صلوات شعبانیہ

ويکی شيعه سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg


صلوات شعبانیہ امام سجاد(ع) سے منقول ایک دعا کو کہا جاتا ہے جسے شعبان کے مہینے میں ہر روز زوال کے وقت نیز 15 شعبان کی رات کو پڑھنا مستحب ہے۔ اس صلوات کا اصل مقصد اہل بیت(ع) کی شان و منزلت اور ولایت کو بیان کرنا ہے۔

سند

شیخ طوسی نے مصباح المتہجد[1] میں نقل کیا ہے کہ امام سجاد(ع) شعبان کے مہینے میں ہر روز زوال کے وقت نیز 15 شعبان کی رات اس صلوات کو پڑھتے تھے۔

دوسرے منابع جیسے اقبال الاعمال[2] اور جمال الاسبوع[3] وغیرہ میں بھی اس دعا کو شیخ طوسی سے ہی نقل کیا ہے البتہ جمال الاسبوع میں دوسرے منابع کی نسبت مختصر فرق پایا جاتا ہے۔ مفاتیح الجنان میں بھی شعبان کے مشترک اعمال کے ضمن میں اس دعا کو نقل کیا ہے اور مولی احمد واعظ یزدی ( متوفی ۱۳۱۰ق ) نے "شرح دعائے شجرۃ النبوۃ" نامی کتاب میں صلوات شعبانیہ پر شرح لکھی ہے اور یہ کتاب آٹھ ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔[4]

مضامین

اس دعا میں لفظ صلوات کئی بار تکرار ہوا ہے جس میں پڑھنے والا خدا سے بار بار یہی طلب کرتا ہے کہ اے اللہ حضرت محمد(ص) اور ان کے آل پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرما۔

صلوات شعبانیہ میں زیادہ تر اہل بیت اور ائمہ معصومین کی شان و منزلت اور ولایت پر تاکید کی گئی ہے۔ اس دعا کے مضامین کچھ یوں ہیں:

  • اہل بیت پیغمبر(ص) علم کے خزانے، فرشتوں کی آمد و رفت کی جگہ، رسالت الہی کا مقام اور خانہ وحی میں رہنے والے ہیں۔
  • اہل بیت بے پناہ بھنوروں میں چلتی ہوئی کشتی کی مانند ہیں جو بھی ان کا دامن تھامے گا نجات پائے گا اور جو بھی ان سے روگردانی اختیار کرے گا ہلاک اور غرق ہوجائے گا۔
  • اہل بیت سے آگے نکل جانے والے اور ان سے پیچھے رہ جانے والے نجات نہیں پا سکیں گے صرف وہی لوگ نجات یافتہ ہیں جو ہمیشہ اور ہر حال میں ان کے ساتھ ساتھ اور ان کا دامن تھامے رہیں۔
  • خدا نے اہل بیت کے حقوق کی رعایت، ان کی اطاعت اور ان کی ولایت اور حاکمیت کو قبول کرنا دوسروں پر واجب قرار دیا ہے۔
  • اس دعا میں دعا کرنے والا خدا سے طلب کرتا ہے کہ خدا اس کے دل کو اطاعت کے ذریعے آباد کرے اور گناہ اور معصیت کے ذریعے اسے رسوا اور ذلیل نہ فرمائے۔
  • اس دعا کے ایک حصے میں خدا سے حاجتمندوں اور فقیروں کی مدد کرنے کی توفیق طلب کرنا ذکر ہوا ہے۔
  • شعبان کا مہینہ ایک ایسا مہینہ ہے جس میں پیغمبر اسلام(ص) ہمیشہ مستحب نمازیں پڑھنے، روزہ رکھنے اور شب زندہ داری پر مداومت کرتے تھے۔
  • شعبان کے اعمال بجا لانے میں پیغمبر اکرم(ص) کی پیروی کرنے کی توفیق، ان کی شفاعت اور خدا کی بخشش و رحمت طلب کرنا نیز اس دعا کے مضامین میں سے ہیں۔

