بیوی کی اجازت
| یہ مقالہ ایک فقہی موضوع کے بارے میں توصیفی تحریر ہے اور دینی اعمال کے لئے معیار نہیں بن سکتا۔ دینی اعمال کے لئے دیگر مصادر کی طرف رجوع کریں۔ |
| بعض عملی اور فقہی احکام |
|---|
بیوی کی اجازت، شوہر کے لئے بعض امور میں بیوی سے اجازت لینے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتی ہے، جن میں دوسری شادی، شب باشی ترک کرنا، نطفہ گرانا اور طلاق خلع شامل ہیں۔ شیعہ مشہور فقہاء کے مطابق بیوی کی بھانجی، کنیز یا اہل کتاب خواتین سے شادی کرنے کے لئے بیوی سے اجازت لینا ضروری ہے۔ اسی طرح کسی شرعی عذر کے بغیر چار ماہ سے زیادہ عرصہ کے لئے شب باشی اور جماع ترک کرنا بھی بیوی کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے۔ نطفہ گرانے کے لئے بھی بعض فقہاء بیوی کی رضایت کو شرط قرار دیتے ہیں جبکہ بعض فقہاء اس کام کو بیوی کی اجازت کے بغیر مکروہ قرار دیتے ہیں۔ طلاق خلق میں طلاق کے بدلے شوہر کو مال دینے یا طلاق کے بعد شوہر کی طرف سے رجوع کرنے کے لئے بھی بیوی کی رضایت کو حتمی قرار دیا گیا ہے۔
اہمیت
شوہر کی طرف سے بعض امور جیسے بیوی کی بھانجی یا بھتیجی سے شادی کرنے کے لئے بیوی سے اجازت لینا اسلام کے عائلی احکام میں سے ہے۔[1] فقہاء اس موضوع کے بارے میں اکثر طور پر نکاح اور طلاق کے باب میں بحث کرتے ہیں۔[2] اس حکم کے لئے فقہاء بعض احادیث سے استناد کرتے ہیں جن میں عورت کو شوہر کے بعض اقدامات کی مخالفت کا حق یا ان میں بیوی سے اجازت لینا شرط قرار دیا گیا ہے۔[3]
دوسری شادی کے لئے بیوی کی اجازت
مشہور شیعہ فقہاء[4] منجملہ شیخ طوسی، سید مرتضی اور شہید ثانی اس بات کے معتقد ہیں کہ بیوی کی بھانجی یا بھتیجی سے شادی کرنا بیوی کی اجازت اور رضایت سے مشروط ہے۔[5] اس حکم کی دلیل اجماع[6] اور چودہ معصومینؑ کی احادیث[7] ذکر کی گئی ہے۔ اس کے مقابلے میں اہل سنت اس شادی کو حتی کہ بیوی کی اجازت اور رضایت کے باوجود بھی جائز نہیں سمجھتے ہیں۔[8] اسی طرح شیعہ فقہاء کے مطابق کنیز سے شادی کرنے کے شوہر کو اس کی آزاد بیوی سے[9] اور اہل کتاب خواتین سے شادی کرنے کے لئے مسلمان بیوی سے اجازت لینے کی ضرورت ہے۔[10]
