مسودہ:جنگ سے فرار کرنا
| بعض عملی اور فقہی احکام |
|---|
| یہ مقالہ ایک فقہی موضوع کے بارے میں توصیفی تحریر ہے اور دینی اعمال کے لئے معیار نہیں بن سکتا۔ دینی اعمال کے لئے دیگر مصادر کی طرف رجوع کریں۔ |
جنگ سے فرار کرنا، گناہان کبیرہ میں سے ہے جسے فقہ[1] اور علم اخلاق[2] میں «الفَرارُ من الزَّحْف» (دشمن سے پیٹھ پھیرنا) کہا جاتا ہے۔[3] دشمن سے براہ راست مقابلے کے موقع پر جنگ سے فرار کرنے کی حرمت[4] پر قرآنی دلیل سورہ انفال کی سولہویں آیت ہے۔[5] بعض روایات میں آیا ہے کہ جنگ سے فرار کرنے کا گناہ اتنا سخت ہے کہ اس کی قباحت کفارہ ادا کرنے کے ذریعے بھی قابلِ تلافی نہیں ہے۔[6]
فقہاء کے نزدیک دو صورتوں میں انسان جنگ سے فرار نہیں کرسکتا اور اگر فرار کرے تو گنہگار شمار ہوتا ہے:[7]
- جب امام معصوم کسی خاص گروہ کو جنگ میں شرکت کا حکم دے۔[8]
- جب ایک یا دو دشمن کے برابر قرار پائے یعنی دشمنوں کی تعداد مسلمانوں کی تعداد سے دوگنا یا اس سے کم ہو۔[9]
ان دو صورتوں میں حتیٰ کہ مارے جانے کے احتمال ہو تو بھی فرار کرنا جائز نہیں ہے۔[10] البتہ علامہ حلی سورہ بقرہ آیت نمبر 195 سے استناد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب مارے جانے کا قوی امکان ہو تو فرار کرنا جائز ہے۔[11] کہا گیا ہے کہ جنگ سے فرار کرنے کا حرام ہونا اختیار اور مجبوری (جیسے بیماری) دونوں صورتوں کو شامل کرتا ہے۔[12]
شیخ طوسی کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد باپ، ماں یا قرض خواہ کو یہ حق نہیں کہ وہ مجاہدین کو میدانِ جنگ سے واپس بلالیں؛[13] البتہ اگر جنگ سے فرار کرنے کا مقصد جنگی حکمت عملی ہو جیسے جنگ کی صفوں کو تبدیل کرنا یا کسی اور یونٹ یا گروہ میں شامل ہو کر دوبارہ حملہ کرنا ہو تو اس صورت میں جنگ سے فرار کرنا جائز سمجھا جاتا ہے۔[14]
سورہ انفال آیت نمبر 65 کی بنا پر صدر اسلام میں ہر مسلمان دس مشرکین کے مقابلے میں ڈٹے رہنے کا پابند تھا، لیکن یہ حکم اسی سورے کی 66ویں آیت کے نزول کے ساتھ منسوخ ہو گیا اور یہ تعداد دو افراد میں تبدیل ہوگئی یعنی اس کے بعد دشمن کے دو افراد کے مقابلے میں ڈٹے رہنا واجب ہے۔[15] اسی بنا پر اگر دشمن کی تعداد مسلمانوں کی تعداد سے دوگنا سے زیادہ ہو تو فرار کرنا جائز ہے۔[16] تاہم شیخ طوسی کا ماننا ہے کہ اگر زندہ رہنے اور نقصان سے بچنے کا احتمال غالب ہو تو دفاع مستحب ہے۔[17] اس کے مقابلے میں آیت اللہ خوئی کا خیال ہے کہ جب مسلمانوں کو فتح کا یقین ہو تو فرار کسی صورت میں جائز نہیں ہے۔[18] نیز امام خمینی کسی بھی حالت میں جنگ سے فرار کرنے کو جائز نہیں سمجھتے ہیں۔[19] مضمون «اسلام کی دفاعی حکمت عملی میں جہاد سے فرار کرنے کا حکم» کے مطابق جنگ اُحُد میں پیغمبر اکرمؐ کے طرزِ عمل کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایسی صورت میں جہاں سپاہیوں کے مارے جانے سے اصل اسلام کو خطرہ لاحق ہونے کا امکان ہو تو جنگ سے فرار کرنا واجب ہے۔[20]
اسلامی روایات میں جنگ سے فرار کرنے کے کچھ نتائج ذکر کئے گئے ہیں؛ جن میں ذلت و خواری میں مبتلا ہونا، عدالت کا خاتمہ، دشمن کی تقویت، دینی پیشواؤں کے احکامات سے بےپروائی[21] اور دین کی توہین شامل ہیں۔[22]
حوالہ جات
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج21، ص295۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2، ص277؛ شیخ صدوق، من لایحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج3، ص562۔
