مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:اعضائے وضو

ویکی شیعہ سے

آیت وضو کے مطابق اعضائے وضو میں چہرے کا سر کے بال اگنے کی جگہ سے تھوڈی کے آخری سرے تک نیز ہاتھوں کو انگلیوں کے سرے سے کہنیوں تک دھونا اور سر اور پاؤں کا کسی ایک انگلی کے سرے سے ٹخنوں تک مسح کرنا شامل ہے۔[1] شیعہ احادیث کی بنیاد پر وضو کے طریقے کو وہی قرار دیتے ہیں جو جبرئیل نے پیغمبر اکرمؐ کو سکھایا تھا؛ چنانچہ ان کے نزدیک ہاتھوں کو کہنیوں سے انگلیوں کی طرف دھویا جاتا ہے اور سر اور پاؤں کا مسح کیا جاتا ہے۔[2] اس کے برخلاف اہل سنت ہاتھوں کو انگلیوں کے سروں سے کہنیوں تک دھوتے ہیں اور کہنیوں سے انگلیوں کی طرف دھونے کو جائز نہیں سمجھتے،[3] نیز وضو میں پاؤں پر مسح کرنے کے بجائے انہیں دھوتے ہیں۔[4] البتہ اہل سنت کے مذاہب اربعہ میں سر کے مسح کے اصل حکم کو تسلیم کیا جاتا ہے، اگرچہ اس کی مقدار اور تفصیلات کے بارے میں اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔[5]

بعض منابع کے مطابق وضو میں یہ اختلاف عثمان بن عفان کے دورِ خلافت میں پیدا ہوا،[6] اور کہا گیا ہے کہ عہد نبوی نیز خلیفۂ اول اور خلیفۂ دوم کے زمانے میں اس سلسلے میں کوئی اختلاف موجود نہیں تھا۔[7] نیز یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ عثمان نے اپنی خلافت کے ابتدائی دور میں اپنے پیشروؤں کی طرح وضو کیا۔[8]

شیعہ مراجعِ تقلید کے مطابق وضو کے اعضاء کا دھونا اور مسح کے وقت ان کا پاک ہونا وضو کے صحیح ہونے کی شرط ہے۔ تاہم اگر کسی عضو کو دھونے یا اس پر مسح کرنے کے بعد وضو مکمل ہونے سے پہلے وہ عضو نجس ہو جائے تو وضو صحیح شمار ہوگا۔[9]

اعضائے وضو پر پانی پہنچنے میں مانع ہر چیز جیسے گوند (گلو) یا رنگ وغیرہ کو دور کرنا ضروری ہے۔ اگر رکاوٹ کو ہٹانا ممکن نہ ہو اور وہ اعضائے وضو میں سے کسی عضو کے صرف ایک حصے پر ہو تو وضوئے جبیرہ انجام دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر رکاوٹ پورے عضو کو گھیرا ہوا ہو تو بعض مراجع تیمم کو واجب قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض دیگر وضوئے جبیرہ کو کافی سمجھتے ہیں اور احتیاطاً تیمم کرنے کی بھی سفارش کرتے ہیں۔[10]

حوالہ جات

  1. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج4، ص285۔
  2. حر عاملی، وسائل الشیعہ، 1409ھ، ج1، ص399، ح24؛ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج3، ص25-26، ح4 و 5؛ طباطبائی، المیزان، 1390ھ، ج5، ص219-220۔
  3. فخر رازی، التفسیر الکبیر، 1420ھ، ج11-12، ص160۔
  4. شافعی، الام، 1426ھ، ج1، ص23؛ قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، 1364شمسی، ج6، ص99۔
  5. قمی، «فقہ حج؛ چگونگی انجام وضو نزد فریقین(3) مسح»، ص45۔
  6. متقی ہندی، کنز العمال، 1419ھ، ج9، ص193، ح26890۔
  7. شہرستانی، لماذا الاختلاف فی الوضوء، 1426ھ، ص31۔
  8. مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، 1415ھ، ج1، ص206، ح229۔
  9. بنی ہاشمی خمینی، توضیح المسائل چودہ مراجع، 1393شمسی، ج1، ص213۔
  10. طباطبائی یزدی، العروۃ الوثقی، 1420ھ، ج1، ص442-443؛ حکیم، مستمسک العروۃ الوثقی، 1391ھ، ج2، ص540؛ بنی ہاشمی خمینی، توضیح المسائل چودہ مراجع، 1393شمسی، ج1، ص247۔

مآخذ

  • بنی ہاشمی خمینی، محمدحسن، توضیح المسایل مراجع، قم، موسسہ انتشارات اسلامی، 1393ہجری شمسی۔
  • حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعہ، قم، مؤسسۃ آل البیت علیہم السلام، 1409ھ۔
  • حکیم، سید محسن، مستمسک العروۃ الوثقی، قم، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، 1391ھ۔
  • شافعی، محمدبن ادریس، الأم، بیروت، دارالمعرفہ۔
  • شہرستانی، سید علی، لماذا الإختلاف فی الوضوء، تلخیص فیس عطار، تہران، نشر مشعر، 1426ھ۔
  • طباطبایی یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ الوثقی، قم، موسسہ نشر اسلامی، 1420ھ۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، 1390ھ۔
  • فخر رازی، محمد بن عمر، التفسیر الکبیر (مفاتیح الغیب)، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1420ھ۔
  • قرطبی، محمد بن احمد، الجامع لأحکام القرآ ن، تہران، انتشارات ناصرخسرو، 1364ہجری شمسی۔
  • قمی، علی، «فریقین کے یہاں وضو کا طریقہ (3) (مسح)»، مجلہ میقات حج، ش90، موسم سرما سنہ 2014ء۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دارالکتب الإسلامیۃ، 1407ھ۔
  • متقی ہندی، علی بن حسام، کنز العمال فی سنن الأقوال والأفعال، بیروت، دارالعلمیہ، 1419ھ۔
  • مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، تحقیق محمد فؤاد عبد الباقی، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، 1415ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، بتّیسویں اشاعت، 1374ہجری شمسی۔