منی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
توضیح المسائل2.png
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکٰوۃحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
طہارت کے احکام
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاص
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

مَنِی ایک غلیظ اور سفید رنگ کا مائع ہے جو اچھل کر انسان کے مقام پیشاب سے نکلتا ہے۔ اسکے نکلنے سے انسان مجنب ہوتا ہے اور اسے غسل کرنا ہوتا ہے ۔ شہوت، اچھل کر نکلنا اور منی کے نکلنے کے بعد بدن کا سست ہو جانا فقہی لحاظ سے منی کی علامات ذکر ہوئی ہیں۔ منی نجاسات میں سے ہے اور بعض موارد میں اس کا نکلنا روزے کے باطل ہونے کا سبب بنتا ہے ۔

لغوی معنا

عربی زبان میں مرد یا عورت کی پشت کے اس سفید اور گاڑھے مائع کو کہتے ہیں کہ جو عام طور مرد یا عورت کے عضو مخصوص سے شہوت کے ساتھ اچھل کر نکلتا ہے ۔ [1]

منی کا خروج جنسی رابطے یا احتلام یا استمناء کے نتیجے میں نکلتا ہے اور اس کی وجہ سے طہارت سے مشروط عبادتوں کیلئے غسل جنابت واجب ہو جاتا ہے۔

فقہی معنا

مرد میں منی کی علامات

اکثر شیعہ فقہا کے نزدیک تندرست شخص میں منی کا خروج ۳ علامتوں کے ساتھ ہوتا ہے  :[2]

  • شہوت
  • اچھل کر نکلنا
  • بدن کا سست ہونا

اگر کوئی بھی علامت نہ ہو یا ان میں سے بعض نہ ہوں تو اس پر منی کے احکام لاگو نہیں ہونگے [3]۔لیکن اگر کسی دوسرے طریقے سے منی کا یقین ہو جائے تو وہ منی ہو گی ۔

البتہ بعض تیسری شرط کو ضروری نہیں سمجھتے ہیں ۔ [4] اور بعض [5] نے اس طرح فتوا دیا ہے کہ اگر مائع کا خروج شہوت اور اچھلنے کے ساتھ یا اچھلنے اور بدن کے سست ہونے کے ساتھ ہو تو وہ منی ہے اگر ان دو علامات میں سے کوئی بھی نہ ہو تو وہ منی کے حکم میں نہیں ہے ۔نیز مریض میں اچھل کر نکلنا ضروری نہیں بلکہ اگر شہوت سے خارج ہو تو منی کا حکم رکھتا ہے ۔

عورت اور مریض مرد میں اچھل کر نکلنا ضروری نہیں ہے بلکہ اگر شہوت کے ساتھ باہر نکلے تو وہ منی کے حکم میں ہے اور بدن کا سست ہونا بھی ضروری نہیں ہے ۔ [6]

عورتوں میں منی کی علامات

اکثر فقہا کے نزدیک عورت کے مقام مخصوص سے ترشحات کا خروج اگر شہوت (اوج لذت) کے ساتھ ہو وہ منی کے حکم میں ہے لہذا طہارت سے مشروط عبادتوں کی انجام دہی میں غسل جنابت اس پر واجب ہو گا ۔یہانتکہ اگر یہ مائع اچھل کر نہ بھی نکلے اور بدن سست نہ بھی ہو تو وہ منی کے حکم میں ہے ۔[7]

اس کے مقابلے میں دیگر بعض فقہاشہوت کی شرط اور مائع کے اچھل کر نکلنے کی شرط کا عورت کی منی میں اضافہ کرتے ہیں اور قائل ہیں کہ اگر یہ شروط نہ ہوں تو وہ مائع منی کے حکم میں نہیں[8] اور اسے غسل جنابت کی ضرورت نہیں ہے ۔

اوج لذت (یعنی لذت کے عروج) کے وقت عورت سے خارج ہونے والی ترشحات (رطوبتیں) منی ہیں اور غسل جنابت اس کے لئے ضروری ہے لیکن اگر اس مرحلے (یعنی لذت کے عروج) تک پہنچنے میں شک کرے تو منی کا حکم نہیں لگائیں گے اور لذت کے بغیر خارج ہونے والی ترشحات (رطوبتیں)مذی ہیں اور پاک ہیں ۔[9]

کہا جاتا ہے کہ بعض فیزالوج کے محققین معتقد ہیں کہ عورت سے منی خارج نہیں ہوتی ہے لہذا اسکے نتیجے میں عورت سے ہونے والی ترشحات میں منی نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔

فقہی اور ڈاکٹری نقطہ نظر سے فرق

طبابت کے نقطہ نظر کے مطابق منی نسبتاً غلیظ اور اکثر و بیشتر سفید رنگ کا مادہ ہوتا ہے کہ جو منی کی تھیلی، تولیدی نظام کے غدود، بلبورٹریال گلینڈ اور بیضے کے ترشحات سے تشکیل پاتا ہے اور اسی طرح وہ مادہ اولاد پیدا کرنے والے سپرمز پر مشتمل ہوتا ہے کہ جو جنسی لذت کے عروج سے پہلے انسانی بدن سے خارج نہیں ہوتا ہے۔[10]

