مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:دشمن کو اسلحہ فروخت کرنا

ویکی شیعہ سے

دشمن کو اسلحہ فروخت کرنے سے مراد دین کے دشمنوں، ظالموں اور مفسد فی الارض کو کسی بھی قسم کا جنگی ہتھیار فراہم کرنا ہے۔ شیعہ فقہاء کے مشہور نظریے کے مطابق جنگ کے زمانے میں دشمن کو اسلحہ فروخت کرنا شرعی لحاظ سے حرام اور امن کے زمانے میں جائز ہے۔ تاہم تمام فقہاء اس نظریے کو قبول نہیں کرتے۔ بعض فقہاء دشمن کو اسلحہ فروخت کرنا ہر صورت میں حرام قرار سمجھتے ہیں، جبکہ بعض کا نظریہ ہے کہ اس کی حرمت اس وقت ہے جب اسلامی معاشرہ جنگ کی حالت میں ہو اور اسلحہ کی فروخت سے دشمن کو تقویت ملتی ہو۔

بانی انقلاب اسلامی ایران امام خمینی اس مسئلے کو حکومتی امور میں سے اور ہر زمانے میں مسلمانوں کی مصلحت سے وابستہ قرار دیتے ہیں۔ اس بنا پر بعض خاص حالات میں غیر مسلموں کے کسی گروہ کو اسلحہ فروخت کرنا، بلکہ مفت اسلحہ فراہم کرنا بھی جائز یا واجب ہوسکتا ہے؛ مثلاً جب اسلامی سرزمینوں سے دشمن کا مقابلہ صرف اسی گروہ کو مسلح کرنے کے ذریعے ممکن ہو۔

تعارف اور فقہی حیثیت

دشمن کو اسلحہ فروخت کرنے کا مسئلہ ایک فقہی مسئلہ ہے[1] جس پر ابوابِ فقہ کے بابِ تجارت میں بحث کی گئی ہے۔[2] بعض منابع، جیسے شرایع الاسلام اور کتاب المکاسب میں اسے ایسی چیزوں کی خرید و فروخت کے ضمن میں بیان کیا گیا ہے جنہیں حرام مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے،[3] جبکہ بعض دیگر کتب، مثلاً اللمعۃ الدمشقیۃ میں اسے حرام معاملات کے تحت بیان کیا گیا ہے۔[4]

اسلحہ اور دشمن سے مراد

فقہاء کے نزدیک دشمن سے مراد دین کے دشمن ہیں؛ خواہ وہ کافر ہوں یا مسلمان۔[5] بعض فقہاء نے ظالموں اور زمین میں فساد پھیلانے والوں، جیسے چوروں اور رہزنوں کو بھی اسلحہ فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔[6]

اسلحہ سے مراد ہر وہ جنگی ہتھیار ہے جو جنگ یا دفاع میں مؤثر طور پر استعمال ہوتا ہے۔[7] زمانے کے ساتھ جنگی ہتھیاروں میں ترقی اور تبدیلی آتی رہتی ہے اور اس تبدیلی کا فقہی حکم پر بھی اثر پڑتا ہے۔ مثلاً ایسے قدیم ہتھیار جو اب جنگ میں استعمال نہیں ہوتے اور صرف نوادرات یا زینتی اشیاء کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، انہیں دشمنانِ دین کو فروخت کرنا جائز ہے۔[8]

دشمن کو اسلحہ فروخت کرنے کے بارے میں فقہاء کے نظریات

مشہور شیعہ فقہاء کا نظریہ یہ ہے کہ جنگ کے زمانے میں دشمن کو اسلحہ فروخت کرنا حرام اور امن کے زمانے میں جائز ہے۔[9] اس کے علاوہ درج ذیل نظریات بھی بیان ہوئے ہیں:

  1. اگر مسلمانوں اور کفار کے درمیان صلح ناپید ہو تو دشمن کو اسلحہ فروخت کرنا حرام ہے۔
  2. دشمنانِ دین کو جنگ اور امن دونوں صورتوں میں اسلحہ فروخت کرنا حرام ہے۔
  3. دشمن کو اسلحہ فروخت کرنا اس صورت میں حرام ہے جب اس کا مقصد کفار کو تقویت دینا ہو یا یہ کام جنگ کے زمانے میں انجام پائے۔
  4. مشرکین اور کفار کو ہر حالت میں اسلحہ فروخت کرنا حرام ہے، لیکن شیعہ مخالف مسلمانوں کو جنگ کے زمانے میں اسلحہ فروخت کرنا ممنوع اور امن کے زمانے میں جائز ہے۔[10]

دشمن کو اسلحہ فروخت کرنے کے حکم کے دلائل

فقہاء نے دشمن کو اسلحہ فروخت کرنے کے حکم کے دلائل درج ذیل صورت میں بیان کیے ہیں:

سورہ انفال کی آیت نمبر 60 سے استناد

سید ابو القاسم خوئی کے مطابق سورہ انفال کی آیت 60 مسلمانوں کو دشمن کے مقابلے کے لیے جنگی وسائل تیار رکھنے اور ان پر رعب ڈالنے کا حکم دیتی ہے۔ لہٰذا دشمن کو اسلحہ فروخت کرنا، حتیٰ کہ امن کے زمانے میں بھی، مقصد شارع کے منافی ہے۔[11]

دشمن کو اسلحہ فروخت کرنا گناہ میں تعاون ہے

فقہاء کے مطابق دشمن یا ایسے ظالم شخص کو اسلحہ فروخت کرنا جو اس کے ذریعے ظلم کرے، اعانت بر اثم اور گناہ میں تعاون کے مصداق اور حرام ہے۔[12]

دشمن کو اسلحہ فروخت کرنے کے موضوع میں وارد ہونے والی احادیث

شیخ مرتضی انصاری نے دشمن کو اسلحہ فروخت کرنے کی حرمت کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث کو مستفیض قرار دیتے ہوئے[13] ان احادیث کو تین اقسام میں تقسیم کیا ہے:

  • وہ احادیث جو ہر حالت، خواہ جنگ ہو یا صلح، دشمن کو اسلحہ فروخت کرنے کے جواز کی تائید کرتی ہیں۔
  • وہ احادیث جو ہر حالت، خواہ جنگ ہو یا صلح، دشمن کو اسلحہ فروخت کرنے کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں۔
  • وہ احادیث جو دشمن کو جنگ کے زمانے میں اسلحہ فروخت کرنے کو حرام اور امن کے زمانے میں جائز قرار دیتی ہیں۔[14]

فقہاء نے ان احادیث کی سند اور دلالت کا جائزہ لے کر ان سے شرعی حکم کے استنباط میں استفادہ کیا ہے۔[15]

دشمن کو اسلحہ فروخت کرنے سے اسے تقویت اور مدد ملتی ہے

بعض فقہاء دشمن کو اسلحہ فروخت کرنا، خواہ صلح کا زمانہ ہو یا جنگ کا، حرام قرار دیتے ہیں؛ کیونکہ اس سے دشمن کو تقویت اور اسے مدد ملتی ہے۔[16] شیخ انصاری اس استدلال کو کمزور قرار دیتے ہیں اور اسے نص کے مقابلے اجتہاد سمجھتے ہیں؛ کیونکہ بعض روایات میں دشمن کو اسلحہ فروخت کرنے کو جائز قرار دیا گیا ہے۔[17]

دشمن کو اسلحہ فروخت کرنے کی حرمت پر عقلی دلیل

بعض فقہاء کے نزدیک عقل مستقل طور پر یہ حکم دیتی ہے کہ اگر دشمن کو اسلحہ فروخت کرنے سے کوئی مفسدہ پیدا ہوتا ہو تو ایسا کرنا حرام ہے۔[18] جعفر سبحانی کے مطابق یہ عقلی حکم ان احادیث کو، جن میں مطلق طور پر اسلحہ فروخت کرنے کو جائز قرار دیا گیا ہے، اس صورت کے ساتھ مقید کرسکتا ہے جس میں کوئی مفسدہ پیدا نہ ہو۔[19]

دشمن کو اسلحہ فروخت کرنے کا معاملہ حکومتی امور میں سے ہے

امام خمینی کا نظریہ ہے کہ دشمن کو اسلحہ فروخت کرنے کا حکم مسلمانوں کی موجودہ مصلحت پر منحصر ہے۔[20] جنگ کے زمانے میں، یا اس وقت جب دشمن مسلمانوں کے ساتھ برسرِ پیکار ہو، دشمن کو اسلحہ فروخت کرنا حرام ہے۔[21] لیکن امن کے زمانے میں، یا اس وقت جب کفار آپس میں باہم جنگی حالت میں ہوں، مسلمانوں کی مصلحت کے پیشِ نظر انہیں اسلحہ فروخت کرنا جائز ہوسکتا ہے۔[22] اس بارے میں فیصلہ کرنا حاکم اسلامی کے فرائض میں سے ہے اور کسی دوسرے فرد کو اس میں مداخلت کا حق نہیں۔[23]

