دعائے مکارم الاخلاق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg


دعائے مکارم الاخلاق امام سجاد(ع) کی مشہور دعاوں میں سے ہے جو صحیفہ سجادیہ کی دعاوں میں بیسویں نمبر پر موجود ہے۔ یہ دعا اپنی بلند و بالا تربیتی اور عرفانی مضامین کی وجہ سے محققین کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ اس بنا پر اس کی مختلف زبانوں میں شرحیں اور ترجمے اب تک منظر عام پر آچکی ہیں۔

یہ دعا 30 بند پر مشتمل ہے اور ہر بند محمد و آل محمد پر صلوات سے شروع ‌ہوتا ہے۔ ہر بند میں امام سجاد(ع) نے بعض اخلاقی مکارم سے متخلق ہونے اور رزائل اخلاقی سے دور رہنے کی دعا کے ساتھ اخلاقی اقدار اور رزائل کی معرفی بھی کی ہے۔

وجہ نام‌گذاری

یہ نام خود امام سجاد(ع) کی زبان مبارک سے بیان ہوا ہے۔[حوالہ درکار]

اس کے علاوہ اس دعا میں مختلف اخلاقی اقدار بیان ہوئی ہیں اسی مناسبت سے اسے اس نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ [حوالہ درکار]


دعائے مکارم کی اہمیت

یہ دعا گذشتہ زمانے سے اب تک دعاوں کے بارے میں تحقیق اور ریسرچ کرنے والے محققین کی توجہ کا مرکز رہا ہے اور بہت سارے علماء نے کتاب سحیفہ سجادیہ بالعموم اور دعائے مکارم اخلاق کی بالاخص شرح اور تفسیر کی ہے۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں:

[حوالہ درکار]


اس دعا کی خصوصیات

  • ہر بند کی ابتداء میں صلوات کا تکرار؛
  • اس دعا میں ایمان اور کمال و یقین کی آخری منزل تک رسائی سے لے کر نیک اعمال، خالص نیات اور سیر و سلوک کی عرفانی حالات تک رسائی کیلئے درخواست موجود ہے۔

[حوالہ درکار]


بعض شقوں کی تکرار کی وجہ

یہ دعا محمد و آل محمد پر صلوات سے شروع ہوتا ہے۔ اس میں 20 دفعہ صلوات کا تکرار ہوتا ہے اور ہر بند میں صلوات کے بعد نئے اور اہم تقاضے خدا سے درخواست ہوئی ہیں۔ اس تکرار کی پہلی وجہ دعا کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنا ہے جن میں سے بعض حصے 9، 8 یا 7 درخواستوں پر مشتمل ہے۔ اس تکرار کی دوسری دلیل نئے تقاضوں کو پیش کرنے کیلئے انرجی کی فراہمی ہے یعنی ایک دعا کے ضمن میں ایک اور دعا یعنی ایک دعا کی استجابت کیلئے دوسری دعا۔[حوالہ درکار]


دعائے مکارم الاخلاق کا عقیدتی پہلو

اس دعا میں جس چیز کو اپنی حاجات اور تقاضوں کیلئے مبنا قرار دیا گیا ہے وہ اس کائنات کے بارے میں ایک خاص قسم کی عقیدتی اور فکری نظریے کی بنیاد پر ہے جو خاص اعتقادی تعلیمات سے سرچشمہ لیتا ہے۔ ذیل میں ایسے چند موارد کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جو عقیدتی اور نظریاتی پہلو پر مشتمل ہے:

  • اس بات کو مسلمہ اصول کے طور پر قبول کیا گیا ہے کہ یہ کائنات کسی مقصد اور ہدف کی خاطر خلق ہوئی اور ہم اس کائنات میں بیہودہ خلق نیہں ہوئے ہیں:
  • اس بات کی درخواست کی گئی ہے کہ دوسروں کی مال و مقام کی طرف نہیں دیکھیں گے:
  • دعا اور عبادات کا مغرورانہ نہ ہونا:
  • اس بات کی تلقین کہ ہماری زندگی الہی اور حضرت حق تعالی کی صفات کمال کی طرف گامزن ہونا چاہئے:

اس دعا کا اجتماعی پہلو

اجتماعی دعایں دو پہلو ہوتی ہیں ایک جہت سے فرد اور شخص کو سماج اور معاشرے کی طرف نسبت دیتی ہے اور دوسری جہت سے سماج اور معاشرے کو فرد اور شخص کی طرف نسبت دیتی ہے۔ ان دعاوں کے برخلاف جو صرف عارفانہ دعا و مناجات یا زیادہ سے زیادہ طلب استغفار اور خدا سے قرب و منزلت کی درخواست پر مشتمل ہوتی ہیں۔ بعض دعائیں جن کے تکرار سے معاشرے میں انقلاب اور تحول ایجاد کرنے کے درپے ہوتے ہیں۔ اس دعا کا تقریبا نصف حصہ اسی جہت سے مربوط ہے۔ ان دعاوں میں سماج اور معاشرے کی جانب توجہ کی وجہ یہ ہے کہ دین اسلام ایک اجتماعی دین ہے اور چونکہ انسان کا باطنی تزکیہ اور تہذیب نفس معاشرے میں موجود دوسرے انسانوں کے ساتھ اجتماعی زندگی میں نمایاں ہوتی ہے اس حواالے سے انسانی زندگی کا کوئی گوشہ اس کے خلقیات اور نفسیاتی حالات سے جدا نہیں ہے۔ [1]

اس دعا کے مضامین

اس دعا میں خدا سے جو درخواستیں کی گئی ہیں ان کا محور یا فردی اخلاق ہے یا اجتماعی اور سماجی اخلاق :

