آستان قدس رضوی
| آستان قدس | |
|---|---|
| کوائف | |
| فعالیت | اداری • ثقافتی • اقتصادی |
| محل وقوع | مشہد |
| سربراہ | حمد مروی |
| جانشین | مصطفی فیضی |
| دیگر معلومات | |
| مالی منابع | نذورات • موقوفات • اقتصادی سرگرمیاں |
| ویب سائٹ | آستان قدس رضوی |
آستانِ قُدسِ رضوی، غیر سرکاری انتظامی اور خدماتی ایک بڑا ادارہ ہے جو حرمِ امام رضا علیہ السلام، اس کے املاک و موقوفات اور اس سے وابستہ اداروں اور تنظیموں کا انتظام سنبھالتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ آستانِ قدس کا ڈھانچہ کم از کم صفویہ دَور سے موجود ہے، اور یہی آستانِ قدس کے دیوانی نظام کی توسیع اور استحکام کا زمانہ تھا۔ دورِ قاجار میں آستانِ قدس انتظامی اور مالی اصلاحات سے گزرا، لیکن بعض ادوار میں سیاسی ابتری کے باعث اس کا نظام کمزور بھی ہوا۔ رضا پہلوی اور محمد رضا پہلوی کے دور میں آستان قدس کے انتظامی نظام میں تبدیلی کے لیے کئی کوششیں کی گئیں۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد آستان کی سرگرمیوں میں نمایاں وسعت اور تیزی آگئی۔
بعض تاریخی منابع کے مطابق آستانِ قدس رضوی کے مختلف ادوار میں مختلف عہدوں اور اصطلاحات کی تخلیق ہوئی۔ ان عہدوں میں آستان کے متولی، نائب متولی اور خادمین شامل ہیں، جبکہ اصطلاحات میں کام کی شیفٹ اور تشریفات (پروٹوکول) کا ذکر ملتا ہے۔ آستانِ قدس کے ذیلی خدماتی اداروں میں دارالشفا (ہسپتال) اور مہمان سرا (مہمان خانہ) شامل ہیں، جن کی بنیاد صفوی دور میں رکھی گئی ہے۔
آستانِ قدس کا قدیم ترین اور نمایاں ثقافتی حصہ اس کا کتاب خانہ ہے، جو نویں صدی ہجری سے لے کر دورِ قاجاریہ تک ایک خود مختار اور منظم ادارے کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔ دورِ پہلوی میں آستان کی مذہبی سرگرمیاں محدود ہوگئیں، لیکن ثقافتی کردار کتاب خانے، عجائب گھر اور تعلیمی و تحقیقی پروگراموں کی توسیع سے مضبوط ہوا۔ دورِ جمہوری اسلامی میں آستان کی ثقافتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ایک رپورٹ کے مطابق پندرہ ادارے آستان کی ثقافتی سرگرمیوں پر کام کرتے ہیں، جن میں مؤسسۂ کتاب خانہ، ملّی ملک عجائب گھر اور بنیادِ پژوہشہای اسلامی (اسلامی تحقیقاتی ادارہ) شامل ہیں۔
کہا گیا ہے کہ آستانِ قدس رضوی اپنا مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے خدمات (سرویسز)، صنعت و معدنیات، زراعت اور عمرانیات کے تین بنیادی شعبوں میں وسیع اقتصادی سرگرمیاں انجام دیتا ہے۔ ایک شماریاتی رپورٹ کے مطابق 84 کمپنیاں آستان قدس رضوی کے زیرِ نگرانی کام کر رہی ہیں اور ان کے ماتحت اداروں میں 12 ہزار سے زیادہ ملازم ہیں؛ جن میں شرکتِ نفت و گاز رضوی (رضوی گیس اور تیل کمپنی) اور شرکتِ نان رضوی شامل ہیں۔
تعارف، حیثیت اور مقاصد
آستانِ قدس رضوی ایک بڑا غیر سرکاری انتظامی اور خدماتی ادارہ ہے جو حرمِ امام رضاؑ، اس کے املاک، موقوفات اور وابستہ اداروں کا انتظام سنبھالتا ہے۔[1] اس ادارے کی ایک قدیم انتظامی ساخت ہے اور اس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کا ڈھانچہ، عہدے اور رسومات، ثقافتی اہمیت کے حامل ہیں۔[2]
شیعہ محقق عزیز اللہ عطاردی کے مطابق، آستانِ قدس رضوی، تاریخ کے مختلف ادوار میں ہمیشہ خود مختار ادارہ رہا ہے اور حکومتی مداخلت اس میں نہیں ہوتی تھی اور اس کے دفتری، انتظامی اور خدماتی امور آستان کے کارگزاروں کے ذریعے ہی انجام پاتے تھے،[3] اور آستان قدس کے متولی صرف ملک کے حاکم کے سامنے جواب دہ ہوتے تھے اور حکومتی دیگر عہدیداروں کو آستان کے معاملات میں مداخلت کا حق نہیں تھا۔[4] جیسا کہ سنہ 1274 ہجری کے ایک روسی سیاح کے سفرنامے میں بھی آستانِ قدس کا حکومت سے خود مختار ہونے کا ذکر آیا ہے اور اسے “حکومت کے اندر ایک حکومت” کہا گیا ہے۔[5]
کہا گیا ہے کہ “آستانِ قدسِ رضوی” کی اصطلاح صفوی دور کے ابتدائی سالوں میں رائج ہوئی ہے،[6] اور حرم کے مقامات کے لیے استعمال ہونے لگی ہے؛ لیکن اس کا عام استعمال، بعد کے ادوار میں زیادہ رائج ہوا ہے۔[7] اس سے قبل “روضۂ مقدسۂ رضویہ“، “آستانِ روضۂ منوّرہ“، “آستانِ مقدس“ جیسی اصطلاحات استعمال ہوتی تھیں۔[8]


ڈھانچہ
آستانِ قدسِ رضوی کے دفتری ڈھانچے کی تاریخی، صفویہ دور سے جا ملتی ہے، اور صفویہ کے بعد مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ کے دور تک یہ ساخت بدلتی اور پھیلتی رہی ہے۔[9]
صفویوں سے پہلے
آستان قدس کے محقق علی مؤتمن کے مطابق، صفوی دور سے قبل حرمِ امام رضاؑ کے ادارے اور اس کے انتظامی ڈھانچے کے بارے میں قابلِ اعتماد اور مستند معلومات بہت کم ملتے ہیں۔[10] تاہم، شیخ صدوق کی ایک کتاب کی بنیاد پر[11] ، حرم کے انتظامی امور کی مدیریت کے لئے ابتدائی ڈھانچہ امام رضاؑ کا مقبرہ ہارونیہ میں دفن ہونے کے قریب کا دور بتایا گیا ہے؛[12] اور کہا گیا ہے کہ اس دور میں حرم کے لیے خادم موجود تھے جو مقررہ وقت پر رات کو حرم کے دروازے بند اور دن میں کھولتے تھے۔[13]
یہ بھی بیان ہوا ہے کہ تیسری صدی ہجری سے دورِ صفویہ تک آستانِ قدسِ رضوی کا انتظام نقبائے ساداتِ زیدی، موسوی اور رضوی کے زیرِ نظر تھا،[14] اور اگرچہ اس زمانے میں ادارے کا انتظامی ڈھانچہ سادہ تھا، لیکن رفتہ رفتہ، خصوصاً تیموریوں کے دور میں، اس میں وسعت پیدا ہوئی اور اہل سنت دوازدہ امامی ادیب اور فقیہ فضل بن روزبہان خُنْجِی، کے بیان کے مطابق سنہ 911ھ میں آستانِ قدس ایک منظم اور مستقل تشکیلات کا حامل ادارہ بن چکا تھا۔[15]

صفویوں سے افشاریوں تک
کہا جاتا ہے کہ آستان قدس رضوی کی تیموری دور کی محدود مگر ترقی پذیر ساختار، دسویں صدی ہجری کے آغاز میں صفوی دور میں داخل ہوئی۔[16] تشیع ایک رسمی مذہب بننے کے بعد، حکومت کی توجہ آستانِ قدس کی طرف بڑھ گئی،[17] جس کے نتیجے میں زائرین کی تعداد اور مالی وسائل میں اضافہ ہوا، اور تشکیلات میں وسعت آئی۔[18]
صفوی پہلا شاہ طہماسب کے دور میں، جو ایران کے دیوانی نظام کی مضبوطی کا زمانہ مانا جاتا ہے، آستانِ قدس کے دیوانی معاملات بھی مستحکم ہوئے۔[19] کہا گیا ہے کہ اسی دور، بالخصوص سنہ 1010ھ سے منظم ڈیوٹی کی تشکیل کے شواہد ملتے ہیں۔[20] بعد میں صفوی دور کے دیوانی متون دستور الملوک مرزا رفیعا میں آستان کی وسیع خدمات اور مستحکم انتظام کا ذکر ملتا ہے۔[21]
کہا گیا ہے کہ نادر شاہ افشار کے آخری پانچ برسوں میں آستان کا انتظامی ڈھانچہ کمزور پڑ گیا[22] کیونکہ نادر نے آستان پر ڈیوٹی کی باریوں کی تعداد پانچ سے تین کر دی تھی۔[23]