صلوات شعبانیہ کا متن اور ترجمہ

متن ترجمہ

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ
شَجَرَةِ النُّبُوَّةِ وَ مَوْضِعِ الرِّسَالَةِ وَ مُخْتَلَفِ الْمَلائِکَةِ
وَ مَعْدِنِ الْعِلْمِ وَ أَهْلِ بَیْتِ الْوَحْیِ
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ
الْفُلْکِ الْجَارِیَةِ فِی اللُّجَجِ الْغَامِرَةِ
یَأْمَنُ مَنْ رَکِبَهَا وَ یَغْرَقُ مَنْ ترکها
الْمُتَقَدِّمُ لَهُمْ مَارِقٌ وَ الْمُتَأَخِّرُ عَنْهُمْ زَاهِقٌ وَ اللازِمُ لَهُمْ لاحِقٌ
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ
الْکَهْفِ الْحَصِینِ وَ غِیَاثِ الْمُضْطَرِّ الْمُسْتَکِینِ
وَ مَلْجَإِ الْهَارِبِینَ وَ عِصْمَةِ الْمُعْتَصِمِینَ
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ
صَلاةً کَثِیرَةً تَکُونُ لَهُمْ رِضًی وَ لِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ أَدَاءً وَ قَضَاء
بِحَوْلٍ مِنْکَ وَ قُوَّةٍ یَا رَبَّ الْعَالَمِینَ
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ
الطَّیِّبِینَ الْأَبْرَارِ الْأَخْیَارِ الَّذِینَ أَوْجَبْتَ حُقُوقَهُمْ
وَ فَرَضْتَ طَاعَتَهُمْ وَ وِلایَتَهُمْ
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ
وَ اعْمُرْ قَلْبِی بِطَاعَتِکَ وَ لا تُخْزِنِی بِمَعْصِیَتِکَ
وَ ارْزُقْنِی مُوَاسَاةَ مَنْ قَتَّرْتَ عَلَیْهِ مِنْ رِزْقِکَ
بِمَا وَسَّعْتَ عَلَیَّ مِنْ فَضْلِکَ
وَ نَشَرْتَ عَلَیَّ مِنْ عَدْلِکَ وَ أَحْیَیْتَنِی تَحْتَ ظِلِّکَ
وَ هَذَا شَهْرُ نَبِیِّکَ سَیِّدِ رُسُلِکَ
شَعْبَانُ الَّذِی حَفَفْتَهُ مِنْکَ بِالرَّحْمَةِ وَ الرِّضْوَانِ
الَّذِی کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ و سَلَّمَ
یَدْأَبُ فِی صِیَامِهِ وَ قِیَامِهِ فِی لَیَالِیهِ وَ أَیَّامِهِ
بُخُوعا لَکَ فِی إِکْرَامِهِ وَ إِعْظَامِهِ إِلَی مَحَلِّ حِمَامِهِ
اللَّهُمَّ فَأَعِنَّا عَلَی الاسْتِنَانِ بِسُنَّتِهِ فِیهِ
وَ نَیْلِ الشَّفَاعَةِ لَدَیْهِ
اللَّهُمَّ وَ اجْعَلْهُ لِی شَفِیعاً مُشَفَّعا وَ طَرِیقاً إِلَیْکَ مَهْیَعا
وَ اجْعَلْنِی لَهُ مُتَّبِعا
حَتَّی أَلْقَاکَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ
عَنِّی رَاضِیا وَ عَنْ ذُنُوبِی غَاضِیا
قَدْ أَوْجَبْتَ لِی مِنْکَ الرَّحْمَةَ وَ الرِّضْوَانَ
وَ أَنْزَلْتَنِی دَارَ الْقَرَارِ وَ مَحَلَّ الْأَخْیَارِ

