مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:امام حسینؑ کا مدینہ سے خروج

ویکی شیعہ سے
امام حسینؑ کا مدینہ سے خروج
ایران کے صیدی نامی ایک گاؤں میں امام حسینؑ کا مدینہ سے خروج کی مناسبت سے عزاداری 17 نومبر 2012ء۔
زمانسنہ 61ھ
مکانمدینہ
سببیزید کی بیعت سے انکار
مقاصدامت محمدیؐ کی اصلاح، امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور سیرت نبوی و سیرت علوی کا احیاء
مربوطواقعہ کربلا اور قیام امام حسینؑ


امام حسینؑ کا مدینہ سے خروج، امام حسینؑ کی مدینہ سے مکہ کی جانب روانگی اور واقعہ کربلا کا پہلا مرحلہ ہے۔ یہ واقعہ 60ھ میں معاویہ کی وفات اور یزید کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد پیش آیا۔ یزید نے امام حسینؑ سے بیعت کا مطالبہ کیا، لیکن امامؑ نے بیعت سے انکار کر دیا۔ اس فیصلے کے محرکات کے بارے میں مختلف آراء پیش کی گئی ہیں؛ بعض محققین کے نزدیک یہ اقدام یزید کی حکومت کی جانب سے جبری بیعت کے دباؤ کا ردِّعمل تھا، جبکہ بعض کے نزدیک یہ اقدام امامؑ کی اس پیشگی حکمتِ عملی کا حصہ تھا جس کا مقصد نہضت کے اہداف کو واضح کرنا اور معاویہ کی وفات کے بعد قیام کی راہ ہموار کرنا تھا۔

امام حسینؑ نے مدینہ سے روانگی سے قبل مسجد النبیؐ میں حاضر ہو کر اپنے نانا رسول خداؐ کی قبر اقدس سے وداع کیا۔ نیز محمد بن حنفیہ کے نام ایک وصیت نامہ تحریر فرمایا، جس میں اپنے قیام کا مقصد امت محمدی کی اصلاح، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، سیرت نبوی اور سیرت علوی کا احیاء قرار دیا۔ اس کے بعد آپؑ اپنے خاندان کے بیشتر افراد کے ہمراہ مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔

مدینہ سے امام حسینؑ کے خروج کا ذکر مذہبی شعر و ادب میں بھی ملتا ہے اور متعدد شعراء و ذاکرین نے اس واقعے کو اپنے کلام میں بیان کیا ہے۔ اسی طرح یہ واقعہ مذہبی فن پاروں بالخصوص تعزیہ خوانی میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔

قیامِ امام حسینؑ کا پہلا مرحلہ

مدینہ سے مکہ اور عراق کی جانب امام حسینؑ کا خروج قیام امام حسینؑ کا پہلا مرحلہ[1] اور یزید کی بیعت کے مطالبے کے خلاف ایک عملی ردِّعمل قرار دیا گیا ہے۔[2] یہ واقعہ 60ھ میں معاویہ کی وفات اور یزید کے تخت نشین ہونے کے بعد پیش آیا۔[3]

تاریخی منابع کے مطابق یزید کے اقتدار سنبھالتے ہی اس نے مدینہ کے گورنر ولید بن عتبہ کو حکم دیا کہ وہ اہل مدینہ، خصوصاً امام حسینؑ، عبد اللہ بن زبیر اور عبد اللہ بن عمر جیسے بااثر شخصیات سے بیعت لے لیں۔[4]

مکہ اور کوفہ کی طرف روانگی

تاریخی منابع کے مطابق امام حسینؑ نے 27 رجب[5] سنہ 60 ہجری کو[6] رات کے وقت سورہ قصص آیت نمبر 21 کی تلاوت کرتے ہوئے[7] اپنے اہلِ خاندان کے بشتر افراد (سوائے محمد بن حنفیہ) کے ہمراہ مدینہ چھوڑ کر مکہ کی راہ اختیار کی۔[8]

