مندرجات کا رخ کریں

شوہر کی اجازت

ویکی شیعہ سے

شوہر کی اجازت، اسلام کے عائلی احکام میں سے ہے۔ شیعہ فقہاء نے اسلامی روایات کی بنیاد پر اس کے موارد اور حدود متعین کی ہیں۔ مشہور قول کے مطابق عورت کا گھر سے نکلنے، مستحب روزہ رکھنے، اعتکاف میں بیٹھنے اور حج و عمرہ پر جانے کے لئے شوہر کی اجازت کی ضرورت ہے۔ جبکہ دوسرا گروہ شوہر کی اجازت کو صرف اسی صورت میں ضروری سمجھتے ہیں جب یہ امور شوہر کے حقوق سے متعارض ہوں۔ نذر، قسم، مالی تصرفات اور دودھ پلانے کے لئے اجیر بننا بھی ان موارد میں سے ہیں جن کے بارے میں بعض فقہاء شوہر سے اجازت لینا ضروری سمجھتے ہیں۔

اہمیت

شادی کے بعد بعض امور کی انجام دہی کے لئے عورت کو شوہر سے اجازت لینے کی ضرورت اسلام کے عائلی احکام میں شمار ہوتی ہے۔[1] یہ موضوع مختلف فقہی ابواب جیسے نکاح، روزہ، نذر، اعتکاف اور حج و عمرہ وغیرہ میں زیر بحث آیا ہے۔[2] اس حکم کی دلیل وہ روایات ہیں جن کی بنیاد پر شوہر کو عورت کے بعض مستحب یا مباح اعمال سے منع کرنے یا اجازت کی شرط رکھنے کا حق حاصل ہے۔[3]

وہ موارد جہاں شوہر کی اجازت ضروری ہے

فقہاء مختلف امور میں عورت کے لئے شوہر کی اجازت کو ضروری قرار دیتے ہیں۔[4]

عورت کا گھر سے باہر نکلنا

مشہور نظریے[5] کے مطابق شیعہ[6] اور اہل سنت فقہاء[7] کے نزدیک عورت کے لئے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے؛ سوائے شرعی واجبات اور ضروری امور جیسے بیماری کے علاج وغیرہ۔ بعض فقہاء جیسے شیخ طوسی، شہید ثانی اور محقق سبزواری نے بعض احادیث[8] کی بنیاد پر والدین کی عیادت یا ان کی تشیع جنازہ اور مجلس ترحیم میں شرکت کو بھی غیر واجب امور میں شمار کرتے ہوئے ان مقاصد کے لئے بھی شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کا گھر سے نکلنا جائز نہیں سمجھتے ہیں۔[9] بعض وکلاء نے بھی ہر قسم کے امور کے لئے عورت کے گھر سے نکلنے کے لئے شوہر کی اجازت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔[10]

اس نظریے کے مقابلے میں بعض فقہاء جیسے محمدابراہیم جناتی اور علامہ فضل اللہ اس بات کے معتقد ہیں کہ اگر عورت کا گھر سے نکلنا شوہر کے حق استمتاع (جنسی لذت) سے متعارض نہ ہو تو اس صورت میں شوہر کی اجازت ضروری نہیں ہے۔[11] اسی طرح اگر نکاح کے ضمن میں شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے گھر سے نکلنے کی شرط رکھی جائے، یا نکاح کے وقت عورت کے گھر سے باہر ملازمت کے بارے میں شوہر کو معلوم ہوتے ہوئے اپنی مرضی سے نکاح کی ہو تو ان شرائط کے اندر رہتے ہوئے گھر سے باہر نکلنے کے لئے عورت کو شوہر کی اجازت کا محتاج نہیں سمجھتے ہیں۔[12] بعض محققین کا یہ بھی خیال ہے کہ عورت غیر ضروری امور، جیسے کاسمیٹک سرجری کے لئے بھی شوہر کی اجازت کی محتاج نہیں ہے؛ مگر یہ کہ یہ اقدام شوہر کے شرعی حقوق سے متعارض ہوں۔[13]

