مسودہ:واجبات پر اجرت لینا
| بعض عملی اور فقہی احکام |
|---|
| یہ مقالہ ایک فقہی موضوع کے بارے میں توصیفی تحریر ہے اور دینی اعمال کے لئے معیار نہیں بن سکتا۔ دینی اعمال کے لئے دیگر مصادر کی طرف رجوع کریں۔ |
واجبات پر اجرت لینے کا مطلب ہے کسی شرعی واجب عمل کی ادائیگی پر اجرت وصول کرنا۔[1] یہ مسئلہ شروع میں بعض عبادات کے ذیل میں زیر بحث رہا، لیکن شہید ثانی کے زمانے سے یہ باقاعدہ ایک فقہی قاعدہ کے طور پر فقہاء کا مورد توجہ قرار پایا[2] اور اسے فقہ کے مختلف ابواب میں استعمال کیا جاتا رہا ہے جیسے نماز، تجہیز میت اور قضاوت وغیرہ۔[3] اس مسئلے کی اہمیت یہاں سےاجاگر ہوتی ہے کہ طب اور قضاوت جیسے کچھ ضروری پیشوں سے اس مسئلے کا گہرا تعلق ہے؛ کیونکہ اگر ان معاملات میں اجرت وصول کرنا حرام ہے تو ان میں کام کرنے والوں کی معیشت کے لیے کوئی راستہ تلاش کرنا چاہیے۔[4]
واجبات کی ادائیگی پر اجرت وصول کرنے کے جائز ہونے کے بارے میں شیعہ فقہاء کےیہاں مختلف آراء پائی جاتی ہیں؛ بعض اسے بالکل حرام سمجھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے ملنے والی اجرت کو حرام مال سمجھتے ہیں۔[5] سید ابو القاسم خوئی اسے جائز سمجھتے ہیں اور قصد قربت کے ساتھ منافات نہیں سمجھتے ہیں۔[6] فقہاء کا ایک اور گروہ واجبات کی اقسام میں فرق کا قائل ہے۔ وہ واجب تعبدی اور واجب تعیینی کی ادائیگی پر اجرت وصول کرنے کو جائز نہیں سمجھتے ہیں،[7] لیکن واجب توصلی اور واجب کفائی میں اسے جائز سمجھتے ہیں۔[8]
سماجی نظم و ضبط سے متعلق امور میں جیسے تعلیم و تربیت، طب، قضاوت اور عسکری امور، جنہیں واجبات نظامیہ کے نام سے جانا جاتا ہے، بعض فقہاء اجرت وصول کرنے کی ممانعت والے قاعدے کو قابلِ اطلاق نہیں سمجھتے؛[9] کیونکہ ان واجبات کو انجام نہ دینا معاشرتی نظام میں خلل کا سبب بنتا ہے۔[10] نیز، معصومینؑ کے زمانے میں بھی قاعدہ حرمت کے باوجود، ان کاموں کو انجام دینے کے لیے اجرت وصول کرنا عام رائج تھا،[11] یہاں تک کہ مطلق طور پر اخذ اجرت حرام سمجھنے والے فقہاء کی اکثریت نے بھی ان معاملات میں اجرت وصول کرنے کو مستثنیٰ قرار دیا ہے۔
مستحب اعمال کی ادائیگی پر اجرت وصول کے بارے میں بھی اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ جو لوگ واجبات کی اجرت کو جائز سمجھتے ہیں وہ مستحبات میں بھی اجرت وصول کرنے کو جائز سمجھتے ہیں۔[12] البتہ مخالفین مستحبات میں اجرت وصول کرنے کو مکروہ سمجھتے ہیں۔[13]
حوالہ جات
- ↑ موسوی بجنوردی، قواعد فقہیہ، 1401ھ، ج2، ص165۔
- ↑ جبار گلباغی و ہمکاران، «واکاوی تاریخی قاعدہ اخذ اجرت بر واجبات با رویکرد بہ آراء صاحب عروہ»، ص143۔
- ↑ بروجردی، «تحلیل فقہی مشروعیت کسب درآمد از انجام فعل واجب»، ص27-28؛ چوپان پسندآباد، «قاعدہ حرمت اخذ اجرت بر واجبات»، ص95؛ محمدی رزینی، «اخذ اجرت در حضانت از منظر فقہ اسلامی»، ص53۔
- ↑ فخلعی و شیخی، «بررسی اشکال تخصیصناپذیری قاعدہ حرمت اخذ اجرت بر واجبات»، ص26-27؛ بروجردی، «تحلیل فقہی مشروعیت کسب درآمد از انجام فعل واجب»، ص27-28۔
- ↑ شہید ثانی، مسالک الافہام، 1413ھ؛ نجفی، جواہرالکلام، 1362شمسی، ج22، ص116؛ مقدس اردبیلی، مجمع الفائدۃ و البرہان، 1403ھ، ج8، ص89۔
- ↑ خویی، مصباح الفقاہہ، 1417ھ، ج1، ص460.-466
- ↑ فحرالمحققین، ایضاح الفوائد، 1387ھ، ج2، ص257؛ انصاری، المکاسب المحرمۃ، 1415ھ، ج2، ص135؛ امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1377شمسی، ج1، ص499۔