بعض محققین نیز آیت «عَاشِرُوہُنَّ بِالْمَعْرُوف» (اپنی زوجات کے ساتھ نیک سلوک کرو)،[11] سے استناد کرتے ہوئے تعدد زوجات کو پہلی زوجہ کے حق میں بد سلوکی کا مصادیق قرار دیتے ہوئے دوسری شادی کے لئے اس کی رضایت اور اس سے اجازت لینے کو مستحب قرار دیتے ہیں۔[12] پانچویں صدی ہجری کے شیعہ فقیہ یوسف صانعی مرد کی دوسری شادی کے صحیح ہونے کے لئے پہلی بیوی کی اجازت کو شرط قرار دیتے ہیں۔[13] اگر پہلی بیوی سے نکاح کرتے وقت نکاح کے ضمن میں دوسری شادی نہ کرنے کی شرط رکھی ہو تو اس صورت میں فقہاء دوسری شادی کرنے کے لئے پہلی بیوی سے اجازت لینا ضروری سمجھتے ہیں۔[14]
شب باشی ترک کرنے میں بیوی کی اجازت
فقہی اور حقوقی منابع میں شوہر کی جانب سے شب باشی ترک کرنے کے لئے بیوی کی اجازت شرط قرار دیا گیا ہے۔[15] مشہور فقہاء کے مطابق شوہر پے در پے چار رات سے زیادہ بیوی کے ساتھ شب باشی ترک نہیں کر سکتا،[16] مگر یہ کہ اس کام کے لئے اس کے پاس کوئی معقول دلیل موجود ہو جیسے خود بیوی کی اجازت یا رضایت مندی۔[17] بعض فقہاء پے در پے کی قید کو معتبر نہیں سمجھتے اور کہتے ہیں کہ جب تک بیوی مطلّقہ نہ ہو شوہر چار رات سے زیادہ شب باشی ترک نہیں کر سکتا۔[18] اسی طرح بعض روایات[19] اور فقہاء کے اجماع،[20] کے مطابق شوہر کے لئے چار ماہ سے زیادہ عرصے تک[21] بیوی کی اجازت کے بغیر اس کے ساتھ ہمبستری ترک کرنا جائز نہیں ہے۔[22]
نطقہ گرانے میں بیوی کی اجازت
فقہاء کے درمیان نطفہ گرانے (منی کو بیوی کے رحم سے باہر گرانا) میں بیوی کی شرط ضرروی ہونے اور نہ ہونے میں اختلاف پایا جاتا ہے؛ ایک گروہ منجمہ شیخ طوسی،[23] شیخ مفید،[24] ابنحمزہ طوسی[25] اور شہید اول،[26] دائمی نکاح میں نطفہ گرانے کے لئے بیوی کی اجازت کو شرط قرار دیتے ہیں، مگر یہ کہ نکاح کے ضمن میں نطفہ گرانے کی شرط رکھی گئی ہو۔ اس نظریے کے لئے پیغمبر اکرمؐ کی ایک حدیث[27] اور بچہ پیدا کرنا اور مکمل جنسی لذت کا حصول بیوی کا حق ہونا بطور دلیل ذکر کیا گیا ہے۔[28]
اس کے مقابلے میں مشہور فقہا بیوی کی اجازت کے بغیر نطفہ گرانے کو مکروہ سمجھتے ہیں۔[29] اس نظریے کے لئے بعض احادیث[30] سے استناد کیا گیا ہے۔[31] محقق حلی،[32] علامہ حلی،[33] شہید ثانی،[34] صاحبجواہر[35] اور امام خمینی سمیت اہلسنت کے اکثر فقہاء اس نظریے کی تائید کرتے ہیں۔[36]
طلاق خلع میں بیوی کی اجازت
