مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:مادر حضرت مریم

ویکی شیعہ سے

حضرت مریمؑ کی والدہ ان خواتین میں سے ہیں جن کی زندگی کے بعض پہلوؤں کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ قرآن میں ان کا نام بیان نہیں ہوا، تاہم سورہ آل عمران آیت نمبر 35 اور 36 میں ان کا اور حضرت مریم کی ولادت کا ذکر ملتا ہے۔[1] تاریخی مآخذ میں ان کا نام حنّہ ذکر ہوا ہے۔[2] بعض تفسیری مآخذ کے مطابق، حنّہ کئی سال تک اولاد سے محروم رہیں اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اولاد کی دعا کی۔ ان کی دعا قبول ہوئی اور حضرت مریمؑ کی ولادت ہوئی۔[3] امام صادقؑ سے منقول ایک روایت کے مطابق حنّہ کو جب اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنی نسل میں ایک نبی کی ولادت کی بشارت ملی تو انہوں نے گمان کیا کہ ان کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا۔[4] اسی بنا پر انہوں نے اپنے ہونے والے بچے کو عبادت اور عبادت گاہ کی خدمت کے لئے نذر کیا۔[5] بعض روایات میں بیت المقدس کو اس خدمت کا مقام قرار دیا گیا ہے۔[6] حضرت مریمؑ کی ولادت کے بعد واضح ہوا کہ جس نبی کی بشارت دی گئی تھی وہ حضرت عیسی ہیں، جو حضرت مریمؑ کے بطن سے پیدا ہوں گے۔[7]

حنّہ کے نسب اور خاندان کے بارے میں بھی مختلف روایات نقل ہوئی ہیں۔ تاریخ طبری میں انہیں فاقود بن قُبیل کی بیٹی اور حضرت سلیمان کی نسل سے بتایا گیا ہے۔[8] بعض مفسرین نے سورۂ مریم آیت نمبر 28 سے استدلال کرتے ہوئے حنّہ اور ان کے شوہر کو بنی اسرائیل کے پاک دامن خاندانوں میں شمار کیا ہے۔[9] امام محمد باقرؑ سے منقول ایک روایت کے مطابق حنّہ کے شوہر کا نام عمران تھا اور وہ بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے تھے۔ اسی روایت میں حنّانہ، زوجۂ حضرت زکریاؑ، کو حنّہ کی بہن بتایا گیا ہے۔[10] حنّہ کے لئے بعض دوسرے نام بھی ذکر کئے گئے ہیں۔[11] علامہ محمد باقر مجلسی کی نقل کردہ ایک روایت میں حنّہ کو حضرت یحیی کی خالہ بھی قرار دیا گیا ہے۔[12]

حوالہ جات

  1. ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: علامہ طباطبائی، المیزان، ج3، ص170–171؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج2، ص522۔
  2. ↑ طبری، تاریخ الأمم و الملوک، ج1، ص585۔
  3. ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج2، ص523۔
  4. ↑ نہاوندي، العبقری الحسان، ج4، ص761۔
  5. ↑ عیاشی، تفسیر عیاشی، ج1، ص170–172۔
  6. ↑ طبرسی، مجمع البیان، ج2، ص283۔
  7. ↑ نہاوندي، العبقری الحسان، ج4، ص761۔
  8. ↑ طبری، تاریخ الأمم و الملوک، ج1، ص585۔
  9. ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج13، ص50۔
  10. ↑ قطب راوندی، قصص الانبیاء، ص214۔
  11. ↑ علامہ مجلسی، حیاۃ القلوب، ج2، ص1061؛ شیرازی، تفسیر نمونہ، ج2، ص522؛ بلاغی، مقدمہ حجۃ التفاسیر، ص540۔
  12. ↑ ملاحظہ کیجئے: علامہ مجلسی، حیاۃ القلوب، ج2، ص1061۔

مآخذ

  • بلاغی، عبدالحجہ، حجة التفاسیر و بلاغ الإکسیر، قم، حکمت پریس، 1344ہجری شمسی۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، 1415ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، بیروت، دار التراث، 1387ھ۔
  • علامہ طباطبائی، محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، 1393ھ۔
  • علامہ مجلسی، محمد باقر، حیاۃ القلوب، قم، سرور، 1384ہجری شمسی۔
  • عیاشی، محمد بن مسعود، تفسیر عیاشی، تہران، مکتبۃ العلمیۃ الاسلامیۃ، 1380ھ۔
  • قطب راوندی، سعید، قصص الانبیاء، مشہد، اسلامی تحقیقاتی مرکز آستان قدس رضوی، 1409ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، 1374ہجری شمسی۔
  • نہاوندي، علی اکبر، العبقری الحسان فی احوال مولانا صاحب الزمان، قم، مسجد مقدس جمکران، 1386ہجری شمسی۔