فردی اخلاق کی محوریں

  • ایمان کامل:
  • بہترین عمل:
  • تکمیل نیت:
  • وسعت رزق:
  • درخواست طول عمر مشروط:
  • ناپسند خصلتوں کی اصلاح:
  • بڑاپے میں رزق کی درخواست:
  • مالی وسعت اور فراخی کی درخواست:
  • عابت بخیری کی درخواست:
  • تمام مواقع پر خدا کی یاد میں ہونے کی درخواست:
  • غذاب سے محفوظ رہنے کی درخواست:

اجتماعی اخلاق کی محوریں

  • حسد کا مودت میں تبدیل ہونے کی درخواست:
  • دوسروس کی عیب جویی ترک کرنے اور اپنے سے عیوب کو دور کرنا:
  • قدرت طلبی، برتری جویی اور دوسرں کی حلق تلفی سے پرہیز:
  • آداب اجتماعی اور اخلاق عمومی کی رعایت:
  • اسراف اور فضول خرچی سے دوری:
  • برے اعمال کا بدلہ اچھے اعمال کے ذریعے دینا:
  • مسئولیت پذیری اور صحیح مدیریت کرنا:
  • رشتہ داروں کی دشمنی کا دوستی میں تبدیل کرنا:
  • اپنے سے لوگوں کی بدگمانی اور بی‌اعتمادی کا ازالہ:
  • فریبکاروں کی فریب سے بچنا؛
  • دوسروں کے ساتھ مل جل کر کام کرنا اور معاشرے کی خدمت کرنا:
  • دوسروں کے ساتھ نیک معاشرت اور حسن سلوک:
  • انسان کی کرامت انسانی اور حیثیت انسانی کی طرف متوجہ ہونا؛
  • معاشرے میں عدالت کو عام کرنے کی خاطر نمونہ اور آیڈیل لوگوں کی پیروی کرنا؛
  • معاشرے میں امن و امان کی فضا قائم کرنا اور شدت پسندی کا مقابلہ کرنا؛
  • معاشرے میں نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنا:
  • ظلم و ستم سے پرہیز:
  • مسئولیت پذیری اور صحیح مدیریت کرنا:
  • لوگوں کی عیب جویی سے پرہیز کی توفیق کیلئے دعا؛
  • ضرر و زیان کے عوامل سے دوری؛
  • بے جا نیکی سے پرہیز:
  • ظالم کے مقابلی میں طاقتور ہاتھ اور دشمن کے مقابلے میں مدلل زبان کی درخواست :
  • مال اندوزوں کی مال و ثروت سے بے اعتنائی:
  • لوگوں کی ہدایت کیلئے بولنا اور نیک راستے پر گامزن رہنا:
  • واقعی اور حقیقی محبت کرنے والوں کے ساتھ دوستی اور محبت کا اظہار:

اس دعا کی شرحیں

  • شرافۃ الأعمال فی شرح دعاء مکارم الأخلاق از الصحیفہ السجادیہ، نوشتہ شیخ محمد جواد بن شیخ محمد شوشتری (درگذشت ۱۳۳۵ق).
  • شرح دعای مکارم الأخلاق از صحیفہ کاملہ سجادیہ از نویسندہ ای نامعلوم.
  • شرح دعای مکارم الاخلاق محمد تقی فلسفی، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، ۱۳۷۰.
  • مفاہیم اخلاقی از دیدگاہ زیباترین روح پرستندہ، اکرم حاتمی موسوی، انتشارات کاوش قلم، ۱۳۸۶.
  • شرح دعای مکارم الاخلاق، محمد تقی مصباح یزدی.
  • نورالآفاق: شرح دعای مکارم الاخلاق، اثر مرحوم شیخ محمدحسین ذوعلم، چ۲، تہران: رایحہ عترت، ۱۳۹۳ش

درج بالا شرحوں کے علاوہ صحیفہ سیجادیہ کی تمام دعاوں کے اوپر جو شرحیں لکھی گئی ہیں کو بھی اس دعا کی شرحوں میں ثبت کر سکتے ہیں منجملہ:

دعائے مکارم الاخلاق کا متن اور ترجمہ

دعائے مکارم الاخلاق
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ
وَ کانَ مِنْ دُعَائِهِ علیه‌السلام فِی مَکارِمِ الْأَخْلَاقِ وَ مَرْضِی الْأَفْعَالِ