طلاق خُلع میں طلاق کے صحیح ہونے اور شوہر کی طرف سے رجوع کرنے میں بیوی کی اجازت معتبر ہے۔[37] اس قسم کی طلاق میں بیوی شوہر سے ناراض ہونے کی وجہ سے کوئی نہ کوئی مال (عموما حق مہر) شوہر کو بخش دیتا ہے تاکہ شوہر سے جدا ہو سکے۔[38] فقہاء تأکید کرتے ہیں کہ بیوی کی طرف سے اس مالی بخشش کی بیوی رضایت ضروری ہے اور اس سلسلے میں اسے کسی طرح مجبور نہ کیا گیا ہو،[39] اگر بیوی کے علاوہ کوئی اور شخص بیوی کی طرف سے مال دے دیں تو یہ طلاق اس شخص کی رضایت پر موقوف ہوگی۔[40] اسی طرح طلاق کے بعد شوہر صرف اس صورت میں دوبارہ بیوی کی طرف رجوع کر سکتا ہے جب اس کام میں بیوی کی رضایت شامل ہو اور جو مال اسے دیا گیا تھا اسے واپس کرے۔[41]
حوالہ جات
- ↑ مکارم شیرازی، «بیوی کی بھانجی اور بھتیجی سے شادی»، سؤال 306۔
- ↑ مؤسسۃ دائرۃ معارف الفقہ الإسلامی، موسوعۃ الفقہ الإسلامی، 1423ھ، ج8، ص289-290۔
- ↑ نمونہ کے لئے رجوع کریں: تَرحینی عاملی، الزبدۃ الفقہیۃ، 1427ھ، ج6، ص261؛ محقق سبزواری، کفایۃ الفقہ، 1423ھ، ج2، ص88، مسألۂ 7؛ علامہ حلّی، تذکرۃ الفقہاء، مکتبۃ المرتضویۃ، ص576۔
- ↑ تَرحینی عاملی، الزبدۃ الفقہیۃ، 1427ھ، ج6، ص261۔
- ↑ نمونہ کے لئے رجوع کریں: شیخ طوسی، الخلاف، 1407ھ، ج4، ص296؛ سید مرتضی، رسائل الشریف المرتضی، 1405ھ، ج1، ص237؛ شہید ثانی، الروضۃ البہیہ، 1410ھ، ج5، ص181؛ امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1434ھ، ج2، ص299، مسألہ 9۔
- ↑ شیخ طوسی، الخلاف، 1407ھ، ج4، ص296؛ ابنزہرہ، غنیۃ النزوع، 1417ھ، ج1، ص326۔
- ↑ نمونہ کے لئے رجوع کریں: کلینی، الکافی، 1407ھ، ج5، ص424، حدیث 2؛ شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج3، ص411، حدیث 4436؛ شیخ حرّ عاملی، وسائل الشیعۃ، 1409ھ، ج20، ص487، حدیث 2۔
- ↑ شیخ طوسی، الخلاف، 1407ھ، ج4، ص296؛ علامہ حلّی، تذکرۃ الفقہاء، مکتبۃ المرتضویۃ، ص638؛ مغنیہ، الفقہ علی المذاہب الخمسۃ، 1421ھ، ج2، ص309۔
- ↑ شیخ طوسی، الخلاف، 1407ھ، ج4، ص316؛ محقق حلی، المختصر النافع، 1418، ج1، ص181؛ شہید ثانی، الروضۃ البہیہ؛ 1410ھ، ج5، ص921؛ طباطبایی حائری، ریاض المسائل، 1404ھ، ج2، ص99۔
- ↑ مجلسی، روضۃ المتقین، 1406ھ، ج8، ص474؛ سیستانی، منہاج الصالحین، 1415ھ، ج3، ص68، مسألہ 207؛ سند، سند العروۃ الوثقی (النکاح)، 1429ھ، ج1، ص335۔
- ↑ سورۂ نساء، آیۂ 19۔
- ↑ ابراہیمی و رحمانی، «دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی کی اجازت ضروری ہونے کا فقہی جائزہ»، ص17۔
- ↑ صانعی، استفتائات قضایی، 1390شمسی، ج2، ص466، سؤال 1013۔
- ↑ نوری ہمدانی، ہزار و یک مسئلہ، 1388شمسی، ج1، ص163، سؤال 662۔
