یوم شک

ویکی شیعہ سے
(یوم الشک سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
رساله عملیه.jpg
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ


یوم شک ایک فقہی اصطلاح ہے جو ہجری کیلنڈر کے اس دن کو کہا جاتا ہے جس کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ یہ پچھلے مہینے کی آخری تاریخ ہے یا اگلے مہینے کی پہلی تاریخ۔ اس دن کے بارے میں یہ شک چاند نظر نہ آنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ یہ احتمال دیا جا سکتا ہے کہ چاند موجود ہونے کے باوجود مختلف عوامل کی وجہ سے نظر نہ آیا ہو۔ یوم الشک کی اصطلاح شعبان کی آخری تاریخ اور رمضان کی پہلی تاریخ کے بارے میں مشہور ہے۔ فقہاء اپنی فقہی کتابوں میں اس دن سے متعلق مخصوص احکام ذکر کرتے ہیں۔

تعریف

یوم شک ہجری کیلنڈر کے اس دن کو کہا جاتا ہے جس کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ یہ پچھلے مہینے کی آخری تاریخ ہے یا اگلے مہینے کی پہلی تاریخ۔ اس دن کے بارے میں یہ شک پچھلے مہینے کی 29 تاریخ کو چاند نظر نہ آنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ یہ احتمال دیا جا سکتا ہے کہ چاند موجود ہونے کے باوجود مختلف عوامل کی وجہ سے نظر نہ آیا ہو۔[1]

شیعہ ہر مہینے کی پہلی اور آخری تاریخ خاص کر ماہ رمضان کی پہلی اور آخری تاریخ کے اثبات میں خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ کیونکہ ممکن ہے پہلی صورت میں شک کی وجہ سے شعبان کی آخری تاریخ سمجھ کر روزہ نہ رکھیں جبکہ حقیقت میں وہ رمضان کی پہلی تاریخ ہو،[2] اسی طرح دوسری صورت میں رمضان کی آخری تاریخ سمجھ کر روزہ رکھیں جبکہ حقیقت میں وہ شوال کی پہلی تاریخ اور عید فطر کا دن ہو جس دن روزہ رکھنا حرام ہے۔[3]

احکام

یوم الشک کے مخصوص احکام ہیں جنہیں فقہاء نے اپنی فقہی کتابوں میں ذکر کئے ہیں من جملہ وہ احکام یہ ہیں:

شعبان کی آخری تاریخ

قاعدہ استصحاب کی بنا پر یوم الشک شعبان کی آخری تاریخ شمار کیا جائے گا اس صورت میں اس دن روزہ رکھنا واجب نہیں ہے۔[4] البتہ مکلف اس دن مستحب یا قضا روزے کی نیت سے روزہ رکھ سکتا ہے لیکن رمضان کی پہلی تاریخ کی نیت سے روزہ نہیں رکھ سکتا۔[5]

یوم شک کو شعبان کی نیت سے روزہ رکھنا مستحب ہے۔[6] اگر بعد میں معلوم ہو جائے کہ اس دن رمضان کی پہلی تاریخ تھی تو یہی مستحب روزہ رمضان کا روزہ شمار ہو گا،[7] لیکن اگر بعد میں بھی رمضان کی پہلی تاریخ ہونا ثابت نہ ہو تو مکلف کی نیت کے مطابق یا شعبان کا مستحب روزہ شمار ہو گا یا اگر قضا روزے کی نیت کی ہے تو قضا روزہ شمار ہوگا۔ [8] اگر کوئی شخص چاند نظر آئے بغیر اس دن رمضان کی نیت سے روزہ رکھے اور بعد میں ثابت بھی ہو جائے کہ اس دن رمضان کی پہلی تاریخ تھی تو بھی اس دن کے روزے کی قضا کرنا ضروری ہے۔[9]

اگر مکلف اس دن روزہ نہ رکھے اور ظہر سے پہلے رمضان کی پہلی تاریخ ثابت ہو جائے تو اگر صبح کی اذان سے اب تک مبطلات روزہ میں سے کسی کام کو انجام نہ دیا ہے تو رمضان کے روزے کی نیت کرے گا اور اس دن کا روزہ صحیح ہے۔ [نوٹ 1] لیکن اگر مبطلات روزہ کا مرتکب ہوا ہے تو اس دن کا روزہ صحیح نہیں پھر بھی مغرب تک مبطلات روزہ سے اجتناب بھی ضروری ہے اور بعد میں اس دن کی قضا بھی بجا لانا ضروری ہے۔[10]

