منافق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

منافق اسلامی تعلیمات میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جس نے دل سے اسلام قبول نہ کیا ہو، لیکن خود کو مؤمن ظاہر کرتا ہے۔ اسلام میں نفاق کا مسئلہ پیغمبر اکرمؐ کی مدینہ ہجرت کے بعد مطرح ہوا؛ کیونکہ اس وقت بعض لوگ اسلام کے مخالف تھے لیکن آشکار طور پر اپنی مخالفت کا اظہار نہیں کر سکتے تھے۔

قرآن میں منافق کا تذکرہ بہت زیادہ آیا ہے یہاں تک کہ ایک سورت بھی اسی سلسلے میں نازل ہوئی اور اسی نام سے مشہور ہوئی ہے۔ سورہ منافقون میں منافقین کی سرزنش کے ساتھ ساتھ ان کی خصوصیات بھی بیان ہوئی ہے۔ تاریخی اعتبار سے پیغمبر اسلامؐ منافقین کے ساتھ مدارا کرتے تھے اور غیرمستقیم طور پر ان کے اقدامات کو خنثی کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔ مسجد ضرار جو مدینہ کے منافقین کا مرکز بن گیا تھا پیغمبر اکرمؐ کے حکم سے تخریب ہوئی۔

مفہوم‌شناسی

منافق قرآن میں بہت زیادہ استعمال ہونے والے مفاہیم میں سے ہے جو مؤمن اور کافر کے مقابلے میں تیسرے گروہ کو کہا جاتا ہے۔[1] مؤمن اس شخص کو کہا جاتا ہے جو دل، زبان اور عملی طور پر اسلام اور ایمان کو قبول کرتا ہو، کافر اس شخص کو کہا جاتا ہے جو باطنی اور ظاہری دونوں طریقے سے اسلام کو قبول نہ کرتا ہو جبکہ منافق وہ ہے جو باطن اور دل سے تو اسلام کا مخالف ہے لیکن ظاہری طور پر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا ہے۔[2] شہید مطہری کے مطابق منافق حقیقت میں کافر ہی ہے جو اپنی کفر کو چھپا رکھتا ہے۔[3]

اسلام میں نفاق کا سرچشمہ

تفسیر نمونہ کے مطابق اسلام میں نفاق اور منافقت کا مسئلہ پیغمبر اکرمؐ کی مدینہ ہجرت کے بعد شروع ہوا۔ چونکہ "مکّہ" میں اسالم مخالفین کھلم کھلا اپنی مخالفت کا اظہار کرتے تھے؛ لیکن مدینہ میں مسلمانوں کے طاقتور ہونے کے بعد اسلام مخالفین کمزور ہو گئے یوں وہ اسلام اور پیغمبر اکرمؐ کی خلاف اپنی سرگرمیوں کو مسلمانوں کے صفوں میں بیٹھ کر بظاہر اسلام کے لبادے میں انجام دینے لگے۔[4]

سورہ منافقون انہی منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس میں منافقین کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے اسلام کے ساتھ ان کی شدید دشمنی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح اس سورت میں پیغمبر اکرمؐ کو منافقین کے خطرے سے ہشیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔[5]

صدر اسلام کے منافقین

تاریخی اور حدیثی منابق میں صدر اسلام کے بعض منافقین کی معرفی ہوئی ہے۔ مقریزی نے کتاب "إمتاع الأسماع" میں اوس و خزرج کے نافقی کی معرفی کرتے ہوئے اسلام اور پیغمبر اکرمؐ کے خلاف ان کی دشمنی کی طرف اشارہ کیا ہے، من جملہ ان میں عبداللہ بن اُبَی جو مہاجرین کو مدینہ سے نکال دینے کی دھمکی دیا کرتا تھا اور عبداللہ بن عیینہ جو اپنے ساتھیوں کو پیغمبر اکرمؐ کو قتل کرنے کی ترغیب دیا کرتا تھا۔[6]