مشہور فقہاء اپنے نظریے کو ثابت کرنے کے لئے قرآن کی بعض آیات جیسے "الرِّجالُ قَوّامونَ عَلَی النِّساء" (مرد خواتین کے سرپرست ہیں)[14] اور احادیث[15] سے استناد کرتے ہیں جن میں عورت پر شوہر کی اطاعت اور گھر سے نکلنے کے لئے شوہر سے اجازت لینے کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔[16] تاہم شیعہ مفسر قرآن آیت اللہ جوادی آملی کے مطابق مرد کی قوامیت سے مراد خاندان کے امور کی مدیریت اور تدبیر ہے، نہ کہ عورت پر مرد کا مکمل تسلط اور سرپرستی۔[17] ان کے مطابق جن احادیث سے مذکورہ حکم پر استناد کیا جاتا ہے وہ روایات ان موارد سے متعلق ہیں جہاں عورت کا نکلنا شوہر کے حقوق سے متعارض ہوں[18] اس کے علاوہ مذکورہ احادیث میں سے بعض روایات سند کے اعتبار سے بھی ضعیف ہیں۔[19]

مستحب روزے

پیغمبر اکرم اور ائمہ معصومین سے منقول روایات میں آیا ہے کہ عورت کو شوہر کی اجازت کے بغیر مستحب روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔[20] شیعہ فقہاء نے ان روایات کی تفسیر میں تین اہم نظریات پیش کئے ہیں:

اعتکاف

بعض شیعہ فقہاء جیسے سید محمد کاظم طباطبائی یزدی[28] اور امام خمینی،[29] اعتکاف میں شرکت کرنےکے لئے عورت کو شوہر سے اجازت لینا ضروری سمجھتے ہیں، یہ اس صورت میں ہے کہ جب عورت کا اعتکاف میں شرکت کرنا شوہر کے حق استمتاع سے تعارض رکھتا ہو؛ کیونکہ عورت کے گھر سے نکلنے اور مستحب روزہ رکھنے کے لئے شوہر کی اجازت ضروری ہے۔[30]

مستحب حج و عمرہ

عورت کے کئےمستحب حج و عمرہ انجام دینے کے لئے شوہر کی اجازت ضروری ہے۔[31] اس سلسلے میں امام کاظمؑ سے منقول ایک روایت[32] سے استناد کیا جاتا ہے۔[33] آیت اللہ خوئی جیسے بعض فقہاء اس حکم کی علت شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا حرام ہونا قرار دیتے ہیں۔[34]

نذر اور قسم

مشہور فقہاء عورت کی نذر کو شوہر کی اجازت کے بغیر حتی کہ اس کے اپنے مال[35] میں بھی باطل سمجھتے ہیں۔[36] تاہم، بعض مراجع تقلید کے مطابق یہ حکم صرف اسی صورت میں ہے جب عورت کی نذر شوہر کے حقوق سے متعارض ہوں۔[37] اس حکم کے لئے فقہا امام صادقؑ سے منقول ایک روایت[38] سے استناد کرتے ہیں،[39] آقا جمال خوانساری کا کہنا ہے کہ اگر اس حکم کے لئے شہرت فتوائی سے استناد نہ کیا جائے تو مذکورہ حدیث صرف اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کی مالی نذر باطل ہے۔[40]

قسم کے معاملے میں معصومینؑ کی روایات[41] کی روشنی میں بعض فقہاء عورت ک قسم کو شوہر کی اجازت کے بغیر ہر صورت میں باطل سمجھتے ہیں۔[42] ان کے مقابلے میں دوسرا گروہ کہتے ہیں کہ عورت کی قسم صحیح ہے، مگر یہ کہ شوہر اسے قسم کھانے سے منع کرے۔[43] دسویں صدی ہجری کے شیعہ فقیہ شہید ثانی دوسرے نقطہ نظر کو مشہور کا نظریہ قرار دیتے ہیں۔[44]

