مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:حضرت ابراہیم اور چار پرندے

ویکی شیعہ سے
معجزے اور ارہاصات
معجزہ/ارہاص مربوط شخصیت
شق القمر حضرت محمدؐ
قرآن حضرت محمدؐ
رد الشمس حضرت محمدؐ
گہوارے میں بات کرنا حضرت عیسیؑ
عصائے موسی حضرت موسیؑ
ید بیضا حضرت موسیؑ
اللہ کی موسی سے ہم کلامی حضرت موسیؑ
ناقہ صالح حضرت صالح
اڑن قالین حضرت سلیمان
حیوانات سے گفتگو حضرت سلیمان
چار پرندوں کا زندہ ہونا حضرت ابراہیم
آگ ٹھنڈی ہونا حضرت ابراہیم
مریمؑ کا حمل مریم مادر عیسیؑ

حضرت ابراہیم اور چار پرندے یا چار پرندوں کی داستان سے مراد وہ واقعہ ہے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چار پرندوں کو ذبح کیا اور پھر انہیں زندہ ہوتے ہوئے دیکھا۔ یہ واقعہ قرآن مجید کے سورہ بقرہ آیت نمبر 260 میں بیان ہوا ہے اور حضرت ابراہیمؑ کی زندگی کے معجزات میں سے شمار ہوتا ہے۔

اسلامی روایات کے مطابق، حضرت ابراہیمؑ نے سمندر کے کنارے سے گزرتے ہوئے ایک مردہ جانور کے بکھرے ہوئے اعضا دیکھے جنہیں درندے کھا رہے تھے۔ یہ منظر دیکھ کرحضرت ابراہیمؑ مُردوں کے دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں سوچنے لگے اور اللہ سے درخواست کی کہ انہیں دکھائے کہ مردے کیسے زندہ ہوتے ہیں۔ اللہ نے انہیں حکم دیا کہ چار قسم کے پرندوں کا انتخاب کرلیں، ان کو ذبح کر کے ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردیں، انہیں پہاڑی کے مختلف جگہوں پر رکھ دیں اور پھر انہیں آواز دیں۔ جب انہوں نے ایسا کرنے کے بعد آواز دی تو پرندے بکھرے ہوئے اعضا سے جمع ہو کر زندہ ہوگئے۔ اس واقعے سے حضرت ابراہیمؑ کو اللہ کے مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت پر دلی کامل یقین ہوگیا۔[1]

بعض لوگوں نے اس واقعے کو محض ایک تمثیل سے تعبیر کی ہے، لیکن مفسرین نے اس نظریے پر نقد کرتے ہوئے اسے ایک حقیقی واقعہ قرار دیا ہے۔ شیعہ تفاسیر میں تفسیر تسنیم میں اس موضوع پر تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔[2]

چار پرندوں کی نوعیت کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ امام جعفر صادقؑ کی ایک روایت کے مطابق یہ چار پرندے مور، مرغا، کبوتر اور کوا تھے۔[3] اہل سنت مصادر میں بھی مور کا ذکر ملتا ہے، لیکن دیگر تین پرندوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے، جن میں مرغا، کبوتر، کوّا، عقاب، بطخ، ہدہد اور شتر مرغ جیسے پرندوں کا ذکر ملتا ہے۔[4]

بعض مفسرین نے ان چار پرندوں کو انسانی اخلاقی خصوصیات کی علامت قرار دیا ہے؛ مثال کے طور پر مور تکبر کی، مرغا شہوت کی، کبوتر تفریح اور غفلت کی اور کوّا لمبی لمبی آرزؤوں کی علامت ہے۔[5]

مولانا رومی نے مثنوی معنوی کے پانچویں دفتر میں تمثیلی انداز میں ان چار پرندوں کو انسانی نفسیاتی صفات کی مثال قرار دیا ہے:

سر ببر این چہار مرغ زندہ را
سرمدی کن خُلق ناپایندہ را
بط و طاووس است و زاغ است و خروس
این مثال چہار خُلق اندر نفوس
بط حرص است و خروس آن شہوت است
جاہ چون طاووس و زاغ اُمنیت است۔


ترجمہ: ان چار زندہ پرندوں کو ذبح کر ڈالو، اس ناپائیدار خُو اور طبیعت کو ہمیشگی عطا کرو۔ بطخ، مور، کوّا اور مرغا؛ یہ چار پرندے مثال ہیں چار خصلتوں کی جو انسانی نفس میں پائی جاتی ہیں۔ بطخ حرص و لالچ کی، مرغا شہوت کی، مور حب جاہ اور تکبر اور کوّا لمبی آرزؤوں کی علامت ہے۔

حوالہ جات

  1. کلینی، کافی، 1407ھ، ج8، ص305، ح472؛ مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج 7، ص36، و ج12، ص61۔
  2. جوادی آملی، تسنیم، 1388شمسی، ج12، ص296۔
  3. عیاشی، تفسیر عیاشی، 1380شمسی، ج1، ص142۔
  4. فخر رازی، تفسیر کبیر، 1405ھ، ج7 ص45۔
  5. مکارم، تفسیر نمونہ، 1373شمسی، ج2، ص353۔

مآخذ

  • جوادی آملی، عبداللہ، تسنیم، قم، نشر اسراء، 1388ہجری شمسی۔
  • فخر رازی، محمد بن عمر، تفسیر الکبیر، بیروت،‌ دار الفکر، 1405ھ۔
  • عیاشی، محمد بن مسعود، تفسیر عیاشی، چاپخانہ علمیہ، تہران، 1380ہجری شمسی۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، 1407ھ۔
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار الجامعۃ لدرر اخبار الائمۃ الاطہار، بیروت، دار احیاءالتراث العربی، 1403ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ‌، تہران،‌ دار الکتب الاسلامیۃ، 1373ہجری شمسی۔