تاسوعا

حوالہ جاتی اصول کی عدم رعایت
جانبدار
علاقائی تقاضوں سے غیر مماثل
تلخیص کے محتاج
ویکی شیعہ سے
(نو محرم الحرام سے رجوع مکرر)
محرم کی عزاداری
واقعات
امام حسینؑ کے نام کوفیوں کے خطوطحسینی عزیمت، مدینہ سے کربلا تکواقعۂ عاشوراواقعۂ عاشورا کی تقویمروز تاسوعاروز عاشوراواقعۂ عاشورا اعداد و شمار کے آئینے میںشب عاشورا
شخصیات
امام حسینؑ
علی اکبرعلی اصغرعباس بن علیزینب کبریسکینہ بنت الحسینفاطمہ بنت امام حسینمسلم بن عقیلشہدائے واقعہ کربلا
مقامات
حرم حسینیحرم حضرت عباسؑتل زینبیہقتلگاہشریعہ فراتامام بارگاہ
مواقع
تاسوعاعاشوراعشرہ محرماربعینعشرہ صفر
مراسمات
زیارت عاشورازیارت اربعینمرثیہنوحہتباکیتعزیہمجلسزنجیرزنیماتم داریعَلَمسبیلجلوس عزاشام غریبانشبیہ تابوتاربعین کے جلوس


تاسوعا نویں محرم کو کہا جاتا ہے اور شیعوں کے نزدیک اس دن کی اہمیت واقعۂ کربلا کی وجہ سے ہے جو سنہ 61 ہجری کو کربلا کی سرزمین پر رونما ہوا۔ سنہ 61 ہجری کی نویں محرم کو شمر عبید اللہ بن زیاد کا خط لے کر کربلا میں داخل ہوا جس میں عمر سعد کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ امام حسینؑ کے ساتھ سخت گیرانہ رویہ اپنائے یا پھر لشکر کی قیادت شمر کے سپرد کر دے۔ عمر بن سعد نے لشکر کی کمان شمر کو سپرد کرنے سے اجتناب کیا اور امام حسینؑ کے خلاف جنگ کے لئے تیار ہوا۔ اس دن عمر بن سعد کے لشکر نے خیام حسینی کی طرف یلغار کرنے کا ارادہ کیا تو امام حسینؑ نے اپنے بھائی حضرت عباس کو ابن سعد کی طرف بھیج کر دشمن سے عبادت کیلئے ایک رات کی مہلت لی۔

نیز اسی دن شمر نے حضرت عباس اور ام البنین کے دوسرے بیٹوں کے لئے امان نامہ لایا۔ لیکن حضرت عباس اور آپ کے بھائیوں نے امان نامہ قبول نہیں کیا۔ شیعیان اہل بیتؑ تاسوعا کو یوم عباس کے طور پر روز عاشورا کی مانند عقیدت و احترام سے مناتے ہیں اور اس دن عباس علمدارؑ کے فضائل بیان کرتے ہیں اور ان کی عزاداری کرتے ہیں۔ اس دن ایران میں عاشورا کی مانند سرکاری طور پر چھٹی ہوتی ہے۔

معنی

محرم الحرام کی نویں تاریخ کو "تاسوعا" کہا جاتا ہے۔ تاسوعا "تسع" سے ماخوذ ہے جس کے معنی 9 یا نویں کے ہیں۔ اس دن کی شہرت کا سبب وہ واقعات ہیں جو سنہ 61 ہجری 9 محرم الحرام کو سرزمین کربلا میں رونما ہوئے ہیں۔

واقعات

تاسوعا کے دن کربلا میں رونما ہونے والے واقعات:

شمر کی آمد

9 محرم ـ تاسوعا ـ کے دن ظہر سے پہلے شمر بن ذی الجوشن چار ہزار سپاہی لے کر سرزمین کربلا میں داخل ہوا.[1] وہ عمر بن سعد کے لئے عبیداللہ بن زیاد کا خط لے کر آیا تھا چنانچہ کربلا پہنچتے ہی اس نے خط ابن سعد کے سپرد کیا. اس خط میں ابن زياد نے ابن سعد کو حکم دیا تھا کہ یا تو امام حسینؑ کو بیعت پر مجبور کرے یا پھر آپؑ کے خلاف لڑائی چھیڑ دے. عبید اللہ نے اس خط کے ضمن میں عمر بن سعد کو دھمکی آمیز انداز سے لکھا تھا کہ ان احکامات کی مکمل طور پر تعمیل نہ کرنے کی صورت میں لشکر سے کنارہ کشی کرکے اس کی سربراہی کا عہدہ شمر کے سپرد کرنا پڑے گا.[2] ابن سعد نے عبیداللہ کا خط پڑھ کر شمر سے کہا: میں لشکر کی امارت تمہارے حوالے نہیں کروں گا اور میں تیرے وجود میں اس کام کی اہلیت نہیں دیکھ رہا ہوں چنانچہ میں اس کام کو خود ہی انجام تک پہنچا دوں گا؛ تم صرف پیدل دستوں کے سالار رہو.[3]