شیخ صدوق کی روایت کے مطابق امام حسینؑ نے مدینہ چھوڑنے کا فیصلہ کرنے کے بعد رات کے وقت نانا رسول خداؐ سے وداع کے لئے مسجد النبی میں حاضری دی اور قبر رسولؐ کے پاس دعا و مناجات کی۔ اگلی رات بھی مسجد النبی گئے اور ایک طویل نماز کے بعد خواب میں پیغمبر اکرمؐ کو دیکھا، جنہوں نے آپؑ کو گلے لگایا اور آپؑ کی قریب الوقوع شہادت کی خبر دی۔[9] نیز یہ بھی نقل ہوا ہے کہ آپؑ اپنی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ(س) اور بھائی امام حسن مجتبیؑ کی قبور پر بھی گئے اور ان سے بھی وداع کیا۔[10]

بعض روایات کے مطابق قبیلۂ بنی ہاشم اور خاندانِ عبد المطلب کی چند خواتین نوحہ خوانی کے لئے جمع ہوئیں، لیکن امامؑ نے انہیں اس سے منع فرمایا۔[11]امام حسینؑ نے اپنے بھائی محمد بن حنفیہ سے بھی ملاقات کی[12] اور ان کے نام ایک وصیت نامہ تحریر فرمایا، جس میں اپنے قیام کا مقصد امت کی اصلاح، امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور سیرت نبوی اور سیرت علوی کا احیا قرار دیا۔[13]

امام حسینؑ نے مدینہ سے مکہ کے درمیان معروف اور مرکزی راستہ اختیار فرمایا۔[14] مسلم بن عقیل[15] یا بعض روایات کے مطابق خاندان کے کسی فرد نے یہ مشورہ دیا کہ حکومتی اہلکاروں سے بچنے کے لئے فرعی راستہ اختیار کیا جائے، مگر امامؑ نے یہ تجویز قبول نہ کی اور مرکزی راستے ہی پر سفر جاری رکھا۔[16]

بعض محققین اس فیصلے کو امام حسینؑ کی جدوجہد میں صراحت اور آغاز ہی سے نہضت کے اہداف کے علانیہ اظہار کی علامت قرار دیتے ہیں۔[17]

مدینہ کے خواص کی تجاویز

مدینہ سے روانگی کے دوران بعض قریبی افراد اور معروف شخصیات نے امام حسینؑ کو مختلف مشورے دیے۔ محمد بن حنفیہ نے عرض کیا کہ اگر ممکن ہو تو مدینہ ہی میں قیام فرمائیں اور اگر خروج ناگزیر ہو تو مکہ کو اپنی منزل بنائیں[18] اور اگر وہاں بھی امن باقی نہ رہے تو کسی دوسرے علاقے کا رخ کریں۔[19] عبد اللہ بن عمر نے بھی امام حسینؑ کے مدینہ سے نکلنے کی خبر سن کر آپؑ سے ملاقات کی اور عراق جانے سے منع کیا۔[20] اسی طرح عبداللہ بن مطیع نے امام حسینؑ کو مشورہ دیا کہ اہلِ کوفہ کی دعوت پر اعتماد نہ کریں اور مکہ ہی میں قیام فرمائیں؛ کیونکہ ان کے بقول اہل کوفہ پہلے بھی امام علیؑ اور امام حسنؑ کے ساتھ وفادار ثابت نہیں ہوئے تھے اور اگر امام حسینؑ کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کے سنگین اثرات پورے خاندان پر مرتب ہوں گے۔[21]

ایک روایت کے مطابق ام المؤمنین ام سلمہ نے بھی امام حسینؑ کو عراق کے سفر سے منع کیا اور کربلا میں آپؑ کی شہادت سے متعلق رسول خداؐ سے منقول روایت کی یاددہائی کرائی۔ امامؑ نے جواب میں فرمایا کہ آپؑ اپنی شہادت سے آگاہ ہیں اور اس سے فرار ممکن نہیں۔[22]