اصحاب عقبہ کو بھی منافقین کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ اصحاب کا ایک گروہ تھا جنہوں نے غزوہ تبوک سے واپسی پر پیغمبر اکرمؐ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوئے۔[7] مورخین ان کی تعداد 12 سے 15 نفر ذکر کرتے ہیں۔[8] امام باقرؑ سے مروی ایک حدیث کے مطابق ان کی تعداد 12 تھی جن میں سے 8 قریش سے تھے۔[9] شیخ صدوق ایک اور حدیث سے استناد کرتے ہوئے ان میں سے 12 افرد کو بنی‌امیہ اور 5 افراد کو دوسرے قبائل سے ذکر کرتے ہیں۔[10] اہل سنت عالم دین سیوطی نے اصحاب عقبہ کے اسامی بھی ذکر کئے ہیں، جس کے مطابق من جملہ ان میں سعد بن ابی‌سَرح، ابوحاضر اعرابی، جُلاس بن سُوَید، مجمع بن جاریہ، مُلَیح تَیمی، حُصَین بن نُمَیر، طُعَیمَۃ بن اُبَیرِق اور مُرَّۃ بن رَبیع شامل تھے۔[11]

منافقین کی خصوصیات

قرآن اور احادیث میں منافقین کی نشانیاں اور خصوصیات بیان ہوئی ہیں۔ تفسیر نمونہ کے مطابق سورہ منافقون میں ان کی 10 نشانیاں ذکر ہوئی ہیں:

  1. جھوٹ بولنا
  2. لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے جھوٹی قسم کھانا
  3. حقائق کا درست ادراک نہ رکھنا
  4. ظاہری آراستگی اور میٹھی زبان
  5. حق بات کے مقابلے میں انعطاف‌ نہ رکھنا
  6. ہر واقعے سے سوءظن اور خوف محسوس کرنا
  7. حق کا مزاق اڑانا
  8. فسق اور گناہ
  9. ہر چیز پر اپنی مالکیت کا تصور اور سب کو اپنا محتاج‌ سمجھنا
  10. خودبزرگ‌بینی اور دوسروں کو پسٹ اور حقیر سمجھنا۔[12]

آیت اللہ مصاباح یزدی نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر 194 سے استناد کرتے ہوئے منافقین کی درج ذیل نشانیاں ذکر کرتے ہیں:

مخفیانہ طریقہ کار اپنانا، ظاہری آراستگی ظاہر اور اندرونی پستی، مؤمنین سے بغض اور دوسروں کے ساتھ معاملات میں ذاتی منفعت‌ طلبی۔[13]

پیغمبر اکرم کا منافقین کے ساتھ برتاؤ

محققین کے مطابق تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ منافقین کے ساتھ ممکنہ حد تک مدارا اور عفو و درگزر فرماتے تھے۔[14] پیغمبر اکرمؐ منافقین کے دلوں میں پوشیدہ کفر سے آگاہ تھے اور اکثر اوقات قرآنی آیات بھی ان کو معرفی کرتے تھے۔[15] آپؐ متعدد بار ان لوگوں کے جواب میں جو منافقین کو قتل کرنے کا مشورہ دیتے تھے، ان کو اس کام سے منع فرماتے تھے۔[16]

اگرچہ منافقین کے ساتھ پیغمبر اکرمؐ کا برتاؤ ہمیشہ مدارا اور عفو و درگزر پر مشتمل ہوتا تھا لیکن اس کے باوجود یہ چیز اسلامی معاشرے کے دوسرے قوانین سے چشم پوشی کا سبب نہیں بنتا تھا۔ پیغمبر اکرمؐ ہمیشہ منافقین کی تمام حرکات و سکنات پر کڑی نگرانی فرماتے تھے، ان کے منصوبوں کو خنثی کرتے تھے اور ان کی شیائعہ سازی اور افواہوں کے مقابلے میں ہمیشہ حقائق کو برملا بیان فرماتے تھے۔ البتہ بعض اوقات آپ منافقین کے ساتھ نہایت سختی سے پیش آتے تھے مسجد ضرار کی تخریب انہی موارد میں سے ایک ہے۔[17]