حوالہ جات

  1. مالحظہ کیجیے: محقق حلی، شرایع الاسلام، 1408ھ، ج2، ص3؛ شہید ثانی، الروضۃ البہیۃ، 1410ھ، ج3، ص206 و 211؛ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج22، ص28؛ شیخ انصاری، کتاب المکاسب، 1415ھ، ج1، ص147۔
  2. برای نمونہ نگاہ کنید بہ شہید ثانی، الروضۃ البہیۃ، 1410ھ، ج3، ص211۔
  3. محقق حلی، شرایع الاسلام، 1408ھ، ج2، ص3؛ شیخ انصاری، کتاب المکاسب، 1415ھ، ج1، ص147۔
  4. شہید ثانی، الروضۃ البہیۃ، 1410ھ، ج3، ص206 و 211۔
  5. شہید ثانی، الروضۃ البہیۃ، 1410ھ، ج3، ص211؛ بحرانی، الحدائق الناضرۃ، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ج18، ص208۔
  6. محقق اردبیلی، مجمع الفائدۃ و البرہان، 1403ھ، ج8، ص42؛ روحانی، فقہ الصادق، 1392شمسی، ج20، ص206۔
  7. خوئی، موسوعۃ الامام الخوئی، 1418ھ، ج35، ص297۔
  8. ملاحظہ کیجیے: امام خمینی، المکاسب المحرمۃ، مؤسسہ اسماعیلیان، ج1، ص152۔
  9. طباطبایی یزدی، حاشیۃ المکاسب، 1370شمسی، ج1، ص10۔
  10. طباطبایی یزدی، حاشیۃ المکاسب، 1370شمسی، ج1، ص10۔
  11. خوئی، موسوعۃ الامام الخوئی، 1418ھ، ج35، ص295-296۔
  12. محقق اردبیلی، مجمع الفائدۃ و البرہان، 1403ھ، ج8، ص42۔
  13. شیخ انصاری، کتاب المکاسب، 1415ھ، ج1، ص147۔
  14. سبحانی، المواہب، 1424ھ، ص333۔
  15. ملاحظہ کیجیے: محقق اردبیلی، مجمع الفائدۃ و البرہان، 1403ھ، ج8، ص43؛ شیخ انصاری، کتاب المکاسب، 1415ھ، ج1، ص147-150۔
  16. حسینی عاملی، مفتاح الکرامۃ، 1419ھ، ج4، ص35؛ خوئی، موسوعۃ الامام الخوئی، 1418ھ، ج35، ص294؛ سبزواری، مہذب الاحکام، دار التفسیر، ج16، ص71۔
  17. شیخ انصاری، کتاب المکاسب، 1415ھ، ج1، ص149۔
  18. ملاحظہ کیجیے: خوئی،‌ موسوعۃ الامام الخوئی، 1418ھ، ج35، ص295؛ سبحانی، المواہب، 1424ھ، ص335۔
  19. سبحانی، المواہب، 1424ھ، ص335۔
  20. امام خمینی، المکاسب المحرمۃ، مؤسسہ اسماعیلیان، ج1، ص152۔
  21. امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ج1، ص472۔
  22. امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ج1، ص472۔
  23. امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ج1، ص472۔

مآخذ

  • امام خمینی، سید روح‌اللہ، المکاسب المحرمۃ، قم، مؤسسہ اسماعیلیان، بی‌تا۔
  • امام خمینی، سید روح‌اللہ، تحریر الوسیلۃ، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، بی‌تا۔
  • بحرانی، شیخ یوسف، الحدائق الناضرۃ فی أحکام العترۃ الطاہرۃ، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، بی‌تا۔
  • حسینی عاملی، محمدجواد بن محمد، مفتاح الکرامۃ، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، 1419ھ۔
  • خوئی، سید ابوالقاسم، موسوعۃ الامام الخوئی، قم، مؤسسۃ الخوئی الاسلامیۃ، 1418ھ۔
  • سبحانی، جعفر، المواہب فی تحریر احکام المکاسب، قم، مؤسسہ امام صادق(ع)، 1424ھ۔
  • سبزواری، سید عبدالاعلی، مہذب الاحکام، قم، دار التفسیر، بی‌تا۔
  • شیخ انصاری، مرتضی، کتاب المکاسب، قم، تراث الشیخ الأعظم، 1415ھ۔
  • شہید ثانی، زین‌الدین بن علی، الروضۃ البہیۃ فی شرح اللمعۃ الدمشقیۃ، قم، انتشارات داوری، 1410ھ۔
  • روحانی، سید محمدصادق، فقہ الصادق، قم، آیین دانشمسی، 1392ہجری شمسی۔
  • طباطبایی یزدی، سید محمدکاظم، حاشیۃ المکاسب، قم، مؤسسہ اسماعیلیان، چاپ چہارم، 1370ہجری شمسی۔
  • محقق اردبیلی، احمد بن محمد، مجمع الفائدۃ و البرہان، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، 1403ھ۔
  • محقق حلی، جعفر بن حسن، شرایع الاسلام، قم، مؤسسہ اسماعیلیان، چاپ دوم، 1408ھ۔
  • نجفی، محمدحسن، جَواہر الکلام فی شرحِ شرائعِ الاسلام، تصحیح عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دارُ اِحیاء التُّراثِ العربی، چاپ ہفتم، 1362ہجری شمسی۔