امام حسینؑ کے اشعار

بعض تاریخی روایات کے مطابق امام حسینؑ نے مدینہ سے خروج کے دوران مختلف مواقع پر اشعار پڑھے۔ مسجد النبیؐ میں داخل ہوتے وقت آپؑ نے ابنِ مُفرّغ حمیری کے اشعار پڑھے جن کا مفہوم یزید کے سامنے سرِ تسلیم خم نہ کرنے اور موت کے خطرے کے باوجود ذلت قبول نہ کرنے پر مشتمل تھا۔[23] اسی طرح جب بعض ساتھیوں نے مرکزی راستہ چھوڑنے کی تجویز دی تو امامؑ نے ایسے اشعار پڑھے جن میں خاندان، عزت و ناموس کی حفاظت اور ان کے دفاع کے لئے آمادگی پر زور دیا گیا تھا۔[24]

واقعہ کا تجزیہ و تحلیل

امام حسینؑ کے مدینہ سے خروج کے بارے میں مختلف تجزئے پیش کئے گئے ہیں۔[25] بعض محققین کے نزدیک امام حسینؑ کی جان کو لاحق خطرہ[26] اور حکومت کی جانب سے ممکنہ کارروائی اس فیصلے کا بنیادی سبب تھی۔[27] معاصر مورخ رسول جعفریان کے مطابق امام حسینؑ کا مدینہ سے خروج یزیدی حکومت کی جانب سے جبری بیعت کے دباؤ کا ردِّعمل تھا۔ ان کے نزدیک امامؑ نے مدینہ چھوڑ کر ایسے حالات سے خود کو دور کر لیا جن میں جبراً بیعت لینے یا حکومت کے ساتھ براہِ راست تصادم کا امکان موجود تھا۔[28] بعض دیگر محققین کا خیال ہے کہ مدینہ میں قیام اور مؤثر تحریک کے لئے سازگار حالات موجود نہیں تھے؛ اس لئے امام حسینؑ نے مدینہ چھوڑا تاکہ دورانِ سفر خصوصاً مکہ میں اپنے قیام کے مقاصد کو واضح کریں، لوگوں کو اپنی دعوت سے آگاہ کریں اور یزید کے خلاف قیام کے لئے مناسب فضا ہموار کریں۔[29] ان محققین کے نزدیک یہ اقدام امامؑ کی پہلے سے طے شدہ حکمتِ عملی کا حصہ تھا؛ کیونکہ آپؑ نے اپنا قیام معاویہ کی وفات کے بعد شروع کرنے کا ارادہ کیا تھا۔[30][31]

رسول جعفریان کے مطابق امام حسینؑ نے ابتدائی مرحلے میں مکہ میں قیام فرمایا جو دیگر علاقوں کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ پر امن مقام شمار ہوتا تھا اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں غور و فکر کے لئے موزوں ماحول موجود تھا۔[32] اسی دوران امامؑ کے کوفہ جانے کے امکانات بھی زیرِ بحث تھے؛ اسی لئے بعض افراد[33] آپؑ کو کوفہ جانے سے منع کرتے رہے۔[34] جعفریان کے مطابق ان افراد کی اصل تشویش امام حسینؑ کی جان کا تحفظ تھی، جبکہ انہیں مکہ کے غیر محفوظ ہونے کا زیادہ اندیشہ نہیں تھا۔[35]

رِثائی ادب اور مذہبی فن پاروں میں

امام حسینؑ کا مدینہ سے خروج مذہبی شاعری اور رسوماتی ادب میں بھی نمایاں طور پر منعکس ہوا ہے۔ قاجاریہ دور کے معروف شاعر[36] سروش اصفہانی[37] نیز غلام رضا سازگار، علی اکبر لطیفیان اور محمود ژولیدہ جیسے فارسی گو شعراء نے اس واقعے کے بارے میں متعدد اشعار کہے ہیں۔[38] یہ واقعہ متعدد تعزیہ مجالس میں بھی پیش کیا جاتا ہے اور تعزیہ خوانی کے اہم موضوعات میں شمار ہوتا ہے۔[39]