جہنم میں منافقین کا ٹھکانہ

سورہ نساء کی آیت نمیر 145 کے مطابق منافقین جہنم سب سے نچلے طبقے یعنی "دَرَک اَسفَل" میں ہونگے: "إِنَّ الْمُنافِقینَ فِی الدَّرْک الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ"(ترجمہ: بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے والے طبقہ میں ہوں گے۔) اس آیت میں منافقین کے انجام کے بارے میں بتایا گیا ہے۔[18] شیعہ مفسر قرآن آیت اللہ مکارم شیرازی کہتے ہیں کہ قرآنی آیات کے مطابق نفاق کفر سے بھی بدتر ہے اور منافقین خدا کے مخلوقات میں سب سے زیاده خدا کی رحمت سے دور ہیں۔[19]

منافق کی نماز جنازہ

فقہی کتابوں میں منافق کی نماز جنازہ کے بارے میں بحث ہوئی ہے۔[20] اور منافق کی نماز جنازہ کے جائز ہونے اور نہ ہونے میں فقہاء کا اختلاف ہے۔[21] جو فقہاء جواز کے قائل ہیں ان کے مطابق مؤمن کے برخلاف منافق کی نماز جنازہ میں صرف چہار تکبیریں ہیں؛ یعنی اس میں پانچویں تکبیر نہیں کہی جائے گی۔[22] اسی طرح مؤمن کی نماز میت کے برخلاف منافق کی نماز جنازہ میں خود میت کی مغفرت کے لئے دعا نہیں کی جائے گی۔ بعض فقہاء منافق کی نماز جنازہ میں اس کی مغفرت کی دعا کی بجائے اس پر لعنت بھیجنے کو واجب سمجھتے ہیں۔[23]

مونوگرافی

فقہی اور تفسیری منابع میں منافق کے بارے میں ہونے والے ابحاث کے علاوہ ان کے بارے میں مستقل کتابیں بھی تحریر کی گئی ہیں جن میں سے بعض کتابیں تاریخی اعتبار سے کافی پرانی ہیں؛ اس سلسلے میں ‌جعفر بن محمد الفریانی (۲۰۷-۳۰۱ق) کی کتاب "صفۃ النفاق و ذم المنافقین"، ابونُعَیم اصفہانی (۳۳۴-۴۳۰ق) کی کتاب "صفۃ النفاق و نَعت المنافقین من السنن الماثورۃ عن رسول اللہ" اور ابن‌قَیِّم جوزی (۶۹۱-۷۵۱ق) کی کتاب "صفات‌المنافقین" قابل ذکر ہیں۔

ان کے علاوہ اس سلسلے میں لکھی گئی باقی کتابیں درج ذیل ہیں:

  • المنافقون فی القرآن، تحریر سیدحسین صدر
  • النفاق والمنافقون فی القرآن الکریم، تحریر جعفر سبحانی
  • ظاہرۃ النفاق و خبائث المنافقین فی التاریخ، تألیف عبدالرحمان حسن حبنکہ المیدانی
  • المواجہۃ بین النبی (ص) و بین المنافقین، تحریر عبدالکریم نیری
  • صور المنافقین فی القرآن الکریم البخاری السباعی، تحریر نورالدین صغیری
  • نفاق و منافق از دیدگاہ شہید مطہری، تحریر زہرا آشیان و فرشتہ سلامی
  • چہرہ منافقان در قرآن با استفادہ از تفسیر پر‌ارزش نمونہ، تحریر ج۔فرازمند۔

