جہاد ابتدائی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
رساله عملیه.jpg
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاعخلعمباراتعقد نکاح
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

جہاد ابتدائی وہ جہاد ہوتا جس کا آغاز مسلمانوں کی طرف سے اسلام کو پھیلانے کے لئے کیا جاتا ہے۔ کفار، اہل کتاب کہ جو نہ تو ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اسلامی حکومت میں زندگی گزارنے کے قوانین کو قبول کرتے ہیں اور اہل بغی و محاربہ، یہ تین گروہ ہیں جن سے جہاد ابتدائی کے لئے کہا گیا ہے۔

اکثر شیعہ فقہائے کرام نے جہاد ابتدائی سے پہلے امام معصوم کی موجودگی، جہاد کے لئے مسلمانوں کی کافی طاقت اور آغاز جنگ سے پہلے کافروں کو اسلام کی دعوت کو جہاد ابتدائی کی شرائط میں سے جانا ہے لیکن بعض فقہاء نے جیسے شیخ مفید، سید ابوالقاسم خوئی اور محمد مؤمن نے جہاد ابتدائی کے لئے حضور معصوم کو شرط نہیں جاناہے۔
بعض فقہاء اور محققین کا خیال ہے کہ پیغمبر اکرمؐ اور ائمہؑ کے زمانے کی جنگیں دفاعی تھیں لیکن جہاد ابتدائی، قرآن و روایات کی بنیاد پر قابل اثبات نہیں ہے۔

مفسیرین نے جہاد ابتدائی، عقیدے کی آزادی اور آیت لا اکرہ فی الدین کے مابین تضاد کے شبہ کے جواب میں بیان کیا کیا ہے کہ آیات جہاد کی روشنی میں کافروں اور مشرکوں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ مظلوم کی مدد کرنے، جبر سے لڑنے اور مذہب کے آزادانہ انتخاب کے لئے زمینہ فراہم کرنے پر مشروط ہے۔

تعریف

جہاد ابتدائی اس جہاد کو کہتے ہیں جس کا آغاز مسلمانوں کی طرف سے اسلام کی نشر و اشاعت کے لئے کیا جاتا ہے۔[1] اور یہ واجب کفائی ہوتا ہے۔[2] اکثر علمائے شیعہ اور خصوصا شروعاتی صدی ہجری کے فقہاء کا خیال ہے کہ جہاد ابتدائی تین گروہ سے واجب ہے۔ کفار، اہل کتاب کہ جو نہ تو ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اسلامی حکومت میں زندگی گزارنے کے قوانین کو قبول کرتے ہیں اور ایسے ہی باغی و جنگ کرنے والے۔[3]

بعض فقہاء اور محققین جیسے حسین علی منتظری، ناصر مکارم شیرازی اور نعمت اللہ صالحی نجف آبادی، اصل جہاد ابتدائی کو یہاں تک کہ معصومین کے زمانے میں بھی قبول نہیں کرتے اور ان کا خیال ہے کہ اسلام کے تمام جہاد، دفاعی تھے۔خطا در حوالہ: Closing </ref> missing for <ref> tag بعض فقہاء جیسے منتظری اور مکارم شیرازی مظلوموں کو بچانے اور اسلامی تبلیغ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے جہاد کو در حقیقت دفاعی جہاد سمجھتے ہیں۔ [4]

شرائط

مشہور علمائے شیعہ کے مطابق جہاد ابتدائی کی تین شرطیں ہیں:

  1. امام معصوم کی موجودگی: اس شرط کی بنا پر معصوم کی غیر موجودگی جیسے زمانۂ غیبت میں جہاد ابتدائی جائز نہیں ہے۔
  2. آغاز جہاد کے لئے مسلمانوں کا کافی مقدار میں طاقت و قدرت کا حامل ہونا۔
  3. آغاز جنگ سے پہلے کفار کو دعوت اسلام دینا اور اتمام حجت کرنا۔[5]

مشہور فقہائے شیعہ جیسے شیخ طوسی، قاضی ابن جراج، ابن ادریس، محقق حلی، علامہ حلی، شہید ثانی اور صاحب جواہر کے مطابق جہاد ابتدائی کی شرط ہے کہ امام معصوم حاضر ہو اور اس کی اجازت بھی ہو۔[6] اس کے باوجود بعض فقہاء جیسے شیخ مفید، ابوالصلاح حلبی، و سلار دیلمی نے جہاد ابتدائی کے لئے امام معصوم کے حضور کو شرط جانا ہے اور اس اعتبار سے اس کا زمانہ غیبت میں انجام دینا جائز سمجھا ہے۔[7] بعض فقہائے معاصر جیسے سید ابوالقاسم خوئی[8] اور محمد مؤمن نے بھی قرآن و آیات کی بنا پر حضور معصوم کی شرط کو غیر قابل اثبات جانا ہے اور ان کے خیال میں جہاد ابتدائی غیبت معصوم میں بھی تمام شرائط کے فراہم ہونے کے ساتھ واجب ہے۔[9]


آزادیٔ عقیدے کے ساتھ تعارض

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اسلام کی نشر و اشاعت کے لئے جہاد ابتدائی، جبری طور پر عقیدے کو تھوپنے کا سبب ہے جو اس آیت «لاَ إِكْراہ في الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ»[10] کہ دین میں کسی طرح کا جبر و اکراہ نہیں ہے، کے ساتھ تعارض رکھتا ہے۔[11] شیعہ مفسرین نے اس شبہہ کے جواب میں الگ الگ موقف اختیار کیا ہے جیسے:

  1. قرآن مجید کی صریح اور غیر صریح تمام آیات اس شرط پر متوقف ہیں کہ جہاد مظلومین کی مدد، برے حالات سے جنگ اور دین کو آزادی کے ساتھ انتخاب کرنے کا زمینہ فراہم کرے نہ یہ کہ دین کو جبری طور پر تھوپا جائے۔ بعض لوگوں نے اسی بنیاد پر تمام جہاد کو جہاد دفاعی قرار دیا ہے۔[12]
  2. آیات جہاد میں سے کسی ایک آیت میں بھی مسلمانوں پر واجب نہیں کیا گیا ہے کہ وہ مشرکوں سے جنگ کریں اور انہیں اسلام قبول کرنے پر مجبور کریں اور قبول نہ کرنے کی صورت میں انہیں قتل کر دیں۔[13]
  3. جہاد ابتدائی، اجبرای طور پر دین تھوپنے کا نام نہیں ہے بلکہ دین اسلام کی فرمانروائی اور حکومت کا نام ہے۔[14] محمد تقی مصباح یزدی کے مطابق پروردگار کا حق ہے کہ سارے عالم میں اس کی عبادت کی جائے پس اس کے بندوں کا ایک گروہ اس بات پر مأمور ہو کہ حق اللہ کی ادائگی کے واسطے جہاد ابتدائی کرے اور وہ لوگ جو شرک وکفر کی راہ پر چل رہے ہیں اور ظلم و فساد کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہیں ان سے جنگ کرے تاکہ دین خدا کی حکومت قائم ہو سکے۔[15]

حوالہ جات

  1. مؤمن، «جہاد ابتدایی در عصر غیبت»، ص۳۔
  2. مفتح، «جہاد ابتدایی در قرآن و سیرہ پیامبر»، ص۸۔
  3. بہرامی، نظام سیاسی اجتماعی اسلام، ۱۳۸۰ش، ص۱۳۹-۱۴۱۔
  4. «جہاد ابتدایی»۔؛ منتظری، پاسخ بہ پرسش‌ہایی پیرامون مجازات‌ہای اسلامی و حقوق بشر، ۱۳۸۷ش، ص۹۰۔
  5. عمید زنجانی، فقہ سیاسی، ج۳، ۱۳۷۷ش، ص۱۳۹۔
  6. جاوید، «حقوق بشر معاصر و جہاد ابتدایی در اسلام معاصر»، ص۱۲۹-۱۳۴۔
  7. جاوید، «حقوق بشر معاصر و جہاد ابتدایی در اسلام معاصر»، ص۱۲۷-۱۲۹۔
  8. رییس‌زادہ، «خویی، ابوالقاسم»، ص۵۱۸۔
  9. مؤمن، «جہاد ابتدایی در عصر غیبت»، ص۵۱۔
  10. سورہ بقرہ، آیہ ۲۵۶۔
  11. کامیاب، «بررسی شبہہ جہاد ابتدایی در تفسیر آیہ لا اکراہ فی الدین»، ص۸۔
  12. کامیاب، «بررسی شبہہ جہاد ابتدایی در تفسیر آیہ لا اکراہ فی الدین»، ص۲۷۔
  13. کامیاب، «بررسی شبہہ جہاد ابتدایی در تفسیر آیہ لا اکراہ فی الدین»، ص۲۸۔
  14. کامیاب، «بررسی شبہہ جہاد ابتدایی در تفسیر آیہ لا اکراہ فی الدین»، ص۱۶۔
  15. کامیاب، «بررسی شبہہ جہاد ابتدایی در تفسیر آیہ لا اکراہ فی الدین»، ص۱۶۔


مآخذ

  • بہرامی، قدرت اللہ، نظام سیاسی اجتماعی اسلام، قم، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، ۱۳۸۰ہجری شمسی۔
  • جاوید، محمدجواد، و علی محمددوست، «حقوق بشر معاصر و جہاد ابتدایی در اسلام معاصر»، در پژوہش‌نامہ حقوق اسلامی، سال یازدہم، ش۲، پاییز و زمستان ۱۳۸۹ہجری شمسی۔
  • «جہاد ابتدایی»، سایت دفتر آیت اللہ مکارم شیرازی، تاریخ بازدید: ۲۲ تیر ۱۳۹۶ہجری شمسی۔
  • رئیس‌زادہ، محمد، «خویی، ابوالقاسم»، دانشنامہ جہان اسلام، بنیاد دایرۃ المعارف اسلامی، ۱۳۷۵ہجری شمسی۔
  • صالحی نجف‌آبادی، نعمت‌اللہ، جہاد در اسلام، تہران، نشر نی، ۱۳۸۶ہجری شمسی۔
  • کامیاب، حسین، و احمد قدسی، «بررسی شبہہ جہاد ابتدایی در تفسیر آیہ لا اکراہ فی الدین»، در مجلہ مطالعات تفسیری، ش۱۱، پاییز ۱۳۹۱ہجری شمسی۔
  • عمید زنجانی، عباسعلی، فقہ سیاسی، تہران، امیرکبیر، ۱۳۷۷ہجری شمسی۔
  • منتظری، حسینعلی، پاسخ بہ پرسش‌ہایی پیرامون مجازات‌ہای اسلامی و حقوق بشر، قم، ارغوان دانش، ۱۳۸۷ہجری شمسی۔
  • مفتح، محمدہادی، «جہاد ابتدایی در قرآن و سیرہ پیامبر»، در مجلہ علوم حدیث، ش۵۶، تابستان ۱۳۸۹ہجری شمسی۔
  • مؤمن، محمد، «جہاد ابتدایی در عصر غیبت»، در مجلہ فقہ اہل بیت، ش۲۶، تابستان ۱۳۸۰ہجری شمسی۔