میقات

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
پانچ میقات
مشہور احکام
توضیح المسائل2.png
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

میقات، حج‌ یا عمره‌ کیلئے احرام باندھنے کی جگہ کو کہا جاتا ہے۔ مکہ کے اطراف میں رہنے والے مسلمان جو خانہ خدا کی زیارت کرنا چاہے اسے پانچ مقررہ میقات میں سے کسی ایک سے احرام باندھنا واجب ہے۔ مقررہ میقات میں: ۱. مسجد شجرہ یا ذوالْحُلَیفَہ، ۲. جُحْفَہ، ۳. وادی عَقیق یا ذاتُ عِرْق، ۴. قَرْنُ الْمَنازِل یا اَلسیلُ الکَبیر، ۵. یَلَمْلَم شامل ہیں۔

میقات عمرہ مفردہ ان لوگوں کیلئے جو مکہ کے اندر ہے اَدْنَی الْحِلّ ہے (یعنی وہ پہلا نطقہ جو حرم کا حصہ نہیں ہے)۔

لغوی اور اصطلاحی معنی

"میقات"، "مِفْعال" کے وزن پر اصل میں "مِوْقاتْ" تھا جو عربی زبان کے قواعد کی رو سے اس کا حرف "واو" "یا" میں تبدیل ہوا ہے۔ آیا "میقات" اسم آلہ ہے؟ (وہ چیز جس کے ذریعے کسی موضوع کے زمان اور مکان کو ناپا جاتا ہے) یا اسم زمان و مکان ہے؟ (کسی کام کے انجام دینے کا زمان یا مکان) اس بارے میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ "سلطان العلماء" اسے اسم آلہ قرار دیتے ہیں۔[1] لیکن "طریحی" مجمع البحرین میں اور "ابن منظور" لسان العرب میں اسے اسم زمان و مکان قرا دیتے ہیں۔[2][3] صاحب جواہر مواقیت کی بجث میں فرماتے ہیں: حج کی بحث میں میقات سے مراد حقیقتا یا مجازاً اماكن خاص ہے۔[4]

مذکورہ بحث کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ میقات دو قسم کے ہیں: میقات زمانی اور میقات مکانی۔

میقات زمانی

احرام عمرہ تمتع، حجّ تمتع، حج اِفراد اور حج قِران کا میقات زمانی شوال، ذوالقعدہ اور 9 ذی الحجہ تک معین ہے، تاکہ حجاج حج اور عمرہ کے تمام اعمال آسانی کے ساتھ انجام دے کر خود کو 9 ذی الحجہ تک میدان عرفات میں پہنچا دیں۔ [5] آیت مجیدہ اَلْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ ۚ فَمَن فَرَ‌ضَ فِیهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَ‌فَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ (:ترجمہ حج چند مقررہ مہینوں میں ہوتا ہے اور جو شخص بھی اس زمانے میں اپنے اوپر حج لازم کرلے اسے عورتوں سے مباشرتً گناہ اور جھگڑے کی اجازت نہیں ہے [6] میں اسی میقات زمانی کی طرف اشارہ ہے۔

میقات مكانی

حج اور عمرہ کے میقات مکانی دو قسم کے ہیں:

اَدْنَی الْحِلّ

جو شخص مكہ کے اندر رہ رہے ہیں وہ اگر عمرہ مفردہ انجام دینا چاہے تو اس پر ضروری ہے کہ حرم کے محدودے سے خارج ہو اور وہ پہلا مقام جو حرم کا حصہ نہیں ہے (اَدْنَی الْحِلّ) سے مُحرم ہو جائے اگرپہ بہت رہے درج ذیل تین میقات میں سے کسی ایک سے محرم ہو جائے:

  1. مسجد تَنْعیم: یہ میقات حرم کے شمال مغرب میں واقع ہے اور شہر مکہ سے سب سے زیادہ نزدیک جگہ ہے۔ آجکل شہر مکہ کے اندر داخل ہے۔
  2. حُدَیبِیہ: جدّہ کے راستے میں مسجدالحرام سے تقریبا ۴۸ كیلومٹر کے فاصلے پر واقع ایک گاوں ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں پر تقریبا ۱۳۰۰ سے ۱۵۰۰ صحابہ نے پیغمبر اکرم(ص) کے ساتھ ایک درخت (حدباء) کے سایے میں بیعت کی جسے "بیعت رضوان" کہا جاتا ہے۔
  3. جِعْرانَۃ: یہ جگہ مکہ کے شمال مشرق میں طائف کے راستے میں واقع ہے اور اسک کا مسجد الحرام سے فاصلہ تقریبا ۲۹ كیلومٹر ہے ۔ [7]

