مہج الدعوات و منہج العبادات (کتاب)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مہج الدعوات و منہج العبادات (کتاب)
کتاب مہج الدعوات
مؤلف: سید بن طاووس متوفی ۶۶۴ ھ
زبان: عربی
موضوع: ۱۴ معصومین، دعا
تعداد مجلد: ۱ جلد
ناشر: دار الذخائر قم


مُہَجُ الدّعَوات وَ مَنہَجُ العِبادات‏ سید بن طاؤس (متوفا ۶۶۴ ھ) کی عربی زبان کی تالیف ہے جو دعا اور حرز کے بیان پر مشتمل ہے۔ انہوں نے یہ ادعیہ اور حرز پیغمبر اکرم (ص) سے شروع کئے اور امام زمان (عج) پر ختم کئے ہیں۔ اس کے بعد غیر معصومین (ع) سے بھی چند ایک نقل کئے ہیں۔ یہ کتاب شیعہ علما میں قابل توجہ رہی ہے۔

دربارہ مؤلف

تفصیلی مضمون: سید بن طاووس

سید رضی الدین علی بن موسی بن جعفر بن طاووس امام حسن مجتبی(ع) اور امام سجاد(ع) کے پوتوں میں سے ہیں جو اپنے زمانے کے شیعہ علما میں سے تھے اور وہ بہت سی کتابوں جیسے المہمات و التتمات، کشف المحجۃ لثمرۃ المہجۃ، مصباح الزائر و جناح المسافر، اللہوف علی قتلی الطفوف کے مصنف ہیں نیز علامہ حلی، ان کے والد (شیخ یوسف سدید الدین) اور دیگر علما کے استاد تھے۔

کتاب

دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg

مہج الدعوات و منہج العبادات‏ سید بن طاؤس کی اہم ترین کتب میں سے ہے۔ جس میں دعاوں، حرز، قنوت اور تعقیبات نماز وغیرہ کا بیان ہے۔

سبب تألیف

سید بن طاوس خود اس کے بارے میں لکھتے ہیں:

میں اپنی ریاضت کے اوقات میں جن چیزوں پر عمل کرتا رہا ہوں ان میں حرز، مختلف قنوت‌، حجب‌ اور وہ دعائیں ہیں جو پیغمبر اور ائمہ اثناعشر سے معتبر اسناد کے ذریعے ہم تک پہنچیں اور اسی طرح مختلف مناجاتیں اور دعائیں کہ جنہیں میں نے خلاصہ کیا ہوا تھا اور انہیں میں موثق اور معتمد سمجھتا تھا، میں نے انہیں اس کتاب میں نقل کیا ہے۔ چونکہ یہ سب مختلف رسالوں اور متعدد کاغذوں پر لکھی ہوئیں پراکندہ حال میں تھیں کسی کیلئے ان تک رسائی حاصل کرنا ممکن نہیں تھا اور ان کے طالبین کیلئے ان سے فائدہ حاصل کرنا آسان نہیں تھا۔ ہم نے خدا کی مدد اور خواست کے تحت ان سب کو ایک رسالے میں جمع کیا ہے کیونکہ جب سب ایک رسالے میں محفوظ اور جمع کر دیئے جائیں گے تو ان سے فائدہ حاصل کرنا زیادہ آسان ہے۔

چونکہ اس رسالے میں جمع کی ہوئی اور منتخب شدہ دعائیں دوسری دعاؤں کی نسبت حیات و روح کی مانند ہیں اور دعاؤں کے طلبگاروں کیلئے مستقیم راستے کی مانند ہیں۔ میں نے اس رسالے کا نام مہج الدّعوات و منہج العبادات رکھا ہے۔

میں نے حرز، قنوت، حجب اور دیگر دعاؤں کو ابواب و فصول کی رعایت کئے بغیر انہیں اکٹھا ایک جگہ اس باغ کی مانند ذکر کیا ہے جو مختلف شگوفوں، رنگا رنگ شگوفوں اور گوناں گوں پھلوں پر مشتمل ہو اور وہ اس باغ کی مانند ہے جس کی فصل و محصول حاصل کرنے کیلئے تیار ہو۔[1]

