ایام البیض

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

اَیّامُ البیض (بمعنی سفید ایام)، قمری مہینے کی تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں تاریخوں کو کہا جاتا ہے۔ روایات میں ان دنوں کے روزے پر تاکید ہوئی ہے۔ شیعہ کے ہاں ماہ رجب، اور بعد کے مرتبے میں شعبان اور رمضان کے ایام البیض خاص اہمیت کے حامل ہیں۔

وجۂ تسمیہ

ایام البیض کا نام در حقیقت "أَيَّامُ اللَّيَالِي البِيضِ" ہے اور اس سے "لیالی" کو حذف کیا گیا ہے اور یہ ایام "ایام البیض" کے نام سے مشہور ہوئے ہیں۔[1] بیض، بیضاء کی جمع ہے جس کے معنی عربی میں "سفید" کے ہیں۔ قدیم عربوں کی رسم تھی کہ ایام کا نام چاند کی روشنی کی مقدار کی رو سے متعین کرتے تھے اور چونکہ چاند کی روشنی ان راتوں کو دوسری راتوں سے زیادہ ہوتی ہے لہذا ان کو اس نام سے موسوم کیا گیا ہے۔[2][3][4] ان ایام کے دیگر اسماء میں اواضح اور غُرّ شامل ہیں۔[5]

روایات میں اس تسمیئے کے لئے ایک دلیل علل الشرائع میں نقل ہوئی ہے: جبرائیل آدم(ع) کو ایسے حال میں زمین پر اتار لائے کہ ان کا بدن سر سے پاؤں تک سیاہ ہوچکا تھا۔ فرشتوں نے آدم(ع) کو اس ہیئت میں دیکھا تو فریادیں کرتے ہوئے روئے اور بارگاہ الہی میں عرض گزار ہوئے کہ: اے پروردگار! تو نے ایک مخلوق کو پیدا کیا اور اپنی روح میں سے اس میں پھونکا اور اپنے فرشتوں کو اسے سجدہ کرنے پر آمادہ کیا، اب ایک خطا کی وجہ سے تو نے اس کی سفید رنگت کو سیاہی میں تبدیل کیا!؟
منادی نے آسمان سے ندا دی: اے آدم! آج اپنے پرودگار کے لئے روزہ رکھو، آدم(ع) نے اس دن ـ جو تیرہ رجب کا دن تھا ـ کو روزہ رکھا، تو ایک تہائی سیاہی زائل ہوئی؛ منادی نے چودہویں کے دن پھر ندا دی: آج اپنے پروردگار کے لئے روزہ رکھو؛ چنانچہ آدم(ع) نے چودہویں رجب کو بھی روزہ رکھا اور مزید ایک تہائی سیاہی زائل ہوئی۔ پندرہویں رجب کو بھی منادی نے آدم(ع) کو روزہ رکھنے کی دعوت دی، اور آدم(ع) نے پندرہویں کو بھی روزہ رکھا اور باقیماندہ ایک تہائی سیاہی بھی زائل ہوئی، چنانچہ ان دنوں کو ایام البیض سے موسوم کیا گیا۔[6]