فرزندان ام البنین کے لئے امان نامہ

کوفہ میں شمر نے عمر سعد کے لئے عبیداللہ کا خط لینا چاہا تو اس نے ام البنین(س) کے بھتیجے عبداللہ بن ابی المحل کے ساتھ مل کر اپنے بھانجوں کے لئے امان نامہ دینے کی درخواست کی. عبیداللہ نے اس تجویز کو پسند کیا.[4]

عبداللہ بن ابی المحل نے مذکورہ امان نامہ اپنے غلام "کزمان یا عرفان" کے ہاتھوں کربلا ارسال کیا اور کربلا پہنچنے کے بعد امان نامے کا متن ام البنین(س) کے فرزندوں کے لئے پڑھا. لیکن انھوں نے امان نامہ مسترد کیا.[5]

دوسری روایت کے مطابق شمر خود ہی امان نامہ لے کر کربلا میں عباس بن علیؑ اور ان کے بھائیوں عبداللہ، جعفر اور عثمان کو پہنچایا.[6]عباسؑ پنے بھائیوں کے ساتھ ابا عبداللہ الحسینؑ کے پاس بیٹھے تھے اور شمر کا جواب نہیں دے رہے تھے. امامؑ نے بھائی عباسؑ سے فرمایا: "گو کہ وہ فاسق ہے لیکن اس کا جواب دے دو، بےشک وہ تمہارے مامؤوں میں سے ہے". عباس، عبداللہ، جعفر اور عثمان علیہم السلام باہر آئے اور شمر سے کہا: کیا چاہتے ہو؟ شمر نے کہا: "اے میرے بھانجو! تم امان میں ہو؛ میں نے تمہارے لئے عبید اللہ بن زیاد سے امان نامہ حاصل کیا ہے". لیکن عباس اور ان کے بھائیوں نے مل کر کہا: "خدا تم پر اور تمہارے امان نامے پر لعنت کرے یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ ہم امان میں ہوں اور بنت پیمبر(ص) کا بیٹا امان میں نہ ہو".[7]ام البنین(س) کے فرزندوں کی طرف سے ابن زیاد کا امان نامہ مسترد ہونے کے بعد عمر بن سعد نے لشکر کو حکم دیا گیا کہ جنگ کی تیاری کریں؛ چنانچہ سب سوار ہوئے اور جمعرات 9 محرم بوقت عصر امام حسینؑ اور آپؑ کے اصحاب و خاندان کے خلاف جنگ کے لئے تیار ہوئے.[8]

بعض تاریخوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دو جدا جدا امان نامے لکھے گئے جو فرزندان ام البنین کے سامنے پڑھے گئے۔دیکھیں

جنگ کی تیاری

9 محرم بوقت عصر صحرائے کربلا میں عمر بن سعد کی سپاہ کی نقل و حرکت بڑھ گئی اور عمر سعد امام حسینؑ کے خلاف جنگ کے لئے تیار ہوا اور اپنی سپاہ کو بھی جنگ کی تیاری کا حکم دیا. اس نے اپنی سپاہ میں منادی کرا دی کہ يا خيل الله ارکبی و بالجنة ابشري،‌ اے خدا کے لشکریو! سوار ہوجاؤ کہ میں تمہیں جنت کی بشارت دیتا ہوں!". کوفی سب سوار ہوئے اور جنگ کے لئے تیار.[9]

لشکر میں شور اور ہنگامہ بپا ہوا، امامؑ اپنے خیمے کے سامنے اپنی تلوار پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے. حضرت زینبؑ لشکر کوفہ میں شور و غل کی صدائیں سن کر بھائی کے قریب آئیں اور کہا: "بھائی جان! کیا آپ قریب تر آنے والی صدائیں سن رہے ہیں؟"۔ امام حسینؑ نے سر اٹھا کر فرمایا: "میں نے نانا رسول اللہ(ص) کو خواب میں دیکھا اور آپؐ نے مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا: "بہت جلد ہمارے پاس آؤگے". امام حسینؑ نے عباس بن علیؑ کو فرمایا: "اے عباس! میری جان فدا ہو تم پر، اپنے گھوڑے پر سوار ہوجاؤ اور ان کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور کس لئے آگے بڑھ آئے ہیں؟".