روش تألیف

ابن طاؤس نے اس کتاب میں جمال الاسبوع اور اقبال الاعمال کے برخلاف ان ادعیہ کو نقل کیا ہے جو کسی قید و شرط کے بغیر تھیں اور کسی زمان و مکان کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں۔

ساختار کتاب

ابن طاووس نے اس کے ہر موضوع کو پیامبر(ص) سے شروع کر کے امام زمان (عج) پر ختم کیا ہے اور پھر اس کے بعد وہ آئمہ کے علاوہ دیگر افراد سے منقول دعائیں نقل کرتے ہیں۔

کتاب کے آغاز میں معصومین(ع) سے وارد حرز ذکر کئے اس کے بعد ہر امام سے حرز اور دعائیں تفصیل کے ساتھ بیان کی ہیں۔ اس کے بعد گذشتہ انبیا سے منقول دعائیں ذکر کی ہیں۔

سید نے اس کتاب کی مختلف جگہوں پر «دعاء وَرَدَ عَلی خاطِری» کے تحت اپنی طرف سے دعائیں اور حرز ذکر کئے ہیں۔ اسی طرح مختلف کتابوں سے متفرق دعائیں جمع کی ہیں۔ کتاب کے آخر میں استجابت دعا کے اوقات، دعا کرنے والے کی صفات ... بیان کی ہیں۔

عناوین کتاب

  • حرز پیغمبر اکرم
  • حرز حضرت خدیجہ
  • حرز حضرت فاطمہ
  • حرز امیرالمؤمنین
  • حرز امام حسن
  • حرز امام حسین
  • حرز امام زین العابدین
  • حرز امام محمد باقر
  • حرز امام صادق
  • حرز امام کاظم
  • حرز امام رضا
  • حرز امام جواد
  • حرز امام ہادی
  • حرز امام حسن عسکری
  • حرز حضرت حضرت مہدی
  • قنوت امام حسن
  • قنوت امام حسین
  • قنوت امام زین العابدین
  • قنوت امام باقر
  • قنوت امام جعفر صادق
  • قنوت امام موسی بن جعفر
  • قنوت حضرت علی بن موسی
  • قنوت امام محمّد بن علی التقی
  • قنوت امام علی بن محمّد بن علی نقی
  • قنوت حضرت امام حسن بن علی عسکری
  • قنوت حضرت حجۃ بن حسن
  • ادعیۂ رسول خدا
  • ادعیۂ حضرت علی بن ابی طالب
  • ادعیۂ حضرت فاطمہ
  • ادعیۂ انتخابی از امام حسن مجتبی
  • ادعیۂ انتخابی از امام حسین
  • ادعیۂ امام زین العابدین علی بن الحسین
  • ادعیۂ امام ابو جعفر محمد بن علی
  • ادعیۂ امام جعفر صادق
  • ادعیۂ امام موسی
  • ادعیۂ امام علی بن موسی الرضا
  • ادعیۂ حضرت امام محمّد تقی
  • مناجات استخارہ در کارہا
  • مناجات برای طلب درگذشتن از گناہان
  • مناجات ارادہ سفر
  • مناجات طلب رزق
  • مناجات پناہ ( بہ خدای تعالی )
  • مناجات قبول توبہ
  • مناجات طلب حج
  • مناجات رہائی ظلم و ستم
  • مناجات شکرگزاری خدای تعالی
  • مناجات طلب حاجات
  • ادعیۂ امام علی نقی
  • ادعیۂ امام حسن عسکری
  • ادعیۂ حضرت مہدی
  • حجاب حضرت رسول
  • حجاب امیرالمؤمنین
  • حجاب امام حسن بن علی
  • حجاب امام حسین بن علی
  • حجاب امام زین العابدین علی بن الحسین
  • حجاب امام محمّد باقر
  • حجاب امام جعفر صادق
  • حجاب امام موسی کاظم
  • حجاب امام علی بن موسی الرّضا
  • حجاب امام محمّد تقی
  • حجاب امام علی نقی
  • حجاب امام حسن عسکری
  • حجاب حضرت صاحب الزمان
  • مختلف ادعیہ
  • دعائے آدم
  • دعائے نوح
  • دعائے ادریس
  • دعائے ابراہیم
  • دعائے یوسف
  • دعائے یعقوب
  • دعائے ایوب
  • دعائے موسی
  • دعائے یوشع
  • دعائے خضر و الیاس
  • دعائے یونس
  • دعائے داوود
  • دعائے آصف بن برخیا
  • دعائے عیسی
  • دعائے سلمان فارسی
  • دعائے اسیری
  • ادعیہ اسم اعظم
  • ادعیہ فرج و عافیت
  • یادآوری
  • شرائط دعا کردن
  • وقت اجابت دعا.[2]