- ↑ نمونہ کے لئے رجوع کریں: خوانساری، جامع المدارک، 1405ھ، ج4، ص425؛ امامی، حقوق مدنی، انتشارات اسلامیۃ، ج4، ص445۔
- ↑ نمونہ کے لئے رجوع کریں: سلاّر، المراسم العلویۃ، 1404ھ، ص153؛ اصفہانی، وسیلۃ النجاۃ (تعلیقۂ گلپایگانی)، 1393ھ، ج3، ص214؛ سیستانی، منہاج الصالحین، 1415ھ، ج3، ص105، مسألہ 342۔
- ↑ نمونہ کے لئے رجوع کریں: خوانساری، جامع المدارک، 1405ھ، ج4، ص425؛ طباطبایی حائری، ریاض المسائل، 1404ھ، ج2، ص150؛ مؤسسۃ دائرۃ معارف الفقہ الإسلامی، موسوعۃ الفقہ الإسلامی، 1423ھ، ج21، ص430۔
- ↑ اصفہانی، وسیلۃ النجاۃ (تعلیقۂ امام خمینی)، 1422ھ، ج2، ص465، مسألہ 1؛ صافی گلپایگانی، ہدایۃ العباد، 1416ھ، ج2، ص462، مسألہ 1۔
- ↑ نمونہ کے لئے رجوع کریں: شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج3، ص405، حدیث 4415؛ شیخ طوسی، تہذیب الأحکام، 1407ھ، ج7، ص412؛ حدیث 19۔
- ↑ نراقی، مستند الشیعۃ، 1415ھ، ج16، ص77-78، مسألہ 6۔
- ↑ شہید ثانی، الروضۃ البہیہ، 1410ھ، ج5، ص104؛ محقق سبزواری، کفایۃ الفقہ، 1423ھ، ج2، ص88، مسألۂ 7۔
- ↑ امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1434ھ، ج2، ص259، مسألہ 13؛ مؤسسۃ دائرۃ معارف الفقہ الإسلامی، موسوعۃ الفقہ الإسلامی، 1423ھ، ج8، 290۔
- ↑ شیخ طوسی، الخلاف، 1407ھ، ج4، ص359، مسألۂ 143۔
- ↑ شیخ مفید، المقنعۃ، 1413ھ، ص516۔
- ↑ طوسی، الوسیلۃ، 1408ھ، ص314۔
- ↑ شہید اول، اللمعۃ الدمشقیۃ، 1410ھ، ص174۔
- ↑ ابنحیون، دعائم الإسلام، 1385ھ، ج2، ص212، حدیث 777؛ محدث نوری، مستدرک الوسائل، 1408ھ، ج14، ص233، حدیث 16584۔
- ↑ علامہ حلّی، تذکرۃ الفقہاء، مکتبۃ المرتضویۃ، ص576۔
- ↑ علامہ حلّی، مختلف الشیعۃ، 1413ھ، ج7، ص12؛ شیخ انصاری، کتاب النکاح، 1415ھ، ص72؛ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1409ھ، ج2، ص 809۔
- ↑ رجوع کنید بہ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج5، ص504، حدیث 3؛ شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، 1407ھ، ج7، ص417، حدیث 1669؛ حلی، مختصر البصائر، 1421ھ، ص272، شیخ حرّ عاملی، وسائل الشیعۃ، 1409ھ، ج20، ص150، حدیث 6۔
- ↑ علامہ حلّی، تذکرۃ الفقہاء، مکتبۃ المرتضویۃ، ص576۔
- ↑ محقق حلّی، شرائع الإسلام، 1408ھ، ج2، ص214۔
- ↑ علامہ حلّی، إرشاد الأذہان، 1410ھ، ج2، ص5؛ علامہ حلّی، قواعد الاحکام، 1413ھ، ج3، ص50۔
- ↑ شہید ثانی، الروضۃ البہیہ، 1410ھ، ج5، ص102۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج29، ص114۔