قاجاریہ دور
قاجاری کے پہلے تین بادشاہ؛ آقا محمد خان،[24] فتح علی شاہ[25] اور محمد شاہ[26] نے آستان کے انتظامی امور کو بہتر کرنے کی کوششیں کیں، لیکن بسا اوقات یہ اقدامات بغاوتوں کی وجہ سے متاثر ہوئے۔[27] سنہ 1264ھ کو ناصر الدین شاہ کی حکومت کے آغاز کے ساتھ خراسان میں امن کافی بہتر ہوا اور آستان میں نظم و نسق اور رونق لوٹ آئی۔[28]
عطاردی کے مطابق، دورِ ناصری میں آستان کے متولی عضد الملک قزوینی نے سنہ 1273ھ تک موقوفات کا مفصل طومار (طومارِ عضدالملک) تیار کیا[29] جس میں خدام کی تعداد چالیس، بیس فراش (فرش بچھانے والے)، پانچ جوتے رکھنے والی جگہے (کفشداری)، تین مؤذن اور 22 دربان کا ذکر ہے۔[30] تقریباً دس سال بعد (1283ھ)، آستان کے سرکاری و غیر سرکاری خادمین، اشراف اور حکومتی کارگزاروں کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ بتائی گئی ہے۔[31] اسی طرح پہلی مرتبہ آستان کا باقاعدہ نظام نامہ اس وقت کے متولی محمد تقی مرزا رکن الدولہ نے تیار کیا۔[32]
کہا جاتا ہے کہ انقلابِ مشروطہ کے بعد سنہ 1325ھ میں، آستان کے امور وزارتِ معارف و اوقاف کے حوالے ہوئے۔[33] 27 ذوالقعدہ سنہ 1329ھ میں آستان کے امور کی اصلاح کے لئے اس وزارت نے ایک قانون منظور کیا جس کے مطابق آستان کے متولی کی تقرری شاہ کی اجازت اور مجلسِ شورائے ملی کے ذریعے وزارتِ اوقاف کے ماتحت کی گئی، اور نایِبُ التُّولیَّہ کو داخلی انتظام اور اموال کی حفاظت پر مامور کیا گیا۔[34]
مؤتمن کے مطابق، قاجاری دور کے اواخر میں ایران کی عمومی بدحالی کے اثرات آستان کی انتظامی کمزوری پر بھی پڑے اور بعض املاک دوسرے لوگوں کے قبضے میں چلے گئے۔[35]
پہلوی دور
بعض مآخذ کے مطابق، پہلوی پہلا اور دوسرا بادشاہ کے دور میں آستان کی انتظامی ساخت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لائی گئیں۔[36] حرم کے کارگزار اور محقق محمد احتشام کاویانیان کے مطابق، اس دور میں شاہ کو تولیتِ عُظمیٰ کہا گیا اور متولی باشی کا عہدہ نائب التولیہ عُظمی میں بدل دیا گیا۔[37]
مؤتمن کے مطابق، اس دور کے پہلے نائب التولیہ، محمد ولی اسدی (1304–1314شمسی)، نے اصلاحات کرتے ہوئے خدام کی تعداد کم کی، آستان کا پہلا جدید بجٹ نئے طرز پر بنا دیا،[38] اور پرانی تشکیلات، القاب اور عہدوں کو ختم کرکے نیا نظام نامہ مرتب کیا۔ اس نظام نامۂ اساسی آستانہ کو (16 مرداد 1305ش) نافذ کرتے ہوئے نائب التولیہ کے سپرد کر دیا گیا۔[39] بعد میں فتح اللہ پاک روان (فعالیت: 1314–1320شمسی) کے دور میں موروثی خدمت کا طریقہ ختم ہوا، کشیکوں کی طاقت محدود ہوئی اور تشریفات کا ادارہ حرم میں داخلی نظم و ضبط کا ذمہ دار بنا۔[40]

پہلوی بادشاہ محمد رضا پہلوی کے دور میں ہونے والی چند اہم اصلاحات درج ذیل ہیں:
- سنہ 1321 شمسی میں خدام کی نارضایتی پر کشیکوں کا نظام دوبارہ بحال کیا گیا، مگر انضباطی امور تشریفات کے سپرد ہوئے؛[41]
- سنہ 1328 شمسی میں آستان کے لیے نئی ضروریات کے تحت کچھ قوانین تدوین اور تصویب ہوئے جسے آیین نامۂ سازمان و خدمات آستان نام دیا گیا؛[42]
- سنہ 1341شمسی، عوامی درخواستوں اور شکایتوں کی رسیدگی کے لیے کچھ کمیٹیاں بنائی گئیں؛[43]
- سنہ 1344 تا 1346 شمسی کے دوران، کتاب خانہ، خزانہ، عجائب گھر، تشریفات اور خدام کی نگرانی کے لیے مدیریتِ کل حوزۂ حرم قائم ہوا؛[44]
- سنہ 1346 اور 1347شمسی میں ایک بار پھر سے آستان قدس کے نظام نامہ کی تدوین اور تحقیق ہوئی؛[45]
- سنہ 1350 شمسی کی دہائی کی ابتدا میں سازمان برنامۂ کشور (ملکی مدیریت کا ادارہ) نے آستان کے لیے نیا تنظیمی ڈھانچہ وضع کیا؛[46] جس کے سربراہ نائب التولیہِ عُظمی اور اس کا قائم مقام تھا، اور اس کے تحت چار شعبے تھے جن میں مدیریت، پلانینگ و تعلیم، فنانس اور ٹیکنیکی امور اور املاک شامل تھے۔[47]

اسلامی جمہوریہ کا دور
کہا جاتا ہے کہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد آستانِ قدسِ رضوی کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ اور تیزی آگئی۔[48] اس دور کی ایک اہم تبدیلی یہ تھی کہ آستان کے امور کی نگرانی کے لیے تولیت کے انتخاب کا نظام قائم ہوا اور نائب التولیہ کا عہدہ ختم کر دیا گیا۔[49] اس تبدیلی کو آستان کی انتظامیہ کی مزید خود مختاری اور تولیت کے نمائندے کے عنوان سے اس کا جانشین کی تقویت کا سبب سمجھا گیا ہے۔[50]
بعض رپورٹوں کے مطابق، اس دور میں حرم کی توسیع اور حرم کا 24 گھنٹے کھلا رہنے کی وجہ سے اس میں کشیکوں (خدمات کی باریوں) کی تعداد کو بڑھا کر آٹھ باریاں کر دی گئی، جس سے ہر کشیک کے عملے میں بھی اضافہ ہوا۔[51]
موجودہ منابع کے مطابق، دورِ جمہوری اسلامی میں ہیئتِ امناء اور شورائے انقلاب فرہنگی سے مشورے کے بعد تولیتِ آستان قدس رضوی، آستان کی کثیر المیعاد پالیسیوں اور اعلیٰ مدیران کا تعین کرتا ہے۔[52] آستان قدس کا مرکزی ادارہ تولیت کے قائم مقام کے زیرِ نظر کام کرتا ہے اور اس کے چھ شعبے ہیں: شعبہ توسعۂ مدیریت و پشتیبانی، شعبہ تبلیغات و ارتباطات اسلامی، شعبہ امور حقوقی و موقوفات، شعبہ املاک و اراضی، شعبہ اماکن متبرکہ و امور زائران اور شعبہ فنی و عمران موقوفات۔[53]
اسی بنیاد پر، آستان کا مرکزی ادارہ بھی قائم مقام تولیت کے زیرِ نظر چلتا ہے۔[54] اس ادارے کے تحت درج ذیل پانچ شعبے کام کرتے ہیں: مدیریتِ حسابرسی داخلی و ممیزی، مدیریتِ نظارت و بازرسی و رسیدگی بہ شکایات، مدیریتِ دفتر مرکزی تہران، مدیریتِ حراست، مدیریتِ اراضیِ حریمِ حرم امام رضا(ع)۔[55]
اسی طرح شورائے توسعۂ مدیریت و سرمایۂ انسانی، شورای فناوری اطلاعات و ارتباطات، مشاوران، کمیسیون مشارکتہا و عمران موقوفات بھی قائم مقام تولیت کے زیرِ نظر کام کرتے ہیں۔[56]
دیگر شعبوں میں ادارۂ کل روابط عمومی، نذورات کل، دبیرخانۂ کل، خزانہداری کل اور سلیکشن سنٹرل بورد شامل ہیں۔[57]

مشاغل اور اصطلاحات
بعض مآخذ میں آستانِ قدس کے مختلف ادوار میں رائج مشاغل اور مخصوص اصطلاحات کی وضاحت کی گئی ہے۔
تولیت اور نیابتِ تولیت
تولیت سے مراد آستانِ قدسِ رضوی اور اس کے موقوفات کی سربراہی، اور حرمِ امام رضاؑ کے انتظام کی ذمہ داری کسی اہل شخص کے سپرد کرنا ہے۔[58] بعض منابع کے مطابق، آغاز ہی سے آستان کا متولی ہوا کرتا تھا[59] اور مختلف ادوار میں حرم کی تولیت بادشاہوں یا حکمرانوں کے اختیار میں رہی ہے، اور وہ کسی شخص کو اپنا نائب (نائب التولیہ) مقرر کرتے تھے۔[60]
خادمین
آستان قدس رضوی کے وہ مشاغل جو حرمِ مطہر سے تعلق رکھتے ہیں، مجموعی طور پر انہیں خدمہ یا خادمین کہلاتے ہیں۔[61] خدمہ، حرم کے وہ خادم ہیں جو مقررہ آداب اور روایات کے مطابق بقعۂ مبارک، رواقوں، صحنوں، کفشداریوں اور دیگر مقامات میں خدمت انجام دیتے ہیں۔[62]
بعض منتشر تاریخی اطلاعات[63] کی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ امام رضاؑ کی شہادت کے ابتدائی سالوں سے دسویں صدی ہجری تک حرم میں خادم ہوتے تھے۔[64] قاجاری دور کی ایک روایت کے مطابق، سنہ 1300ھ میں خدمۂ حرم کی تعداد 1200 تھی۔[65]
انقلابِ اسلامی کے بعد حرم کی توسیع اور زائرین میں اضافے کے ساتھ ساتھ خادموں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔[66] سنہ 1393 شمسی کی ایک رپورٹ کے مطابق، حرم کے خادمین آٹھ شیفٹوں میں، سرکاری، افتخاری اور تشرفی حیثیت سے مقرر ہیں اور یہ سب مدیریتِ امور خدمہ کے زیرِ نظر کام کرتے ہیں۔[67] سنہ 1397 شمسی کے مطابق خادمین، مکان اور حیثیت کے مطابق مختلف اقسام کے ہیں جن میں خادم، فَرّاش، حافظ (حُفّاظ)، کفشدار، دربان، خادمِ علمی اور خادمِ فرہنگی شامل ہیں۔[68]