مصادر کتاب

سید بن طاؤس کا مقصد صرف دعاؤں کا ذکر کرنا تھا اس لئے تمام دعاؤں اور روایات کی اسناد حذف کی ہیں صرف معصوم سے روایت کرنے والے راوی کے نام کو کافی سمجھا ہے البتہ اکثر مقام پر دعا کے مآخذ کو ذکر کیا ہے۔[3]

ترجمہ و طباعت

یہ کتاب سلطان حسین صفوی کی درخواست پر ۱۲ویں صدی ہجری کے عالم دین محمد تقی طبسی کے ذریعے ترجمہ ہوئی اور تصحیح و کتابت کے مراحل سے گزر کر روز جمعہ ۱۱ رجب سال ۱۱۱۷ق میں اختتام پذیر ہوئی اور خزانہ آستان قدس رضوی کے قلمی نفایس میں سے شمار ہوتی ہے۔[4]

مہج الدعوات متعدد مرتبہ طبع ہوئی:

  1. بمبئی میں سال ۱۲۹۹ ہجری اور اسی سال ایران میں طبع ہوئی۔
  2. سن ۱۳۳۴ ہجری تبریز میں طبع ہوئی۔ اس کے اس نسخہ میں سید محمود حسینی طباطبائی تبریزی نے طاووسیہ کے عنوان سے ایک مقدمہ تحریر کیا ہے جس کی ابتداء میں خاندان ابن طاووس کی سوانح ذکر کی ہے۔
  3. چاپ کتاب ہمراہ با ترجمہ صدر المعالی در حاشیہ کتاب در سال ۱۳۲۳ ہجری۔
  4. چاپ کتاب توسط انتشارات دار الذخائر قم نے اسے شائع کیا ہے اور سن ۱۳۲۳ ہجری کے نسخہ سے اس کی عکس برداری کی ہے۔ اس طبع میں رسالہ طاووسیہ کے ہمراہ اس کا ترجمہ و حواشی شائع ہوئے ہیں۔

حوالہ جات

  1. ترجمہ مہج الدعوات، ۱۳۷۹ ش، ص۱۲ و ۱۳.
  2. ترجمہ مہج الدعوات، ۱۳۷۹ ش، ص۵۵۱.
  3. کتابخانہ دیجیتال نور.
  4. ترجمہ مہج الدعوات، ۱۳۷۹ ش، ص۸.


مآخذ

  • ابن طاووس، علی بن موسی، مہج الدعوات و منہج العبادات‏، قم، دار الذخائر، ۱۴۱۱ ق.
  • ابن طاووس، علی بن موسی، مہج الدعوات و منہج العبادات‏، ترجمہ محمد تقی طبسی‏، تہران، رایحہ، ۱۳۷۹ ش.
  • کتاب شناخت سیرہ معصومان، مرکز تحقیقات رایانہ ای علوم اسلامی نور.