مسودہ:ایاک نعبد و ایاک نستعین
| آیت کی خصوصیات | |
|---|---|
| سورہ | سورہ حمد |
| آیت نمبر | 5 |
| پارہ | 1 |
| محل نزول | مکہ |
| مضمون | توحید عبادی اور توحید افعالی |
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ، سورہ حمد کی پانچویں آیت ہے، جس میں انسان کی زبانی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اسی سے مدد مانگنے کا اقرار کیا گیا ہے۔ مفسرین کے مطابق یہ آیت جہاں توحید عبادی اور توحیدِ افعالی پر دلالت کرتی ہے وہاں جبر اور تفویض کے نظریات کی نفی بھی کرتی ہے۔ اس آیت کے دیگر اہم تفسیری نکات میں اسلوبِ کلام کی تبدیلی، یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات کے بیان سے براہِ راست اللہ کو مخاطب قرار دینا اور «نَعْبُدُ» (ہم عبادت کرتے ہیں) اور «نَسْتَعِينُ» (ہم مدد مانگتے ہیں) میں صیغۂ جمع کا استعمال ہے۔ بعض دعاؤں اور مستحب نمازوں خاص کر نمازِ امام زمانہؑ میں اس آیت کی تلاوت اور تکرار کی سفارش کی گئی ہے۔
تعارف
آیت «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» میں اسلوبِ کلام، اللہ تعالیٰ کی صفات کے بیان سے براہِ راست خطاب کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ اس سے پہلے کی آیات میں اللہ تعالیٰ کا تعارف رب العالمین، رحمان و رحیم اور روزِ جزا کے مالک جیسی صفات کے ذریعے کرایا گیا ہے۔[1] آیت اللہ جوادی آملی کے مطابق اسلوبِ کلام میں یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ بندہ سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفات کو پہچاننے کے بعد اس مرتبے پر پہنچ جاتا ہے جہاں وہ براہِ راست اللہ تعالی کو مخاطب قرار دے کر اللہ سے مناجات کرتا ہے۔[2]
علامہ طباطبائی کے مطابق «إِيَّاكَ نَعْبُدُ» کی تعبیر انسان کی بندگی اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کے وابستہ ہونے کو بیان کرتی ہے، جب کہ «وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» کی تعبیر اللہ تعالیٰ کی مدد کے لیے انسان کی محتاجی اور نیازمندی کو ظاہر کرتی ہے، حتیٰ کہ عبادت میں بھی انسان اللہ کی مدد کا محتاج ہے۔[3] علامہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کو براہِ راست مخاطب قرار دینا عبادت میں توجہ اور حضور قلب کی اہمیت پر بھی دلالت کرتا ہے۔[4]
پریشانیوں سے نجات کے لیے آیت کی تلاوت
بعض دعاؤں اور مستحب نمازوں میں حاجت روائی اور مشکلات سے نجات کے لئے آیت «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» کی تلاوت کی سفارش کی گئی ہے۔[5] اسی طرح نمازِ امام زمانہؑ کی ہر رکعت میں سورہ حمد کی تلاوت کے دوران اس آیت پر پہنچنے کے بعد اسے سو مرتبہ دہرانے کی سفارش کی گئی ہے۔[6]
ایک روایت کے مطابق امام علیؑ جنگ شروع کرنے سے پہلے ایک دعا پڑھا کرتے تھے، جس کا ایک حصہ اسی آیت پر مشتمل تھا۔[7] اسی طرح پیغمبر اکرمؐ کی بعض جنگوں کے متعلق ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ جب جنگ کے دوران دشواری پیش آتی تو آپؐ «یا مالِکَ یَوْمِ الدِّینِ، إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِینُ» کا ورد کرتے تھے۔ جس کے نتیجے میں فرشتے آپؐ کی مدد کے لئے آتے اور مسلمانوں کو دشمنوں پر فتح نصیب ہوتی تھی۔[8]