دوسرے پیشے
خدمہ کے علاوہ، ہر تاریخی دَور میں آستان قدس رضوی میں مختلف دیگر پیشے بھی رہے ہیں جیسے:
- دورِ صفویہ: مستوفی، بیمار دار، حکیم، مہمان دار، سرکار عمارت، صاحب نسق، کتاب دار، سقا، توپچی، علمدار، سفرہ چی، طباخ، پیش خدمت، قصاب، مُطَہِّر، بنا، بیل دار، باغبان، نجار، چاہ خو (مقنی)، سقا، جاروکش۔[69]
- دورِ افشاریہ: ناظر کل، مستوفی، ہم قلم، دفتر کے محرر، طبیب، تحویل دار، یساول، ضابط نذورات، کشیک نویس، صاحب جمع شمع خانہ، مشعلدار، سفرہ چین باشی، شربت دار، کتابخانہ کا کلید دار، صحاف، مصحح، طباخ، سقاباشی، بخورسوز، بنا، بیلدار، خاکش۔[70]
- دورِ قاجاریہ: ناظر کل، ناظم کل، قائم مقام، وزیر اعظم، امین کل، ضابط اسناد، سررشتہدار، براتنویس، محرر اجارات، منجمباشی، ملکالشعراء، معاونالفقراء، کشیکنویس، ایشیکآقاسیباشی، صاحبنسق، مدیر املاک، ضابط املاک، مشیر املاک، ناظم موقوفات، تحویلدار، ساعتساز، روضہخوان، نوابالزیارہ، طغرانویس، مُذَہِّبباشی، زرگرباشی، کتیبہنویس، کتب خانہ کا ذمہ دار، معینالکتاب، کتابدار، صحاف، خازنالتولیہ، خزانہدار، چراغچیباشی، دربان چراغخانہ، معمارباشی، نقاشباشی، کحال (آنکھ کا ڈاکٹر)، طبیب و جراحباشی۔[71]
کہا جاتا ہے کہ رضا شاہ پہلوی، محمد رضا پہلوی اور دورِ جمہوری اسلامی میں، آستان کے لیے جدید اداری نظام قائم ہونے کے بعد، خدمہ کے سوا دیگر پرانے عہدوں کی جگہ نئے انتظامی عناوین نے لے لیا۔ مثال کے طور پر قاجاریہ دور میں چراغچیباشی، جو روشنائی کا ذمہ دار تھا،[72] محمد رضا پہلوی کے دور میں اس کی جگہ شعبہ روشنایی قائم ہوا،[73] اور عطاردی کے مطابق، انقلاب کے بعد یہ یونٹ پھیل کر ادارۂ روشنایی بنا۔[74]
کشیک
کشیک سے مراد خدمہ (خادم، فراش (فرش بچھانے والے)، دربان، کفش دار، مؤذن) کا وہ مجموعہ ہے جو حرمِ مطہر میں ہر ہفتے ایک دن (چوبیس گھنٹے) خدمت انجام دیتا ہے۔[75] اس نظام کی ابتدا صفوی دور میں ہوئی۔[76] یہ نظام وقت کے سیاسی حالات اور زائرین کی تعداد کے مطابق بدلتا بھی رہا ہے۔[77] مثال کے طور پر احتشام کاویانیان کے مطابق، واقعۂ مسجد گوہر شاد کے بعد، اس وقت کے نائب التولیہ محمد ولی اسدی نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات دور کرنے کے لیے کشیک نظام ختم کر دیا اور خدمہ کو فارغ کرکے اس کی جگہ ادارۂ تشریفات قائم کر دیا۔[78] ان کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی پہلویِ اول کے خاتمے تک برقرار رہی، لیکن خادمین کے احتجاج پر کشیک دوبارہ بحال ہوا۔[79]
بعض منابع کے مطابق، کشیک کی تبدیلی کا عمل ہر 24 گھنٹے بعد ایک مخصوص مراسم کے ذریعے ہوتا ہے: روزانہ طلوعِ آفتاب کے ایک گھنٹے بعد، کشیک کے خادمین مقررہ جگہوں پر جمع ہوتے ہیں،[80] اور کشیک کا سربراہ یا ان کا جانشین خطبۂ حمد الہی اور مدحت امام رضاؑ پڑھ کر سجدۂ شکر بجا لاتے ہوئے اگلے دن کی چارج دوسرے گروہ کے حوالہ کرتا ہے۔[81]
اسناد کی کمی کے باعث صفوی دور میں کشیک کے افراد کی درست تعداد معلوم نہیں۔[82] علی شاہی کے طومار کے مطابق، دورِ افشاریہ میں ایک کشیک کے ارکان 68 تھے، جن میں: سربراہ کشیک، خادمباشی، 17 خادم، 20 فراش، 5 کفش دار، 2 مدرس، 3 بخور سوز، 14 دربان اور 5 مؤذن شامل تھے۔[83] عضد الملک کے طومار کے مطابق، دورِ قاجاریہ میں نئے صحن (صحن آزادی) کی تعمیر کے بعد کشیک کی تعداد بڑھ کر 101 ہو گئی۔[84] احتشام کاویانیان کے مطابق، پہلوی درو کے آغاز (1305 شمسی) میں کشیکوں کی تعداد 1700 تھی اور نائب التولیہ محمد ولی اسدی نے اس تعداد کو کم کر کے نصف کر دیا۔[85]
بعض مآخذ کے مطابق ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد حرم کی توسیع اور اعزازی و افتخاری خادمین کے اضافہ نے مجموعی تعداد بڑھا دی۔[86] سنہ 1399شمسی کی ایک رپورٹ کے مطابق، کشیک کے ارکان میں تقریباً 1000 خادم، 425 فراش، 60 حافظ، 1220 دربان اور 1860 کفشدار شامل ہیں۔[87]

تشریفات
تشریفات (پروٹوکول) سے مراد آستانِ قدسِ رضوی میں روایتی اور باوقار طرز پر انجام دی جانے والی وہ خدمات ہیں جو امام رضاؑ کی شان و منزلت میں یا زیارت پر جانے والی خاص شخصیات کے اعزاز میں ادا کی جاتی ہیں۔[88] بعض گزارشوں کے مطابق،[89] آستان قدس میں تشریفات، صفویوں سے پہلے بھی موجود تھیں، مگر صفوی دور سے حرم کی تولیت، شاہانِ ایران کے لیے ایک شاہی افتخار اور ذمہ داری کی صورت اختیار کر گیا۔[90] اسی پس منظر میں تشریفاتی و سلطنتی مظاہر آستان کے انتظام میں آہستہ آہستہ بڑھتے گئے۔[91]
احتشام کاویانیان کے مطابق، سنہ 1314 شمسی میں آستان میں «تشریفات» کے نام سے ایک باقاعدہ ادارہ قائم کیا گیا، جس پر آستان کی مجالس اور مراسم کے انعقاد کی ذمہ داری تھی۔[92] سنہ 1372شمسی میں تشریفاتی نظام کا نام بدل کر «معاونتِ اماکن متبرکہ و تشریفات آستان قدس رضوی» رکھا گیا، اور سنہ 1382شمسی میں اسے «مدیریتِ انتظامات و تشریفات حوزۂ اماکن متبرکہ» کہا جانے لگا۔[93]
ذیلی خدماتی ادارے
آستانِ قدسِ رضوی کے چند خدماتی ذیلی ادارے درج ذیل ہیں:

دارالشفا
دارالشِفا، آستانِ قدسِ رضوی کا ایک معالجاتی مرکز ہے جس کی تاریخ صفوی دور کے اوائل تک پہنچتی ہے۔[94] رپورٹ کے مطابق، مختلف ادوار میں انتظامی کمزوری کے بعد، قاجاریہ کے اواخر میں ڈاکٹر امیر خان امیر اعلم (صدر مجلسِ حفظ الصحہ) کی کوششوں سے اس کی مرمت اور سہولیات فراہم کی گئی، یہاں تک کہ یہ مشرقی ایران کے جدید ترین اسپتالوں میں شامل ہو گیا۔[95] کہا جاتا ہے کہ رضا شاہ کے دور میں امام رضاؑ ہسپتال کی تعمیر کے بعد، دارالشفا کو اس نئے اسپتال میں ضم کر دیا گیا۔[96]
سنہ 1327 شمسی میں، دارالشفا کی سرگرمیاں بستِ بالا (بست شیخ طوسی) میں واقع مہمان سرائے حضرت کی بالائی منزل میں ایک چھوٹے کلینک کی صورت میں جاری رہیں۔[97] اس عمارت کے انہدام کے بعد، دارالشفا کو صحنِ انقلاب کے جنوبی جانب (مقامِ رواق دارالحکمہ) منتقل کیا گیا،[98] اور سنہ 1359شمسی کے اواخر میں، صحنِ آزادی سے متصل نئی عمارت کا افتتاح ہوا۔[99] اسی طرح سنہ 1388شمسی میں، دارالشفا کو بستِ خیابان شیرازی کے مشرقی حصے میں واقع ایک جدید عمارت میں منتقل کیا گیا،[100] جہاں عمومی اور تخصصی دونوں طرح کی طبی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔[101]
مہمان سرا
مہمان سرا (مہمان خانہ)، آستانِ قدسِ رضوی کا ایک خدماتی شعبہ ہے، جو زائرین، مستحقین، خدام اور آستان کے کارکنوں کی میزبانی کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی تاریخ 500 سال سے زیادہ پرانی ہے۔[102] انتظامی طور پر، یہ ادارہ شعبہ اماکنِ متبرکہ و امورِ زائرین کے ذیلی شعبہ "ادارۂ امور مہمانسرا" کے تحت چلتا ہے۔[103] تاریخی طور پر اسے مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے یاد کیا گیا ہے؛ جن میں مطبخ (صفوی اور افشاری دور)، کارخانۂ مبارکہ (قاجاری دور)، اور مہمانسرای حضرتی / مہمانسرای حضرت (پہلوی دور) جیسے نام شامل ہیں۔[104]
مہمانسرا کے بارے میں قدیم ترین تاریخی شواہد تیموری دور سے تعلق رکھتے ہیں۔[105] موجودہ تاریخی مآخذ کے مطابق سنہ 1353شمسی میں حرم کے مہمان خانہ کے لیے ایک نئی عمارت تعمیر ہوئی[106] جس کی انقلابِ اسلامی کے بعد، از سرِنو تعمیر کی گئی اور صحنِ غدیر کے مغربی حصے میں بھی ایک نئی عمارت کا اضافہ ہوا۔[107]
سنہ 1394شمسی کی ایک رپورٹ کے مطابق، موقوفات و نذورات کی مدد سے روزانہ تقریباً 6 ہزار سے زائد کھانے مہمانسرا میں تیار کیے جاتے ہیں[108] اور آستان قدس کے نمائندوں کے ذریعے زائرین کے مختلف اقامت گاہوں میں روزانہ دعوتنامے تقسیم کیے جاتے ہیں۔[109]

حرم کا اطلاعاتی ادارہ
ادارہ آگاہی حرم کے نام سے یہ ادارہ آستانِ قدس کا ایک ذیلی ادارہ ہے جو حرم کے حفاظتی اور امنیتی امور کو سنبھالتا ہے۔[110] اس ادارے کا دفتر سنہ 1366 شمسی میں حرمِ مطہر کے اندر زائرین کے تحفظ کی ذمہ داری نبھانے کی غرض سے صحنِ انقلاب اسلامی میں قائم ہوا۔[111] سنہ 1380شمسی میں حرم کے اندر پیش آنے والے جرائم کی فوری رسیدگی کے لیے عدلیہ نے "دادگاہِ ویژۂ حرم مطہر" (حرم کا مخصوص کورٹ) تشکیل دیا۔[112]
حرم کی عمارتوں کی بڑھتی ہوئی وسعت کے پیش نظر سنہ 1383 شمسی میں شعبہ آگاہی حرم کو وسعت دے کر باقاعدہ "ادارہ" بنا دیا گیا، جس میں؛ جرائم کا انکشاف، اجتماعی امور اور مشورہ، زائرین کے حقوق کی حفاظت شامل ہیں۔[113] سنہ 1393 شمسی کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ ادارہ کمپیوٹرائزڈ سسٹم، فنگر پرنٹ ریکارڈ، CCTV اور داخلی نیٹ ورک کے ذریعے شب و روز خدمات انجام دیتا ہے۔[114]
مؤسسۂ امداد آستان قدس رضوی
آستان قدس رضوی کا یہ فلاحی ادارہ 1359شمسی میں قائم ہوا جس کا مقصد نادار لوگوں کو سماجی، رفاہی اور ثقافتی معاونت فراہم کرنا ہے۔[115] اس ادارے کی فعالیت میں مستحقین کو نقدی اور غیر نقدی امداد، یتیم و محروم طلبہ کی سرپرستی، بیوہ اور بےسرپرست خاندانوں کے لیے ماہانہ وظیفہ، مذہبی مناسبتوں پر نیازمندوں کو کھانا کھلانا شامل ہیں۔[116] اس کے اخراجات آستانِ قدس کے موقوفات اور وابستہ اداروں کی امداد سے پورے کیے جاتے ہیں۔[117]