ماہ رجب کے ایام البیض کے اعمال

اصل مضمون: اعتکاف

ان تین دنوں کا اہم ترین عمل اعتکاف اور روزہ ہے۔ جیسا کہ روایات اور احادیث سے ظاہر ہوتا ہے، ہر مہینے میں تین روزے رکھنے کی سنت قبل از اسلام بھی پسندیدہ تھی[7][8] رسول اللہ(ص) نے لوگوں کو روزے اور عبادات کی ترغیب دلاتے ہوئے ان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے ماہانہ روزے ایام البیض میں رکھا کریں۔[9] بعض مفسرین نے سورہ بقرہ کی آیت 125 سے استناد کرتے ہوئے اعتکاف اور ایام البیض کے روزوں کو ابراہیمی اعمال قرار دیا ہے۔ جہاں ارشاد ہوتا ہے:"اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل کو حکم دیا کہ میرے گھر کو پاک رکھنا طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے"سورت=بقرہ|آیت=125۔[10][11] جو روایات ایام البیض کے روزوں کے استحباب کو ظاہر کرتی ہیں، متعدد نیز مختلف قسم کے مضامین پر مشتمل ہیں؛ بعض روایات صرف تیرہویں تاریخ کے روزے کے استحباب پر دلالت کرتی ہیں۔[12]خطا در حوالہ: Closing </ref> missing for <ref> tag لگتا ہے کہ باوجود اس کے کہ، ہر ماہ کے تین روزوں کے استحباب میں کوئی اختلاف نہیں،[13] تاہم ان تین ایام کے مصداق میں اختلاف ہے۔ مثال کے طور پر امام صادق(ع) کی ایک حدیث کے مطابق یہ تین دن "پہلے عشرے کا جمعرات، دوسرے عشرے کا بدھ اور تیسرے عشرے کا جمعرات" ہیں۔[14] اس سلسلے میں اور بھی بہت سی روایات و احادیث وارد ہوئی ہیں۔[15][16][17]

روایات کے اختلاف کے نتیجے میں، ایام بیض کے روزے کے سلسلے میں وارد ہونے والی روایات اور ان کے معارض روایات کے انتخاب کے سلسلے میں فقہاء کے اجتہادات کا سلسلہ کافی طویل ہوا ہے۔[18][19][20][21] اہل سنت کے فقہاء کے درمیان بھی اس سلسلے میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔[22]

ایام البیض کے اعمال
تیرہویں کی رات
تیرہویں کا دن
پندرہویں کی رات
  • چھ رکعت 3 سلاموں کے ساتھ، تیرہویں کی رات کی نماز کی کیفیت کے مطابق۔
  • غسل کرنا
  • شب بیداری
  • زیارت امام حسین(ع)
  • تیس رکعت نماز بجا لانا، اور ہر رکعت میں ایک مرتبہ حمد اور 10 مرتبہ توحید کے ساتھ۔
  • بارہ رکعت نماز، ہر دو رکعتوں کا اختتام ایک سلام پر ہوگا، اور ہر رکعت میں حمد، توحید، فلق، ناس، آیۃ الکرسی اور قَدْر ہر ایک چار مرتبہ اور نماز کی تکمیل کے بعد 4 مرتبہ یہ جملہ پڑھا جائے:

اَللهُ اَللهُ رَبّی لااُشْرِک بِهِ شَیئا وَلا اَتَّخِذُ مِنْ دُونِه وَلِیاً"

پندرہویں کا دن
  • غسل کرنا
  • زیارت امام حسین(ع)
  • نماز سلمان بجا لانا۔
  • چار رکعت نماز دو سلاموں کے ساتھ بجا لانا، اور سلام کے بعد کہا جائے: "اَللّهُمَّ یا مُذِلَّ كُلِّ جَبّارٍ؛ وَیا مُعِزَّ الْمُؤْمِنینَ اَنْتَ كَهْفى حینَ تُعْیینِى الْمَذاهِبُ؛ وَاَنْتَ بارِئُ خَلْقى رَحْمَةً بى وَقَدْ كُنْتَ عَنْ خَلْقى غَنِیّاً وَلَوْلا رَحْمَتُكَ لَكُنْتُ مِنَ الْهالِكینَ وَاَنْتَ مُؤَیِّدى بِالنَّصْرِ عَلى اَعْداَّئى وَلَوْلا نَصْرُكَ اِیّاىَ لَكُنْتُ مِنَ الْمَفْضُوحینَ یا مُرْسِلَ الرَّحْمَةِ مِنْ مَعادِنِها وَمُنْشِئَ الْبَرَكَةِ مِنْ مَواضِعِها یا مَنْ خَصَّ نَفْسَهُ بِالشُّمُوخِ وَالرِّفْعَةِ فَاَوْلِیاَّؤُهُ بِعِزِّهِ یَتَعَزَّزُونَ وَیا مَنْ وَضَعَتْ لَهُ الْمُلُوكُ نیرَ الْمَذَلَّةِ عَلى اَعْناقِهِمْ فَهُمْ مِنْ سَطَواتِهِ خاَّئِفُونَ اَسئَلُكَ بِكَیْنُونِیَّتِكَ الَّتِى اشْتَقَقْتَها مِنْ كِبْرِیاَّئِكَ وَاَسئَلُكَ بِكِبْرِیاَّئِكَ الَّتِى اشْتَقَقْتَها مِنْ عِزَّتِكَ وَاَسئَلُكَ بِعِزَّتِكَ الَّتِى اسْتَوَیْتَ بِها عَلى عَرْشِكَ فَخَلَقْتَ بِها جَمیعَ خَلْقِكَ فَهُمْ لَكَ مُذْعِنُونَ اَنْ تُصَلِّىَ عَلى مُحَمَّدٍ وَاَهْلِ بَیْتِهِ"۔
  • اعمال ام داؤد بجا لانا۔