دودھ پلانے کے لئے عورت کا اجیر بننا

مشہور فقہاء کے مطابق اجرت پر دودھ پلانے یا اس جیسے دوسرے ملازمتوں کے لئے عورت کو شوہر سے اجازت لینا ضروری ہے؛[45] بعض فقہاء ان امور میں شوہر کی اجازت صرف اسی صورت میں ضروری سمجھتے ہیں جب یہ امور شوہر کے حق استمتاع سے متعارض ہوں۔[46]

عورت کے مالی تصرفات

بعض روایات[47] عورت کے مالی تصرفات، جیسے صدقہ اور ہبہ وغیرہ کو شوہر کی اجازت کے ساتھ مشروط قرار دیتی ہیں۔[48] تاہم، بعض شیعہ فقہاء جیسے صاحب‌حدائق، عورت کا اپنے اموال میں استقلال کو مدنظر رکھتے ہوئے، ان روایات کو استحباب پر حمل کرتے ہیں۔[49] ان کے مقابلے میں شیخ مفید اور شیخ حر عاملی جیسے فقہاء عورت کے مالی تصرفات کو شوہر کی اجازت کے بغیر مکروہ سمجھتے ہیں۔[50]

حوالہ جات

  1. ساجدی و موسوی‌زادہ، «موارد لزوم اذن شوہر در فقہ اسلامی»، ص140۔
  2. مؤسسۃ دائرۃ معارف الفقہ الإسلامی، موسوعۃ الفقہ الإسلامی، 1423ھ، ج8، ص289-290۔
  3. ساجدی و موسوی‌زادہ، «موارد لزوم اذن شوہر در فقہ اسلامی»، ص139 و 164۔
  4. مؤسسۃ دائرۃ معارف الفقہ الإسلامی، موسوعۃ الفقہ الإسلامی، 1423ھ، ج8، ص289-290۔
  5. نجفی، «بیوی کے گھر سے نکلنے کے لئے شوہر کی اجازت فقہ امامیہ کی نظر میں»، ص103۔
  6. نمونہ رجوع کنید بہ شیخ مفید، أحکام النساء، 1413ھ، ص38؛ شیخ طوسی، المبسوط، 1387شمسی، ج4، ص331؛ علامہ حلّی، قواعد الاحکام، 1413ھ، ج3، ص108؛ شہید ثانی، مسالک الأفہام، 1413ھ، ج8، ص307-308؛ امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1390ھ، ج2، ص303؛ گلپایگانی، ہدایۃ العباد، 1413ھ، ج2، ص365۔
  7. نمونہ کے لئے رجوع کریں:أبو مالک، صحیح فقہ السنۃ، 2003م، ج3، ص193؛ تُوَیجری، مختصر الفقہ الإسلامی، 1431ھ، ج1، ص823؛ شَنقیطی، شرح زاد المستقنع، موقع الشبکۃ الإسلامیۃ، ج59، ص9۔
  8. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج5، ص513، حدیث 1؛ شیخ حرّ عاملی، وسائل الشیعۃ، 1409ھ، ج20، ص174۔
  9. شیخ طوسی، المبسوط، 1387شمسی، ج4، ص331؛ شہید ثانی، مسالک الأفہام، 1413ھ، ج8، ص308؛ محقق سبزواری، کفایۃ الاحکام، 1423ھ، ج2، ص259۔
  10. نمونہ کے لئے رجوع کریں:محقق داماد، بررسی فقہی حقوق خانوادہ، 1384شمسی، ص316؛ طاہری، حقوق مدنی، 1418ھ، ج3، ص202۔
