مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:حضرت نوح کی عمر

ویکی شیعہ سے
مقالہ حضرت نوح کی عمر جیسے مقالوں کے ساتھ مربوط ہے۔

حضرت نوح کی عمر، آپ کی خاص خصوصیات اور معجزات میں شمار ہوتی ہے، جس کا ذکر قرآن اور روایات میں ملتا ہے۔[1] حضرت نوحؑ اولوالعزم پیغمبروں میں سے تھے[2] اور ان کی عمر بہت طویل تھی؛ اسی وجہ سے بعض منابع میں انہیں «شیخ الانبیاء» کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔[3]

معجزے اور ارہاصات
معجزہ/ارہاص مربوط شخصیت
شق القمر حضرت محمدؐ
قرآن حضرت محمدؐ
رد الشمس حضرت محمدؐ
گہوارے میں بات کرنا حضرت عیسیؑ
عصائے موسی حضرت موسیؑ
ید بیضا حضرت موسیؑ
اللہ کی موسی سے ہم کلامی حضرت موسیؑ
ناقہ صالح حضرت صالح
اڑن قالین حضرت سلیمان
حیوانات سے گفتگو حضرت سلیمان
چار پرندوں کا زندہ ہونا حضرت ابراہیم
آگ ٹھنڈی ہونا حضرت ابراہیم
مریمؑ کا حمل مریم مادر عیسیؑ

منابع میں حضرت نوحؑ کی زندگی کو تین ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے: «بعثت سے پہلے»، «بعثت سے لے کر طوفان تک» اور «طوفان کے بعد»۔[4] ان کی عمر کے بارے میں تقریباً 15 اقوال نقل ہوئے ہیں، جن کے مطابق ان کی عمر 950 سے 3000 سال تک تھی۔[5] بعض روایات میں حضرت نوحؑ کی عمر 2500 سال بیان ہوئی ہے۔[6] بعض علما نے اسی قول کو زیادہ صحیح قرار دیا ہے۔[7]

قرآن سورۂ عنکبوت آیت نمبر 14 میں حضرت نوحؑ کی دعوت کی مدت 950 سال بیان کرتا ہے۔ یہ مدت بعثت سے لے کر طوفان تک تھی،[8] اور اس عرصے میں وہ اپنی قوم کو اللہ کی طرف دعوت دیتے رہے۔[9] بعض علما نے اس مدت کو تمام انبیاء میں دعوت کی طویل ترین مدت قرار دیا ہے۔[10] لہٰذا 950 سال حضرت نوحؑ کی زندگی کا صرف ایک حصہ تھا۔[11] علامہ طباطبائی (وفات: 1981ء) نے بھی تورات میں حضرت نوحؑ کی مجموعی عمر 950 سال بیان کئے جانے کی روایت[12] کو اس قرآنی آیت کے مفہوم سے متعارض قرار دیا ہے۔[13]

حضرت نوحؑ کی بعثت سے پہلے اور طوفان کے بعد کی زندگی کی مدت کے بارے میں منابع میں مختلف روایات نقل ہوئی ہیں۔[14] بعثت سے پہلے کے دور کی مدت 40[15] سے لے کر 850 سال[16] تک بیان ہوئی ہے، جب کہ طوفان کے بعد کی مدت 60[17] سے لے کر 1200 سال[18] تک ذکر کی گئی ہے۔ تاہم، بعض افراد نے حضرت نوحؑ کی طویل عمر کے بارے میں بھی تردید کا اظہار کیا ہے۔[19]

بعض منابع میں حضرت نوحؑ کی طویل عمر کو امام مہدی کی طولانی عمر پر بطور دلیل اور شاہد قرار دیا گیا ہے،[20] اور اسے امام مہدیؑ کی طویل عمر کے بارے میں شکوک دور کرنے اور اسے آسانی سے قبول کرنے کا ایک ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔[21] سید مرتضیٰ (وفات: 436ھ)،[22] ابن میثم بحرانی (وفات: 679 یا 699ھ)[23] اور محمدباقر صدر (وفات: 1400ھ)[24] جیسے علماء نے امام مہدیؑ کی طویل عمر کے اثبات میں حضرت نوحؑ کی عمر سے استدلال کیا ہے۔

«عمرِ نوح» کی تعبیر فارسی اور عربی ادب میں بھی استعمال ہوئی ہے۔[25] سنائی غزنوی (وفات: 545 یا 555ھ)،[26] علی بن محمد انوری،[27] مولوی (وفات: 672ھ)،[28] اوحدی مراغہ‌ای (وفات: 738ھ)[29] اور سلیم تہرانی (وفات: 1057ھ)[30] جیسے شعرا نے اپنے کلام میں اس تعبیر کا ذکر کیا ہے۔