فتاوا سے ظاہر ہوتا ہے کہ انزال اور جنسی لذت کا نقطۂ اوج انسانی بدن سے منی نکلنے کا سبب ہوتا ہے جبکہ ڈاکٹری نقطۂ نظر کے مطابق مرد کے تولید نسل کے نظام کی خرابی،... حتا کہ بعض اوقات روزانہ کے معمولات جیسے صبح کے وقت پیشاب کرتے وقت، پیشاب کی نالیوں پر دباؤ،.... وغیرہ کی وجہ سے بھی تولید نسل کےسپرم اور انسان کے بدن سے منی خارج ہوتی ہے۔ لہذا ممکن ہے کہ فقہی اعتبار سے ان مواقع پر طہارت کا حکم لگایا جائے۔

دیگر مائعات

بالغ انسان سے پیشاب اور منی کے علاوہ نکلنے والے مائعات: مَذْىْ، وَذْىْ، وَدْىْ.[11]

مذی

ایسا مائع ہے جو کم شہوت یا ملاعبت(خاص طور جنسی مزاح،چھیڑچھاڑ وغیرہ) کے موقع پر انسان کے عضو مخصوص سے نکلتا ہے۔اسے مذی کہا جاتا ہے اور یہ پاک ہے نیز روزے کا باطل نہیں کرتا ہے۔ مذی ایسا پانی ہے جو کسی حد تک چکناہٹ پر مشتمل ہوتا ہے اور عام طور پر شہوت انگیز منظر دیکھنے یا اس کے متعلق سوچنے، زوجہ کے ساتھ ہنسی مزاح کے وقت نکلتا ہے۔ جب یہ مائع پیشاب سے مخلوط نہ ہو تو تو پاک ہے نیز غسل اور وضو کو باطل نہیں کرتا ہے۔

وذی

ایسا مائع ہے جو کبھی کبھا منی نکلنے کے بعد نکلتا ہے۔ اسے وذی کہا جاتا ہے۔ اگر یہ مائع منی یا پیشاب سے مخلوط نہ ہو تو پاک ہے اور غسل کا موجب نہیں ہے۔

ودی

ودی ایسا مائع ہے جو کبھی کبھا پیشاب کے بعد خارج ہوتا ہے اور ظاہری طور پر منی کے مشابہ ہوتا ہے لیکن منی نکلنے کی علامات اس میں نہیں پائی جاتی ہیں لہذا اگر یہ پیشاب سے مخلوط نہ ہو تو اسے بھی پاک سمجھا جائے گا۔

احکام

  • منی نجاسات میں سے ہے اس کا کھانا حرام ہے[12]
  • عمدی خروج پر روزه باطل ہو جاتا ہے۔[13]
  • بدن سے منی کا خروج غسل جنابت کا موجب قرار پاتا ہے۔[14]
  • حیوانات کی منی کے نجس ہونے میں اختلاف ہے۔ حیوانات کی منی کے نجس ہونے میں بعض خون جہندہ رکھنے والے حیوانات، بعض حلال گوشت جانور اور بعض حرام گوشت حیوانات ہونے کی شرط لگاتے ہیں۔[15]

حوالہ جات

  1. لغتنامہ دہخدا، ذیل ماده؛ مروج، اصطلاحات فقہی، ص۵۱۶.
  2. توضیح المسائل مراجع، ص۲۶۴-۲۶۷، مسألہ ۳۴۶؛ وحید، توضیح المسائل، م ۳۵۲؛ نوری، توضیح المسائل، م ۳۴۷؛ خامنہ ای، اجوبۃ الاستفتاءات، س ۱۸۰.
  3. توضیح المسائل مراجع، م ۳۴۶
  4. بہجت، توضیح المسائل مراجع، م ۳۴۶ و مکارم شیرازی، تعلیقات علی العروة، غسل الجنابۃ.
  5. صافی توضیح المسائل، م ۳۵۲.
  6. توضیح المسائل مراجع، ص۲۶۴-۲۶۷، مسألہ ۳۴۶؛ احکام جنابت
  7. توضیح المسائل مراجع، مسألہ ۳۴۶؛ وحید، توضیح المسائل، م ۳۵۲، سیستانی، تعلیقات علی العروة، ج ۱، غسل الجنابہ، الاول، خامنہ ای، اجوبۃ الاستفتاءات، س ۱۷۱٫ صافی، ہدایۃ العباد، ج ۱، مسألہ ۱۷۵.
  8. توضیح المسائل مراجع، مسألہ ۳۴۶(تبریزی)؛
  9. تفاوت مذی و منی در زن
  10. تفاوت تعاریف طبی و فقهی در مورد مایع منی
  11. مرکز ملی پاسخگویی
  12. نجاسات
  13. مبطلات روزه
  14. توضیح المسائل مراجع، ص۲۶۴، مسأله ۳۴۵؛احکام جنابت
  15. توضیح المسائل مراجع، ص۸۵، مسأله۸۷؛ منی