اے معبود! محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما
جو نبوت کا شجر رسالت کا مقام، فرشتوں کی آمد و رفت کی جگہ،
علم کے خزانے اور خانہ وحی میں رہنے والے ہیں
اے معبود! محمد(ص) وآل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما
جو بے پناہ بھنوروں میں چلتی ہوئی کشتی ہیں
کہ بچ جائے گا جو اس میں سوار ہوگا اور غرق ہوگا جو اسے چھوڑ دے گا
ان سے آگے نکلنے والا دین سے خارج اور ان سے پیچھے رہ جانے والا نابود ہو جائے گا اور ان کے ساتھ رہنے والا حق تک پہنچ جائے گا
اے معبود! و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما
جو پائیدار جائے پناہ اور پریشان و بے چارے کی فریاد کو پہنچنے والے،
بھاگنے اور ڈرنے والے کیلئے جائے امان اور ساتھ رہنے والوں کے نگہدار ہیں
اے معبود محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما
بہت بہت رحمت کہ جوان کے لیے وجہ خوشنودی اور محمد(ص) وآل محمد(ع) کے واجب حق کی ادائیگی اور اس کے پورا ہونے کاموجب
بنے تیری قوت و طاقت سے اے جہانوں کے پروردگار
اے معبود محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما
جو پاکیزہ تر، خوش کردار اور نیکو کار ہیںجن کے حقوق تو نے واجب کیے
اور تو نے ان کی اطاعت اور محبت کو فرض قرار دیا ہے
اے معبود محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما
اور میرے دل کو اپنی اطاعت سے آباد فرما اپنی نافرمانی سے مجھے رسوا و خوار نہ کر
اور جس کے رزق میں تو نے تنگی کی ہے
مجھے اس سے ہمدردی کرنے کی توفیق دے کیونکہ تو نے اپنے فضل سے میرے رزق میں فراخی کی
مجھ پر اپنے عدل کوپھیلایا اور مجھے اپنے سائے تلے زندہ رکھا ہے
اور یہ تیرے نبی(ص) کا مہینہ ہے جو تیرے رسولوں کے سردار ہیں
یہ ماہ شعبان جسے تو نے اپنی رحمت اور رضامندی کے ساتھ گھیرا ہوا ہے
یہ وہی مہینہ ہے جس میں حضرت رسول اپنی فروتنی سے دنوں میں
روزے رکھتے اور راتوں میں صلوٰۃ و قیام کیا کرتے تھے
تیری فرمانبرداری اور اس مہینے کے مراتب و درجات کے باعث وہ زندگی بھر ایسا ہی کرتے رہے
اے معبود! پس اس مہینے میں ہمیں ان کی سنت کی پیروی
اور ان کی شفاعت کے حصول میں مدد فرما
اے معبود؛ آنحضرت(ص) کو میرا شفیع بنا جن کی شفاعت مقبول ہے اور میرے لیے اپنی طرف کھلا راستہ قرار دے
مجھے انکا سچا پیروکار بنادے
یہاں تک کہ میں روز قیامت تیرے حضور پیش ہوں
جبکہ تو مجھ سے راضی ہو اور میرے گناہوں سے چشم پوشی کرے
ایسے میں تو نے میرے لیے اپنی رحمت اور خوشنودی لازم کر رکھی ہو
اور مجھے دارالقرار اور صالح لوگوں کے ساتھ رہنے کی مہلت دے ۔

حوالہ جات

  1. شیخ طوسی ، ج۲ ، ص۸۲۸.
  2. سید ابن طاووس ، ج۳ ، ص۲۹۹.
  3. سید ابن طاووس ، ص۴۰۵.
  4. الذریعہ ، ج۱۳ ، ص۲۵۲.

منابع

  • آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ، بیروت، دارالاضواء، ۱۳۷۸ق.
  • ابن طاووس، علی بن موسی، الاقبال باالاعمال الحسنہ، تحقیق: جواد قیومی اصفہانی، دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم، ۱۳۷۶ ہ.ش.
  • ہمو، جمال الاسبوع و بکمال العمل المشروع، دار الرضی، قم، ۱۳۳۰ ہ. ش.
  • طوسی، محمد بن حسن، مصباح المتہجد و سلاح المتعبد، موسسۃ فقہ الشیعہ، بیروت، لبنان، ۱۴۱۱ ہ.ق.