بعض حدیثی منابع میں یہ بھی نقل ہوا ہے کہ ایک روز امام صادقؑ نماز کے دوران قرآن کی ایک آیت کو اس قدر دہراتے رہے کہ بے آپؑ ہوش ہوگئے۔ جب آپؑ کو افاقہ ہوا اور آپؑ سے اس کیفیت کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا: میں اس آیت کو بار بار دہراتا رہا یہاں تک کہ اسے اس کے اصل قائل سے سن لیا۔[9] قاضی سعید قمی نے بعض شواہد کی بنیاد پر اس روایت میں مذکور آیت کو آیت «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» قرار دیا ہے۔[10]
توحید عبادی اور توحید افعالی پر دلالت
مفسرین کے مطابق «إِيَّاكَ نَعْبُدُ» کی تعبیر توحید عبادی، یعنی عبادت صرف اللہ کے ساتھ مختص ہونے اور «إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» کی تعبیر توحید افعالی، یعنی دنیا میں مستقل طور پر اثرانداز ہونے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہونے، پر دلالت کرتی ہے۔[11]
اس آیت میں ضمیر «إِيَّاكَ» فعل سے پہلے آئی ہے جو انحصاریت پر دلالت کرتی ہے۔ مفسرین کے مطابق یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عبادت اور استعانت صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے[12] اور دونوں افعال سے پہلے اس ترتیب کی تکرار مذکورہ مفہوم پر تاکید اور زور دیتی ہے۔[13] علامہ طباطبائی بھی اسی مطلب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مفعول کو فعل سے پہلے لانا اور عبادت کے لئے کسی قید و شرط کا ذکر نہ کرنا، عبادت و بندگی کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہونے اور حقیقی مالکیت اللہ کی ذات میں منحصر ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔[14]
امام رضاؑ سے منقول ایک روایت میں «إِيَّاكَ نَعْبُدُ» کی تفسیر عبادت میں اخلاص کے اظہار اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول سے کی گئی ہے، جب کہ «إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» سے مراد عبادت کی توفیق اور اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کرنا بیان کیا گیا ہے۔[15] بعض مفسرین کے مطابق، استعانت کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص کرنے کا مطلب دوسروں سے مدد لینے یا توسل کرنے کی نفی نہیں ہے؛ کیونکہ دوسروں سے مدد لینے کا مطلب ان کو اثراندازی میں مستقل اور خودمختار سمجھنا نہیں ہے۔[16]
جبر اور تفویض کی نفی پر دلالت
آیت اللہ جوادی آملی کے مطابق سور حمد کی پانچویں آیت جبر اور تفویض کی نفی پر دلالت کرتی ہے؛ کیونکہ «إِيَّاكَ نَعْبُدُ» کی تعبیر اللہ کی عبادت و بندگی میں انسان کے مختار ہونے، جب کہ «إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» کی تعبیر مدد اور استعانت طلب کرنا صرف خدا میں منحصر ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ لہٰذا انسان نہ تو اپنے افعال میں بالکل مجبور ہے اور نہ ہی اپنے اعمال کی انجام دہی میں اللہ تعالیٰ سے بے نیاز ہے۔[17] ایک روایت میں امام صادقؑ نے بھی تمام امور انسان کے حوالے کردیے جانے کے نظرئے کی نفی کے لئے اسی آیت سے استدلال کیا ہے۔[18]
آیت میں صیغۂ جمع کا استعمال
سورہ حمد کی پانچویں آیت میں دو افعال «نَعْبُدُ» (ہم عبادت کرتے ہیں) اور «نَسْتَعِينُ» (ہم مدد طلب کرتے ہیں) میں جمع کا صیغۂ استعمال کیا گیا ہے۔ علامہ طباطبائی کے مطابق جمع کا صیغۂ استعمال کرنا انانیت، یعنی خودی اور اپنی ذات کو مرکزِ توجہ بنانے، سے اجتناب کرنے کی علامت ہے۔[19] آیت اللہ مکارم شیرازی اسے عبادت کی اجتماعی نوعیت سے مربوط قرار دیتے ہیں،[20] جبکہ محسن قرائتی کے مطابق اس میں نماز جماعت کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے۔[21] بعض محققین عبادت سے مربوط افعال میں صیغۂ جمع کے استعمال کو عبادت میں اولیائے الٰہی کے ساتھ وابستگی کی علامت قرار دیتے ہیں؛ کیونکہ انسان کی انفرادی عبادت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کامل شایستگی کی حامل نہیں ہوتی۔[22]