- ↑ انصاری، المکاسب المحرمۃ، 1415ھ، ج2، ص135؛ امام خمینی، المکاسب المحرمۃ، 1415ھ، ج2، ص297-299؛ موسوی بجنوردی، قواعد فقہیہ، 1401ھ، ج2، ص168-169؛ فخلعی و شیخی، «بررسی آرای فقہا در مورد منافات اخذ اجرت با قصد قربت با رویکردی بر دیدگاہ امام خمینی»، ص86۔
- ↑ فخلعی و شیخی، «بررسی اشکال تخصیصناپذیری قاعدہ حرمت اخذ اجرت بر واجبات»، ص26-27۔
- ↑ بحرالعلوم، بلغۃ الفقیہ، 1403ھ، ج2، ص5۔
- ↑ انصاری، المکاسب المحرمۃ، 1415ھ، ج2، ص137-138؛ موسوی بجنوردی، القواعد الفقہیۃ، 1401ھ، ج2، ص169-170؛ مکارم شیرازی، انوار الفقاہۃ، 1426ھ، ج1، ص416؛ رجائیپور و قریب، «اشکال مشہور در اجرت خواہی بر واجبات نظامیہ»، ص123۔
- ↑ مدرسی، بررسی گستردہ فقہی اجرت بر واجبات، مستحبات و فروعات متناسب، 1392شمسی، ص183۔
- ↑ شیخی و ہمکاران، «بررسی اسناد قرآنی و روایی قاعدہ حرمت اخذ اجرت بر واجبات»، ص131-135۔
مآخذ
- امام خمینی، سید روحاللہ، المکاسب المحرمۃ، تہران، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1415ھ۔
- امام خمینی، سید روحاللہ، تحریر الوسیلۃ، تہران، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1377ہجری شمسی۔
- انصاری، مرتضی، المکاسب المحرمۃ، قم، کنگرہ بزرگداشت شیخ اعظم انصاری، 1415ھ۔
- بحرالعلوم، سید محمد، بلغۃ الفقیہ، تہران، مکتبۃ الصادق(ع)، 1403ھ۔
- بروجردی، مصطفی، «تحلیل فقہی مشروعیت کسب درآمد از انجام فعل واجب»، دوفصلنامہ مبانی فقہی حقوق اسلامی، شمارہ 27، 1400ہجری شمسی۔
- جبار گلباغی ماسولہ، سید علی و عباسعلی سلطانی و محمدتقی فخلعی، «واکاوی تاریخی قاعدہ اخذ اجرت بر واجبات با رویکرد بہ آراء صاحب عروہ»، فصلنامہ پژوہشہای فقہ و حقوق اسلامی، شمارہ 42، 1394ہجری شمسی۔
- چوپان پسندآباد، محمد، «قاعدہ حرمت اخذ اجرت بر واجبات»، نشریہ دانشکدہ الہیات مشہد، شمارہ 37-38، 1376ہجری شمسی۔
- خویی، سید ابوالقاسم، مصباح الفقاہہ، قم، نشر انصاریان، 1417ھ۔
- رجائیپور، مصطفی و محمد قریب طرزہ، «اشکال مشہور در اجرت خواہی بر واجبات نظامیہ»، فصلنامہ فقہ و تاریخ تمدن، سال ششم، شمارہ 1، 1388ہجری شمسی۔
- شہید ثانی، زین العابدین بن علی، مسالک الافہام، قم، موسسۃ المعارف الاسلامیۃ، 1413ھ۔
- شیخی، مجیدرضا و محسن جہانگیری و عباسعلی سلطانی، «بررسی اسناد قرآنی و روایی قاعدہ حرمت اخذ اجرت بر واجبات»، فصلنامہ مطالعات اسلامی: فقہ و اصول، شمارہ 98، 1393ہجری شمسی۔
- فخرالمحققین، محمد بن حسن، ایضاح الفوائد، قم، موسسہ اسماعیلیان، 1387ھ۔
- فخلعی، محمدتقی و مجیدرضا شیخی، «بررسی اشکال تخصیصناپذیری قاعدہ حرمت اخذ اجرت بر واجبات»، دوفصلنامہ آموزہہای فقہ مدنی، شمارہ 4، 1390ہجری شمسی۔
- فخلعی، محمدتقی و مجیدرضا شیخی، «بررسی آرای فقہا در مورد منافات اخذ اجرت با قصد قربت با رویکردی بر دیدگاہ امام خمینی»، فصلنامہ پژوہشنامہ متین، شمارہ 51، 1390ہجری شمسی۔
- محمدی رزینی، ستار و معظمہ صفرزادہ و محمدعلی نجیبی، «اخذ اجرت در حضانت از منظر فقہ اسلامی»، دوفصلنامہ مطالعات فقہ امامیہ، شمارہ 20، 1402ہجری شمسی۔
- مدرسی یزدی، سید محمدرضا، بررسی گستردہ فقہی اجرت بر واجبات، مستحبات و فروعات متناسب، قم، دارالتفسیر، 1392ہجری شمسی۔
- مقدس اردبیلی، احمد، مجمع الفائدۃ و البرہان، قم، انتشارات اسلامی، 1403ھ۔
- موسوی بجنوردی، سید محمد، قواعد فقہیہ، تہران، موسسہ عروج، 1401ھ۔
- نجفی، محمدحسن، جَواہر الکلام فی شرحِ شرائعِ الاسلام، تصحیح عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دارُ اِحیاء التُّراثِ العربی، چاپ ہفتم، 1362ہجری شمسی۔