  11. فضل‌اللّہ، دنیا المرأۃ، 1420ھ، ص92؛ شمس الدین، محمدمہدی، حقوق الزوجیہ، 1996ھ، ص88؛ جنّاتی، رسالۀ توضیح المسائل، 1381شمسی، ج2، بخش ازدواج و خانوادہ، ص105، پرسش 338۔
  12. امام خمینی، استفتائات، 1422ھ، ج3، ص356، سؤال 29۔
  13. جہانیان و دیگران، «بیوی کے کاسمیٹک سرجری میں شوہر کی اجازت کا فقہی جائزہ»، ص124۔
  14. سورہ نساء، آیۂ 34۔
  15. نمونہ کے لئے رجوع کریں:کلینی، الکافی، 1407ھ، ج5، ص507، حدیث 1 و ص508، حدیث 7؛ شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج4، ص6؛ عریضی، مسائل علی بن جعفر و مستدرکاتہا، 1409ھ، ص179؛ شیخ حرّ عاملی، وسائل الشیعۃ، 1409ھ، ج20، ص158؛ حدیث 1۔
  16. نجفی، «بیوی کے گھر سے نکلنے کے لئے شوہر کی اجازت فقہ امامیہ کی نظر میں»، ص109-118۔
  17. جوادی آملی، زن در آیینہ جلال و جمال، 1385شمسی، 326-329۔
  18. ساجدی و موسوی‌زادہ، «موارد لزوم اذن شوہر در فقہ اسلامی»، ص155-156۔
  19. نجفی، «بیوی کے گھر سے نکلنے کے لئے شوہر کی اجازت فقہ امامیہ کی نظر میں»، ص118۔
  20. نمونہ کے لئے رجوع کریں:کلینی، الکافی، 1407ھ، ج4، ص152، حدیث 4؛ امام رضا(ع)، الفقہ المنسوب للإمام الرضا(ع)، 1406ھ، ص202؛ شیخ صدوق، علل الشرائع، 1385شمسی، ج.2، ص385، حدیث 4۔
  21. شیخ طوسی، المبسوط، 1387شمسی، ج1، ص283۔
  22. ابن‌ادریس، السرائر، 1410ھ، ج1، ص420۔
  23. بنی‌ہاشمی خمینی، توضیح‌المسائل مراجع، 1381، ج1، ص964-965، ذیل مسألہ 1740۔
  24. موسوی عاملی، مدارک الاحکام، 1411ھ، ج6، ص283۔
  25. نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج17، ص131۔
  26. نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج17، ص132۔
  27. بنی‌ہاشمی خمینی، توضیح‌المسائل مراجع، 1381، ج1، ص964، مسألہ 1740۔
  28. طباطبایی، عروہ الوثقی، 1409ھ، ج2، ص249۔
  29. امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1390ھ، ج1، ص305-306۔
  30. خویی، المستند فی شرح العروۃ الوثقی، ج2، ص361-362۔
  31. طباطبایی، عروہ الوثقی، 1409ھ، ج2، ص533۔
  32. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج5، ص516، حدیث 1؛ شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، 1407ھ، ج5، ص400، حدیث 38۔
  33. اشتہاردی، مدارک العروۃ، 1417ھ، ج24، ص268۔
  34. خویی، المعتمد فی شرح المناسک، 1410ھ، ج3، ص196؛ ساجدی و موسوی‌زادہ، «موارد لزوم اذن شوہر در فقہ اسلامی»، ص150۔