فرہنگی فعالیتیں
تاریخی مآخذ میں آستان قدس رضوی کے مختلف تاریخی ادوار کی فرہنگی فعالیتیں ذکر ہوئی ہیں:[118]
پہلوی دور تک
آستانِ قدس کا سب سے قدیم اور نمایاں ثقافتی ادارہ کتب خانہ ہے،[119] جو ایک رپورٹ کے مطایق نویں صدی ہجری سے منظم طریقے سے چل رہا ہے۔[120] لائبریری میں موجود قدیم ترین وقف شدہ قرآنی نسخہ سنہ 327ھ کا ہے، اور اس کے بعد مختلف قرآنی نسخے اور تفسیری مخطوطات کی تعداد بڑھتی رہی ہے۔[121] کہا گیا ہے کہ صفوی دور میں شیخ بہائی اور شاہ عباس اوّل کے وقف کردہ نسخوں نے اس لائبریری کی علمی حیثیت کو بڑھا دی اور یہ مشہد میں علماء و طلبہ کا اہم مرکز بن گئی۔[122]
کہا گیا ہے کہ قاجاری دور میں لائبریری ایک مکمل اداری ڈھانچہ رکھتی تھی اور علمی و ادبی مرکز کی حیثیت اختیار کرچکی تھی جس سے عام لوگ استفادہ کرسکتے تھے۔[123] اس دور میں مخطوطات کی حفاظت، مرمت، کتابت اور تزئین کے لیے ماہرین بھی کام کرتے تھے اور کتابوں کی حفاظت پر لوگ مامور تھے۔[124]
ایک رپورٹ کے مطابق صفوی دور کے بعد سے دینی و تبلیغی سرگرمیاں جیسے تلاوتِ قرآن، مجالس اور مذہبی رسومات میں رونق آگئی[125] اور یہ فعالیتیں مخصوص موقوفات کے ذریعے منعقد کی جاتی تھیں۔[126]

تعلیمی حوالے سے کہا گیا ہے کہ شاہ طہماسب صفوی کے دور میں، آستان میں یتیم بچوں کے لیے مکتب قائم کیا گیا تھا جو بعد میں وسعت اختیار کر گیا۔[127] اس کے علاوہ آستان قدس کی ثقافتی فعالیتوں میں زیادہ موثر حرم کے اطراف میں دینی مدارس کا قیام تھا۔[128] خاص کر تیموری دور میں ضریح کے قریب بالاسر، پریزاد اور دُودَر تعمیر ہوئے۔[129] اسی طرح صفوی اور قاجار دور میں حرم کے صحنوں کے اطراف میں متعدد مدارس قائم ہوئے جنہوں نے مشہد کے علمی و ثقافتی ماحول کو رونق بخشا۔[130]
مدارس کے انتظامی امور کی سرپرستی، حرم کے اطراف میں طلبہ و اساتذہ کی رہائش، ان کی لائبریری میں علمی اور فرہنگی رفت و آمد اور لائبریری سے رابطہ، آستان اور تعلیمی مراکز کے مابین باہمی وسیع تعلق شمار ہوتا ہے۔[131]
پہلوی دَور

کہا گیا ہے کہ رضا پہلوی کے دور میں سیاسی اور معاشرتی تبدیلیوں اور وسیع تعمیر نو کی وجہ سے حرم کے فرہنگی ادارے میں بھی کافی تبدیلیاں لائی گئیں؛[132] جیسے مکتب خانے جدید اسکولوں میں تبدیل ہو کر حکومت کے ماتحت آگئے۔[133] حرم کے زیر سرپرستی چلنے والے دینی مدارسے بند ہوگئے،[134] آستان میں علما کا اثر و رسوخ کو کم کر دیا گیا،[135] حرم میں دینی علوم کی درس و تدریس پر پابندی لگائی گئی[136] یعنی کلی طور پر حرم میں دینی رسومات اور فعالیتوں کو کم کردیا۔[137]
اس کے مقابلے میں متمدن اداروں کی ہم آہنگی سے آستان کی لائبریری میں رونق آگئی۔[138] کہا گیا ہے کہ سنہ 1316 شمسی میں حرم کے عجائب گھر اور کتب خانے کی نئی عمارت تعمیر کی گئی تاکہ حرم کے نفیس نسخوں کی نمائش کی جاسکے اور کتابوں کی حفاظت میں بہتری لائی جاسکے جن میں اکثر نفیس خطی نسخے تھے۔[139]

کہا گیا ہے کہ محمد رضا پہلوی کے دور کے آخری دس سالوں میں خصوصی طور پر ثقافتی سرگرمیوں میں دوبارہ تیزی آنے لگی۔[140] خاص کر آستانے کی طرف سے "نامۂ آستان قدس" نامی مجلہ کا آغاز،[141] محمد تقی ادیب نیشابوری (متوفی: 1355ش) کو رواق شیخ بہایی میں تدریس کی دعوت،[142] خوشنویس جلالالدین اِعْتِضادی (متوفی: 1360شمسی) کو ہنری کلاسوں کے انعقاد کی دعوت،[143] سنہ 1346 شمسی تا 1350 میں لائبریری کی تقویت،[144] حرم میں "مدیریت کل فرہنگی" کے نام سے احمد علی رجائی بخارائی (ادیب اور مشہد یونیورسٹی کا استاد (ر) متوفی: 1357شمسی) کی سرپرستی میں آستانے میں "مدیر کل فرہنگی آستان قدس" کے نام سے مستقل شعبہ ثقافت کی تشکیل[145] اور پھر سنہ 1351 شمسی میں "سازمان امور فرہنگی و کتابخانہ ہای آستان قدس" کا قیام،[146] آستان کے مختلف موضوعات پر تحقیقی کتابوں کی اشاعت،[147] آستان کے لئے گرانبہا کتب خانوں کا وقف،[148] رواق دار الزہد میں جوانوں اور زائرین کے لئے اسلامی معارف کی آشنائی کے غرض سے مجالسِ وعظ و خطابہ کا انعقاد[149] اور زیارت نامہ پڑھنے والوں کے لئے کلاسوں کا اجراء[150] آستان قدس کی ثقافتی فعالیتوں میں قابل ذکر ہیں۔
اس دور کی نمایاں ترین پیشرفت، عجائب گھر اور کتب خانہ کی نئی عمارت کا قیام تھا۔[151] کہا گیا ہے کہ عجائب گھر جدید نگاہ کے ساتھ ایرانی معماری سے مزین پانچ منزل پر مشتمل عمارت ہے جس میں جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا گیا ہے۔[152]
دورِ جمہوری اسلامی
انقلابِ اسلامی کے بعد، آستانِ قدس کی ثقافتی سرگرمیوں میں نمایاں وسعت آگئی۔[153] جن میں آستان قدس کی لائبریری کی نئی عمارت، دانشگاہ علوم اسلامی رضوی کی تاسیس اور تحقیقی و انتشاراتی سرگرمیاں اور ثقافتی و تعلمیی مراکز کا قیام قابل ذکر ہیں۔[154] مدیریت فرہنگی کے حوالے سے سنہ 1359 شمسی میں پہلوی دور کے مدیریت امور فرہنگی و اجتماعی کی جگہ ادارہ امور فرہنگی بنا دیا گیا[155] جس میں چار ذیلی شعبے شامل ہیں جن میں سب سے اہم تبلیغی اور تحقیقی کتابوں کی اشاعت تھی۔[156] سنہ 1363شمسی میں اس ادارے کو ایک شعبہ بنا کر معاونت امور فرہنگی کا درجہ دیا گیا[157] جس کے ذمے لائبریری کے انتظامات اور ثقافتی امور تھے۔ سنہ 1376شمسی میں ادارہ فرہنگی کو مدیریت تبلیغات و ارتباطات اسلامی میں ارتقاء دیا گیا جس کے ماتحت تین شعبے روابط بین الملل، تبلیغات اسلامی اور تعلیم علوم قرآنی کام کرنے لگے۔[158]
سنہ 1378 شمسی میں آستان قدس کے متولی نے "دبیرخانہ شورائے عالی فرہنگی" تشکیل دیا۔ آستان کے ثقافتی امور کا 20 سالہ ثقافتی چشمانداز (اسٹرٹیجی) تیار کرنا اس کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔[159] اس شورا میں حوزہ علمیہ اور یونیورسٹی کے برجستہ اساتذہ شامل ہین جنہوں نے 20 سالہ سٹرٹیجی بنانا، ذیلی ثقافتی اداروں کے اساسنامے کی منظوری اور مختلف اداروں کے درمیان یکسوئی پیدا کرنا ہے۔[160]

ثقافتی ذیلی ادارے
سنہ 1394شمسی کی ایک رپورٹ کے مطابق، آستانِ قدسِ رضوی کی ثقافتی سرگرمیاں پندرہ اداروں کے ذریعے انجام پاتی ہیں، جن میں درج ذیل ادارے شامل ہیں:[161]
سازمان کتابخانہہا، موزہہا و مرکز اسناد آستان قدس رضوی
یہ ادارہ (کتب خانے، عجائب گھر اور آستان قدس رضوی کے اسناد کا مرکز) سنہ 1377شمسی میں مرکزی کتاب خانہ، مرکزِ اسناد اور آستان کے عجائب گھروں کے ادغام سے تشکیل پائی۔[162] اس کا قدیمترین اور بنیادی حصہ کتابخانہ مرکزی آستان قدس رضوی ہے۔[163] اس کے دیگر شعبے میں معاونت امور کتابخانہہای وابستہ (وابستہ کتاب خانوں کے امور)، مدیریت اسناد و مطبوعات (اسناد اور مطبوعات کی مدیریت) اور معاونت امور موزہہا (عجائب گھروں کی مدیریت) شامل ہیں۔[164]
کتابخانہ کے حوالے سے یہ سازمان مرکزی لائبریری کے علاوہ اس سے مربوط مشہد میں 17 کتب خانے، ایران کے دیگر شہروں میں 21 کتابخانوں اور ہندوستان میں راجہ محمود آباد کے کتاب خانہ کے امور سنبھالتا ہے۔[165] راجہ محمود آباد کے کتب خانے کے علاوہ وزیری لائبریری، یزد میں مروج کتب خانہ، کرمان میں ہرندی کتب خانہ اور مسجد گوہر شاد لائبریری قابل ذکر ہیں۔[166]
موزہ (عجائب گھر) کے شعبے میں یہ سازمان مرکزی عجائب گھر کی مدیریت، شبعہ تحقیق، حقاظت اور ثقافتی آثار کی مرمت کے علاوہ 12 تخصصی گنجینہ جات کی مدیریت کرتی ہے،[167] جن میں: گنجینہ قرآن و نفایس، تاریخ حرم رضوی، موزہ فرش (قالینوں کا عجائب گھر)، تمبر و اسکناس (ڈاکخانہ ٹکٹیں اور کرنسی)، سکہ و مدال، (سکے اور میڈل) رہبر معظم کی طرف سے ہدیہ شدہ آثار، آبزیان، نجوم، ساعت (گھڑیاں)، ظروف، ہنرہای تجسمی (تجسمی ہنری آثار)، اور مردم شناسی شامل ہیں۔[168]