(۱) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ بَلِّغْ بِإِیمَانِی أَکمَلَ الْإِیمَانِ، وَ اجْعَلْ یقِینِی أَفْضَلَ الْیقِینِ، وَ انْتَهِ بِنِیتِی إِلَی أَحْسَنِ النِّیاتِ، وَ بِعَمَلِی إِلَی أَحْسَنِ الْأَعْمَالِ. (۲) اللَّهُمَّ وَفِّرْ بِلُطْفِک نِیتِی، وَ صَحِّحْ بِمَا عِنْدَک یقِینِی، وَ اسْتَصْلِحْ بِقُدْرَتِک مَا فَسَدَ مِنِّی. (۳) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ اکفِنِی مَا یشْغَلُنِی الِاهْتِمَامُ بِهِ، وَ اسْتَعْمِلْنِی بِمَا تَسْأَلُنِی غَداً عَنْهُ، وَ اسْتَفْرِغْ أَیامِی فِیمَا خَلَقْتَنِی لَهُ، وَ أَغْنِنِی وَ أَوْسِعْ عَلَی فِی رِزْقِک، وَ لَا تَفْتِنِّی بِالنَّظَرِ، وَ أَعِزَّنِی وَ لَا تَبْتَلِینِّی بِالْکبْرِ، وَ عَبِّدْنِی لَک وَ لَا تُفْسِدْ عِبَادَتِی بِالْعُجْبِ، وَ أَجْرِ لِلنَّاسِ عَلَی یدِی الْخَیرَ وَ لَا تَمْحَقْهُ بِالْمَنِّ، وَ هَبْ لِی مَعَالِی الْأَخْلَاقِ، وَ اعْصِمْنِی مِنَ الْفَخْرِ. (۴) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ لَا تَرْفَعْنِی فِی النَّاسِ دَرَجَةً إِلَّا حَطَطْتَنِی عِنْدَ نَفْسِی مِثْلَهَا، وَ لَا تُحْدِثْ لِی عِزّاً ظَاهِراً إِلَّا أَحْدَثْتَ لِی ذِلَّةً بَاطِنَةً عِنْدَ نَفْسِی بِقَدَرِهَا. (۵) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ مَتِّعْنِی بِهُدًی صَالِحٍ لَا أَسْتَبْدِلُ بِهِ، وَ طَرِیقَةِ حَقٍّ لَا أَزِیغُ عَنْهَا، وَ نِیةِ رُشْدٍ لَا أَشُک فِیهَا، وَ عَمِّرْنِی مَا کانَ عُمُرِی بِذْلَةً فِی طَاعَتِک، فَإِذَا کانَ عُمُرِی مَرْتَعاً لِلشَّیطَانِ فَاقْبِضْنِی إِلَیک قَبْلَ أَنْ یسْبِقَ مَقْتُک إِلَی، أَوْ یسْتَحْکمَ غَضَبُک عَلَی. (۶) اللَّهُمَّ لَا تَدَعْ خَصْلَةً تُعَابُ مِنِّی إِلَّا أَصْلَحْتَهَا، وَ لَا عَائِبَةً أُوَنَّبُ بِهَا إِلَّا حَسَّنْتَهَا، وَ لَا أُکرُومَةً فِی نَاقِصَةً إِلَّا أَتْمَمْتَهَا. (۷) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ أَبْدِلْنِی مِنْ بِغْضَةِ أَهْلِ الشَّنَآنِ الْمَحَبَّةَ، وَ مِنْ حَسَدِ أَهْلِ الْبَغْی الْمَوَدَّةَ، وَ مِنْ ظِنَّةِ أَهْلِ الصَّلَاحِ الثِّقَةَ، وَ مِنْ عَدَاوَةِ الْأَدْنَینَ الْوَلَایةَ، وَ مِنْ عُقُوقِ ذَوِی الْأَرْحَامِ الْمَبَرَّةَ، وَ مِنْ خِذْلَانِ الْأَقْرَبِینَ النُّصْرَةَ، وَ مِنْ حُبِّ الْمُدَارِینَ تَصْحِیحَ الْمِقَةِ، وَ مِنْ رَدِّ الْمُلَابِسِینَ کرَمَ الْعِشْرَةِ، وَ مِنْ مَرَارَةِ خَوْفِ الظَّالِمِینَ حَلَاوَةَ الْأَمَنَةِ. (۸) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ اجْعَلْ لِی یداً عَلَی مَنْ ظَلَمَنِی، وَ لِسَاناً عَلَی مَنْ خَاصَمَنِی، وَ ظَفَراً بِمَنْ عَانَدَنِی، وَ هَبْ لِی مَکراً عَلَی مَنْ کایدَنِی، وَ قُدْرَةً عَلَی مَنِ اضْطَهَدَنِی، وَ تَکذِیباً لِمَنْ قَصَبَنِی، وَ سَلَامَةً مِمَّنْ تَوَعَّدَنِی، وَ وَفِّقْنِی لِطَاعَةِ مَنْ سَدَّدَنِی، وَ مُتَابَعَةِ مَنْ أَرْشَدَنِی. (۹) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ سَدِّدْنِی لِأَنْ أُعَارِضَ مَنْ غَشَّنِی بِالنُّصْحِ، وَ أَجْزِی مَنْ هَجَرَنِی بِالْبِرِّ، وَ أُثِیبَ مَنْ حَرَمَنِی بِالْبَذْلِ، وَ أُکافِی مَنْ قَطَعَنِی بِالصِّلَةِ، وَ أُخَالِفَ مَنِ اغْتَابَنِی إِلَی حُسْنِ الذِّکرِ، وَ أَنْ أَشْکرَ الْحَسَنَةَ، وَ أُغْضِی عَنِ السَّیئَةِ. (۱۰) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ حَلِّنِی بِحِلْیةِ الصَّالِحِینَ، وَ أَلْبِسْنِی زِینَةَ الْمُتَّقِینَ، فِی بَسْطِ الْعَدْلِ، وَ کظْمِ الغَیظِ، وَ إِطْفَاءِ النَّائِرَةِ، وَ ضَمِّ أَهْلِ الْفُرْقَةِ، وَ إِصْلَاحِ ذَاتِ الْبَینِ، وَ إِفْشَاءِ الْعَارِفَةِ، وَ سَتْرِ الْعَائِبَةِ، وَ لِینِ الْعَرِیکةِ، وَ خَفْضِ الْجَنَاحِ، وَ حُسْنِ السِّیرَةِ، وَ سُکونِ الرِّیحِ، وَ طِیبِ الْمُخَالَقَةِ، وَ السَّبْقِ إِلَی الْفَضِیلَةِ، وَ إِیثَارِ التَّفَضُّلِ، وَ تَرْک التَّعْییرِ، وَ الْإِفْضَالِ عَلَی غَیرِ الْمُسْتَحِقِّ، وَ الْقَوْلِ بِالْحَقِّ وَ إِنْ عَزَّ، وَ اسْتِقْلَالِ الْخَیرِ وَ إِنْ کثُرَ مِنْ قَوْلِی وَ فِعْلِی، وَ اسْتِکثَارِ الشَّرِّ وَ إِنْ قَلَّ مِنْ قَوْلِی وَ فِعْلِی، وَ أَکمِلْ ذَلِک لِی بِدَوَامِ الطَّاعَةِ، وَ لُزُومِ الْجَمَاعَةِ، وَ رَفْضِ أَهْلِ الْبِدَعِ، وَ مُسْتَعْمِلِ الرَّأْی الْمُخْتَرَعِ. (۱۱) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ اجْعَلْ أَوْسَعَ رِزْقِک عَلَی إِذَا کبِرْتُ، وَ أَقْوَی قُوَّتِک فِی إِذَا نَصِبْتُ، وَ لَا تَبْتَلِینِّی بِالْکسَلِ عَنْ عِبَادَتِک، وَ لَا الْعَمَی عَنْ سَبِیلِک، وَ لَا بِالتَّعَرُّضِ لِخِلَافِ مَحَبَّتِک، وَ لَا مُجَامَعَةِ مَنْ تَفَرَّقَ عَنْک، وَ لَا مُفَارَقَةِ مَنِ اجْتَمَعَ إِلَیک. (۱۲) اللَّهُمَّ اجْعَلْنِی أَصُولُ بِک عِنْدَ الضَّرُورَةِ، وَ أَسْأَلُک عِنْدَ الْحَاجَةِ، وَ أَتَضَرَّعُ إِلَیک عِنْدَ الْمَسْکنَةِ، وَ لَا تَفْتِنِّی بِالاسْتِعَانَةِ بِغَیرِک إِذَا اضْطُرِرْتُ، وَ لَا بِالْخُضُوعِ لِسُؤَالِ غَیرِک إِذَا افْتَقَرْتُ، وَ لَا بِالتَّضَرُّعِ إِلَی مَنْ دُونَک إِذَا رَهِبْتُ، فَأَسْتَحِقَّ بِذَلِک خِذْلَانَک وَ مَنْعَک وَ إِعْرَاضَک، یا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ. (۱۳) اللَّهُمَّ اجْعَلْ مَا یلْقِی الشَّیطَانُ فِی رُوعِی مِنَ التَّمَنِّی وَ التَّظَنِّی وَ الْحَسَدِ ذِکراً لِعَظَمَتِک، وَ تَفَکراً فِی قُدْرَتِک، وَ تَدْبِیراً عَلَی عَدُوِّک، وَ مَا أَجْرَی عَلَی لِسَانِی مِنْ لَفْظَةِ فُحْشٍ أَوْ هُجْرٍ أَوْ شَتْمِ عِرْضٍ أَوْ شَهَادَةِ بَاطِلٍ أَوِ اغْتِیابِ مُؤْمِنٍ غَائِبٍ أَوْ سَبِّ حَاضِرٍ وَ مَا أَشْبَهَ ذَلِک نُطْقاً بِالْحَمْدِ لَک، وَ إِغْرَاقاً فِی الثَّنَاءِ عَلَیک، وَ ذَهَاباً فِی تَمْجِیدِک، وَ شُکراً لِنِعْمَتِک، وَ اعْتِرَافاً بِإِحْسَانِک، وَ إِحْصَاءً لِمِنَنِک. (۱۴) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ لَا أُظْلَمَنَّ وَ أَنْتَ مُطِیقٌ لِلدَّفْعِ عَنِّی، وَ لَا أَظْلِمَنَّ وَ أَنْتَ الْقَادِرُ عَلَی الْقَبْضِ مِنِّی، وَ لَا أَضِلَّنَّ وَ قَدْ أَمْکنَتْک هِدَایتِی، وَ لَا أَفْتَقِرَنَّ وَ مِنْ عِنْدِک وُسْعِی، وَ لَا أَطْغَینَّ وَ مِنْ عِنْدِک وُجْدِی. (۱۵) اللَّهُمَّ إِلَی مَغْفِرَتِک وَفَدْتُ، وَ إِلَی عَفْوِک قَصَدْتُ، وَ إِلَی تَجَاوُزِک اشْتَقْتُ، وَ بِفَضْلِک وَثِقْتُ، وَ لَیسَ عِنْدِی مَا یوجِبُ لِی مَغْفِرَتَک، وَ لَا فِی عَمَلِی مَا أَسْتَحِقُّ بِهِ عَفْوَک، وَ مَا لِی بَعْدَ أَنْ حَکمْتُ عَلَی نَفْسِی إِلَّا فَضْلُک، فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ تَفَضَّلْ عَلَی. (۱۶) اللَّهُمَّ وَ أَنْطِقْنِی بِالْهُدَی، وَ أَلْهِمْنِی التَّقْوَی، وَ وَفِّقْنِی لِلَّتِی هِی أَزْکی، وَ اسْتَعْمِلْنِی بِمَا هُوَ أَرْضَی. (۱۷) اللَّهُمَّ اسْلُک بی‌الطَّرِیقَةَ الْمُثْلَی، وَ اجْعَلْنِی عَلَی مِلَّتِک أَمُوتُ وَ أَحْیا. (۱۸) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ مَتِّعْنِی بِالاقْتِصَادِ، وَ اجْعَلْنِی مِنْ أَهْلِ السَّدَادِ، وَ مِنْ أَدِلَّةِ الرَّشَادِ، وَ مِنْ صَالِحِ الْعِبَادِ، وَ ارْزُقْنِی فَوْزَ الْمَعَادِ، وَ سلَامَةَ الْمِرْصَادِ. (۱۹) اللَّهُمَّ خُذْ لِنَفْسِک مِنْ نَفْسِی مَا یخَلِّصُهَا، وَ أَبْقِ لِنَفْسِی مِنْ نَفْسِی مَا یصْلِحُهَا، فَإِنَّ نَفْسِی هَالِکةٌ أَوْ تَعْصِمَهَا. (۲۰) اللَّهُمَّ أَنْتَ عُدَّتِی إِنْ حَزِنْتُ، وَ أَنْتَ مُنْتَجَعِی إِنْ حُرِمْتُ، وَ بِک اسْتِغَاثَتِی إِنْ کرِثْتُ، وَ عِنْدَک مِمَّا فَاتَ خَلَفٌ، وَ لِمَا فَسَدَ صَلَاحٌ، وَ فِیمَا أَنْکرْتَ تَغْییرٌ، فَامْنُنْ عَلَی قَبْلَ الْبَلَاءِ بِالْعَافِیةِ، وَ قَبْلَ الْطَّلَبِ بِالْجِدَةِ، وَ قَبْلَ الضَّلَالِ بِالرَّشَادِ، وَ اکفِنِی مَئُونَةَ مَعَرَّةِ الْعِبَادِ، وَ هَبْ لِی أَمْنَ یوْمِ الْمَعَادِ، وَ امْنَحْنِی حُسْنَ الْإِرْشَادِ. (۲۱) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ ادْرَأْ عَنِّی بِلُطْفِک، وَ اغْذُنِی بِنِعْمَتِک، وَ أَصْلِحْنِی بِکرَمِک، وَ دَاوِنِی بِصُنْعِک، وَ أَظِلَّنِی فِی ذَرَاک، وَ جَلِّلْنِی رِضَاک، وَ وَفِّقْنِی إِذَا اشْتَکلَتْ عَلَی الْأُمُورُ لِأَهْدَاهَا، وَ إِذَا تَشَابَهَتِ الْأَعْمَالُ لِأَزْکاهَا، وَ إِذَا تَنَاقَضَتِ الْمِلَلُ لِأَرْضَاهَا. (۲۲) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ تَوِّجْنِی بِالْکفَایةِ، وَ سُمْنِی حُسْنَ الْوِلَایةِ، وَ هَبْ لِی صِدْقَ الْهِدَایةِ، وَ لَا تَفْتِنِّی بِالسَّعَةِ، وَ امْنَحْنِی حُسْنَ الدَّعَةِ، وَ لَا تَجْعَلْ عَیشِی کدّاً کدّاً، وَ لَا تَرُدَّ دُعَائِی عَلَی رَدّاً، فَإِنِّی لَا أَجْعَلُ لَک ضِدّاً، وَ لَا أَدْعُو مَعَک نِدّاً. (۲۳) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ امْنَعْنِی مِنَ السَّرَفِ، وَ حَصِّنْ رِزْقِی مِنَ التَّلَفِ، وَ وَفِّرْ مَلَکتِی بِالْبَرَکةِ فِیهِ، وَ أَصِبْ بی‌سَبِیلَ الْهِدَایةِ لِلْبِرِّ فِیمَا أُنْفِقُ مِنْهُ. (۲۴) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ اکفِنِی مَئُونَةَ الِاکتِسَابِ، وَ ارْزُقْنِی مِنْ غَیرِ احْتِسَابٍ، فَلَا أَشْتَغِلَ عَنْ عِبَادَتِک بِالطَّلَبِ، وَ لَا أَحْتَمِلَ إِصْرَ تَبِعَاتِ الْمَکسَبِ. (۲۵) اللَّهُمَّ فَأَطْلِبْنِی بِقُدْرَتِک مَا أَطْلُبُ، وَ أَجِرْنِی بِعِزَّتِک مِمَّا أَرْهَبُ. (۲۶) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ صُنْ وَجْهِی بِالْیسَارِ، وَ لَا تَبْتَذِلْ جَاهِی بِالْإِقْتَارِ فَأَسْتَرْزِقَ أَهْلَ رِزْقِک، وَ أَسْتَعْطِی شِرَارَ خَلْقِک، فَأَفْتَتِنَ بِحَمْدِ مَنْ أَعْطَانِی، و أُبْتَلَی بِذَمِّ مَنْ مَنَعَنِی، وَ أَنْتَ مِنْ دُونِهِمْ وَلِی الْإِعْطَاءِ وَ الْمَنْعِ. (۲۷) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ ارْزُقْنِی صِحَّةً فِی عِبَادَةٍ، وَ فَرَاغاً فِی زَهَادَةٍ، وَ عِلْماً فِی اسْتِعْمَالٍ، وَ وَرَعاً فِی إِجْمَالٍ. (۲۸) اللَّهُمَّ اخْتِمْ بِعَفْوِک أَجَلِی، وَ حَقِّقْ فِی رَجَاءِ رَحْمَتِک أَمَلِی، وَ سَهِّلْ إِلَی بُلُوغِ رِضَاک سُبُلِی، وَ حَسِّنْ فِی جَمِیعِ أَحْوَالِی عَمَلِی. (۲۹) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ نَبِّهْنِی لِذِکرِک فِی أَوْقَاتِ الْغَفْلَةِ، وَ اسْتَعْمِلْنِی بِطَاعَتِک فِی أَیامِ الْمُهْلَةِ، وَ انْهَجْ لِی إِلَی مَحَبَّتِک سَبِیلًا سَهْلَةً، أَکمِلْ لِی بِهَا خَیرَ الدُّنْیا وَ الْآخِرَةِ. (۳۰) اللَّهُمَّ وَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، کأَفْضَلِ مَا صَلَّیتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ خَلْقِک قَبْلَهُ، وَ أَنْتَ مُصَلٍّ عَلَی أَحَدٍ بَعْدَهُ، وَ «آتِنا فِی الدُّنْیا حَسَنَةً وَ فِی الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَ قِنِی بِرَحْمَتِک «عَذابَ النَّارِ»[2]