  35. بنی‌ہاشمی خمینی، توضیح‌المسائل مراجع، 1381، ج2، ص611، م2644۔
  36. روحانی، فقہ الصادق(ع)، 1421ھ، ج23، ص277۔
  37. بنی‌ہاشمی خمینی، توضیح‌المسائل مراجع، 1381، ج2، ص611، ذیل م2644۔
  38. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج5، ص514، حدیث 4؛ شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج3، ص438؛ تہذیب الاحکام، 1407ھ، ج7، ص462، حدیث 59۔
  39. خوانساری، التعلیقات علی الروضۃ البہیۃ، منشورات المدرسۃ الرضویۃ، ص350۔
  40. خوانساری، التعلیقات علی الروضۃ البہیۃ، منشورات المدرسۃ الرضویۃ، ص350۔
  41. نمونہ کے لئے رجوع کریں:کلینی، الکافی، 1407ھ، ج7، ص439، حدیث 1؛ ابن‌شعبہ حرانی، تحف العقول، 1404ھ، ص111؛ اشعری قمی، النوادر، 1408ھ، ص26؛ شیخ صدوق، الأمالی، 1376شمسی، ص379۔
  42. نمونہ کے لئے رجوع کریں:آملی، مصباح الہدی، 1384ھ، ج12، ص123؛ امام خمینی، رسالہ نجاۃ العباد، 1392شمسی، ص210، مسألۂ 3؛ مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج6، ص582؛ شبیری زنجانی، رسالہ توضیح‌المسائل، 1378شمسی، بخش احکام قسم، مسئلہ 2681۔
  43. بنی‌ہاشمی خمینی، توضیح‌المسائل مراجع، 1381، ج2، ص627، مسألہ 2672۔
  44. شہید ثانی، مسالک الأفہام، 1413ھ، ج11، ص206۔
  45. نمونہ کے لئے رجوع کریں:شیخ طوسی، المبسوط، 1387شمسی، ج3، ص239؛ علامہ حلّی، تذکرۃ الفقہاء، 1388ھ، ص298؛ امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1390ھ، ج1، ص581، مسئلہ 32؛ مؤسسۃ دائرۃ معارف الفقہ الإسلامی، موسوعۃ الفقہ الإسلامی، 1423ھ، ج8، ص290۔
  46. امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1390ھ، ج1، ص581، مسئلہ 32؛ مؤسسۃ دائرۃ معارف الفقہ الإسلامی، موسوعۃ الفقہ الإسلامی، 1423ھ، ج8، ص290۔
  47. نمونہ کے لئے رجوع کریں:شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج3، ص438؛ تہذیب الاحکام، 1407ھ، ج7، ص462، حدیث 59 و 60؛ شیخ صدوق، الخصال، 1362شمسی، ص588؛ طبرسی، مکارم الاخلاق، 1412ھ، ص214۔
  48. ساجدی و موسوی‌زادہ، «موارد لزوم اذن شوہر در فقہ اسلامی»، ص161۔
  49. محدث بحرانی، الحدائق الناضرۃ، 1405ھ، ج20، ص351۔
  50. شیخ مفید، أحکام النساء، 1413ھ، ص31؛ شیخ حرّ عاملی، وسائل الشیعۃ، 1409ھ، ج21، ص516۔