حوالہ جات

  1. «امام حسین(ع) کا مدینہ سے خارج ہونے کے علل و اسباب»، تبیان ویب سائٹ۔
  2. جعفریان، تأملی در نہضت عاشورا، 1381شمسی، ص66۔
  3. شیخ مفید، الإرشاد، 1372شمسی، ج2، ص32۔
  4. طبری، تاریخ الطبری، بیروت، ج5، ص338۔
  5. ابومخنف، وقعۃ الطف، 1375شمسی، ص102۔
  6. طبری، تاریخ الطبری، بیروت، ج5، ص341۔
  7. ابومخنف، وقعۃ الطف، 1375شمسی، ص102۔
  8. شیخ مفید، الإرشاد، 1372شمسی، ج2، ص34-35؛ طبری، تاریخ الطبری، بیروت، ج5، ص341۔
  9. شیخ صدوق، الأمالی، 1376شمسی، ص152۔
  10. ابن اعثم، مقتل الحسین...، 1424ھ، ص30۔
  11. ابن قولویہ، کامل الزیارات، 1356ھ، ص96۔
  12. ابن اعثم، الفتوح، 1411ھ، ج5، ص21۔
  13. ابن اعثم، الفتوح، 1411ھ، ج5، ص21۔
  14. شیخ مفید، الإرشاد، 1372شمسی، ج2، ص35۔
  15. ابن اعثم، الفتوح، 1411ھ، ج5، ص22۔
  16. شیخ مفید، الإرشاد، 1372شمسی، ج2، ص35۔
  17. جمعی از نویسندگان، مجموعۂ مقالات ہمایش امام حسین(ع)، 1381شمسی، ج4، ص128؛ نجمی، سخنان حسین بن علی(ع)...، 1381شمسی، ص58۔
  18. ابومخنف، وقعۃ الطف، 1375شمسی، ص84؛ طبری، تاریخ الطبری، بیروت، ج5، ص341-342۔
  19. شیخ مفید، الإرشاد، 1372شمسی، ج2، ص35۔
  20. شیخ صدوق، الأمالی، 1376شمسی، ص153۔
  21. ابن اعثم، مقتل الحسین...، 1424ھ، ص33۔
  22. مجلسی، بحار الأنوار، 1403ھ، ج44، ص331۔
  23. ابومخنف، وقعۃ الطف، 1375شمسی، ص83۔
  24. ابومخنف، مقتل الحسین(ع)، 1362شمسی، ص19۔
  25. مزید ملاحظہ ہو: محمدی و گودرزی، «سیّد الشہداء (ع) کے مدینہ اور مکّہ سے خارج ہونے کے علل و اسباب کا تاریخی جائزہ»، ص81۔
  26. مثلاً ملاحظہ ہو: شیخ مفید، الإرشاد، 1372شمسی، ج2، ص33؛ شیخ صدوق، الأمالی، 1376شمسی، ص152؛ طبری، تاریخ الطبری، بیروت، ج5، ص340۔
  27. محمدی و گودرزی، «سیّد الشہداء (ع) کے مدینہ اور مکّہ سے خارج ہونے کے علل و اسباب کا تاریخی جائزہ»، ص81۔
  28. جعفریان، تأملی در نہضت عاشورا، 1381شمسی، ص66۔
  29. صفائی، عاشورا: بررسی...، 1401شمسی، ص71-72؛ محمدی و گودرزی، «سیّد الشہداء (ع) کے مدینہ اور مکّہ سے خارج ہونے کے علل و اسباب کا تاریخی جائزہ»، ص83۔
  30. شیخ مفید، الإرشاد، 1372شمسی، ج2، ص32۔
  31. محمدی و گودرزی، «سیّد الشہداء (ع) کے مدینہ اور مکّہ سے خارج ہونے کے علل و اسباب کا تاریخی جائزہ»، ص83۔
  32. جعفریان، تأملی در نہضت عاشورا، 1381شمسی، ص66۔
  33. مثلاً ملاحظہ ہو: شیخ صدوق، الأمالی، 1376شمسی، ص153؛ ابن اعثم، مقتل الحسین...، 1424ھ، ص33؛ مجلسی، بحار الأنوار، 1403ھ، ج44، ص331۔
  34. جعفریان، تأملی در نہضت عاشورا، 1381شمسی، ص74۔
  35. جعفریان، تأملی در نہضت عاشورا، 1381شمسی، ص74۔
  36. سروش اصفہانی، دیوان سروش اصفہانی، 1340شمسی، ج1، ص10۔
  37. سروش اصفہانی، دیوان سروش اصفہانی، 1340شمسی، ج2، ص736۔
  38. «کاروان اباعبداللہؑ کی مدینہ سے حرکت سے متعلق خصوصی اشعار»، عقیق ویب سائٹ۔
  39. تعزیہ «خروج اباعبداللہ(ع) از مدینہ...»۔