حضرت عباسؑ زہیر بن قین اور حبیب بن مظاہر سمیت 20 سواروں کے ہمراہ دشمن کی سپاہ کی طرف گئے اور ان سے پوچھا: "کیا ہوا ہے؟ اور تم کیا چاہتے ہو؟" انھوں نے کہا: "امیر کا حکم ہے کہ ہم آپ سے کہہ دیں کہ یا بیعت کرو یا جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ". حضرت عباسؑ نے کہا: "اپنی جگہ ٹھہرو میں ابا عبداللہ ؑ کے پاس جاؤں اور تمہارا پیغام آپؑ کو پہنچا دوں". وہ مان گئے چنانچہ حضرت عباسؑ اکیلے امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے تا کہ انہیں نئی صورت حال سے آگاہ کریں.[10]

امام حسینؑ نے حضرت عباسؑ سے فرمایا: "اگر تمہارے لئے ممکن ہو تو انہیں راضی کرو کہ جنگ کو کل تک ملتوی کریں اور آج رات کو ہمیں مہلت دیں تا کہ ہم اپنے پروردگار کے ساتھ راز و نیاز کر سکیں اور اس کی درگاہ میں نماز بجا لائیں؛ خدا جانتا ہے کہ میں اس کی بارگاہ میں نماز اور اس کی کتاب کی تلاوت کو بہت زیادہ دوست رکھتا ہوں.‌[11]

جب تک عباسؑ امام حسینؑ کے ساتھ گفتگو کررہے تھے، ان کے ساتھیوں حبیب بن مظاہر اور زہیر بن قین نے بھی موقع سے فائدہ اٹھا کر ابن سعد کی سپاہ کے ساتھ گفتگو کی اور انہیں امام حسینؑ کے ساتھ جنگ سے باز رکھنے کی کوشش کی جبکہ اسی حال میں وہ ابن سعد کے سپاہیوں کی پیشقدمی بھی روک رہے تھے.[12]

ابوالفضل العباسؑ دشمن کے سپاہیوں کی طرف آئے اور امام حسینؑ کی درخواست ان تک پہنچا دی اور ان سے ایک رات کی ان سے مہلت مانگی. ابن سعد نے امام حسینؑ اور آپؑ کے اصحاب کو ایک رات کی مہلت کی درخواست سے اتفاق کیا.[13] اس دن امام حسینؑ اور آپؑ کے خاندان اور اصحاب و انصار کے خیام کا محاصرہ کیا گیا.

فرمان امام صادقؑ

امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک حدیث کے ضمن میں اس روز کی توصیف کرتے ہوئے فرمایا:

تاسوعا یوم حوصر فیه الحسینؑ واصحابه بکربلاء واجتمع علیه خیل اهل الشام واناخوا علیه وفرح ابن مرجانة وعمر بن سعد بتواتر الخیل وکثرتها واستضعفوا فیه الحسینؑ واصحابه وایقنوا انه لا یأتی الحسینؑ ناصر ولا یمده اهل العراق تاسوعا وہ دن ہے جس دن حسینؑ اور اصحاب حسین کربلا میں محصور ہوئے اور شامی سپاہ ان کے خلاف اکٹھی ہوئی. ابن مرجانہ(ابن زیاد) اور عمر سعد اتنا بڑا لشکر فراہم ہونے پر خوش ہوئے اور اس دن حسینؑ اور آپؑ کے اصحاب کو کمزور سمجھا اور انھوں نے یقین کر لیا تھا کہ حسینؑ کے لئے کوئی مدد نہیں آئے گی اور عراقی آپؑ کی مدد نہیں کریں گے.[14]

اہل تشیع کے ہاں اس دن کی اہمیت

اس دن رونما ہونے والے واقعات کی بنا پر یہ دن شیعیان اہل بیتؑ کے نزدیک بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے. شیعیان اہل بیتؑ تاسوعا کو قمر بنی ہاشم عباسؑ سے منسوب کرتے ہیں؛ اور اسے روز عاشورا کی مانند تعظیم و تکریم اور احترام و عقیدت سے مناتے ہیں اور اس دن عباس علمدارؑ کے فضائل بیان کرتے ہیں اور ان کی عزاداری کرتے ہیں.

اس دن ایران اور بعض شیعہ اکثریتی ممالک میں عاشورا کی مانند سرکاری چھٹی ہوتی ہے؛ اس دن بھی عزاداری اور سوگواری کے عظیم اور مفصل مراسمات منعقد کئے جاتے ہیں۔ عزاداری کے دستے اور جلوس نکال کر ان میں سینہ زنی اور ماتم کرتے ہیں.