پانچ میقات

مشہور شیعہ اور اہل سنت فقہاء کے مطابق وہ اشخاص جو مکہ سے 16 فرسخ (تقریبا 90 کیلو میتر سے زیادہ فاصلے پر رہتے ہیں انہیں ان پانچ میقات میں سے کسی ایک سے محرم ہونا ضروری قرار دیتے ہیں: ۱-مسجد شجرہ یا ذوالحُلَیفہ ۲-جُحْفَہ ۳-وادی عَقیق یا ذات عرق ۴-قَرْنُ الْمَنازِل یا السیل الکبیر ۵- یلَمْلَم

وہ اشخاص جو مکہ سے مذکورہ فاصلے سے کم مسافت میں رہتے ہیں اور "حج تمتع" کی بجائے "حج قِران" یا "حج اِفراد" انجام دیتے ہیں اور ان کا میقات انکی محل سکونت ہے مگر یہ کہ مکہ جاتے ہوئے راستے میں مذکورہ پانچ میقات میں سے کسی ایک سے ان کا گذر ہو اس صورت میں احرام کو میقات تک مؤخر کرنا چاہئے۔

امام صادق(ع) فرماتے ہیں: "حج اور عمرہ کیلئے ان پانچ میقات سے محرم ہونا ضروری ہے جسے رسول اکرم(ص) نے معین فرمایا ہے۔ پیغمبر اکرم(ص) نے اہل مدینہ کیلئے "ذوالحلیف" (مسجد شجرہ)، اہل شامات کیلئے "جحفہ"، اہل نجد اور عراق کیلئے "وادی عقیق"، اہل طائف اور وہ اشخاص جو یہاں سے گذرتے ہیں کیلئے "قرن المنازل" اور اہل یمن اور وہاں سے گذرنے والوں کیلئے "یلملم" کو "میقات" قرار دئے ہیں۔ پس جو شخص بھی خانہ خدا کی زیارت کا قصد رکھتا ہو اسے ان پانچ میقات کے علاوہ کسی اور جگہ سے مُحرِم نہیں ہونا چاہئے۔[8]

۱- مسجد شَجَرِہ یا ذوالْحُلَیفَہ

مسجد شجرہ یا ذوالحُلَیفَہ پہلا میقات ہے جسے پیغمبر اکرم(ص) نے معین فرمایا ہے اور یہ میقات ہے ان لوگوں کیلئے جو مدینے سے مکہ کی طرف جاتے ہیں۔ مسجد شجرہ سے مکہ تک تقریبا ۴۵۰ کیلومٹر کا فاصلہ ہے۔ پیغمبر اکرم(ص) نے اپنی زندگی میں تین بار اسی مقام سے خانہ خدا کی زیارت کیلئے احرام باندھا ہے:

  1. ہجرت کے چھٹے سال جس میں مشرکین مکہ کی طرف سے پیغمبر اکرم(ص) کا راستہ روکا گیا اور صلح حدیبیہ پر اختتام پذیر ہوا۔ [9]
  2. ہجرت کے ساتویں سال عمرہ مفردہ کیلئے مسجد شجرہ تشریف لے گئے اور یہ احرام اس عمرہ کی قضا کا احرام تھا جسے پچھلے سال مشرکین نے منع کیا تھا اور انہی افراد پر مشتمل تھا جنہوں نے پچھلے سال پیغمبر اکرم(ص) کے ساتھ صلح حدیبیہ میں شرکت کی تھی۔ سوائے چند اشخاص جو جنگ خیبر میں شہید ہوئے یا اپنی موت اس دنیا سے چلے گئے تھے۔ یہ عمرہ "عمرۃ القضاء" کے نام سے معروف ہے۔ [10]
  3. ہجرت کے دسویں سال حج کی خاطر اس مکان سے مُحرم ہوئے یہ حج حَجَّۃُ الْوِداع کے نام سے مشہور ہے۔ رسول خدا اس حج کے بعد چند ماہ زندہ رہے ۔ [11]

