم کہتے ہیں کہ وہ بصیر ہے اور دیکھنے والا ہے لیکن اپنی مخلوق کے دیکھنے کی طرح نہیں۔ راوی کہتا ہے کہ وہ دہریہ وہاں سے اٹھنے سے پہلے ہی امام کے ہاتھ پر ایمان لے آیا۔ (اور اس میں کچھ اور گفتگو بھی ہے۔)[16]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. دیکھئے: کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۱، ص۷۸؛ شیخ صدوق، توحید، ۱۳۹۸ھ، ص۲۵۰؛ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، ۱۳۷۸ھ، ج۱، ص۱۳۱؛ طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳ھ، ج۲، ص۳۹۶۔
  2. شیخ صدوق، توحید، ۱۳۹۸ھ، ص۲۵۰-۲۵۲؛ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، ۱۳۷۸ھ، ج۱، ص۱۳۱-۱۳۳؛ طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳ھ، ج۲، ص۳۹۶-۳۹۷۔
  3. ن دیکھئے: شیخ صدوق، توحید، ۱۳۹۸ھ، ص۲۵۲؛ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، ۱۳۷۸ھ، ج۱، ص۱۳۳؛ طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳ھ، ج۲، ص۳۹۷۔
  4. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۱، ص۷۸؛ شیخ صدوق، توحید، ۱۳۹۸ھ، ص۲۵۱؛ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، ۱۳۷۸ھ، ج۱، ص۱۳۳؛ طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳ھ، ج۲، ص۳۹۶۔
  5. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۱، ص۷۸؛ شیخ صدوق، توحید، ۱۳۹۸ھ، ص۲۵۱؛ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، ۱۳۷۸ھ، ج۱، ص۱۳۲؛ طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳ھ، ج۲، ص۳۹۶۔
  6. شیخ صدوق، توحید، ۱۳۹۸ھ، ص۲۵۱؛ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، ۱۳۷۸ھ، ج۱، ص۱۳۲؛ طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳ھ، ج۲، ص۳۹۶؛ کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۱، ص۷۸-۷۹۔
  7. طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳ھ، ج۲، ص۳۹۶-۳۹۷؛ شیخ صدوق، توحید، ۱۳۹۸ھ، ص۲۵۰-۲۵۲؛ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، ۱۳۷۸ھ، ج۱، ص۱۳۱-۱۳۳۔
  8. طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳ھ، ج۲، ص۳۹۶؛ شیخ صدوق، توحید، ۱۳۹۸ھ، ص۲۵۱-۲۵۲؛ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، ۱۳۷۸ھ، ج۱، ص۱۳۱-۱۳۲۔
  9. طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳ھ، ج۲، ص۳۹۷؛ شیخ صدوق، توحید، ۱۳۹۸ھ، ص۲۵۲؛ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، ۱۳۷۸ھ، ج۱، ص۱۳۳۔
  10. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۱، ص۷۸-۷۹۔
  11. شیخ صدوق، توحید، ۱۳۹۸ھ، ص۲۵۰-۲۵۲۔
  12. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، ۱۳۷۸ھ، ج۱، ج۱، ص۱۳۱-۱۳۳۔
  13. طبرسی، ۱۴۰۳ھ، ج۲، ص۳۹۶-۳۹۷۔
  14. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۳، ص۳۶-۳۸۔
  15. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، ۱۳۷۸ھ، ج۱، ص۱۳۱-۱۳۳؛‌ شیخ صدوق، توحید، ۱۳۹۸ھ، ص۲۵۰-۲۵۲۔
  16. شیخ صدوق، عیون اخبارالرضا‏، انتشارات علمیہ اسلامیہ، ج۱، ص۸۵-۸۶۔


مآخذ

  • شیخ صدوق، محمد بن علی، التوحید، تحقیق و تصحیح ہاشم حسینی، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، چاپ اول، ۱۳۹۸ھ۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، عیون اخبار الرضا، تحقیق و تصحیح مہدی لاجوردی، تہران، نشر جہان، چاپاول، ۱۳۷۸ش۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، عیون اخبار الرضا علیہ‌السلام‏، ترجمہ محمدتقی آقانجفی اصفہانی، تہران، انتشارات علمیہ اسلامیہ، چاپ اول، بی‌تا۔
  • طبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج علی اہل اللجاج، تحقیق و تصحیح محمد باقر خرسان، مشہد، نشر مرتضی، چاپ اول، ۱۴۰۳ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح علی ‌اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۷ھ۔
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار الجامعۃ لدرر اخبار الائمۃ الاطہار، بیروت، دار احیاء‌ التراث العربی، چاپ دوم، ۱۴۰۳ھ۔