اہمیت ایام بیض ماه رجب

نزد شیعیان، ایام بیض ماه رجب، و در مرتبه بعد، شعبان و رمضان، از اهمیتی ویژه برخوردار است.[23][24][25][26] در ایران سنت اعتکاف در ایام البیض رجب رواج دارد.

حوالہ جات

  1. شہید ثانی، مسالك الأفہام إلی تنقیح شرائع الإسلام، ج‌2، ص76۔
  2. نک: فراء، الایام و اللیالی و الشهور، ص58۔
  3. ابن منظور، لسان العرب، ذیل بیض۔
  4. ابن کثیر، ج3، ص573۔
  5. ابن منظور، ذیل وضح، نیز غرر۔
  6. شیخ صدوق، علل الشرائع، ترجمہ ذہنی تہرانی، ج‌2، ص235۔
  7. ابویوسف، الآثار، ص238۔
  8. دیکھیں: سیوطی، شرح سنن نسائی، ج4، صص222-223۔
  9. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج7، ص43۔
  10. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج1، ص447۔
  11. جمعی از نویسندگان، دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی، ج9، ص 355۔
  12. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج1، ص43۔
  13. ابن قدامہ، المغنی، ج4، ص455-456۔
  14. شیخ صدوق‌، من لایحضره الفقیہ، ج‌2، ص84۔
  15. احمدبن حنبل، المسند، ج5، ص27-28، 150-152۔
  16. فاکہی، اخبار مکہ، ج1، ص424۔
  17. رازی، الفوائد، ج1، ص285۔
  18. ابن بابویہ، علل الشرائع، ج2، ص81۔
  19. طوسی، تہذیب الاحکام، ج4، ص296۔
  20. طوسی، النہایۃ، صص168-169۔
  21. ابن طاووس، الدروع، ص66۔
  22. جزیری، الفقہ علی المذاہب الاربعۃ، ج1، ص556۔
  23. نک: ملکی تبریزی، ص62۔
  24. قمی، صص201-202۔
  25. برای آگاهی از برخی مناسک آن، نک: ابن طاووس، اقبال...، صص281، 287۔
  26. مجلسی، بحارالانوار، ج59، ص399۔

