ارکان حج

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
رساله عملیه.jpg
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاعخلعمباراتعقد نکاح
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

ارکان حج، حج کے مناسک اور واجبات کو کہا جاتا ہے جن کو عمدا ترک کرنے کی صورت میں حج باطل ہو جاتا ہے۔ شیعہ فقہاء کے مطابق احرام، طواف، عرفات میں توقف، مشعر الحرام میں توقف اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی حج کے ارکان میں سے ہیں۔ بعض امامیہ فقہاء نیت، تلبیہ اور ترتیب کو بھی ارکان حج میں شمار کرتے ہیں۔

کہا گیا ہے کہ حج کے واجب ارکان کو عمدا یا حکم نہ جاننے کی بنا پر ترک کرنا حج کے باطل ہونے کا سبب ہے؛ لیکن غیر رکنی واجبات کو ترک کرنا اگرچہ عمدا ہی کیوں نہ ہو حج کے بطلان کا سبب نہیں بنتا بلکہ ان کے جبران کے لئے کسی اور کو نائب بھی بنا سکتے ہیں۔

ارکانِ حج

ارکان حج ان واجبات یا مناسک کو کہا جاتا ہے جن کو عمدا ترک کرنے سے حج باطل ہو جاتا ہے۔[1] فقہی اصطلاح میں رکن ایسے اعمال اور اذکار کو کہا جاتا ہے جن کے عمدا یا سہوا ترک کرنے سے متعلقہ عبادت مثلا نماز باطل ہو جاتی ہے۔[2]

شیعہ فقہاء کے مطابق احرام، طواف، عرفات میں توقف، مشعر الحرام میں توقف اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی حج کے ارکان میں سے ہیں۔[3] نیت، تلبیہ اور ترتیب کے رکن ہونے اور نہ ہونے میں اختلاف‌ پایا جاتا ہے۔ شہید اول،[4] صیمری،[5] کاشف الغطاء[6] اور محقق کرکی[7] ان کو بھی رکن سمجھتے ہیں۔

اہل سنت فقہاء کے درمیان حج کے ارکان کی تعداد کے بارے میں اختلاف‌ ہے؛ شافعی فقہاء کے مطابق حج کے چھ رکن،[8] مالکی اور اکثر حنبلیوں کے نزدیک چار رکن[9] اور مشہور حنفی فقہاء کے نزدیک حج کے رکن[10] ہیں۔ شافعی مذکورہ ارکان کے علاوہ حلق اور تقصیر کو بھی رکن سمجھتے ہیں۔[11] مالکی فقہاء معشر الحرام میں توقف کرنے کو رکن نہیں سمجھتے[12] اور حنبلی فقہاء صفا اور مروہ کے درمیان سعی کے رکن ہونے اور نہ ہونے میں مردد ہیں۔[13] حنفی فقہاء احرام، وقوف مشعر اور سعی کی رکنیت کے قائل نہیں ہیں۔[14]

احکام

  • حج کے واجب ارکان اور غیر رکنی واجبات میں فرق یہ ہے کہ ارکان حج میں سے کسی ایک کو بھی عمدا ترک کرنے کی صورت میں حج باطل ہو جاتا ہے؛[15] جبکہ غیر رکنی واجبات (جیسے حلق و تقصیر، رمی جمرات اور قربانی) کو عمدا ترک کرنے کی صورت میں بھی حج باطل نہیں ہوتا۔[16] واجب ارکان میں سے کی ایک کو مسئلے سے ناواقفیت کی بنا پر ترک کرنا بھی بعض فقہاء کے نزدیک ترک عمدی کی طرح حج کی باطل ہونے کا سبب بنتا ہے۔[17]
  • ترک وقوفین (وقوف عرفات اور مشعر) چاہے عمدا ترک ہو یا سہوا حج کے باطل ہونے کا سبب ہوتا ہے۔[18]
  • شیعہ فقہاء کے مطابق فراموش شدہ ارکان حج کی ادائیگی کے لئے صرف اس صورت میں کسی اور کو نائب بنا سکتا ہے کہ متعلقہ شخس کے لئے دوبارہ مکہ جانا ممکن نہ ہو یا دشوار ہو؛ جبکہ فراموش شدہ غیر رکن کی بجا آوری کے لئے ہر صورت میں کسی اور کو نائب بنا سکتا ہے۔[19]
  • شیعہ مشہور فقہاء کے مطابق مستبصر (وہ مسلمان جس نے شیعہ مذہب اختیار کیا ہو) پر ضروری نہیں ہے کہ اس حج کو دوبارہ انجام دینا ضروری نہیں ہے جسے اس نے پہلے مذہب کے مطابق صحیح انجام دیا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ ارکان حج کو صحیح انجام دیا ہو؛[20] البتہ اس میں رکن کا معیار پہلا مذہب ہے یا شیعہ مذہب اختلاف پایا جاتا ہے۔[21]