مآخذ

  • آملی، میرزا محمدتقی، مصباح الہدی فی شرح العروۃ الوثقی، تہران، پہلی اشاعت، 1384ھ۔
  • ابن‌ادریس، محمد بن احمد، السرائر الحاوی لتحریر الفتاوی، قم ، دفتر انتشارات اسلامی وابسہ بہ جامعہ مدرسین، 1410ھ۔
  • ابن‌شعبہ حرانی، حسن بن علی، تحف العقول عن آل الرسول (ص)، محقق و مصحح: غفاری، علی‌اکبر، قم، دفتر انتشارات اسلامی، دوسری اشاعت، 1404ھ۔
  • أبو مالک، کمال بن السید سالم، صحیح فقہ السنۃ وأدلتہ و توضیح مذاہب الأئمۃ، تعلیقات: الألبانی، ناصر الدین، بن باز، عبد العزیز، العثیمین، محمد بن صالح، قاہرہ، المکتبۃ التوفیقیۃ، 2003ء۔
  • اشتہاردی، علی‌پناہ، مدارک العروۃ، تہران، دار الأسوۃ للطباعۃ و النشر،پہلی اشاعت، 1417ھ۔
  • اشعری قمی، احمد بن محمد بن عیسی، النوادر، قم، مدرسۃ الإمام المہدی(ع)، پہلی اشاعت، 1408ھ۔
  • امام خمینی، سید روح اللہ، تحریر الوسیلۃ، قم، مؤسسہ مطبوعاتی اسماعیلیان، دوسری اشاعت، 1390ھ۔
  • امام خمینی، سید روح اللہ، رسالۂ نجاۃ العباد و حاشیہ بر رسالہ ارث ملا ہاشم خراسانی، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی(رہ)، پہلی اشاعت، 1392ہجری شمسی۔
  • امام خمینی، سید روح‌اللہ، استفتائات، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پانچویں اشاعت، 1422ھ۔
  • امام رضا(ع)، علی بن موسی (امام ہشتم)، الفقہ المنسوب للإمام الرضا(ع)، مؤسسۃ آل البیت(ع)، مشہد، پہلی اشاعت، 1406ھ۔
  • بنی‌ہاشمی خمینی، سید محمدحسن، توضیح‌المسائل مراجع، قم، دفتر انتشارات اسلامی جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1381ہجری شمسی۔
  • تُوَیجری، محمد بن إبراہیم بن عبد اللہ، مختصر الفقہ الإسلامی فی ضوء القرآن والسنۃ، ریاض، دار أصداء المجتمع، چاپ یازدہم، 1431ھ۔
  • جنّاتی، محمدابراہیم، رسالۀ توضیح المسائل، قم، موسسہ فرہنگی اجتہاد، چاپ انصاریان، چاپ اوّل، 1381ہجری شمسی۔
  • جوادی آملی، عبداللّہ، زن در آیینہ جلال و جمال، قم، مرکز نشر اسراء، چاپ سیزدہم، 1385ہجری شمسی۔
  • جہانیان، علی، و نیکخو امیری، ناصر، و علیزادہ، غلام سخی، «بیوی کے کاسمیٹک سرجری میں شوہر کی اجازت کا فقہی جائزہ»، در نشریہ مطالعات فقہی حقوقی زن و خانوادہ، شمارۂ 14، زمستان 1403ہجری شمسی۔
  • خوانساری، آقا جمال الدین محمد، التعلیقات علی الروضۃ البہیۃ، قم، منشورات المدرسۃ الرضویۃ، پہلی اشاعت، بی‌تا.
  • خویی، سید ابوالقاسم، المستند فی شرح العروۃ الوثقی، مقرر: مرتضی بروجردی، بی‌نا، بی‌جا، بی‌تا.
  • خویی، سید ابوالقاسم، المعتمد فی شرح المناسک، مقرر: موسوی خلخالی، سید رضا، قم، منشورات مدرسۃ دار العلم(لطفی)، پہلی اشاعت، 1410ھ۔
  • روحانی سید صادق، فقہ الصادق(ع)، قم، دار الکتاب - مدرسہ امام صادق(ع)، پہلی اشاعت، 1421ھ۔
  • ساجدی مہدی، و موسوی‌زادہ، سید جواد، «موارد لزوم اذن شوہر در فقہ اسلامی»، در مجلہ علمی پژوہشی پژوہش‌ہای فقہی، سال ہفتم، شمارہ 2، پاییز و زمستان 1390ہجری شمسی۔
  • شبیری زنجانی، سید موسی، رسالہ توضیح‌المسائل، قم، نشر سلسبیل، پہلی اشاعت، 1378ہجری شمسی۔
  • شمس الدین، محمدمہدی، حقوق الزوجیہ، بیروت، موسسۀ الدّولیۃ للدراسات و النشر، پہلی اشاعت، 1996ھ۔
  • شَنقیطی، محمد بن محمد المختار، شرح زاد المستقنع، «موقع الشبکۃ الإسلامیۃ».
  • شہید ثانی، زین الدین بن علی، مسالک الأفہام إلی تنقیح شرائع الإسلام، قم، مؤسسۃ المعارف الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1413ھ۔