مآخذ

  • ابن ابی عاصم، احمد، الزہد، عبدالعلی عبدالحمید حامد کی کوشش، قاہره، 1408ھ ق۔
  • ابن بابویہ، محمد، العلل، بیروت، مؤسسة الاعلمی.
  • ابن بطوطه، رحلۃ، علی منتصر کتانی کی کوشش، بیروت، 1405ھ ق۔
  • ابن جوزی، عبدالرحمان، زادالمسیر، بیروت، 1404ھ ق۔
  • ابن سعد، محمد، الطبقات الکبریٰ، احسان عباس کی کوشش، بیروت، دارصادر.
  • ابن طاؤس، علی، اقبال الاعمال، جواد قیومی اصفہانی کی کوشش، قم، 1414ھ ق۔
  • ہمو، الدروع الواقیۃ، قم، 1414ھ ق۔
  • ابن عربی، محیی الدین، الفتوحات المکیۃ، بولاق، 1293ھ ق۔
  • ابن قدامۃ، موفق الدين، المغني، المحقق: عبد الله بن عبد المحسن التركي - عبد الفتاح الحلو، دار عالم الكتب، 1417ھ ق / 1997ع‍۔
  • ابن کثیر، تفسیر، بیروت، 1401ھ ق۔
  • ابن كثير الدمشقي، إسماعيل بن عمر، تفسير القرآن العظيم (تفسير ابن كثير)، محمد حسین شمس الدین، دار الکتب العلمیہ ـ بیروت ـ لبنان. الطبعۃ الاولی 1419ھ ق / 1998ع‍۔
  • ابن ماجہ، محمد، السنن، محمد فؤادعبدالباقی کی کوشش، قاہره، 1373ھ ق /1954ع‍۔
  • ابن منظور، محمد بن مكرم الافريقى المصرى، لسان العرب؛
  • أبو يوسف، يعقوب بن إبراہيم الأنصاري، كتاب الآثار (ط. العثمانية)، المحقق: أبو الوفا الأفغاني، لجنة إحياء المعارف العثمانيۃ - حيدر آباد، سنۃ النشر: 1355ھ ق۔
  • احمدبن حنبل، المسند، بیروت، دارصادر؛ بخاری، محمد، صحیح، ہمراه با شرح کرمانی، بیروت، دارالفکر.
  • ثعلبی، احمد، قصص الانبیاء، بیروت، المکتبۃ الثقافیہ.
  • جزیری، عبدالرحمان، الفقہ علی المذاہب الاربعۃ، بیروت، 1406ھ ق /1986ع‍۔
  • جمعی از نویسندگان، دائرة المعارف بزرگ اسلامی، تہران، مر کز دائرة المعارف بزرگ اسلامی۔
  • دارمی، عبدالله، السنن، مصطفیٰ دیب البغا کی کوشش، دمشق، 1412ھ ق۔
  • ذہبی، محمد، سیراعلام النبلاء، شعیب ارنؤوط و محمد نعیم عرقسوسی کی کوشش، بیروت، 1413ھ ق۔
  • رازی، تمام، الفوائد، حمدی عبدالمجید سلفی کی کوشش، ریاض، 1412ھ ق۔
  • سخاوی، محمد، التحفۃاللطیفۃ، بیروت، 1993ع‍۔
  • الشہيد الثاني، زين الدين بن علي العاملي، مسالك الافہام إلى تنقيح شرائع الاسلام، تحقيق ونشر مؤسسۃ المعارف الاسلاميۃ، قم الطبعۃ: الأولى 1413ھ ق۔
  • شیخ صدوق، من لایحضره الفقیہ، قم، جامعہ مدرسین، 1404ق، ج‌2، ص84‌.
  • طوسی، محمد، تہذیب الاحکام، حسن موسوی خرسان کی کوشش، تہران، 1364ھ ش۔
  • طوسی، محمد، النہایة، بیروت، 1390ھ ق۔
  • فاکہی، محمد، اخبار مکۃ،عبدالملک عبدالله دهیش کی کوشش، بیروت، 1414ھ ق۔
  • فراء، یحییٰ، الایام و اللیالی و الشہور، ابراهیم ابیاری کی کوشش، قاہره/بیروت، 1400ھ ق۔
  • قمی، عباس، مفاتیح الجنان، بیروت، 1412ھ ق۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، بیروت، 1403ھ ق /1983ع‍۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، 1374ھ ش۔
  • ملکی تبریزی، جواد، المراقبات، بیروت، 1407ھ ق۔
  • النسائي، السيوطي، السندي، سنن النسائي بشرح السيوطي وحاشيۃ السندي، المحقق: مكتب التراث الإسلامي، دار المعرفۃ- بيروت، 1420ھ ق۔
  • نسایی، احمد، سنن، عبدالفتاح ابوغده کی کوشش، حلب، مکتبۃالمطبوعات الاسلامیہ.


بیرونی روابط

اخذ کردہ از «http://ur.wikishia.net/index.php?title=ایام_البیض&oldid=106884»