پاکیزہ اخلاق سے آراستگی کی دعا

بارالہا ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور میرے ایمان کو کامل ترین ایمان کی حد تک پہنچا دے اور میرے یقین کو بہترین یقین قرار دے اور میری نیت کو پسندیدہ ترین نیت اور میرے اعمال کو بہترین اعمال کے پایہ تک بلند کر دے ۔ خداوندا! اپنے لطف سے میری نیت کو خالص و بے ریا اور اپنی رحمت سے میرے یقین کو استوار اور اپنی قدرت سے میری خرابیوں کی اصلاح کر دے ۔بارالہا ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے ان مصروفیتوں سے جو عبادت میں مانع ہیں بے نیاز کر دے اور انہی چیزوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے جن کے بارے میں مجھ سے کل کے دن سوال کرے گا ، اور میرے ایام زندگی کو غرض خلقت کی انجام دہی کے لئے مخصوص کر دے ۔ اور مجھے( دوسروں سے ) بے نیاز کر دے اور میرے رزق میں کشائش و وسعت عطا فرما ۔ احتیاج و دست نگری میں مبتلا نہ کر ۔ عزت و توقیر دے، کبرو غرور سے دوچار نہ ہونے دے ۔ میرے نفس کو بندگی و عبادت کے لئے رام کر اور خودپسندی سے میری عبادت کو فاسد نہ ہونے دے اور میرے ہاتھوں سے لوگوں کو فیض پہنچا اور اسے احسان جتانے سے رائگان نہ ہونے دے ۔ مجھے بلند پایہ اخلاق مرحمت فرما اور غرور اور تفاخر سے محفوظ رکھ ۔ بارالہا ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور لوگوں میں میرا درجہ جتنا بلند کرے اتنا ہی مجھے خود اپنی نظروں میں پست کر دے اور جتنی ظاھری عزت مجھے دے اتنا ہی میرے نفس میں باطنی بے وقعتی کا احساس پیدا کر دے ۔ بارالہا ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے ایسی نیک ھدایت سے بہرہ مند فرما کہ جسے دوسری چیز سے تبدیل نہ کروں اور ایسے صحیح راستے پر لگا جس سے کبھی منہ نہ موڑوں ، اور ایسی پختہ نیت دے جس میں ذرا شبہ نہ کروں اور جب تک میری زندگی تیری اطاعت و فرمانبرداری کے کام آئے مجھے زندہ رکھ اور جب وہ شیطان کی چراگاہ بن جائے تو اس سے پہلے کہ تیری ناراضگی سے سابقہ پڑے یا تیرا غضب مجھ پر یقینی ہو جائے مجھے اپنی طرف اٹھا لے ۔ اے معبود ! کوئی ایسی خصلت جو میرے لئے معیوب سمجھی جاتی ہو اس کی اصلاح کئے بغیر نہ چھوڑ اور کوئی ایسی بری عادت جس پر میری سرزنش کی جا سکے ۔ اسے درست کئے بغیر نہ رہنے دے اور جو پاکیزہ خصلت ابھی مجھ میں ناتمام ہو اسے تکمیل تک پہنچا دے ۔ اے اللہ ! رحمت نازل فرما محمد ۔ص۔ اور ان کی آل پر اور میری نسبت کینہ ور دشمنوں کی دشمنی کو الفت سے سرکشوں کے حسد کو محبت سے ، نیکوں سے بے اعتمادی کو اعتماد سے ، قریبیوں کی عداوت کو دوستی سے ، عزیزوں کی قطع تعلقی کو صلہ رحمی سے ، قرابت داروں کی بے اعتنائی کو نصرت وتعاون سے ،خوشامدیوں کی ظاہری محبت کو سچی محبت سے اور ساتھیوں کے اہانت آمیز برتاؤ کو حسن معاشرت سے اور ظالموں کے خوف کی تلخی کو امن کی شیرینی سے بدل دے ۔خداوندا ! رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور جو مجھ پر ظلم کرے اس پر مجھے غلبہ دے ۔ جو مجھ سے جھگڑا کرے اس کے مقابلہ میں زبان ( حجت شکن ) دے ، جو مجھ سے دشمنی کرے اس پر مجھے فتح اور کامرانی بخش ۔ جو مجھ سے مکر کرے اس کے مکر کا توڑ عطا کر ۔ جو مجھے دبائے اس پر قابو دے۔ جو میری بدگوئی کرے اسے جھٹلانے کی طاقت دے اور جو ڈرائے دھمکائے ،اس سے مجھے محفوظ رکھ۔ جو میری اصلاح کرے اس کی اطاعت اور جو راہ راست دکھائے اس کی پیروی کی توفیق عطا فرما ۔ اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے اس امر کی توفیق دے کہ جو مجھ سے غش و فریب کرے میں اس کی خیر خواہی کروں ، جو مجھے چھوڑ دے اس سے حسن سلوک سے پیش آؤں ۔ جو مجھے محروم کرے اسے عطا و بخشش کے ساتھ عوض دوں اور جو قطع رحمی کرے اسے صلۂ رحمی کے ساتھ بدلہ دوں اور جو پس پشت میری برائی کرے میں اس کے برخلاف اس کا ذکر خیر کروں اور حسن سلوک پر شکریہ بجا لاؤں اور بدی سے چشم پوشی کروں ۔ بارالہا ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور عدل کے نشر ، غصہ کے ضبط اور فتنہ کے فرو کرنے ، متفرق و پراگندہ لوگوں کو ملانے ، آپس میں صلح صفائی کرانے ،نیکی کے ظاہر کرنے ، عیب پر پردہ ڈالنے ، نرم خوئی و فروتنی اور حسن سیرت کے اختیار کرنے، رکھ رکھاؤ رکھنے ، حسن اخلاق سے پیش آنے ، فضیلت کی طرف پیش قدمی کرنے ، تفضل و احسان کو ترجیح دینے ، خوردہ گیری سے کنارہ کرنے اور غیر مستحق کے ساتھ حسن سلوک کے ترک کرنے اور حق بات کے کہنے میں اگرچہ وہ گراں گزرے ، اور اپنی گفتارو کردار کی بھلائی کو کم سمجھنے میں اگرچہ وہ زیادہ ہو اور اپنے قول و عمل کی برائی کو زیادہ سمجھنے میں اگرچہ وہ کم ہو ۔ مجھے نیکو کاروں کے زیور اور پرہیزگاروں کی سج دھج سے آراستہ کر اور ان تمام چیزوں کو دائمی اطاعت اور جماعت سے وابستگی اور اہل بدعت اور ایجاد کردہ دایوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر عمل کرنے والوں سے علیحدگی کے ذریعہ پايہ تکمیل تک پہنچا دے ۔ بارالہا ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور جب میں بوڑھا ہو جاؤں تو اپنی وسیع روزی میرے لئے قرار دے اور جب عاجز و درماندہ ہو جاؤں تواپنی قوی طاقت سے مجھے سہارا دے اور مجھے اس بات میں مبتلا نہ کر کہ تیری عبادت میں سستی اور کوتاہی کروں ، تیری راہ کی تشخیص میں بھٹک جاؤں تیری محبت کے تقاضوں کی خلاف ورزی کروں ۔ اور جو تجھ سے متفرق اور پراگندہ ہوں ان سے میل جول رکھوں اور جو تیری جانب بڑھنے والے ہیں ان سے علیحدہ رہوں ۔خداوندا ! مجھے ایسا قرار دے کہ ضرورت کے وقت تیرے ذریعے حملہ کروں ،حاجت کے وقت تجھ سے سوال کروں اور فقر و احتیاج کے موقع پر تیرے سامنے گڑگڑاؤں اور اس طرح مجھے نہ آزمانا کہ اضطرار میں تیرے غیر سے مدد مانگوں اور فقر و ناداری کے وقت تیرے غیر کے آگے عاجزانہ درخوست کروں اور خوف کے موقع پر تیرے سوا کسی دوسرے کے سامنے گڑگڑاؤں کہ تیری طرف سے محرومی ناکامی اور بے اعتنائی کا مستحق قرار پاؤں ۔ اے تمام رحم کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ رحم کرنے والے خدایا! جو حرص،بد گمانی اور حسد کے جذبات شیطان میرے دل میں پیدا کرے ۔ انہیں اپنی عظمت کی یاد اپنی قدرت میں تفکر اور دشمن کے مقابلہ میں تدبر و چارہ سازی کے تصورات سے بدل دے اور فحش کلامی یا بے ہودہ گوئی ، یا دشنام طرازی یا جھوٹی گواہی یا غائب مومن کی غیبت یا موجود سے بد زبانی اور اس قبیل کی جو باتیں میری زبان پر لانا چاہے انہیں اپنی حمد سرائی ، مدح میں کوشش اور انہماک ، تمجید و بزرگی کے بیان ،شکر نعمت و اعتراف احسان اور اپنی نعمتوں کے شمار سے تبدیل کر دے ۔ اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھ پر ظلم نہ ہونے پائے جبکہ تو اس کے دفع کرنے پر قادر ہے ، اور کسی پر ظلم نہ کروں جب کہ تو مجھے ظلم سے روک دینے کی طاقت رکھتا ہے اور گمراہ نہ ہو جاؤں جب کہ میری رہنمائی تیرے لئے آسان ہے اور محتاج نہ ہوں جبکہ میری فارغ البالی تیری طرف سے ہے ۔ اور سرکش نہ ہو جاؤں جبکہ میری خوشحالی تیری جانب سے ہے ۔ بارالہا ! میں تیری مغفرت کی جانب آیا ہوں اور تیری معافی کا طلب گار اور تیری بخشش کا مشتاق ہوں ۔ میں صرف تیرے فضل پر بھروسہ رکھتا ہوں اور میرے پاس کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو میرے لئے مغفرت کا باعث بن سکے اور نہ میرے عمل میں کچھ ہے کہ تیرے عفو کا سزاوار قرار پاؤں اور اب اس کے بعد کہ میں خود ہی اپنے خلاف فیصلہ کر چکا ہوں تیرے فضل کے سوا میرا سرمایہ امید کیا ہو سکتا ہے ۔ لہذا محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل کر اور مجھ پر تفضل فرما ۔ خدایا ! مجھے ہدایت کے ساتھ گویا کر ، میرے دل میں تقوی و پرہیز گاری کا القاء فرما پاکیزہ عمل کی توفیق دے ، پسندیدہ کام میں مشغول رکھ ۔ خدایا مجھے بہترین راستے پر چلا اور ایسا کر کہ تیرے دین و آئین پر مروں اور اسی پر زندہ رہوں ۔ اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے ( گفتار و کردار میں ) میانہ روی سے بہرہ مند فرما اور درست کاروں اور ہدایت کے رہنماؤں اور نیک بندوں میں سے قرار دے اور آخرت کی کامیابی اور جہنم سے سلامتی عطا کر ۔ خدایا میرے نفس کا ایک حصّہ اپنی ( ابتلاؤ آزمائش کے ) لئے مخصوص کر دے تاکہ اسے ( عذاب سے ) رهائی دلا سکے اور ایک حصہ کہ جس سے اس کی ( دینوی ) اصلاح و درستی وابستہ ہے میرے لئے رہنے دے کیونکہ میرا نفس تو ہلاک ہونے والا ہے مگر یہ کہ تو اسے بچا لے جا‎ئے۔ اے اللہ ! اگر میں غمگین ہوں تو میرا سازو سامان ( تسکین ) تو ہے ۔ اور اگر ( ہر جگہ سے ) محروم رہوں تو میری امید گاہ تو ہے ۔ اور اگر مجھ پر غموں کا ہجوم ہو تو تجھ ہی سے دادو فریاد ہے ۔ جو چیز جا چکی اس کا عوض اور جو شی تباہ ہو گئی اس کی درستی اور جسے تو ناپسند کرے اس کی تبدیلی تیرے ہاتھ میں ہے ۔ لہذا بلا کے نازل ہونے سے پہلے عافیت ، مانگنے سے پہلے خوشحالی ، اور گمراہی سے پہلے ہدایت سے مجھ پر احسان فرما۔ اور لوگوں کی سخت و درشت باتوں کے رنج سے محفوظ رکھ اور قیامت کے دن امن و اطمینان عطا فرما اور حسن ہدایت و ارشاد کی توفیق مرحمت فرما ۔ اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور اپنے لطف سے ( برائیوں کو ) مجھ سے دور کر دے اور اپنی نعمت سے ، میری پرورش اور اپنے کرم سے میری اصلاح فرما اور اپنے فضل و احسان سے ( جسمانی و نفسانی امراض سے) میرا مداوا کر ۔ مجھے اپنی رحمت کے سایہ میں جگہ دے ۔اور اپنی رضامندی میں ڈھانپ لے ۔اور جب امور مشتبہ ہو جائیں تو جو ان میں زیادہ قرین صواب ہو اور جب اعمال میں اشتباہ واقع ہو جائے تو جو ان میں پاکیزہ تر ہو اور جب مذاہب میں اختلاف پڑھ جائے تو جو ان میں پسندیدہ تر ہو اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرما ۔ اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے بے نیازی کا تاج پہنا اور متعلقہ کاموں اور احسن طریق سے انجام دینے پر مامور فرما اور ایسی ہدایت سے سرفراز فرما جو دوام و ثبات لئے ہوئے ہو اور غنا و خوشحالی سے مجھے بے راہ نہ ہونے دے اور آسودگی و آسائش عطا فرما ، اور زندگی کو سخت دشوار بنا دے ۔ میری دعا کو رد نہ کر کیونکہ میں کسی کو تیرا مدّ مقابل نہیں قرار دیتا اور نہ تیرے ساتھ کسی کو تیرا ہمسر سمجھتے ہوئے پکارتا ہوں ۔ اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما۔ اور مجھے فضول خرچی سے باز رکھ اور میری روزی کو تباہ ہونے سے بچا اور میرے مال میں برکت دے کر اس میں اضافہ کر اور مجھے اس میں سے امور خیر میں خرچ کرنے کی وجہ سے راہ حق و صواب تک پہنچا ۔ بارالہا ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے کسب معیشت کے رنج و غم سے بے نیاز کر دے ۔ اور بیحساب روزی عطا فرما تاکہ تلاش معاش میں الجھ کر تیری عبادت سے رو گرداں نہ ہو جاؤں اور ( غلط و نا مشروع ) کاروکسب کا خمیازہ نہ بھگتوں ۔ اے اللہ ! میں جو کچھ طلب کرتا ہوں اسے اپنی قدرت سے مہیّا کر دے اور جس چیز سے خائف ہوں اس سے اپنی عزّت و جلال کے ذریعے پناہ دے ۔ خدایا ! میری آبرو کو غنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ و تو نگری کے ساتھ محفوظ رکھ اور فقرو تنگدستی سے میری منزلت کو نظروں سے نہ گرا ۔ کہ تجھ سے رزق پانے والوں سے رزق مانگنے لگوں ۔ اور تیرے پست بندوں کی نگاہ لطف و کرم کو اپنی طرف موڑنے کی تمنا کروں اور جو مجھے دے اس کی مدح و ثنا اور جو نہ دے اس کی برائی کرنے میں مبتلا ہو جاؤں ۔ اور تو ہی عطا کرنے اور روک لینے کا اختیار رکھتا ہے نہ کہ وہ ۔ اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے ایسی صحت دے جو عبادت میں کام آئے اور ایسی فرصت جو دنیا سے بے تعلقی میں صرف ہو اور ایسا علم جو عمل کے ساتھ ہو اور ایسی پرہیزگاری جو حّد اعتدال میں ہو ( کہ وسواس میں مبتلا نہ ہو جاؤں ) ۔ اے اللہ ! میری مدت حیات کو اپنے عفو درگزر کے ساتھ ختم کر اور میری آرزو کو رحمت کی امید میں کامیاب فرما اور اپنی خوشنودی تک پہنچنے کے لئے راہ آسان کر اور ہر حالت میں میرے عمل کو بہتر قرار دے ۔ اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے غفلت کے لمحات میں اپنے ذکر کے لئے ہوشیار کر اور مہلت کے دنوں میں اپنی اطاعت میں مصروف رکھ اور اپنی محبت کی سہل و آسان راہ میرے لئے کھول دے اور اس کے ذریعے میرے لئے دنیا و آخرت کی بھلائی کو کامل کر دے ۔ اے اللہ ! محمد اور ان کی اولاد پر بہترین رحمت نازل فرما ۔ ایسی رحمت جو اس سے پہلے تو نے مخلوقات میں سے کسی ایک پر نازل کی ہو اور اس کے بعد کسی پر نازل کرنے والا ہو اور ہمیں دنیا میں بھی نیکی عطا کر اور آخرت میں بھی اور اپنی رحمت سے ہمیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ ۔

حوالہ جات

  1. بطور نمونہ ر. ک: مستدرکالوسائل ج : ۵ ص: ۲۷۲
  2. بقره: ۲۰۱.


مآخذ

  • انصاریان، حسین، دیار عاشقان: تفسیر جامع صحیفہ سجادیہ، چ۲، تہران: پیام آزادی، ۱۳۷۲ش.
  • تنکابنی، محمد بن سلیمان، شرح صحیفہ سجادیہ، چ۱، قم: شمس الضحی، ۱۳۸۴ش.
  • فلسفی، محمد تقی، شرح و تفسیر دعای مکارم الاخلاق، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، ۱۳۷۰.
  • نوری، میرزا حسین. مستدرک الوسائل، قم: مؤسسہ آل البیت لاحیاء التراث، چاپ اول، ۱۴۰۷ق.
  • ممدوحی کرمانشاہی، حسن، شہود و شناخت: ترجمہ و شرح صحیفہ سجادیہ، با مقدمہ آیت‌اللہ جوادی آملی، چ۲، قم: بوستان کتاب، ۱۳۸۵ش.

بیرونی لینکس