حوالہ جات
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج1، ص42۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، اسراء، ج1، ص416۔
- ↑ طباطبائی، المیزان، ج1، ص26۔
- ↑ طباطبائی، المیزان، ج1، ص26۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: طبرسی، مکارم الاخلاق، ج1، ص325 اور 352؛ سید ابن طاؤوس، جمال الاسبوع، ص125۔
- ↑ سید ابن طاؤوس، مہج الدعوات، ص294؛ قمی، مفاتیح الجنان، مجمع احیاء الثقافۃ الاسلامیہ، ص94، 786 اور 790۔
- ↑ نصر بن مزاحم، وقعۃ صفین، ص230۔
- ↑ ابو نعیم، دلائل النبوۃ، ج2، ص460۔
- ↑ سید ابن طاؤوس، فلاح السائل، ص107 و 108۔
- ↑ قاضی سعید قمی، اسرار العبادات، ص61۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج1، ص42 و 43۔
- ↑ شریف کاشانی، زبدۃ التفسیر، مؤسسۃ المعارف الاسلامیہ، ج1، ص29؛ جوادی آملی، تفسیر تسنیم، ج1، ص421؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج1، ص43۔
- ↑ جوادی آملی، تفسیر تسنیم، ج1، ص420۔
- ↑ طباطبائی، المیزان، ج1، ص25۔
- ↑ شیخ طوسی، من لا یحضرہ الفقیہ، ج1، ص310۔
- ↑ جوادی آملی، تفسیر تسنیم، ج1، ص446؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج4، ص364–366۔
- ↑ جوادی آملی، تفسیر تسنیم، ج1، ص455۔
- ↑ مجلسی، بحار الانوار، ج5، ص55 اور ج89، ص239۔
- ↑ طباطبائی، المیزان، ج1، ص26۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج1، ص44۔
- ↑ قرائتی، تفسیر نور، ج1، ص32۔
- ↑ ’’راز کاربرد ضمیر جمع در آیہ «ایاک نعبد و ایاک نستعین»‘‘، خبرگزاری ایکنا۔
مآخذ
- ابونعیم اصفہانی، احمد بن عبداللہ، دلائل النبوۃ، بیروت، دار النفائس، 1412ھ۔
- جوادی آملی، عبداللہ، تفسیر تسنیم، قم، نشر اسراء، 1395ہجری شمسی۔
- «راز کاربرد ضمیر جمع در آیہ ایاک نعبد و ایاک نستعین» (آیت ایاک نعبد و ایاک نستعین میں ضمیر جمع استعمال کرنے کا راز)، ایکنا نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 5 اکتوبر 2020ء، تاریخ مشاہدہ: 27 اکتوبر 2026ء۔
- سید بن طاووس، علی بن موسی، فلاح السائل و نجاح المسائل، قم، بوستان کتاب، پہلی اشاعت، 1406ھ۔
- سید بن طاووس، علی بن موسی، جمال الأسبوع بکمال العمل المشروع، قم، دار الرضی، 1330ھ۔
- سید بن طاووس، علی بن موسی، مہج الدعوات و منہج العبادات، تحقیق ابوطالب کرمانی و محمد حسن محرر، قم، دارالذخائر، 1411ھ۔
- شریف کاشانی، فتح اللہ، زبدۃ التفاسیر، قم، مؤسسۃ المعارف الإسلامیہ، بے تا۔
- شیخ طوسی، من لا یحضرہ الفقیہ، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1413ھ۔
- طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسہ الاعلمی للمطبوعات، 1390ھ۔
- طبرسی، حسن بن فضل، مکارم الاخلاق، قم، الشریف الرضی، 1370ہجری شمسی۔
- قاضیسعید قمی، اسرار العبادات و حقیقہ الصلاہ، تہران، تہران یونیورسٹی، 1339ہجری شمسی۔
- قرائتی، محسن، تفسیر نور، قم، قرآنی دروس کا ثفافتی مرکز، 1383ہجری شمسی۔
- قمی، مفاتیح الجنان، قم، مجمع إحیاء الثقافۃ الإسلامیہ، بے تا۔
- مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، بیروت، دار احیاء التراث، 1403ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، 1380ہجری شمسی۔
- نصر بن مزاحم، وقعۃ صفين، قم، مکتبۃ آیۃ اللہ المرعشی النجفی، دوسری اشاعت، 1404ھ۔