حوالہ جات

  1. شہید اول، الدروس الشرعیہ، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۳۲۸؛ صیمری، غایۃ المرام، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۴۵۶؛ نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۱۸، ص۱۳۶؛ گلپایگانی، کتاب الحج، ۱۴۰۳ق، ج۱، ص۱۷۔
  2. مشکینی، مصطلحات الفقہ، ۱۴۲۸ق، ص۲۷۴-۲۷۵۔
  3. نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۱۸، ص۱۳۶۔
  4. شہید اول، الدروس، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۳۲۸-۳۲۹۔
  5. صیمری، غایۃ المرام، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۴۵۶۔
  6. کاشف الغطاء، کشف الغطاء، ۱۴۲۲ق، ج۴، ص۴۷۰-۴۷۱۔
  7. محقق کرکی، جامع المقاصد، ۱۴۱۴ق، ج۳، ص۱۱۰۔
  8. الشربینی، مغنی المحتاج، ۱۴۱۸ق، ج۱، ص۷۴۵-۷۴۶۔
  9. الکرمی، دلیل الطالب، ۱۴۲۵ق، ج۱، ص۱۰۷-۱۰۸۔
  10. سمرقندی، تحفۃ الفقہاء، ۱۴۰۵ ج۱، ص۳۸۱۔
  11. الشربینی، مغنی المحتاج، ۱۴۱۸ق، ج۱، ص۷۴۵-۷۴۶۔
  12. ابن قدامہ، المغنی، ۱۳۸۸ق، ج۳، ص۳۷۶۔
  13. ابن قدامہ، المغنی، ۱۳۸۸ق، ج۳، ص۳۵۱-۳۵۲۔
  14. سمرقندی، تحفۃ الفقہاء، ۱۴۰۵ ج۱، ص۳۸۱۔
  15. شہید اول، الدروس الشرعیہ، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۳۲۸۔
  16. ابن فہد حلی، المہذب البارع، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۲۰۶؛ صیمری، غایۃ المرام، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۴۵۶؛ نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۱۸، ص۱۳۶؛ گلپایگانی، کتاب الحج، ۱۴۰۳ق، ج۱، ص۱۷۔
  17. محقق کرکی، جامع المقاصد، ۱۴۱۱ق، ج۳، ص۲۰۱؛ شہید ثانی، مسالک الافہام، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۲۷۵؛ موسوی عاملی، مدارک الاحکام، ۱۴۱۰ق، ج۸، ص۱۷۴۔
  18. شہید اول، الدروس الشرعیہ، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۳۲۸؛ شہید ثانی، مسالک الافہام، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۲۷۵؛ حلی، الجامع للشرائع، ۱۴۰۵ق، ص۱۸۰-۱۸۱۔
  19. ابن فہد حلی، المہذب البارع، ۱۴۰۷، ج۲، ص۲۰۶؛ صیمری، غایۃ المرام، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۴۵۶۔
  20. ابن حمزہ، الوسیلہ، ۱۴۰۸ق، ص۱۵۷؛ ابن ادریس، السرائر، ۱۴۱۱ق، ج۱، ص۵۱۸-۵۱۹۔
  21. نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۱۷، ص۳۰۴۔


مآخذ

  • ابن ادریس، محمد بن احمد، السرائر الحاوی لتحریر الفتاوی، قم، انتشارات اسلامی، ۱۴۱۰ھ۔
  • ابن حمزہ طوسی، محمد بن علی، الوسیلۃ الی نیل الفضیلہ، قم، انتشارات کتابخانہ مرعشی نجفی، ۱۴۰۸ھ۔
  • ابن فہد حلی، احمد بن محمد، المہذب البارع، قم، انتشارات اسلامی، ۱۴۰۷ھ۔
  • ابن قدامہ، عبداللہ بن احمد، المغنی، قاہرہ، مکتبۃ القاہرۃ، ۱۳۸۸ھ۔
  • الشربینی، محمد بن خطیب، مغنی المحتاج، بیروت، دار المعرفۃ،‌ ۱۴۱۸ھ۔
  • الکرمی، مرعی بن یوسف، دلیل الطالب لنیل المطالب، ریاض، دار طیبۃ للنشر والتوزيع، ۱۴۲۵ھ۔
  • بحرانی، یوسف بن احمد، الحدائق الناضرۃ فی احکام العترۃ الطاہرہ، بہ کوشش علی آخوندی، قم، نشر اسلامی، ۱۳۶۳ ش۔
  • حلی، یحیی بن سعید، الجامع للشرائع، بی جا، مؤسسۃ سید الشہداء (ع) العلمیۃ، ۱۴۰۵ق
  • سمرقندی، علاء الدین محمد، تحفۃ الفقہاء، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ۱۴۰۵ھ۔
  • شہيد اول، محمد بن مكى‌، الدروس الشرعیۃ فی فقہ الامامیۃ، قم، انتشارات اسلامی، ۱۴۱۷ھ۔
  • شہید ثانی، زین الدین بن علی، مسالک الافہام، قم، موسسہ المعارف الاسلامیہ، ۱۴۱۳ھ۔
  • صیمری، مفلح بن حسن، غایۃ المرام فی شرح شرایع الاسلام، بیروت، دار الہادی، ۱۴۲۰ھ۔
  • گلپایگانی، محمد رضا، کتاب الحج، قم، دار القرآن الکریم، ۱۴۰۳ھ۔
  • محقق کرکی، علی بن حسین،‌ جامع المقاصد فی شرح القواعد، قم، آل البیت، ۱۴۱۴ھ۔
  • مشکینی، میرزا علی، مصطلحات ‌الفقہ، قم، الہادی، ۱۴۲۸ھ۔
  • موسوی عاملی، محمد بن علی، مدارک الاحکام، قم، موسسہ آل البیت، ۱۴۱۰ھ۔
  • نجفی،‌ محمد حسن، جواہر الکلام فی شرح شرایع الاسلام، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۴ھ۔