- ↑ ابنمنظور، لسان العرب، ذیل واژہ «زحف»۔
- ↑ علامہ حلی، تذکرۃ الفقہاء، 1414ھ، ج9، ص9۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج13، ص312۔
- ↑ سید رضی، المجازات النبویۃ، 1422ھ، ص365۔
- ↑ شیخ طوسی، النہایۃ، 1400ھ، ص294۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: علامہ حلی، تذکرۃ الفقہاء، 1414ھ، ج9، ص9۔
- ↑ شہید اول، اللمعۃ الدمشقیۃ، 1410ھ، ص82۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج21، ص61۔
- ↑ علامہ حلی، مختلف الشیعۃ، 1413ھ، ج4، ص390۔
- ↑ طباطبایی، ریاض المسائل، 1415ھ، ج7، ص501۔
- ↑ شیخ طوسی، المبسوط، 1387ھ، ج2، ص6۔
- ↑ شہید ثانی، مسالک الافہام، 1413ھ، ج3، ص23۔
- ↑ شیخ طوسی، المبسوط، 1387ھ، ج2، ص6۔
- ↑ بطور مثال ملاحظہ کریں: طباطبایی، ریاض المسائل، 1415ھ، ج7، ص501۔
- ↑ شیخ طوسی، المبسوط، 1378ھ، ج2، ص10۔
- ↑ خویی، منہاج الصالحین، 1410ھ، ج1، ص370۔
- ↑ امام خمینی، استفتائات، 1372شمسی، ج1، ص516۔
- ↑ قاسمی مقدم، «اسلام کی دفاعی حکمت عملی میں جہاد سے فرار کرنے کا حکم»، ص48۔
- ↑ نہجالبلاغہ، تصحیح صبحی صالح، خطبہ 27، ص69؛ حر عاملی، وسائل الشیعۃ، 1416ھ، ج15، ص87۔
- ↑ شیخ صدوق، مَن لا یَحضَرُہُ الفقیہ، 1413ھ، ج3، ص565۔
مآخذ
- ابنمنظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، بیروت، دار صادر، 1414ھ۔
- امام خمینی، سید روحاللہ، استفتائات، قم، انتشارات اسلامی، 1372ہجری شمسی۔
- حر عاملی، محمد بن حسن، تفصیل وسائل الشیعۃ إلی تحصیل مسائل الشریعۃ، قم، مؤسسہ آلالبیت(ع) لإحیاء التراث، 1416ھ۔
- خویی، سید ابوالقاسم، منہاج الصالحین، قم، نشر مدینہ العلم، 1410ھ۔
- سید
- سید رضی، محمد بن حسین، المجازات النبویۃ، تصحیح: مہدی ہوشمند، قم، دار الحدیث، 1422ھ۔
- سید رضی، محمد بن حسین، نہجالبلاغہ، تصحیح: صبحی صالح، قم، مؤسسہ دار الہجرہ، 1414ھ۔
- شہید اول، محمد بن مکی، اللمعۃ الدمشقیۃ فی فقہ الامامیہ، قم، دار التراث، 1410ھ۔
- شہید ثانی، زینالدین بن علی، مسالک الأفہام إلی تنقیح شرائع الإسلام، قم، مؤسسۃ المعارف الإسلامیۃ، 1413ھ۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، مَن لا یَحضَرُہُ الفقیہ، تحقیق و تصحیح علیاکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزۂ علمیہ قم، دوسری اشاعت، 1413ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، المبسوط فی فقہ الامامیۃ، تہران، مکتبۃ المرتضویۃ، 1387ھ۔
- طباطبایی، سید علی، ریاض المسائل فی بیان احکام الشرع بالدلائل، قم، مؤسسہ نشر اسلامی، 1415ھ۔
- علامہ حلی، حسن بن یوسف، تذکرۃ الفقہاء، قم، مؤسسہ آلالبیت(ع)، 1414ھ۔
- علامہ حلی، حسن بن یوسف، مختلف الشیعۃ، قم، مؤسسہ نشر اسلامی، 1413ھ۔
- قاسمی مقدم، حسن و دیگران، «اسلام کی دفاعی حکمت عملی میں جہاد سے فرار کرنے کا حکم»، دو فصلنامہ علمی ترویجی فقہ حکومتی، شمارہ ہشتم، خزاں اور سرما 2019ء۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار لکتب الاسلامیہ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
- نجفی، محمدحسن، جواہر الکلام فی شرح شرائع الاسلام، تحقیق: محمد قوچانی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ساتویں اشاعت، 1362ہجری شمسی۔