مؤسسہ کتابخانہ و موزہ ملی ملک
یہ مؤسسہ حسین ملک کی طرف سے آستان قدس رضوی کے لئے وقف کردہ کتابخانہ و موزہ کے انتظام کے لیے قائم کیا گیا ہے۔[169] کتابخانۂ ملی ملک، ایران کے سب سے بڑی اور قیمتی وقفی کتابخانوں میں شمار ہوتا ہے۔[170] اسی طرح موزۂ ملک میں نہایت نفیس مجموعے جیسے: نقاشی، سکہ، ٹکٹ، خوشنویسی، لاکی آثار اور دیگر تزئینی فنون شامل ہیں۔[171]
بنیاد پژوہشہای اسلامی
سنہ 1363شمسی میں آستانِ قدس رضوی نے اسلامی علوم و معارفِ اہل بیتؑ کی نشر و اشاعت کے لیے ایک ادارہ بنیاد پژوہشہای اسلامی (اسلامی تحقیقاتی ادارہ) کے نام سے قائم کیا۔[172] اس کے بنیادی اہداف میں علوم اسلامی و فقہی کی تحقیق، اسلامی علمی آثار کی احیا و نشر اور محققین کی تربیت شامل ہیں۔[173]
سنہ 1394شمسی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس ادارے میں 18 تحقیقی گروہ[174] شامل ہیں۔ سنہ 1390 شمسی تک یہ ادارہ 1100 سے زائد کتابیں شائع کر چکا تھا۔[175] آستان کا سالانہ کیلنڈر اور مشکات نامی فصلنامہ علمی-ترویجی بھی اسی ادارے کی اشاعت ہے۔[176]
دانشگاہ علوم اسلامی رضوی
یہ یونیورسٹی آستان قدس رضوی سے وابستہ اداروں میں سے ایک ہے جو سنہ 1363 شمسی میں حرمِ امام رضاؑ کے جوار میں قائم ہوئی۔[177] بعض لوگوں کے مطابق اسے علومِ اسلامی کی تعلیم و تربیت کے معتبر ترین مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔[178]
کہا جاتا ہے کہ اس یونیورسٹی کو اسلامی علوم میں کار آمد افراد کی تربیت کے غرض سے اس وقت کے متولی عباس واعظ طبسی کی کاوشوں سے بنائی گئی[179] اور ابتدا میں اس یونیورسٹی کی تعلیم حوزوی طرز پر تھی، لیکن بعد ڈگری کی ضرورت کے پیش نظر وزارتِ علوم نے 1374 شمسی میں تین رشتہ جات منظور کیے جن میں فلسفہ و کلام اسلامی، علوم قرآنی اور حقوق (قانون) شامل ہیں۔[180] سنہ 1386شمسی تک ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کی سطح پر اس کے شعبہ جات کی تعداد 8 تک پہنچ گئی۔[181]

مؤسسہ آفرینشہای ہنری
موسسہ آفرینش ہای ہنری (ہنری آثار کی تخلیق کا ادارہ) آستان قدس رضوی کے ثقافتی - ہنری ادارے کا ذیلی شعبہ ہے[182] جو سنہ 1369 شمسی میں ادب اور فنونِ کے فروغ کے لیے قائم ہوا اور ابتدا میں ادب، خط، نقاشی، عکاسی اور فیلم کے شعبوں میں کام شروع کیا۔[183] سنہ 1377 شمسی میں اسے مستقل مؤسسہ کا درجہ ملا۔[184]
اس کے بنیادی مقاصد میں فنون کے ذریعے معارفِ اہل بیتؑ کی ترویج اور اسلامی مقامات اور آستان قدس رضوی کے اسلامی معماری کی معرفی شامل ہیں۔[185] اسی طرح نوجوانوں کی فنی صلاحیتوں کی تربیت، مختلف فنون کی تربیت اور آستان کے موجودہ فنون کی سطح کو بلند کرنا اس ادارے کی دیگر فعالیتوں میں سے ہیں۔[186] اس کی سرگرمیوں میں رضوی ادبی انجمن کی تشکیل، مکتب ہنر رضوان کی تاسیس، نگارخانہ رضوان اور مجتمع فرہنگی امام خمینی بھی ان فعالیتوں میں شامل ہیں۔[187]
دانشگاہ امام رضاؑ

یہ پرائیویٹ یونیورسٹی غیر طبی اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے قائم ہوئی۔[188] اسے سنہ 1366 شمسی میں آستان قدس کے متولی عباس واعظ طبسی نے قائم کیا۔[189] سنہ 1393شمسی کی رپورٹ کے مطابق اس یونیورسٹی میں علوم انسانی و مدیریت، انجینئرینگ اور علوم حسابداری کی تین فیلکٹیاں موجود ہیں جس میں بیچلر، ماسٹر اور پیایچڈی سطح کی تعلیم دی جاتی ہے۔[190]
شرکت بہ نشر
سنہ 1365ش میں یہ کمپنی آستانِ قدس کے اداروں کی علمی و ثقافتی اشاعت اور ترویج و تقسیم کے لیے قائم کی گئی۔[191] اس کا مقصد کتاب دیگر ثقافتی چیزوں کی اشاعت، ایران اور بیرون ملک کتابوں کی خرید و فروخت اور ترسیل، کتب فروشی اور ثقافتی چیزوں کی خرید و فروخت کے سنٹر قائم کرنا ہے۔[192] سنہ 1384ش تک یہ کمپنی 1500 سے زائد کتابیں شائع کر چکی تھی اور کئی بار بہترین ناشر قرار پائی ہے۔[193]
معاونت تبلیغات و ارتباطات اسلامی

یہ ادارہ سنہ 1381ش میں زائرین کی معنوی ضروریات اور معارف اسلامی کی ترویج کے لیے قائم ہوا[194] جس میں چھے ذیلی شعبے؛ آموزش علوم قرآن و حدیث، دینی سوالات کا جواب، ثقافتی امور فارغ اوقات کو پُر کرنا،ارتباطات اسلامی اور غیر ایرانی زائرین کے امور، تبلیغات اسلامی اور مخصوص مناسبتیں، ساؤنڈ سسٹم، تصویری اور ڈیجیٹل خدمات شامل ہیں۔[195]
ادارہ تبلیغات اسلامی ان چھ اداروں کے ساتھ نماز جماعت، زیارت نامہ کی قرائت، مذہبی دستے، دعا و زیارت، تقریر، ذاکری، احکام کا بیان کرنا، اعتکاف اور نئے سال کا پروگرام تحویل سال نو وغیرہ کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔[196]
ادارہ صوتی-تصویری حرم کے مراسم اور تقاریر کی تصویری و صوتی کوریج، آرشیو، سافٹ وئیر اور ہارڈ وئیر کی تکثیر اور تکنیکی خدمات فراہم کرتی ہے۔[197]
مؤسسہ آستانہ حسین بن موسی الکاظمؑ و آرامگاہ شہید مدرس
یہ مؤسسہ طبس میں حسین بن موسی بن جعفرؑ کے آستانہ اور کاشمر میں سید حسن مدرس کے آرامگاہ کی مدیریت کے لیے قائم کیا گیا ہے۔[198] کہا گیا ہے کہ سنہ 1357ش کے طبس زلزلے کے بعد امام خمینی کے حکم سے آستانِ قدس نے آستانہ حسین بن موسیؑ کی دوبارہ سے تعمیر کرائی[199] جو 1363 شمسی میں مکمل ہوئی اور علاقائی متولی کے حوالے ہوا۔[200]
اسی طرح سید حسن مدرس کے آرامگاہ کی تعمیر 1367شمسی میں ہوئی۔ اور 1373شمسی میں دونوں مقامات کی مدیریت رہبر معظم کی موافقت سے آستانِ قدس کے سپرد ہوئی۔[201] اسی سبب سنہ 1376ش میں مؤسسہ آستانہ حسین بن موسی الکاظم(ع) و آرامگاہ سید حسن مدرس کے نام سے اسے ایک رسمی مؤسسہ کے طور پر ثبت کیا گیا جو آستان قدس رضوی کے ذیلی شعبوں میں شامل ہوا۔[202]
مؤسسۂ چاپ و انتشارات آستان قدس رضوی
مؤسسۂ چاپ و انتشارات آستان قدس رضوی سن 1362ش میں اس مقصد سے قائم ہوا کہ علمی و دینی آثار کی طباعت و نشر کرے اور آستانِ قدس کے وابستہ اداروں سمیت دیگر اداروں کو خدمات فراہم کرے۔[203] سنہ 1376شمسی میں اس کے انتشارات اور توزیع کے شعبے کو شرکت بہنشر کے سپرد کر دیا گیا اور اس کے بعد اس مؤسسہ کی سرگرمیاں صرف چھاپ (پرنٹنگ) تک محدود رہ گئیں۔[204]
بنیاد فرہنگی رضوی