- ↑ شیخ طوسی، الخلاف، 1407ھ، ج4، ص359؛ علامہ حلّی، تذکرۃ الفقہاء، مکتبۃ المرتضویۃ، ص576۔
- ↑ شہید اول، اللمعۃ الدمشقیۃ، 1410ھ، ص199؛ طباطبایی یزدی، سؤال و جواب، 1376شمسی، ج2، ص290، سؤال 1194؛ منتظری، رسالہ استفتائات، 1384شمسی، ج2، ص447۔
- ↑ فاضل ہندی، کشف اللثام و الإبہام، 1416ق؛ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج33، ص2؛ بنیہاشمی خمینی، توضیحالمسائل مراجع، 1381شمسی، ج2، ص533، مسئلۂ 2528۔
- ↑ نمونہ کے لئے رجوع کریں: فیض کاشانی، مفاتیح الشرائع، کتابخانہ آیۃ اللہ مرعشی نجفی، ج2، ص322 و 324؛ آل عصفور بحرانی، الأنوار اللوامع، مجمع البحوث العلمیۃ، ج10، ص354 و 369؛ طباطبایی حائری، ریاض المسائل، 1404ھ، ج2، ص193؛ حلّی، الجامع للشرائع، 1405ھ، ص476۔
- ↑ نمونہ کے لئے رجوع کریں: محقق حلّی، شرائع الإسلام، 1408ھ، ج3، ص38؛ علامہ حلّی، إرشاد الأذہان، 1410ھ، ج2، ص52؛ شہید اول، غایۃ المراد، 1414ھ، ج3، ص257؛ طباطبایی یزدی، سؤال و جواب، 1376شمسی، ج2، ص290، سؤال 1194۔
- ↑ منتظری، رسالہ استفتائات، 1384شمسی، ج2، ص447۔
مآخذ
- آل عصفور بحرانی، حسین، الأنوار اللوامع فی شرح مفاتیح الشرائع، محقق و مصحح: آل عصفور، محسن، قم، مجمع البحوث العلمیۃ، پہلی اشاعت، بیتا۔
- ابراہیمی، بی بی رحیمہ، رحمانی، علی، «دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی کی اجازت ضروری ہونے کا فقہی جائزہ»، در نشریہ پژوہش ہای فقہ و حقوق اسلامی، شمارۂ 49، 1396ہجری شمسی۔
- ابنحیون، نعمان بن محمد مغربی، دعائم الإسلام و ذکر الحلال و الحرام و القضایا و الأحکام، محقق و مصحح: فیضی، آصف، قم، مؤسسۃ آل البیت(ع)، دوسری اشاعت، 1385ھ۔
- ابنزہرہ حلبی، حمزۃ بن علی، غنیۃ النزوع إلی علمی الأصول و الفروع، مؤسسہ امام صادق(ع)، قم، پہلی اشاعت، 1417ھ۔
- اصفہانی، سید ابو الحسن، وسیلۃ النجاۃ، تعلیقہ: موسوی گلپایگانی، سید محمدرضا، قم، چاپخانہ مہر، پہلی اشاعت، 1393ھ۔
- اصفہانی، سید ابوالحسن، وسیلۃ النجاۃ، تعلیقہ: امام خمینی، سید روح اللہ، قم، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی(قدس سرہ)، پہلی اشاعت، 1422ھ۔
- امام خمینی، سید روح اللہ، تحریر الوسیلۃ، قم، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی (س)، پہلی اشاعت، 1434ھ۔
- امامی، سید حسن، حقوق مدنی، انتشارات اسلامیۃ، تہران، بیتا.