امام صادق(ع) اس سوال کے جواب میں کہ کیوں پیغمبر اکرم(ص) اکثر اس مکان سے مُحرم ہوتے تھے؟ فرمایا: جب رسول خدا(ص) معراج پر تشریف لے گئے اور آسمانوں کی سیر کرائی گئی اور جب مسجد شجرہ کے برابر میں پہنچ گئے تو ندا آئی "یا محمّد(ص)" اس وقت رسول خدا(ص) نے جواب دیا: "لبّیك" تو آپ(ص) سے کہا گیا: "آیا تم یتیم نہیں تھے جسے ہم نے پناہ دی اور جب تمہیں حیران و پریشان دیکھنا تو ہم نے تمہاری ہدایت کی"۔ جب پیغمبر اکرم(ص) نے ان کلمات کو سنا تو جواب دیا: "إنَّ الْحَمدَ وَ النِّعمَةَ لَك وَ الْمُلْكَ، لاشَریك لَك(:ترجمہ بتحقیق تمام تعریفیں، نعمتیں اور بادشاہت صرف آپ سے مختص ہے)"۔ اس وجہ سے رسول خدا(ص) "مسجد شجرہ" سے مُحرم ہوتے تھے نہ کسی اور میقات سے ۔ [12]

۲- جُحْفَہ

جُحفہ دوسرا میقات ہے جسے رسول خدا(ص) نے اہل مصر، شامات اور ان لوگوں کیلئے مقرر فرمایا جو اس راستے سے مکہ جاتے ہیں۔ اس وقت وہاں ایک بہت بڑی مسجد بنائی گئی ہے جس میں ہزاروں حاجی مُحرم ہو سکتے ہیں۔ جحفہ کے قریب غدیر خم 9 کیلو میٹر سے کم فاصلے پر واقع ہے۔[13] یہ میقات مکہ سے تقریبا ۱۸۳ کیلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

۳- وادی عَقیق یا ذاتُ عِرْق

پیغمبر اکرم(ص) نے اہل عراق اور اس راستے سے مکہ جانے والوں کیلئے وادی عقیق کو میقات قرار دیا ہے۔ امام صادق(ع) سے منقول ہے کہ وادی عقیق کا ابتدائی حصہ "مَسْلَخ" درمیانی حصہ "غَمرَہ" اور آخری حصہ "ذاتُ عِرق" کہلاتا ہے اور اس کے ابتدائی حصے میں احرام باندھنا بہتر ہے۔ [14] ذات عرق مکہ سے تقریبا ۹۴ کیلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ وادی عقیق نجد اور تہامہ کے درمیان واقع ہے جس کے آخر میں كوہ "عِرْق" واقع ہے جہاں سے منطقہ ذات عرق کو دیکھا جا سکتا ہے۔[15]

۴- قَرنُ المنازل یا اَلسیلُ الکَبیر

قَرْنُ الْمَنازل یا "السیل الکبیر»" کو اہل یمن، نجد، طائف اور وہ لوگ جو اس راستے سے مکہ جاتے ہیں کیلئے میقات قرار دیا گیا ہے۔ اس جگہ بھی اس وقت ایک مسجد بنائی گئی ہے اس میقات کا مکہ سے فاصلہ تقریبا 75 کیلو میٹر فاصلہ ہے۔

۵- یَلَمْلَمْ

یلملم آخری میقات ہے جسے روایات میں اہل یمن اور اس راستے سے مکہ جانے والے اشخاص کیلئے میقات قرار دیا گیا ہے۔ یہ میقات شہر مکہ کے جنوب میں تقریبا 92 کیلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

بیرونی روابط

حوالہ جات

  1. «میقات اسم آلہ ہے مانند مفتاح»شرح لمعه، چاپ سنگی، ج۱، ص۲۱۹
  2. مجمع البحرین
  3. لسان العرب
  4. المواقیت جمع میقات و المراد بہ ہنا «فی الحج» حقیقۃً او توسعاً مكان الاحرام. جواہرالکلام، ج۱۸، ص۱۰۲
  5. کتاب السرائر، ابن ادریس، ص۵۰۹
  6. سورہ بقرہ/ آیت=۱۹۷
  7. معجم البلدان، ج۲، ص۱۴۲
  8. وسائل الشیعہ، ج۸، ص۲۲۳
  9. تاریخ پیامبر اسلام، محمد ابراہیم آیتی، ص۴۲۵
  10. تاریخ پیام اسلام، محمد ابراہیم آیتی، ص۴۲۵
  11. الکامل فی التاریخ، ابن‌اثیر، ج۲، ص۳۰۲
  12. وسائل الشیعہ، ج۸، ابواب المواقیت، ص۲۲۴، ح۱۳
  13. معجم معالم الحجاز، عاتق بن غیث البلادی، ج۲، ص۱۲۴
  14. وسائل الشیعہ، ج۸، ص۲۲۷، ب۳، ح۴
  15. معجم البلدان، ج۴، ص۱۰۷.