لیلۃ الرغائب

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

لیلۃ الرَّغائِب شبِ رغبت کے معنا میں ہے اور ماه رجب کی پہلی جمعہ کی شب کو کہتے ہیں ۔ روایت کی بنا پر اس رات فرشتے انسانوں کیلئے رحمت الہی لے کر زمین پر نازل ہوتے ہیں ۔شیعہ اور اہل سنت علما اس روایت کی صحت قبول نہیں کرتے بلکہ بعض اہلسنت علما اس کے موضوع اور جعلی ہونے کے قائل ہیں ۔

معنا

لیلہ رات کے اور «رغائب» «رغیبہ» کی جمع ہے جو مورد رغبت اور رجحان کا معنا بیان کرتی ہے ۔نیز فراوان عطا اور بخشش کے معنا میں بھی ہے۔[1] اس بنا پر «لیلہ الرغائب» اس شب کے معنا میں ہو سکتی ہے جس میں بہت زیادہ توجہ کی جاتی ہے اور ایسی رات کے معنا میں بھی ہو سکتی ہے کہ جس رات میں خدا کی عطا اور بخشش زیادہ ہوتی ہے ۔ اس رات کی فضیلت میں منقول روایت کے مطابق دونوں معنا درست ہیں ۔ [2]

اعمالِ شب

سید بن طاوس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ سے منقول روایت کی بنا پر درج ذیل اعمال ذکر کئے ہیں :

  • ماه رجب کی پہلی جمعرات کو ممکنہ صورت میں روزہ رکھا جائے.
  • شب جمعہ کی نماز مغربین کے درمیان 12 رکعت نماز صبح کی نماز کی مانند پڑھی جائے۔ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورہ حمد، تین مرتبہ سورہ قدر اور 12 مرتبہ سورہ توحید پڑھی جائے ۔
  • ستر (70)مرتبہ یہ ذکر پڑھے:اَللهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحمّدٍ النَّبّیِّ الاُمِّیِّ وَ عَلَی آلِهِ.
  • پھر سجدے میں ستر(70) بار یہ ذکر پڑھے سُبّوحٌ قُدّوسٌ رَبُّ المَلائِکَةِ وَ الّروحِ۔
  • پھر سجدے سر اٹھائے اور یہ ذکر ستر(70) بار پڑھے: رَبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ تَجاوَزْ عَمّا تَعْلَمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیُّ الْاَعْظَمُ۔
  • دوبارہ سجدے میں جائے اور ستر(70) بار یہ ذکر پڑھے: سُبّوحٌ قُدّوس رَبُّ الْمَلائِکَةِ وَ الرّوحِ
  • پھر اپنی حاجت خدا سے طلب کرے ۔

پیامبر اسلام کی روایت میں اس رات کی فضیلت میں یوں آیا ہے :

جو اس نماز کو پڑھے گا تو خدا قبر کی پہلی رات اس کی قبر میں اس نماز کے ثواب کو زیبا ترین صورت، گشادہ روئی،درخشان اور فصیح زبان کے ساتھ بھیجے گا ۔وہ اسے مخاطب ہو گی :اے میرے دوست! میں تمہیں قبر کی سختی اور شدت سے نجات کی بشارت دیتی ہوں ۔ میّت اس سے پوچھے گی: تم کون ہو؟خدا کی قسم میں نے تم سے زیادہ کسی کو زیبا تر نہیں دیکھا ،تمہارے کلام سے زیادہ شیرین تر کلام نہیں سنا،اور میں نے تم سے زیادہ بہتر کسی خوشبو کو نہیں سونگھا .وہ جواب دے گی :میں اس نماز کا ثواب ہوں جو تم نے فلان سال فلان ماہ اور فلان شب کو پڑھی تھی۔آج میں تیرے پاس آئی ہوں کہ میں اسکا حق ادا کروں، تمہاری تنہائی کی مونس ہوں اور میں تم سے وحشت کو ختم کروں گی ۔جب صور پھونکا جائے گا تو قیامت برپا ہوگی میں تمہارے سر سایہ بنوں گی ۔[3]

حدیث کا اعتبار

یہ حدیث سید ابن طاؤس کی کتاب اقبال الاعمال سے پہلے منقول نہیں ہوئی ہے ۔انہوں نے اس حدیث کی سند ذکر نہیں کی ہے ۔ [4] سید محمد مشکوة معتقد ہے کہ یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے جو سید ابن طاؤس کے ذریعے اہل سنت کی کتب سے شیعہ کتب میں آئی ہے۔[5] آیت الله فاضل لنکرانی وہ شیعہ مراجع تقلید ہیں جو اس نماز کے استحباب کو قبول نہیں کرتے ہیں صرف اسے امید ثواب کی نیت سے انجام دے سکتے ہیں ۔[6][7]

اہل سنت کی کتب میں اس حدیث کے جعلی اور ساختگی ہونے کا بیان مذکور ہے ۔ ابن جوزی نے الموضوعات میں اس حدیث کے جعلی ہونے کو بیان کیا ۔[8] محی الدین نووی نیز شرح صحیح مسلم میں اس رات کی نماز کو ایک زشت بدعت سمجھتا ہے ۔اسکے بقول علما نے اس کے رد میں نفیس کتاب لکھی ہیں ۔[9]

حوالہ جات

  1. فرہنگ ابجدی عربی فارسی، ج۱، ص ۴۳۶.
  2. مکارم شیرازی، مفاتیح نوین، ص۶۱۸، اعمال ماه رجب
  3. الإقبال بالأعمال الحسنہ (ط - الحديثہ)، ج۳، ص۱۸۶
  4. الإقبال بالأعمال الحسنہ (ط - الحديثۃ)، ج۳، ص۱۸۵
  5. مشکات، مقدمہ مناجات الاہیات، ص۳۴
  6. فاضل لنکرانی، جامع المسائل، ج۲، ص۱۷۲
  7. محمد امین زین الدین ،کلمۃ التقویٰ2/96
  8. ابن الجوزی، الموضوعات، ج۲، ص۱۲۵
  9. النووی، شرح صحیح مسلم، ج۸، ص۲۰


منابع

  • ابن طاوس، علی بن موسی بن جعفر، الاقبال بالاعمال الحسنہ، تحقیق: جواد قیومی اصفہانی، دفتر تبلیغات اسلامی،‌ قم، ۱۳۷۶ش.
  • ابن الجوزی، عبدالرحمن بن علی، الموضوعات،تحقیق: عبدالرحمان محمد عثمان، المکتبہ السلفیہ، مدینہ، ۱۹۶۶م.
  • فاضل لنکرانی، محمد، جامع المسائل، انتشارات امیر قلم، قم.
  • مشکات، سید محمد، مقدمہ، مندرج در مناجات الاہیات حضرت امیر، نشر وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی، تہران، ۱۳۷۸ش.
  • مکارم شیرازی، ناصر، مفاتیح نوین، انتشارات مدرسہ الامام علی بن ابیطالب، قم، ۱۳۸۵ش.
  • النووی، محی الدین، شرح صحیح مسلم، دار الکتاب العربی، بیروت، ۱۴۰۷ق.