- بنیہاشمی خمینی، سیدمحمدحسن، توضیحالمسائل مراجع، قم، دفتر انتشارات اسلامی جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1381ہجری شمسی۔
- تَرحینی عاملی، سید محمدحسین، الزبدۃ الفقہیۃ فی شرح الروضۃ البہیۃ، قم، دار الفقہ للطباعۃ و النشر، چوتھی اشاعت، 1427ھ۔
- حلی، حسن بن سلیمان بن محمد، مختصر البصائر، محقق و مصحح: مظفر، مشتاق، قم، مؤسسۃ النشر الإسلامی، پہلی اشاعت، 1421ھ۔
- حلّی، یحیی بن سعید، الجامع للشرائع، قم، مؤسسۃ سید الشہداء العلمیۃ، پہلی اشاعت، 1405ھ۔
- خوانساری، سید احمد بن یوسف، جامع المدارک فی شرح مختصر النافع، محقق و مصحح: غفاری، علیاکبر، قم، مؤسسہ اسماعیلیان، دوسری اشاعت، 1405ھ۔
- سلاّر دیلمی، حمزۃ بن عبد العزیز، المراسم العلویۃ و الأحکام النبویۃ، محقق و مصحح: بستانی، محمود، قم، منشورات الحرمین، پہلی اشاعت، 1404ھ۔
- سند، محمد، سند العروۃ الوثقی (النکاح)، مقرر: عبادی، علی حمود و تمیمی، قیصر، قم، باقیات، پہلی اشاعت، 1429ھ۔
- سید مرتضی، علی بن حسین، رسائل الشریف المرتضی، محقق و مصحح: رجائی، سید مہدی، دار القرآن الکریم، قم، پہلی اشاعت، 1405ھ۔
- سیستانی، سید علی، منہاج الصالحین، انتشارات قم، دفتر حضرت آیۃ اللہ سیستانی، پہلی اشاعت، 1415ھ۔
- شہید اول (عاملی)، محمد بن مکی، اللمعۃ الدمشقیۃ فی فقہ الإمامیۃ، محقق و مصحح: مروارید، محمدتقی، مروارید، علیاصغر، بیروت، دار التراث - الدار الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1410ھ۔
- شہید اول (عاملی)، محمد بن مکی، غایۃ المراد فی شرح نکت الإرشاد، محقق و مصحح: مختاری، رضا، انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی، قم، پہلی اشاعت، 1414ھ۔
- شہید ثانی، زین الدین، الروضۃ البہیہ فی شرح اللمعہ الدمشقیہ (محشّی- کلانتر)، قم، کتابفروشی داوری، پہلی اشاعت، 1410ھ۔
- شیخ انصاری، مرتضی، کتاب النکاح، قم، کنگرہ جہانی بزرگداشت شیخ اعظم انصاری، پہلی اشاعت، 1415ھ۔
- شیخ حرّ عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعۃ، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، پہلی اشاعت، 1409ھ۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، من لا یحضرہ الفقیہ، محقق و مصحح: غفاری، علی اکبر، قم، دفتر انتشارات اسلامی، دوسری اشاعت، 1413ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، تہذیب الاحکام، محقق: موسوی خرسان، حسن، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
- شیخ مفید، محمّد بن محمد بن نعمان، المقنعۃ، قم، کنگرہ جہانی ہزارہ شیخ مفید، پہلی اشاعت، 1413ھ۔
- صافی گلپایگانی، لطف اللہ، ہدایۃ العباد، قم، دار القرآن الکریم، پہلی اشاعت، 1416ھ۔
- صانعی، یوسف، استفتائات قضایی، قم, پرتو خورشید، 1390ہجری شمسی۔
- طباطبایی حائری، سید علی، ریاض المسائل، مؤسسہ آل البیت(ع)، قم، پہلی اشاعت، 1404ھ۔
- طباطبایی یزدی، سید محمدکاظم، سؤال و جواب (استفتائات و آراء)، گردآورندہ: محقق داماد، مصطفی و استادی، رضا، محقق: وحدتی شبیری، حسن و مدنی بجستانی، محمود، تہران، مرکز نشر علوم اسلامی، پہلی اشاعت، 1376ہجری شمسی۔
- طباطبایی یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ الوثقی، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، دوسری اشاعت، 1409ھ۔
- طوسی، محمد بن حسن، الخلاف، مصحح: خراسانی، علی و دیگران، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پہلی اشاعت، 1407ھ۔
- طوسی، محمد بن علی بن حمزہ، الوسیلۃ إلی نیل الفضیلۃ، محقق و مصحح: حسون، محمد، قم، کتابخانہ آیۃ اللہ مرعشی نجفی(رہ)، پہلی اشاعت، 1408ھ۔
- علامہ حلّی، حسن بن یوسف، إرشاد الأذہان إلی أحکام الإیمان، محقق و مصحح: حسون، فارس، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پہلی اشاعت، 1410ھ۔
- علامہ حلّی، حسن بن یوسف، تذکرۃ الفقہاء، تہران، مکتبۃ المرتضویۃ، پہلی اشاعت، بیتا۔
- علامہ حلّی، حسن بن یوسف، قواعد الاحکام فی معرفۃ الحلال و الحرام، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پہلی اشاعت، 1413ھ۔
- علامہ حلّی، حسن بن یوسف، مختلف الشیعۃ فی أحکام الشریعۃ، قم، دفتر انتشارات اسلامی، دوسری اشاعت، 1413ھ۔
- فاضل لنکرانی، محمد، تفصیل الشریعۃ فی شرح تحریر الوسیلۃ (النکاح)، قم، مرکز فقہی ائمہ اطہار (ع)، قم، پہلی اشاعت، 1421ھ۔
- فاضل ہندی، محمد بن حسن، کشف اللثام و الإبہام عن قواعد الأحکام، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پہلی اشاعت، 1416ھ۔
- فیض کاشانی، محمدمحسن، مفاتیح الشرائع، قم، کتابخانہ آیۃ اللہ مرعشی نجفی، پہلی اشاعت، بیتا.