عربی زبان کے شعرا نے بھی اس موضوع پر اظہار خیال کیا ہے۔ ان میں دورِ جاہلیت کے شاعر زبّان بن سیّار فزاری،[31] سید اسماعیل حمیری (وفات: 179ھ)،[32] ابوالعتاہیہ (وفات: 211 یا 213ھ)[33] اور اصمعی (وفات: 216ھ)[34] شامل ہیں۔ روزمرہ گفتگو میں بھی طویل عمر کے مفہوم کو ادا کرنے کے لئے «عمر نوح پانا» جیسی تعبیرات استعمال ہوتی ہیں۔[35]

حوالہ جات

  1. ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، ج13، ص332-333؛ عسکری، الامام المہدی الموعود...، ج2، ص405-411۔
  2. ↑ طباطبائی، المیزان، ج16، ص278۔
  3. ↑ ثعلبی، قصص الانبیاء، ص56۔
  4. ↑ کلینی، الکافی، ج8، ص284؛ شیخ صدوق، امالی، ص511۔
  5. ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، ج13، ص332-333؛ عسکری، الامام المہدی الموعود...، ج2، ص405-411؛ آل کاشف الغطاء، اصل الشیعۃ و أصولہا، ص150۔
  6. ↑ کلینی، الکافی، ج8، ص284؛ شیخ صدوق، کمال الدین، ج2، ص523۔
  7. ↑ مجلسی، بحار الانوار، ج11، ص290؛ عسکری، الامام المہدی الموعود...، ج2، ص410۔
  8. ↑ طباطبائی، المیزان، ج16، ص114۔
  9. ↑ مظاہری، امکان طول عمر تا بے نہایت، ص158؛ قطیفی، معالم مہدویۃ، ص147۔
  10. ↑ ثعلبی، قصص الانبیاء، ص56۔
  11. ↑ مظاہری، امکان طول عمر تا بے نہایت، ص158-159؛ عسکری، الامام المہدی الموعود...، ج2، ص410۔
  12. ↑ کتاب مقدس، سفر پیدائش، باب 9، آیت 29۔
  13. ↑ طباطبائی، المیزان، ج16، ص114۔
  14. ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، ج13، ص332-333؛ عسکری، الامام المہدی الموعود...، ج2، ص405-411۔
  15. ↑ قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، ج13، ص332-333۔
  16. ↑ شیخ صدوق، امالی، ص511۔
  17. ↑ قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، ج13، ص332-333۔
  18. ↑ آل کاشف الغطاء، اصل الشیعۃ و أصولہا، ص150۔
  19. ↑ ترکاشوند، «عمر نوح؛ بازخوانی درون‌دینی»، صدانت ویب سائٹ۔
  20. ↑ مظاہری، امکان طول عمر تا بے نہایت، ص160؛ عسکری، الامام المہدی الموعود...، ج2، ص411۔
  21. ↑ صادقی تہرانی، الفرقان، ج23، ص34۔
  22. ↑ سید مرتضیٰ، شرح جمل العلم و العمل، ص234۔
  23. ↑ ابن میثم، قواعد المرام، ص191۔
  24. ↑ صدر، بحث حول المہدیؑ، ص30-31۔
  25. ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: ثعالبی، ثمار القلوب، ص42۔
  26. ↑ سنائی، دیوان حکیم سنائی، ص317 اور 608۔
  27. ↑ انوری، دیوان انوری، ص518۔
  28. ↑ مولوی، کلیات دیوان شمس تبریزی، ص875۔
  29. ↑ اوحدی، کلیات اوحدی اصفہانی، ص273۔
  30. ↑ سلیم تہرانی، دیوان سلیم تہرانی، ص183۔
  31. ↑ «ألم تر حوشبا یبنی قصورا»، بوابۃ الشعراء ویب سائٹ۔
  32. ↑ نوبختی، فرق الشیعۃ، ص31۔
  33. ↑ ابوالعتاہیہ، دیوان ابی العتاہیۃ، دار بیروت، ص117۔
  34. ↑ جاحظ، کتاب الحیوان، ج6، ص375۔
  35. ↑ موسوی آملی، «کنایہ‌ہای قرآنی در فرہنگ ایرانی»، ص39۔