حوالہ جات

  1. طریحی، مجمع البحرین، ۱۴۱۶ق، ج۵، ص۲۴۱۔
  2. مطہری، مجموعہ آثار، ۱۳۹۰ش، ج۲۵، ص۲۰۶۔
  3. مطہری، مجموعہ آثار، ۱۳۹۰ش، ج۲۵، ص۲۰۶۔
  4. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۴، ص۱۴۶۔
  5. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۹، ص۲۷۸۔
  6. مقریزی، امتاع الاسماع، ۱۴۲۰ق، ج۱۴، ص۳۴۳-۳۶۴۔
  7. مقریزی، امتاع الاسماع، ۱۴۲۰ق، ج۲، ص۷۴۔
  8. واقدی، المغازی، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۱۰۴۵-۱۰۴۴؛ ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ۱۳۹۸ق، ج۵، ص۲۰۔
  9. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۵، ص۷۹۔
  10. شیخ صدوق، الخصال، ۱۳۶۲ش، ج۲، ص۳۹۸۔
  11. سیوطی، الدرالمنثور، دارالفکر، ج۴، ص۲۴۳۔
  12. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۴، ص۱۶۴۔
  13. مصباح یزدی، «اخلاق اسلامی»، ص۴۔
  14. دانش، «رسول خدا(ص) و استراتژی ایشان در برابر خط نفاق»، ص۲۳.
  15. دانش، «رسول خدا(ص) و استراتژی ایشان در برابر خط نفاق»، ص۲۳.
  16. جعفریان، تاریخ سیاسی اسلام، ۱۳۸۰ش، ص۶۵۰۔
  17. دانش، «رسول خدا(ص) و استراتژی ایشان در برابر خط نفاق»، ص۲۱-۲۲.
  18. مکارم، الامثل فى تفسیر، ۱۴۲۱ق، ج۳، ص۵۰۵۔
  19. مکارم، الامثل فى تفسیر، ۱۴۲۱ق، ج۳، ص۵۰۴۔
  20. ملاحظہ کریں: علامہ حلی، تحریر احکام الشریعہ، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۱۲۹؛ نجفی، جواہرالکلام، بیروت، ج۱۲، ص۴۷۔
  21. نجفی، جواہرالکلام، بیروت، ج۱۲، ص۴۷۔
  22. ملاحظہ کریں: علامہ حلی، تحریر احکام الشریعہ، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۱۲۹؛ نجفی، جواہرالکلام، بیروت، ج۱۲، ص۴۷۔
  23. نجفی، جواہرالکلام، بیروت، ج۱۲، ص۴۹-۵۱۔


مآخذ

  • ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، بیروت، دارالفکر، ۱۳۹۸ق۔
  • جعفریان، رسول، تاریخ سیاسی اسلام، قم، دلیل، ۱۳۸۰ش۔
  • دانش، محمدقدیر، «رسول خدا(ص) و استراتژی ایشان در برابر خط نفاق»، مجلہ معرفت، شمارہ ۱۲۹، ۱۳۸۷ش۔
  • علامہ حلی، حسین بن یوسف، تحریر احکام الشرعیہ علی مذہب الامامیہ، تصحیح ابراہیم بہادری، قم، مؤسسہ امام صادق، چاپ اول، ۱۴۲۰ق۔
  • سیوطی، جلال‌الدین، الدرالمنثور فی التفسیر بالماثور، بیروت، دارالفکر، بی تا۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، الخصال، تصحیح: علی اکبر غفاری، جامعہ مدرسین، قم، ۱۳۶۲ش۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیرالقرآن، قم، انتشارات اسلامی، ۱۴۱۷ق۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مقدمہ: محمدجواد بلاغی، ناصرخسرو، تہران، ۱۳۷۲ش۔
  • طریحی، فخرالدین، مجمع البحرین، تحقیق سید احمد حسینی، تہران، کتابفروشی مرتضوی، ۱۴۱۶ق۔
  • مصباح یزدی، محمدتقی، «اخلاق اسلامی»، مجلہ معرفت شمارہ ۴، ۱۳۷۲ش۔
  • مطہری، مرتضی، مجموعہ آثار، تہران، انتشارات صدرا، ۱۳۹۰ش۔
  • مقریزی، احمد بن علی، امتاع الاسماع بمل للنبی من الاحوال و الاموال و الحفدۃ و المتاع، تحقیق محمد عبدالحمید النسیمی، بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۲۰ق/۱۹۹۹م۔
  • مکارم شیرازى، ناصر، الامثل فى تفسیر کتاب‌اللہ المنزل، قم، مدرسہ امام على بن ابى‌طالب(ع)، چاپ اول، ۱۴۲۱ق۔
  • مکارم شیرازی، ناصر و جمعی از نویسندگان، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۳۷۴ش۔
  • نجفی، محمدحسن، جواہرالکلام فی شرح شرائع الاسلام، تصحیح عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، چاپ ہفتم۔
  • واقدی، محمد بن عمر، المغازی، تحقیق: مارسدن جونس، بیروت، مؤسسہ الاعلمی، ۱۴۰۹ق-۱۹۸۹م۔