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق و مصحح: غفاری، علی اکبر، آخوندی، محمد، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
- مؤسسۃ دائرۃ معارف الفقہ الإسلامی، موسوعۃ الفقہ الإسلامی طبقا لمذہب أہل البیت(ع)، قم ، مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، پہلی اشاعت، 1423ھ۔
- مؤسسۃ دائرۃ معارف الفقہ الإسلامی، موسوعۃ الفقہ الإسلامی طبقا لمذہب أہل البیت(ع)، قم ، مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، پہلی اشاعت، 1423ھ۔
- مجلسی، محمدتقی، روضۃ المتقین فی شرح من لا یحضرہ الفقیہ، محقق و مصحح: موسوی کرمانی، سید حسین، اشتہاردی، علیپناہ، طباطبایی، سید فضل اللہ، مؤسسہ فرہنگی اسلامی کوشانپور، قم، دوسری اشاعت، 1406ھ۔
- محدث نوری، حسین، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، پہلی اشاعت، 1408ھ۔
- محقق حلّی، نجم الدین جعفر بن حسن، شرائع الإسلام فی مسائل الحلال و الحرام، محقق و مصحح: بقال، عبد الحسین محمد علی، قم، مؤسسہ اسماعیلیان، دوسری اشاعت، 1408ھ۔
- محقق حلّی، نجم الدین، المختصر النافع فی فقہ الإمامیہ، قم، مؤسسہ المطبوعات الدینیہ، 1418ھ۔
- محقق سبزواری، محمد باقر، کفایۃ الفقہ، محقق، واعظ اراکی، مرتضی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پہلی اشاعت، 1423ھ۔
- مغنیہ، محمدجواد، الفقہ علی المذاہب الخمسۃ، بیروت، دار التیار الجدید، دار الجواد، دسویں اشاعت، 1421ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، «بیوی کی بھانجی اور بھتیجی سے شادی»، بخش استفتائات دفتر آیت اللہ مکارم شیرازی، تاریخ اخذ: 22 آذر 1404ہجری شمسی۔
- منتظری، حسینعلی، رسالہ استفتائات، تہران، نشر سایہ، تیسری اشاعت، 1384ہجری شمسی۔
- نجفی، محمدحسن، جَواہر الکلام فی شرحِ شرائعِ الاسلام، تصحیح عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دارُ اِحیاء التُّراثِ العربی، ساتویں اشاعت، 1404ھ۔
- نراقی، مولی احمد بن محمدمہدی، مستند الشیعۃ فی أحکام الشریعۃ، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، پہلی اشاعت، 1415ھ۔
- نوری ہمدانی؛ نوری، حسین، ہزار و یک مسئلہ (مجموعہ استفتاءات)، ، قم، مہدی موعود(عج)، ، پانچویں اشاعت، 1388ہجری شمسی۔