مآخذ

  • آل کاشف الغطاء، محمدحسین، أصل الشیعۃ و أصولہا، بیروت، دار الأضواء، پہلی اشاعت، 1410ھ۔
  • ابن‌میثم، میثم بن علی، قواعد المرام فی علم الکلام، قم، مکتبۃ آیۃ اللہ العظمی المرعشی النجفی، 1406ھ۔
  • ابوالعتاہیہ، اسماعیل بن قاسم، دیوان ابی‌العتاہیۃ، بیروت، دار بیروت، بے تا۔
  • «أَلَم تَرَ حَوشَباً يَبني قُصوراً»، بوابۃ الشعراء ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 26 ستمبر 2026ء، تاریخ مشاہدہ: 11 اکتوبر 2026ء۔
  • انوری، محمد بن محمد، دیوان انوری، تہران، سکہ، 1364ہجری شمسی۔
  • اوحدی، رکن‌الدین، کلیات اوحدی اصفہانی معروف بہ مراغی، تہران، امیرکبیر، 1340ہجری شمسی۔
  • ترکاشوند، امیرحسین، «عمر نوح؛ بازخوانی درون‌دینی» (حضرت نوح کی عمر؛دینی متون کا از سر نو مطالعہ)، صدانت ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 12 نومبر 2019ء، تاریخ مشاہدہ: 11 اکتوبر 2026ء۔
  • ثعالبی، عبدالملک بن محمد، ثمار القلوب فی المضاف و المنسوب، لبنان، المکتبۃ العصریۃ، 1428ھ۔
  • ثعلبی، احمد بن محمد، قصص الانبیاء المسمی عرائس المجالس، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1425ھ۔
  • جاحظ، عمرو بن بحر، کتاب الحیوان، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1424ھ۔
  • سلیم تہرانی، محمدقلی، دیوان سلیم تہرانی، تہران، نگاہ، 1389ہجری شمسی۔
  • سنایی، مجدود بن آدم، دیوان حکیم سنایی غزنوی بر اساس معتبرترین نسخہ‌ہا، تہران، آزادمہر، 1381ہجری شمسی۔
  • سید مرتضی، علی بن حسین، شرح جمل العلم و العمل، تحقیق یعقوب جعفری مراغی، تہران، دار الأسوۃ للطباعۃ والنشر، 1419ھ۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، أمالی، تہران، کتابچی، 1376ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، کمال‌الدین و تمام النعمۃ، تحقیق علی‌اکبر غفاری، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، 1354ہجری شمسی۔
  • صادقی تہرانی، محمد، الفرقان فی تفسیر القرآن بالقرآن و السنۃ، بیروت، فرہنگ اسلامی، 1406ھ۔
  • صدر، سید محمدباقر، بحث حول المہدی(عج)، بیروت، مرکز الغدیر للدراسات الإسلامیۃ، 1417ھ۔
  • طباطبایی سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، 1393ھ۔
  • عسکری، نجم‌الدین، الامام المہدی الموعود المنتظر علیہ السلام عند علماء أہل السنۃ و الامامیۃ، نجف، العتبۃ العلویۃ المقدسۃ، 1436ھ۔
  • قرطبی، محمد بن احمد، الجامع لأحکام القرآن، تہران، ناصر خسرو، 1364ہجری شمسی۔
  • قطیفی، نزار آل سنبل، معالم مہدویۃ، نجف، مرکز الدراسات التخصصیۃ فی الامام المہدی(ع)، 1438ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، 1363ہجری شمسی۔
  • کتاب مقدس: عہد عتیق و عہد جدید، لندن، دار السلطنہ، 1925ء۔
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار: الجامعۃ لدرر أخبار الأئمۃ الأطہار، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، 1362ہجری شمسی۔
  • مظاہری، محمد، امکان طول عمر تا بی نہایت، قم، ارغوان دانش، 1383ہجری شمسی۔
  • موسوی آملی، سید محسن، «کنایہ‌ہای قرآنی در فرہنگ ایرانی» (ایرانی ثفاقت میں قرآنی کنایات)، مجلہ گلستان قرآن، شمارہ 166، دسمبر 2003ء۔
  • مولوی، جلال‌الدین محمد بن محمد، کلیات دیوان شمس تبریزی، تہران، امیرکبیر، 1367ہجری شمسی۔
  • نوبختی، حسن بن موسی، فرق الشیعہ، ترجمہ محمدجواد مشکور، تہران، علمی و فرہنگی، دوسری اشاعت، 1381ہجری شمسی۔