بنیاد فرہنگی رضوی (تأسیس: مہر 1365شمسی) کا مقصد غیر انتفاعی تعلیمی مراکز قائم کرنا اور انہیں چلانا ہے تاکہ انسانی وسائل کی تربیت کے لیے مناسب تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔[205] سنہ 1393شمسی کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس بنیاد نے 12 تعلیمی یونٹ قائم کیے تھے جو مجموعی 34624 مربع میٹر کے رقبے پر مشتمل ہیں، اور یہ ادارے پرائمری سے لے کر ہائی سکول تک تعلیمی خدمات فراہم کرتے ہیں۔[206]
مؤسسۂ خدمات مشاورہای، جوانان و پژوہشہای اجتماعی
یہ مؤسسہ سنہ 1376ش میں اس مقصد سے قائم ہوا کہ نوجوانوں کی دینی، سماجی اور سیاسی آگاہی میں اضافہ کرے اور ان کے مسائل کا مطالعہ اور حل فراہم کرے۔[207] اس کے دیگر اہم فرائض میں آستان قدس رضوی کی خدمات کے بارے میں عوامی رائے عامہ کا سروے کرنا بھی شامل ہے۔[208]
مؤسسۂ فرہنگی قدس
یہ مؤسسہ روزنامۂ قدس اور ماہنامۂ بینالمللی زائر کو چھاپنے کا ذمہ دار ہے۔[209] یہ ادارہ سن 1366ش میں اس مقصد سے قائم ہوا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ثقافتی میدان میں کام کرے اور عوام کی عقیدتی، سیاسی، سماجی اور ثقافتی بصیرت کو نشریات کے ذریعے بہتر بنائے۔[210] روزنامۂ قدس کا پہلا شمارہ 28 آذر 1366 کو صوبۂ خراسان میں شائع ہوا اور سنہ 1375ش میں یہ ایران کے کثیر الانتشار اخباروں میں شامل ہو گیا۔[211] ماہنامۂ زائر کا آغاز سنہ 1373 شمسی میں ہوا۔[212]
مؤسسۂ تربیت بدنی آستان قدس رضوی

یہ مؤسسہ سنہ 1373ش میں جسمانی و روحانی صحت کے فروغ اور آستان کے کارکنان و عوام کے لیے کھیلوں کی سرگرمیوں کی توسیع کے لیے قائم ہوا۔[213] اس کے اہم فرائض میں اسپورٹس انفراسٹرکچر کی تعمیر اور ثقافتی-ورزشی پروگراموں کا انعقاد شامل ہے۔[214] سنہ 1393شمسی تک اس مؤسسہ نے 20 ہزار مربع میٹر اسپورٹس اسپیس قائم کیا اور جدید سہولیات فراہم کیں اور 28 کھیلوں میں سرگرمی کی سہولت پیدا کی۔[215] اس کے اہم منصوبوں میں ورزشگاہ امام رضاؑ (امام رضا سپورٹس کلب) کی تعمیر شامل ہے۔[216]
مرکز آموزش ضمنخدمت کارکنان آستان قدس رضوی
یہ مرکز سنہ 1365 شمسی میں آستانِ قدس کے ملازمین کی دینی، علمی اور فنی تربیت کے لیے قائم ہوا جس کا مقصد ملازمین کی شغلی ضررویات کو پورا کرنا اور مہارتوں کو سکھانا تھا۔[217] اس کے اہم کام میں بیچلر، ماسٹر اور ایم فل سطح کے طول مدتی کورسز کا قیام اور خادمینِ حرم کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام شامل ہیں۔[218]
موقوفاتِ آستان قدس رضوی
موقوفاتِ حرم امام رضاؑ وہ منقول اور غیر منقول اموال ہیں جو حرمِ مطہر کے لیے وقف کیے گئے اور آستان قدس کی تولیت کے تحت چلائے جاتے ہیں۔[219] آستان قدس رضوی کو دنیا کے بڑے موقوفاتی اداروں میں شمار کیا جاتا ہے جو صدیوں سے امام رضاؑ کے چاہنے والوں کے وقف شدہ اموال سے تشکیل پایا ہے۔[220]
عطاردی کے مطابق حرم رضاؑ کے لئے وقف کی ابتدا یقین سے معلوم نہیں،[221] مگر بعض شواہد اسے چوتھی صدی ہجری تک لے جاتے ہیں۔[222] بعض تاریخی مآخذ میں مختلف ادوار کے موقوفات اور ان کے انتظام کا تذکرہ موجود ہے۔[223] سنہ 1383 شمسی سے موقوفات کے انتظام کی ذمہ داری معاونت امور حقوقی و موقوفات آستان قدس رضوی کے سپرد ہے۔[224]
غیر منقول موقوفات ایران کے مختلف علاقوں،[225] خراسان، پاکستان، ہندوستان اور قفقاز[226] کے مختلف علاقوں تک پھیلے ہوئے ہیں، جن میں سے بعض زمانے کے ساتھ ساتھ ختم بھی ہو گئے ہیں۔[227] ایران کے تاجر اور واقف (وقف کرنے والا) حسین ملک (وفات: 1351ش) کے موقوفات حرم امام رضاؑ کا سب سے بڑا وقف شمار کیا جاتا ہے۔[228] یہ وقف 1316–1340شمسی کے درمیان سات مرحلوں میں کتابخانہ، اموال اور املاک وقف کرنے سے تشکیل پایا ہے۔[229]

اقتصادی سرگرمیاں
بعض مآخذ کے مطابق آستان قدس رضوی اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے وسیع اقتصادی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔[230] کہا گیا ہے کہ یہ سرگرمیاں تجارتی و تولیدی سرمایہ کاری، کمپنیوں کی تأسیس اور صوبے سے باہر کے منصوبوں میں مشارکت کی صورت میں انجام پاتی ہیں تاکہ مذہبی، ثقافتی اور اجتماعی امور کے اخراجات پورے ہوجائے۔[231]
بعض مآخذ کے مطابق سنہ 1377 شمسی میں سازمان اقتصادی رضوی کی بنیاد رکھی گئی تاکہ آستان قدس کے زیر نظر اقتصادی کمپنیوں، ادارے اور ذیلی اداروں کی اقتصادی سرگرمیوں میں نظم و نسق قائم ہو۔[232] اقتصادی سرگرمیوں کو ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں سے الگ کرنے کا مقصد موازیکاری کا خاتمہ، اختیارات کی سپردگی، وسائل کا بہتر استعمال، موقوفات کا احیاء اور ان سے درست استفادہ کرنا اس ادارے کی اہم ذمہ داریوں میں سے ہیں۔[233]
کہا جاتا ہے کہ اس ادارے کی اقتصادی سرگرمیاں، خدمات، صنعت و معدنیات اور زراعت اور عمرانیات میں ہیں۔[234] وسیع سرمایہ گزاری اور اقتصادی سرگرمیوں کو تخصص کرنا اس ادارے کی اہم اسٹرٹیجز میں شامل ہے۔[235] سنہ 1394 شمسی کے ایک سروے کے مطابق84 کمپنیاں و مؤسسات اس ادارے کے زیر نظر کام کرتی ہیں ان میں سے23 میں 50% سے زیادہ حصص اور 21 میں 50% سے کم شیئر اس ادارے کے ہیں۔[236] جبکہ 12 ہزار سے زائد افراد براہِ راست یا بالواسطہ ملازم ہیں اور ان کمپنیوں میں کام کرتے ہیں۔[237]

آستان قدس رضوی کے زیر اہتمام چلنے والے اہم اقتصادی ادارے درج ذیل ہیں:
- کارخانۂ قند آبکوہ (تأسیس: 1313ش)
- شرکت نان رضوی (تأسیس: 1346ش)
- شرکت فرآوردہای غذایی رضوی (تأسیس: 1351ش)
- شرکت فرش آستان قدس رضوی (تأسیس: 1360ش)
- شرکت مسکن و عمران قدس رضوی (تأسیس: 1362ش)
- شرکت داروسازی ثامن (تأسیس: 1363ش)
- شرکت مہندسی آب و خاک قدس رضوی (تأسیس: 1371ش)
- سازمان باغات آستان قدس رضوی (تأسیس: 1372ش)
- شرکت مہندسان مشاور معماری و شہرسازی آستان قدس رضوی (تأسیس: 1373ش)
- شرکت کشاورزی رضوی (تأسیس: 1374ش)
- مؤسسۂ منطقۂ ویژۂ اقتصادی سرخس (تأسیس: 1375ش)
- شرکت بتن و ماشین قدس رضوی (تأسیس: 1376ش)
- شرکت فناوری اطلاعات و ارتباطات رضوی (تأسیس: 1377ش)
- شرکت پخش رضوی (تأسیس: 1384ش)
- شرکت نفت و گاز رضوی (تأسیس: 1386ش).[238]