رمضان کی آخری تاریخ

رمضان میں یوم الشک، رمضان کی آخری تاریخ اور شوال کی پہلی تاریخ میں مردد ہونے کی صورت میں متحقق ہوتا ہے۔[11] اس صورت میں قاعدہ استصحاب کے تحت رمضان کی آخری تاریخ کے عنوان سے روزہ رکھنا واجب ہے۔ لیکن اگر دن میں مغرب سے پہلے کسی بھی وقت ثابت ہو جائے کہ آج شوال کی پہلی تاریخ ہے تو اس صورت میں مکلف پر افطار کرنا واجب ہے کیونکہ عید فطر کے دن روزہ رکھنا حرام ہے۔ [12]

شک برطرف ہونے کے ساتھ رمضان کا خاتمہ ہو گا یوں اس دن کے روزے کا حکم واجب سے حرام میں تبدیل ہو گا جائے گا۔[13] بعض مکلفین اس دن احتیاط پر عمل کرتے ہوئے مسافرت کرتے ہیں تاکہ عید کی صورت میں حرام روزہ اور رمضان کی صورت میں بغیر عذر روزہ توڑنے کا مرتکب نہ ہو،[14] لیکن اکثر لوگ رمضان کے اختتام اور عید فطر سے متعلق اپنے مراجع کے اعلانات پر اعتماد اور عمل کرتے ہیں۔[15]

حوالہ جات

  1. البحراني، الحدائق الناضرۃ، ج 13، ص 42.
  2. آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی ویب سائٹ
  3. العالم ٹی وی چینل
  4. خوئی، موسوعۃ الامام الخوئی، ج 21، ص 74.
  5. لنکرانی، تفصیل الشریعۃ، ص 334.
  6. شریف مرتضی،الانتصار،183،مؤسسۃ النشر الإسلامي التابعۃ لجماعۃ المدرسين بقم المشرفہ۔شیخ طوسی،الخلاف،2/170،مؤسسۃ النشر الإسلامي التابعۃ لجماعۃ المدرسين بقم المشرفہ۔
  7. كلينی، الكافی، ج 4، ص 82.
  8. علامہ حلی، تحریر الاحکام، ج 1، ص 459.
  9. شیخ طوسی، تہذیب الاحكام، ج‌ 4، ص 162.
  10. محقق حلی، معتبر، ج 2، ص 652.
  11. عاملی، اصطلاحات الفقہیۃ في الرسائل العملیۃ، ص 234.
  12. خوئی، منہاج الصالحین، ج‌ 1، ص 288.
  13. شیخ مفید، المقنعۃ، ص 366
  14. سند، ہيويات فقہیۃ، ص 131.
  15. العالم ٹی وی چینل
  1. بعض فقہاء فرماتے ہیں بنا بر احتیاط اس دن کی قضا بھی بجا لائے۔

منابع

  • أحمد فتح اللہ،معجم ألفاظ الفقہ الجعفري،460،مطابع المدوخل - الدمام
  • ابن زہرہ حلبی،غنیۃ النزوع،135،مؤسسہ الإمام الصادق (ع)۔
  • ابن قدامہ،الشرح الکبیر،3/108،دار الكتاب العربي للنشر والتوزيع - بيروت -
  • ابن نجیم مصری،البحر الرائق،2/461،منشورات محمد علي بيضون - دار الكتب العلميہ- بيروت - لبنان
  • ابو بکر کاشانی ،بدائع الصنائع2/78، المكتبہ الحبيبيہ - باكستان
  • جزيري،الفقہ علی المذاہب الاربعہ1/503،504 دار الكتب العلميہ، بيروت - لبنان
  • خطاب رعینی،مواہب الجلیل،3/297،دار الكتب العلميہ بيروت لبنان
  • خوئی ،کتاب الصوم(مستند عروۃ الوثقیٰ)،1/26،علمیہ قم ۔
  • زبیدی ،تاج العروس من جواہر القاموس (34/ 143) ناشر دار الہدايہ
  • شریف مرتضی،الانتصار،183،مؤسسۃ النشر الإسلامي التابعۃ لجماعۃ المدرسين بقم المشرفہ۔شیخ طوسی،الخلاف،2/170،مؤسسۃ النشر الإسلامي التابعۃ لجماعۃ المدرسين بقم المشرفہ۔
  • شیخ طوسی،الخلاف،2/170،مؤسسۃ النشر الإسلامي التابعۃ لجماعۃ المدرسين بقم المشرفہ
  • علی بن محمد قمی،جامع الخلاف و الوفاق،158، انتشارات زمينہ سازان ظہور إمام عصر (عج)۔
  • فیومی،المصباح المنير في غريب الشرح الكبير (5/ 59)
  • نووی،المجموع،6/399،دار الفكر۔
  • وحید بہبہانی،الرسائل الفقہیہ،131،منشورات مؤسسہ العلامہ المجدد الوحيد