متعلقہ مضامین

گیلری

حوالہ جات

  1. الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ج5، ص94، ابن شهرآشوب، مناقب ج4، ص98.
  2. ابن سعد، الطبقات الکبری، خامسہ1، ص466: الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ص94؛ابن شہرآشوب، مناقب ج4، ص98؛ الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، صص414-415؛ شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص88؛ مسکویہ، ابوعلی، تجارب الامم، ج2، صص72-73؛ابن اثیر، علی بن ابی الکرم، الکامل فی التاریخ، ج4، ص55.
  3. بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ص183؛ الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص415؛شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص89 ؛ مسکویه، تجارب الامم، ص73؛ابن اثیر،الکامل...، ص56؛طبرسی، اعلام الوری ...، ج1، ص454.
  4. طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص415؛الخوارزمی،مقتل الحسینؑ، ص246؛ابن اثیر،الکامل...، ص56.
  5. الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...،ج5، ص415؛الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ج5، صص93-94؛ خوارزمی،مقتل الحسینؑ، ص246؛ابن اثیر، الکامل...، ص56.
  6. حسنی، ابن عنبہ، عمدة الطالب فی ...، ص327؛ خوارزمی، مقتل الحسینؑ، ص246.
  7. البلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف ج3، ص184؛ الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص416؛ شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص89؛الخوارزمی،مقتل الحسینؑ، ج1، ص246؛ابن اثیر، الکامل...، ج4، ص56.
  8. بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ص184؛ طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص416؛ شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص89؛ خوارزمی،مقتل الحسینؑ، ج1، ص249؛ طبرسی، اعلام الوری ...، ج1، ص454.
  9. البلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ص184؛ الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص416؛ شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص89؛ الخوارزمی،مقتل الحسینؑ، ج1، ص249؛ طبرسی، اعلام الوری ...، ج1، ص454.
  10. البلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، صص184-185؛الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، صص416-418؛ الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ج5، صص97- 98؛ شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص90؛ الخوارزمی، مقتل الحسینؑ، ج1، صص249-250؛ مسکویه، تجارب الامم، صص73- 74.
  11. الطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، ص417؛ شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص91؛ ابن اثیر،الکامل...، ص57.
  12. الطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، صص416-417؛ الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ص98؛ الخوارزمی،مقتل الحسینؑ، ص249-250؛ تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ "البلاذری، احمد بن یحیی"، انساب الاشراف، ص184.
  13. الطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، ص417؛ الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ص98؛ ابن اثیر،الکامل...، ص57.
  14. کلینی، الکافی، ج4، ص147؛ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج45، ص95؛ عاملی، شیخ حر، وسائل الشیعہ، ج10، ص460.

مآخذ

  • الکوفی، ابن اعثم
  • الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالأضواء، چاپ اول، ص1991
  • ابن سعد، الطبقات الکبری، الطبقات الکبری، تحقیق محمد بن صامل السلمی، طائف، مکتبۃ الصدیق، چاپ اول، 1993، خامسہ1
  • ابن شہرآشوب، مناقب آل ابیطالب، قم، علامہ، 1379ق
  • ابن اثیر، علی بن ابی الکرم، الکامل فی التاریخ، بیروت، دارصادر-داربیروت، 1965
  • البلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، تحقیق احسان عباس، بیروت، جمیعۃ المتشرقین الامانیہ، 1979
  • الخوارزمی، الموفق بن احمد، مقتل الحسینؑ، تحقیق و تعلیق محمد السماوی، قم، مکتبۃ المفید، بی‌تا
  • الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت، دارالتراث
  • حسنی، ابن عنبہ، عمدة الطالب فی انساب آل ابیطالب، قم، انصاریان، 1417
  • شیخ مفید، الارشاد، قم، کنگره شیخ مفید، 1413
  • عاملی، شیخ حر، وسائل الشیعہ، قم، آل البیتؑ، 1409
  • طبرسی،اعلام الوری بأعلام الہدی، تہران، اسلامیہ، چاپ سوم، 1390ق
  • کلینی، الکافی، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، 1365ش
  • مسکویہ، ابوعلی، تجارب الامم، تحقیق ابوالقاسم امامی، تہران، سروش، چاپ دوم، 1379ش
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار الجامعۃ لدرر اخبار الائمۃ الاطہار، تہران، اسلامیہ، بی‌تا

بیرونی ربط