حوالہ جات
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص71۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص71۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1371شمسی، ج2، ص694-695۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1371شمسی، ج2، ص695۔
- ↑ خانیکوف، سفرنامہ خانیکوف، 1375شمسی، ص111۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص71۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص71۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص71۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص55۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1348شمسی، ص254۔
- ↑ صدوق، عیون اخبار الرضا، انتشارات جہان، ج2، ص280۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص40۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص40۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1348شمسی، ص224؛ حسنآبادی و یحیایی، «تولیت»، ص312۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص72؛ فضلاللہ بن روزبہان خنجی، مہمانخانہ بخارا، 1355شمسی، ص339-340، 346۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص72۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص72-73۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص72-73۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص73۔
- ↑ حسنآبادی، «نگاہی کوتاہ بہ تاریخچہ تشکیلات اداری اماکن متبرکہ»، ص104۔
- ↑ میرزا رفیعا، دستورالملوک، 1385شمسی، ص175-177۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص42۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1348شمسی، ص257؛ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص42-43۔
- ↑ سپہر، ناسخ التواریخ، 1351شمسی، ج1، ص83۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1354شمسی، ص106-108۔
- ↑ ہدایت، تاریخ روضة الصفای ناصری، 1380شمسی، ج10، ص8257۔
- ↑ ہدایت، تاریخ روضة الصفای ناصری، 1380شمسی، ج10، ص8369-8371۔
- ↑ نقدی، تاریخ و تشکیلات آستان قدس رضوی در عصر قاجار، 1399شمسی، ص68۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1371شمسی، ج2، ص603-606۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص43۔
- ↑ حکیم الممالک، روزنامہ سفر خراسان، 1356شمسی، ص194۔
- ↑ حسنآبادی، «نگاہی کوتاہ بہ تاریخچہ تشکیلات اداری اماکن متبرکہ»، ص110-119۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص46۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص54۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1348شمسی، ص263۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص76۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1354شمسی، ص439۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1348شمسی، ص267۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1348شمسی، ص267۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص55۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص55۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1348شمسی، ص268۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص55۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص55۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1348شمسی، ص304۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1354شمسی، ص585-587۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1354شمسی، ص585-587۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص55۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص71۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص76۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص76۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص76۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص76۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص77۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص77۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص77۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص77۔
- ↑ نقدی، تاریخ و تشکیلات آستان قدس رضوی در عصر قاجار، 1399شمسی، ص370۔
- ↑ نقدی، تاریخ و تشکیلات آستان قدس رضوی در عصر قاجار، 1399شمسی، ص370۔
- ↑ فیض، بدر فروزان، 1324شمسی، ص443۔
- ↑ حسینی، «خدمہ»، ص380۔
- ↑ حسینی، «خدمہ»، ص380۔
- ↑ صدوق، عیون اخبار الرضا، انتشارات جہان، ج2، ص280؛ فضلاللہ بن روزبہان خنجی، مہمانخانہ بخارا، 1355شمسی، ص346۔
- ↑ حسینی، «خدمہ»، ص380۔
- ↑ ناصرالدین شاہ قاجار، سفرنامہ خراسان، 1361شمسی، ص174-177۔
- ↑ حسینی، «خدمہ»، ص382۔
- ↑ حسینی، «خدمہ»، ص382۔
- ↑ در این قطعہ از بہشت، 1397شمسی، ص211۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص44-45۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص47۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص47۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص47۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1371شمسی، ج1، ص325-326۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1371شمسی، ج1، ص325-326۔
- ↑ حسنآبادی، «کشیک»، ص359۔
- ↑ حسنآبادی، «کشیک»، ص359۔
- ↑ حسنآبادی، «کشیک»، ص359۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمس الشموس...، 1354شمسی، ص375۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1354شمسی، ص375–382۔
- ↑ حسنآبادی، «کشیک»، ص360۔
- ↑ حسنآبادی، «کشیک»، ص360۔
- ↑ حسنآبادی، «کشیک»، ص360۔
- ↑ حسنآبادی، «کشیک»، ص361۔
- ↑ حسنآبادی، «کشیک»، ص361۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1354شمسی، ص375۔
- ↑ حسنآبادی، «کشیک»، ص361۔
- ↑ حسنآبادی، «کشیک»، ص361۔
- ↑ نادری، «تشریفات»، ص296۔
- ↑ فضلاللہ بن روزبہان خنجی، مہمانخانہ بخارا، 1355شمسی، ص346۔
- ↑ نادری، «تشریفات»، ص296۔
- ↑ نادری، «تشریفات»، ص296۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1354شمسی، ص362۔
- ↑ نادری، «تشریفات»، ص296۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1371شمسی، ج2، ص497؛ قصابیان، «دارالشفاء»، ص443؛ «معرفی دارالشفاء امام رضا (ع)»، سایت مؤسسہ درمانی آستان قدس رضوی۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1348شمسی، ص403؛ قصابیان، «دارالشفاء»، ص445
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1371شمسی، ج2، ص504؛ قصابیان، «دارالشفاء»، ص446
- ↑ قصابیان، «دارالشفاء»، ص443
- ↑ قصابیان، «دارالشفاء»، ص446
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1371شمسی، ج2، ص514-515؛ قصابیان، «دارالشفاء»، ص446۔
- ↑ قصابیان، «دارالشفاء»، ص446۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی بہ روایت تاریخ، 1395شمسی، ص168-169۔
- ↑ سوزنچی کاشانی، «مہمانسرا»، ص571۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص53۔
- ↑ سوزنچی کاشانی، «مہمانسرا»، ص571۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1348شمسی، ص416۔
- ↑ سوزنچی کاشانی، «مہمانسرا»، ص573۔
- ↑ سوزنچی کاشانی، «مہمانسرا»، ص576؛ عالمزادہ، حرم رضوی بہ روایت تاریخ، 1395شمسی، ص171۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی بہ روایت تاریخ، 1395شمسی، ص170۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی بہ روایت تاریخ، 1395شمسی، ص170-171۔
- ↑ فخاری، «آگاہی حرم مطہر، ادارہ»، ص69۔
- ↑ فخاری، «آگاہی حرم مطہر، ادارہ»، ص69۔
- ↑ فخاری، «آگاہی حرم مطہر، ادارہ»، ص69۔
- ↑ فخاری، «آگاہی حرم مطہر، ادارہ»، ص69۔
- ↑ فخاری، «آگاہی حرم مطہر، ادارہ»، ص69۔
- ↑ داوطلب، «امداد آستان قدس رضوی، مؤسسہ»، ص142۔
- ↑ داوطلب، «امداد آستان قدس رضوی، مؤسسہ»، ص142۔
- ↑ داوطلب، «امداد آستان قدس رضوی، مؤسسہ»، ص142۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص79-84۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص79۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص79۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص79۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص79-80۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص80۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص80۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص۸۰۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص80۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص80۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص80۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 1385شمسی، ص88-135۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص80۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص80۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص81۔
- ↑ جہانپور، تاریخچہ مکتبخانہہا و مدارس قدیم آستان قدس رضوی، ص142۔
- ↑ جهانپور، تاریخچه مکتبخانهها و مدارس قدیم آستان قدس رضوی، ص۱۴۲.
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص81۔
- ↑ احتشام کاویانیان، شمسالشموس...، 1354شمسی، ص315۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص81۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص81۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص81۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص82۔
- ↑ ارشادسرابی، «نامۂ آستان قدس، مجلہ»، ص592۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1348شمسی، ص210۔
- ↑ راہجیری، تذکرہ خوشنویسان معاصر، 1346شمسی، ج1، ص143۔
- ↑ پیرنیا، گذر عمر، 1382شمسی، ص333-334۔
- ↑ پیرنیا، گذر عمر، 1382شمسی، ص334۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص83۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص83۔
- ↑ پیرنیا، گذر عمر، 1382شمسی، ص338-341۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص83۔
- ↑ پیرنیا، گذر عمر، 1382شمسی، ص342۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص83۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص83۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص84۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص84۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص83۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص83۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص84۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص84۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص84۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص85۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص85۔
- ↑ رداد، «کتابخانہہا، موزہہا و مرکز اسناد آستان قدس رضوی»، ص317۔
- ↑ رداد، «کتابخانہہا، موزہہا و مرکز اسناد آستان قدس رضوی»، ص317۔
- ↑ رداد، «کتابخانہہا، موزہہا و مرکز اسناد آستان قدس رضوی»، ص317۔
- ↑ طاہر چہارجوی، «کتابخانہہای وابستۂ آستان قدس رضوی»، ص317۔
- ↑ طاہر چہارجوی، «کتابخانہہای وابستۂ آستان قدس رضوی»، ص319۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص89۔
- ↑ کفیلی، «موزہہای آستان قدس رضوی»، ص549-554۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص71۔
- ↑ مرتضوی، «کتابخانہ و موزۂ ملی ملک»، ص314۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص71۔
- ↑ بنیاد پژوہشہای اسلامی، کتابنامہ بنیاد پژوہشہای اسلامی، 1386شمسی، ص7؛ آژیر، «بنیاد پژوہشہای اسلامی»، ص217۔
- ↑ بنیاد پژوہشہای اسلامی، کتابنامہ بنیاد پژوہشہای اسلامی، 1386شمسی، ص7۔
- ↑ نقدی، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، ص85۔
- ↑ آژیر، «بنیاد پژوہشہای اسلامی»، ص218۔
- ↑ آژیر، «بنیاد پژوہشہای اسلامی»، ص218۔
- ↑ عالمزادہ، حرم رضوی بہ روایت تاریخ، 1395شمسی، ص163۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 1385شمسی، ج1، ص379۔
