مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:قبطی کا قتل

ویکی شیعہ سے
حضرت موسیؑ کے ہاتھوں قبطی کے قتل کی منظر کشی

قبطی کا قتل حضرت موسیٰؑ کے ہاتھوں مصر کے ایک قبطی شخص کے قتل کی طرف اشارہ ہے۔ یہ واقعہ قرآن مجید کی داستانوں میں سے ایک ہے۔ حضرت موسیؑ فرعون کے محل کے قریب رہتے تھے۔[1] ایک دن شہر میں بنی اسرائیل کے ایک فرد اور ایک قبطی کے درمیان جھگڑا ہوا۔[2] موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے فرد کی مدد کے لیے اقدام کیا اور قبطی پر ایسا وار کیا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔[3] قبطی کی موت کی خبر پورے شہر میں پھیل گئی اور فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام کا پیچھا کیا۔ موسیٰ علیہ السلام کو اپنی جان بچانے کے لیے مصر چھوڑ نا پڑا۔[4] قرآن مجید کے سورہ قصص کی آیت 15 اور 16 اور سورہ شعرا کی آیت 20 میں اس واقعے کا ذکر آیا ہے۔[5]

اہل سنت کے بعض مفسرین نے موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں قبطی کے قتل کو انبیاء بالخصوص موسیٰ علیہ السلام کے عدم عصمت کی دلیل قرار دیتے ہوئے[6] کہا ہے کہ اگر قبطی قتل کا مستحق تھا[7] تو موسیٰ علیہ السلام نے اسے "شیطانی عمل"[8] اور "اپنے اوپر ظلم"[9] کیوں کہا؟ اور اگر وہ قتل کا مستحق نہیں تھا، تو یہ عمل ان کی عصمت کے ساتھ کیسے موافق ہوسکتا ہے؟[10] اس بنا پر کہا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے گناہ صغیرہ کا ارتکاب کیا، کیونکہ انہوں نے اللہ کے اذن کے بغیر قبطی کو قتل کیا اور اسی وجہ سے درگاہ الہی میں استغفار کیا۔[11] بعض نے کہا ہے کہ قصد کے بغیر قتل کرنا گناہ صغیرہ ہے جو قتل خطا کا باعث بنا اور شریعت میں اس کا کفارہ مقرر ہے۔[12]

شیعہ مفسرین پیغمبروں کو تمام گناہان کبیرہ اور صغیرہ سے پاک و مطہر مانتے ہیں۔[13] ان کے عقیدے کے مطابق، اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو قبطی کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا اور وہ قتل کا مستحق تھا،[14] لیکن بہتر یہ تھا کہ موسیٰ علیہ السلام اس اقدام کو موخر کرتے[15] کیونکہ ان حالات میں قبطی کو مارنا مصلحت کے خلاف تھا اور اس کی وجہ سے انہیں مصر چھوڑنا پڑا۔[16] موسیٰ علیہ السلام نے اس کام میں جلدی کر کے "ترک اولیٰ" کیا اور اسی وجہ سے استغفار کیا،[17] پھر اللہ نے ان پر اپنی خاص رحمت فرمائی۔[18]

علامہ طباطبائی کے مطابق، موسیٰ علیہ السلام نے اپنی رسالت سے پہلے اور قتل سے منع کیے جانے سے پہلے قبطی کو قتل کیا، کیونکہ وہ کافر تھا اور وہ نفس محترمہ میں شمار نہیں ہوتا تھا۔[19] موسیٰ علیہ السلام کا اعترافِ گناہ قتل کے سلسلے میں نہیں تھا بلکہ یہ اعتراف مصلحت کے برخلاف اقدام کرنے پر تھا۔[20] ناصر مکارم شیرازی کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ فرعونیوں نے ہزاروں بنی اسرائیلی بچوں کو قتل کیا تھا، اس لیے ان کے خون کی بنی اسرائیل کے نزدیک کوئی حرمت نہیں تھی۔[21]

امام رضاؑ کی ایک حدیث میں موسیٰ علیہ السلام کے الفاظ "یہ شیطان کا عمل ہے" سے مراد قبطی اور بنی اسرائیل کے فرد کے درمیان جھگڑا ہے اور "میں نے اپنے اوپر ظلم کیا" سے مراد موسیٰ علیہ السلام کا مشکل حالات میں پڑنا ہے۔[22]

حوالہ جات

  1. طباطبایی، المیزان، 1370شمسی، ج16، ص17؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1353شمسی، ج16، ص49۔
  2. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1353شمسی، ج16، ص54۔
  3. سورہ قصص، آیہ 15۔
  4. راوندی، قصص الانبیا، 1368شمسی، ص154-155۔
  5. سورہ قصص، آیات 15 و 16؛ سورہ شعرا، آیہ 20۔
  6. بہ نقل از فخر رازی، مفاتیح الغیب، 1420ھ، ج24، ص585۔
  7. فاضل مقداد، لوامع الہیۃ، 1380شمسی، ص259۔
  8. سورہ قصص، آیہ 15۔
  9. فاضل مقداد، لوامع الہیۃ، 1380شمسی، ص259۔
  10. فاضل مقداد، لوامع الہیۃ، 1380شمسی، ص259۔
  11. زمخشری، الکشاف، 1407ھ، ج3، ص398۔
  12. آلوسی، روح‌المعانی، 1415ھ، ج10، ص264۔
  13. سید مرتضی، تنزیہ الانبیاء، الشریف الرضی، ص67۔
  14. شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج8، ص137؛ فاضل مقداد، اللوامع الالہیہ، 1380شمسی، ص259۔
  15. شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج8، ص137؛ فاضل مقداد، اللوامع الالہیہ، 1380شمسی، ص259۔
  16. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1353شمسی، ج16، ص55۔
  17. شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج8، ص137؛ فاضل مقداد، اللوامع الالہیہ، 1380شمسی، ص259۔
  18. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1353شمسی، ج16، ص55۔
  19. طباطبایی، المیزان، 1370شمسی، ج6، ص278۔
  20. طباطبایی، المیزان، 1370شمسی، ج6، ص278۔
  21. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1353شمسی، ج16، ص56۔
  22. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، 1404ھ، ج2، ص177۔

مآخذ

  • آلوسی، محمود بن عبد اللہ، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم و السبع المثانی، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1415ھ۔
  • راوندی، قطب الدین، قصص الانبیا، مشہد، آستان قدس رضوی، 1368ہجری شمسی۔
  • رازی، فخرالدین،التفسیرالکبیر( مفاتیح الغیب)، بی نا، بی تا، بی جا۔
  • زمخشری، محمود بن عمر، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل، بیروت، دار الکتب العربی، 1407ھ۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، انتشارات اسماعیلیان، 1370ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، عیون اخبار الرضا، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، 1404ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی‌تا۔
  • علم الہدی، علی بن الحسین، تنزیہ الانبیاء، قم، الشریف الرضی، بی‌تا۔
  • فاضل مقداد، مقداد بن عبداللہ، اللوامع الہیۃ فی المباحث الکلامیۃ، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، 1380ہجری شمسی۔
  • فخر رازی، محمد بن عمر، مفاتیح الغیب، بیروت، دار احیاء تراث العربی، 1420ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1353ہجری شمسی۔