  • شیخ حرّ عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعۃ، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، پہلی اشاعت، 1409ھ۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، الأمالی، تہران، کتابچی، چھٹی اشاعت، 1376ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، الخصال، محقق و مصحح: غفاری، علی اکبر، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پہلی اشاعت، 1362ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، علل الشرائع، قم، کتاب فروشی داوری، پہلی اشاعت، 1385ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، من لا یحضرہ الفقیہ، محقق و مصحح: غفاری، علی اکبر، قم، دفتر انتشارات اسلامی، دوسری اشاعت، 1413ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، المبسوط فی فقہ الإمامیۃ، محقق و مصحح: کشفی، سید محمدتقی، تہران، المکتبۃ المرتضویۃ لإحیاء الآثار الجعفریۃ، تیسری اشاعت، 1387ہجری شمسی۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، تہذیب الاحکام، محقق: موسوی خرسان، حسن، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
  • شیخ مفید، محمّد بن محمد بن نعمان، أحکام النساء، قم، کنگرہ جہانی ہزارہ شیخ مفید، پہلی اشاعت، 1413ھ۔
  • طاہری، حبیب اللہ، حقوق مدنی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، دوسری اشاعت، 1418ھ۔
  • طباطبایی، سید محمدکاظم، عروۃ الوثقی، بیروت، مؤسسہ الاعلمی، دوسری اشاعت، 1409ھ۔
  • طبرسی، حسن بن فضل، مکارم الاخلاق، قم، شریف رضی، چوتھی اشاعت، 1412ھ۔
  • عریضی، علی بن جعفر، مسائل علی بن جعفر و مستدرکاتہا، قم، مؤسسۃ آل البیت(ع)، پہلی اشاعت، 1409ھ۔
  • علامہ حلّی، حسن بن یوسف، تذکرۃ الفقہاء، مؤسسہ آل البیت(ع)، قم، پہلی اشاعت، 1388ھ۔
  • علامہ حلّی، حسن بن یوسف، قواعد الاحکام فی معرفۃ الحلال و الحرام، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پہلی اشاعت، 1413ھ۔
  • فضل‌اللّہ، سید محمدحسین، دنیا المرأۃ، قم، دار الملاک، چاپ اوّل، 1420ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق و مصحح: غفاری، علی اکبر، آخوندی، محمد، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
  • گلپایگانی، سید محمدرضا، ہدایۃ العباد، محقق و مصحح: ثابتی ہمدانی، علی، نیری ہمدانی، علی، قم، دار القرآن الکریم، پہلی اشاعت، 1413ھ۔
  • مؤسسۃ دائرۃ معارف الفقہ الإسلامی، موسوعۃ الفقہ الإسلامی طبقا لمذہب أہل البیت(ع)، قم ، مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، پہلی اشاعت، 1423ھ۔
  • مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فقہی ثقافت مذہب اہل‌ بیت علیہم‌ السلام کے مطابق، قم، مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی بر مذہب اہل‌بیت 1387ہجری شمسی۔
  • محدث بحرانی، یوسف بن احمد، الحدائق الناضرۃ فی أحکام العترۃ الطاہرۃ، محقق و مصحح: ایروانی، محمدتقی، مقرم، سید عبد الرزاق، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پہلی اشاعت، 1405ھ۔
  • محقق حلّی، نجم الدین، المختصر النافع فی فقہ الإمامیہ، قم، مؤسسہ المطبوعات الدینیہ، 1418ھ۔
  • محقق داماد، سید مصطفی، بررسی فقہی حقوق خانوادہ، نکاح و انحلال آن، تہران، مرکز نشر علوم اسلامی، 1384ہجری شمسی۔
  • محقق سبزواری، محمدباقر، کفایۃ الاحکام، قم، دفتر انتشارات اسلامی،پہلی اشاعت، 1423ھ۔
  • موسوی عاملی، محمد بن علی، مدارک الاحکام فی شرح عبادات شرایع الاسلام، بیروت، مؤسسہ آل البیت، 1411ھ۔
  • نجفی، زین العابدین، «بیوی کے گھر سے نکلنے کے لئے شوہر کی اجازت فقہ امامیہ کی نظر میں»، در مجلۀ فقہ و مبانی حقوق اسلامی، شمارۀ دوم، سال چہل و پنجم، پاییز و زمستان 1391ہجری شمسی۔
  • نجفی، محمدحسن، جَواہر الکلام فی شرحِ شرائعِ الاسلام، تصحیح عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دارُ اِحیاء التُّراثِ العربی، ساتویں اشاعت، 1404ھ۔