- ↑ پسندیدہ، حوزہ علمیہ خراسان، 1385شمسی، ج1، ص379-380۔
- ↑ خاوری، «دانشگاہ علوم اسلامی رضوی»، ص463۔
- ↑ خاوری، «دانشگاہ علوم اسلامی رضوی»، ص463۔
- ↑ ایزانلو، «آفرینشہای ہنری، مؤسسہ»، ص65۔
- ↑ ایزانلو، «آفرینشہای ہنری، مؤسسہ»، ص65۔
- ↑ ایزانلو، «آفرینشہای ہنری، مؤسسہ»، ص65۔
- ↑ ایزانلو، «آفرینشہای ہنری، مؤسسہ»، ص65۔
- ↑ ایزانلو، «آفرینشہای ہنری، مؤسسہ»، ص65۔
- ↑ ایزانلو، «آفرینشہای ہنری، مؤسسہ»، ص65-66۔
- ↑ رداد، «دانشگاہ امام رضا»، ص462۔
- ↑ رداد، «دانشگاہ امام رضا»، ص462۔
- ↑ رداد، «دانشگاہ امام رضا»، ص462۔
- ↑ عربزادہ، «بہنشر، شرکت»، ص228۔
- ↑ عربزادہ، «بہنشر، شرکت»، ص228۔
- ↑ عربزادہ، «بہنشر، شرکت»، ص228۔
- ↑ خوراکیان، «تبلیغات و ارتباطات اسلامی، معاونت»، ص281۔
- ↑ خوراکیان، «تبلیغات و ارتباطات اسلامی، معاونت»، ص281۔
- ↑ خوراکیان، «تبلیغات و ارتباطات اسلامی، معاونت»، ص281۔
- ↑ خوراکیان، «تبلیغات و ارتباطات اسلامی، معاونت»، ص281۔
- ↑ اخوان مہدوی، «آستانۂ حسین بن موسی الکاظم(ع) و آرامگاہ شہید مدرس، مؤسسہ»، ص58۔
- ↑ اخوان مہدوی، «آستانۂ حسین بن موسی الکاظم(ع) و آرامگاہ شہید مدرس، مؤسسہ»، ص58۔
- ↑ اخوان مہدوی، «آستانۂ حسین بن موسی الکاظم(ع) و آرامگاہ شہید مدرس، مؤسسہ»، ص58۔
- ↑ اخوان مہدوی، «آستانۂ حسین بن موسی الکاظم(ع) و آرامگاہ شہید مدرس، مؤسسہ»، ص58۔
- ↑ اخوان مہدوی، «آستانۂ حسین بن موسی الکاظم(ع) و آرامگاہ شہید مدرس، مؤسسہ»، ص58۔
- ↑ طاہر چہارجوی، «چاپ و انتشارات آستان قدس رضوی»، ص325۔
- ↑ طاہر چہارجوی، «چاپ و انتشارات آستان قدس رضوی»، ص325۔
- ↑ عربزادہ، «بنیاد فرہنگی رضوی»، ص220۔
- ↑ عربزادہ، «بنیاد فرہنگی رضوی»، ص220۔
- ↑ محمدزادۂ مقدم، «خدمات مشاورہای، جوانان و پژوہشہای اجتماعی، مؤسسہ»، ص379۔
- ↑ محمدزادۂ مقدم، «خدمات مشاورہای، جوانان و پژوہشہای اجتماعی، مؤسسہ»، ص379۔
- ↑ جوشقانی، «قدس، مؤسسہ فرہنگی»، ص210۔
- ↑ جوشقانی، «قدس، مؤسسہ فرہنگی»، ص210۔
- ↑ جوشقانی، «قدس، مؤسسہ فرہنگی»، ص210-211۔
- ↑ جوشقانی، «قدس، مؤسسہ فرہنگی»، ص211۔
- ↑ غلامی، «مؤسسۂ تربیت بدنی آستان قدس رضوی»، ص292۔
- ↑ غلامی، «مؤسسۂ تربیت بدنی آستان قدس رضوی»، ص292۔
- ↑ غلامی، «مؤسسۂ تربیت بدنی آستان قدس رضوی»، ص292۔
- ↑ غلامی، «مؤسسۂ تربیت بدنی آستان قدس رضوی»، ص292۔
- ↑ عربزادہ، «آموزش ضمن خدمت کارکنان آستان قدس رضوی، مرکز»، ص71۔
- ↑ عربزادہ، «آموزش ضمن خدمت کارکنان آستان قدس رضوی، مرکز»، ص71۔
- ↑ نقدی و ایزدی، «موقوفات»، ص556؛ نقدی و ایزدی، «موقوفات»، ص561۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1371شمسی، ج2، ص554؛ نقدی و ایزدی، «موقوفات»، ص556۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1371شمسی، ج2، ص554۔
- ↑ نقدی و ایزدی، «موقوفات»، ص556۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1348شمسی، ص334-350؛ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1371شمسی، ج2، ص553-626؛ نقدی و ایزدی، «موقوفات»، ص561۔
- ↑ نقدی و ایزدی، «موقوفات»، ص561۔
- ↑ مؤتمن، راہنما، 1348شمسی، ص334۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1371شمسی، ج2، ص555۔
- ↑ عطاردی، تاریخ آستان قدس رضوی، 1371شمسی، ج2، ص555-556۔
- ↑ مرتضوی، «موقوفات ملک، سازمان»، ص562۔
- ↑ مرتضوی، «موقوفات ملک، سازمان»، ص562-563۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص78۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص78۔
- ↑ عزیزیان، «اقتصادی رضوی، سازمان»، ص120۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص78-79۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص79۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص79۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص79۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص79۔
- ↑ نعمتی، «آستان قدس رضوی»، ص79۔
مآخذ
- آزاد، اسداللہ، «تاریخ آستان قدس رضوی»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- آزاد، اسداللہ، «آستان قدس رضوی؛ دیروز و امروز، کتاب»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- آژیر، حمیدرضا، «بنیاد پژوہشہای اسلامی»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- احتشام کاویانیان، محمد، شمسالشموس یا انیسالنفوس (تاریخ آستان قدس)، مشہد، بینا، 1354ہجری شمسی۔
- اخوان مہدوی، علی، «آستانۂ حسین بن موسی الکاظم(ع) و آرامگاہ شہید مدرس، مؤسسہ»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- ارشادسرابی، اصغر، «نامۂ آستان قدس، مجلہ»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج2: ش-ی)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1399ہجری شمسی۔
- ایزانلو، رمضانعلی، «آفرینشہای ہنری، مؤسسہ»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- بنیاد پژوہشہای اسلامی، کتابنامہ بنیاد پژوہشہای اسلامی، مشہد: بنياد پژوہشہای اسلامی آستان قدس رضوی، 1386ہجری شمسی۔
- پسندیدہ، محمود، حوزہ علمیہ خراسان، مشہد، بنیاد پژوہشہای اسلامی آستان قدس رضوی، 1385ہجری شمسی۔
- پیرنیا، باقر، گذر عمر (خاطرات سیاسی باقر پیرنیا)، تہران، انتشارات کویر، 1382ہجری شمسی۔
- جوشقانی، محمدمہدی، «قدس، مؤسسہ فرہنگی»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج2: ش-ی)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1399ہجری شمسی۔
- جہانپور، فاطمہ، تاریخچۂ مکتبخانہہا و مدارس قدیم آستان قدس رضوی با تکیہ بر اسناد (صفویۂ تا قاجاریہ)، مشہد، سازمان کتابخانہہا، موزہہا و مرکز اسناد آستان قدس رضوی، 1387ہجری شمسی۔
- حسنآبادی، ابوالفضل و علی یحیایی، «تولیت»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- حسنآبادی، ابوالفضل، «کشیک»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج2: ش-ی)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1399ہجری شمسی۔
- حسنآبادی، ابوالفضل، «نگاہی کوتاہ بہ تاریخچہ تشکیلات اداری اماکن متبرکہ»، در نشریہ مشکوة، شمارہ 90، خرداد 1385ہجری شمسی۔
- حسینی، سید حسن، «خدمہ»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- حکیمالممالک، علینقی، روزنامہ سفر خراسان، تہران، انتشارات فرہنگ ایرانزمین، 1356ہجری شمسی۔
- خانیکوف، نیکولای ولادیمیروویچ، سفرنامہ خانیکوف (گزارش سفر بہ بخش جنوبی آسیای مرکزی)، ترجمہ اقدس یغمایی و ابوالقاسم بیگناہ، مشہد، مؤسسہ چاپ و انتشارات آستان قدس رضوی، 1375ہجری شمسی۔
- خاوری، یعقوب، «دانشگاہ علوم اسلامی رضوی»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- خوراکیان، امیر، «تبلیغات و ارتباطات اسلامی، معاونت»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- داوطلب، «امداد آستان قدس رضوی، مؤسسہ»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- در این قطعہ از بہشت (راہنمای خادمان و زائران امام رضا)، مشہد، مؤسسہ چاپ و انتشارات آستان قدس رضوی، 1397ہجری شمسی۔
- راہجیری، علی، تذکرہ خوشنویسان معاصر، تہران، مؤسسہ انتشارات امیرکبیر، 1346ہجری شمسی۔
- رداد، ایرج، «دانشگاہ امام رضا»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- رداد، ایرج، «کتابخانہہا، موزہہا و مرکز اسناد آستان قدس رضوی»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج2: ش-ی)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1399ہجری شمسی۔
- سپہر، محمدتقی بن محمدعلی، ناسخ التواریخ (سلاطین قاجاریہ)، تحقیق محمدباقر بہبودی، قم، مؤسسۂ مطبوعاتی دینی، 1351ہجری شمسی۔
- سوزنچی کاشانی، علی، «مہمانسرا»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج2: ش-ی)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1399ہجری شمسی۔
- سوہانیان حقیقی، محمد، و اصغر ارشادسرابی، «آشنایی با دائرةالمعارف آستان قدس رضوی بنیاد پژوہشہای اسلامی»، در آینۂ پژوہش، شمارۂ 96، بہمن و اسفند 1384ہجری شمسی۔
- صدوق، علی بن محمد، عیون اخبار الرضا، تحقیق مہدی لاجوردی، تہران، انتشارات جہان، بیتا.
- طاہر چہارجوی، محمد، «چاپ و انتشارات آستان قدس رضوی»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- طاہر چہارجوی، محمد، «کتابخانہہای وابستۂ آستان قدس رضوی»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج2: ش-ی)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1399ہجری شمسی۔
- عالمزادہ، بزرگ، حرم رضوی بہ روایت تاریخ، مشہد، بہنشر (انتشارات آستان قدس رضوی)، 1395ہجری شمسی۔
- عربزادہ، محمد، «بنیاد فرہنگی رضوی»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- عربزادہ، محمد، «بہنشر، شرکت»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- عربزادہ، محمد، «آموزش ضمن خدمت کارکنان آستان قدس رضوی، مرکز»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- عزیزیان، مہدی، «اقتصادی رضوی، سازمان»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- عطاردی، عزیزاللہ، تاریخ آستان قدس رضوی، تہران، سازمان چاپ و انتشارات وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی و انتشارات عطارد، 1371ہجری شمسی۔
- علیزادہ، حسین، «انقلاب اسلامی در آستان قدس رضوی»، در دانشنامہ امام رضا(ع) (ج2: احمد بن موسی بن سعد-ایوب بن یقطین)، قم، مرکز بین المللی ترجمہ و نشر المصطفی، 1396ہجری شمسی۔
- غلامی، زینب، «مؤسسۂ تربیت بدنی آستان قدس رضوی»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- فخاری، حسین، «آگاہی حرم مطہر، ادارہ»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- فضلاللہ بن روزبہان خنجی، مہمانخانہ بخارا (تاریخ پادشاہی محمد شیبانی)، تحقیق محمد ستودہ، تہران، بنگاہ ترجمہ و نشر کتاب، 1355ہجری شمسی۔
- فیض، عباس، بدر فروزان (تاریخ آستانہ قدس رضوی)، قم، بنگاہ چاپ قم، 1324ہجری شمسی۔
- قصابیان، محمدرضا، «دارالشفاء»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- کفیلی، حشمت، «موزہہای آستان قدس رضوی»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج2: ش-ی)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1399ہجری شمسی۔
- مؤتمن، علی، راہنما یا تاریخ آستان قدس رضوی، تہران، بینا، 1348ہجری شمسی۔
- محمدزادۂ مقدم، جواد، «خدمات مشاورہای، جوانان و پژوہشہای اجتماعی، مؤسسہ»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- مرتضوی، مرضیہ، «کتابخانہ و موزۂ ملی ملک»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج2: ش-ی)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1399ہجری شمسی۔
- مرتضوی، مرضیہ، «موقوفات ملک، سازمان»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج2: ش-ی)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1399ہجری شمسی۔
- «معرفی دارالشفاء امام رضا(ع)»، سایت مؤسسۂ درمانی آستان قدس رضوی، تاریخ مشاہدہ: 15 شہریور 1404ہجری شمسی۔
- میرزا رفیعا، محمدرفیع بن حسن، دستورالملوک میرزا رفیعا، محمداسماعیل مارتسینکووسکی، تہران، مرکز چاپ و انتشارات وزارت امور خارجہ، 1385ہجری شمسی۔
- نادری، فرجاللہ، «تشریفات»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- ناصرالدینشاہ قاجار، سفرنامہ خراسان، بہ خط میرزا محمدرضا کلہر، تہران، انتشارات بابک، 1361ہجری شمسی۔
- نعمتی، بہزاد، «آستان قدس رضوی»، در دانشنامہ امام رضا(ع) (ج1: آب-احمد بن موسی)، قم، مرکز بین المللی ترجمہ و نشر المصطفی، 1394ہجری شمسی۔
- نقدی، رضا، و صابر ایزدی، «موقوفات»، در دائرة المعارف آستان قدس رضوی (ج2: ش-ی)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1399ہجری شمسی۔
- نقدی، رضا، «آستان قدس رضوی، پیشینہ و تشکیلات»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج1: آ-س)، مشہد، بنیاد پژوہشہای آستان قدس رضوی، 1393ہجری شمسی۔
- نقدی، رضا، تاریخ و تشکیلات آستان قدس رضوی در عصر قاجار، مشہد، بنیاد پژوہشہای اسلامی آستان قدس رضوی، 1399ہجری شمسی۔
- ہدایت، رضاقلیخان، تاریخ روضة الصفای ناصری، تحقیق جمشید کیانفر، تہران، انتشارات اساطیر، 1380ہجری شمسی۔