مآخذ

  • ابن اعثم، محمد بن علی، الفتوح، بیروت، دار الأضواء، 1411ھ۔
  • ابن اعثم، محمد بن علی، مقتل الحسین و قیام المختار، قم، انوار الہدی، 1424ھ۔
  • ابن قولویہ، جعفر بن محمد، کامل الزیارات، نجف، مطبعۃ المرتضویۃ، 1356ھ۔
  • ابومخنف لوط بن یحیی، وقعۃ الطف، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1375ہجری شمسی۔
  • ابومخنف، لوط بن یحیی، مقتل الحسین(ع) و مصرع أہل بیتہ و أصحابہ فی کربلاء، قم، الشریف الرضی، 1362ہجری شمسی۔
  • «کاروان اباعبداللہؑ کی مدینہ سے حرکت سے متعلق خصوصی اشعار»، عقیق ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: مئی 2015ء، تاریخ مشاہدہ: 26 جون 2026ء۔
  • «امام حسینؑ کا مدینہ سے خروج کی مناسبت سے شہر جم صیدی کے مقام پر تعزیہ 1»، آپارات ویب سائٹ
  • جعفریان، رسول، تأملی در نہضت عاشورا، قم، انصاریان، 1381ہجری شمسی۔
  • جمعی از نویسندگان، مجموعہ مقالات ہمایش امام حسین (ع)، تہران، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، 1381ہجری شمسی۔
  • محمدی، رمضان و ابراہیم گودرزی، «سیّد الشہداء (ع) کے مدینہ اور مکّہ سے خارج ہونے کے علل و اسباب کا تاریخی جائزہ»، فصلنامہ تاریخ اسلام، شمارہ پیاپی 75، 23 ستمبر تا 22 اکتوبر 2018ء۔
  • سروش اصفہانی، دیوان سروش اصفہانی، تہران، امیرکبیر، 1340ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، الأمالی، تہران، کتابچی، چاپ ششم، 1376ہجری شمسی۔
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، الإرشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، قم، المؤتمر العالمی لألفیۃ الشیخ المفید، 1372ہجری شمسی۔
  • صفایی حائری، علی، عاشورا: بررسی و تحلیل حرکت امام حسین(ع)، قم، لیلۃ القدر، 1401ہجری شمسی۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری: تاریخ الأمم و الملوک، بیروت، بی نا، بی تا.
  • «امام حسین(ع) کا مدینہ سے خارج ہونے کے علل و اسباب»، تبیان ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 15 اپریل 2018ء، تاریخ مشاہدہ: 29 جون 2026ء۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار: الجامعۃ لدرر اخبار الائمۃ الاطہار(ع)، بیروت، دار احیاء التراث العربی، دوسری اشاعت، 1403ھ۔
  • نجمی، محمد صادھ، سخنان حسین بن علی(ع) از مدینہ تا کربلا، قم، بوستان کتاب، 1381ہجری شمسی۔
  • «سیدالشہدا کی روضہ پیغمبر سے وداع اور مدینہ سے خروج»، آستان وصال ویب سائٹ، تاریخ مشاہدہ: 26 جون 2026ء۔