مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:متجزی مجتہد

ویکی شیعہ سے

مُتَجَزّی مجتہد، اس فقیہ کو کہا جاتا ہے جو فقہی مسائل کے صرف کچھ حصوں میں شرعی احکام کو ان کے ادلے سے استنباط کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو،[1] مطلق مجتہد کے برخلاف جس میں تمام شرعی احکام استنباط کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔[2] اکثر فقہاء اس بات کے معتقد ہیں کہ فقہ کے ایک خاص حصے میں اجتہاد کرنا امکان پذیر ہے اور متجزّی مجتہد فقہ کے تمام ابواب پر مکمل احاطہ کئے بغیر کسی خاص حصے میں اجتہاد کر سکتا ہے۔[3] ان کے مقابلے میں بعض فقہاء اس امر کو ناممکن قرار دیتے ہیں۔[4]

فقہاء کے مطابق جب ایک متجزّی مجتہد کسی مسئلے میں یقینی طور پر اجتہاد کے درجے تک پہنچ جاتا ہے تو اس شخص پر اس مسئلے میں اپنے فتوے کے مطابق عمل کرنا واجب ہے اور اس مسئلے میں وہ کسی اور مجتہد کی تقلید نہیں کر سکتا ہے۔[5] دوسروے لوگ متجزّی مجتہد کی تقلید کر سکتے ہیں یا نہیں اس بارے میں دو نظریے موجود ہیں: ایک گروہ اس بات کے معتقد ہیں کہ جس مسئلے میں یہ شخص اجتہاد کے درجے تک پہنچا ہے اس میں دوسرے لوگ بھی اس کی تقلید کر سکتے ہیں اور اسے اس مسئلے میں اپنا مرجع تقلید قرار دے سکتے ہیں؛[6] لیکن بعض فقہاء ایسے مجتہد کی تقلید کو جائز نہیں سمجھتے ہیں،[7] کیونکہ عقلاء یا متشرعہ کی سیرت متجزّی مجتہد کی طرف رجوع کرنے کے بارے میں موجود نہیں ہے اس بنا پر تقلید جائز ہونے کے دلائل اس شخص کو شامل نہیں کرتی ہے۔[8]

امام خمینی کے مطابق متجزی مجتہد ایسے فقہی اور جزائی مسائل کی ذمہ داری یا ولایت قبول نہیں کر سکتے جس کے لئے فقیہ جامع‌ الشرائط کی شرط ہو؛ البتہ آپ کہتے ہیں کہ جامع‌ الشرایط مجتہد نہ ہونے کی صورت میں متجزی مجتہد اس کام کے لئے دوسرے عام لوگوں منجملہ عادل مؤمنین پر مقدم ہے اور احتیاط واجب کی بنا پر متجزی مجتہد کا قضاوت اور امور حسبیہ کی ذمہ داری قبول کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔[9]

حوالہ جات

  1. خویی، موسوعۃ الامام الخوئی، مؤسسۃ الخوئی الاسلامیۃ، ج1، ص189؛ مشکینی، اصطلاحات الأصول، 1416ھ، ص19۔
  2. مکارم شیرازی، انوار الاصول، 1416ھ، ج3، ص609۔
  3. علامہ حلی، تہذیب الوصول، 1380شمسی، ص283؛ شہید اول، ذکری، 1419ھ، ج1، ص43؛ خراسانی، کفایۃ الاصول، 1409ھ، ص466۔
  4. خویی، کتاب الاجتہاد والتقلید، 1410ھ، ص33؛ نراقی، مستند الشیعۃ، 1415ھ، ج17، ص29۔
  5. مکارم شیرازی، انوار الاصول، 1416ھ، ج3، ص618۔
  6. نمونہ کے لئے رجوع کریں: عراقی، نہایۃ الافکار، 1417ھ، ج4، ص225؛ امام خمینی، موسوعۃ الامام الخمینی، 1434ھ، ج1، ص6۔
  7. طباطبایی، العروۃ الوثقی، 1419ھ، ج1، ص26۔
  8. خراسانی، کفایۃ الاصول، 1409ھ، ص466۔
  9. امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1392شمسی، ج1، ص460؛ فاضل لنکرانی، تفصیل الشریعۃ، 1430ھ، ص138۔

مآخذ

  • امام خمینی، سید روح‌اللہ، تحریر الوسیلۃ تہران، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی(رہ)، 1392ہجری شمسی۔
  • امام خمینی، سید روح‌اللہ، موسوعۃ الإمام الخمینی، تحقیق: موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی- دفتر قم، تہران، موسسۃ تنظیم و نشر آثار الإمام الخمینی( قدس سرہ)، 1434ھ۔
  • خراسانی، محمدکاظم، کفایۃ الاصول، قم، مؤسسۃ آل البیت علیہم‌السلام لإحیاء التراث، 1409ھ۔
  • خویی، سید ابوالقاسم، کتاب الاجتہاد و التقلید، قم، دار الہادی للمطبوعات، 1410ھ۔
  • خویی، سید ابوالقاسم، موسوعۃ الامام الخوئی، قم، مؤسسۃ الامام الخوئی الاسلامیۃ، بی‌تا۔
  • شہید اول، محمد بن مکی، ذکری الشیعۃ فی أحکام الشریعۃ، قم، مؤسسہ آل‌البیت(ع)، 1419ھ۔
  • طباطبایی یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ الوثقی فیما تعم بہ البلوی(المحشّی)، تحقیق: احمد محسنی سبزواری، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پہلی اشاعت، 1419ھ۔
  • عراقی، ضیاءالدین، نہایۃ الأفکار، مقرر: محمدتقی بروجردی نجفی، قم، جماعۃ المدرسین فی الحوزۃ العلمیۃ بقم. مؤسسۃ النشر الإسلامی، 1417ھ۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، تہذیب الوصول إلی علم الأصول، تحقیق: محمدحسین رضوی کشمیری، بندن، مؤسسہ امام علی(ع)، 1380ہجری شمسی۔
  • فاضل لنکرانی، محمد، تفصیل الشریعۃ- کتاب الامر بالمعروف و النہی عن المنکر- کتاب الشفعہ- کتاب الصلح، قم، مرکز فقہ الائمہ الاطہار(ع)، پہلی اشاعت، 1430ھ۔
  • مشکینی، علی، اصطلاحات الأصول و معظم أبحاثہا، قم، الہادی، چھٹی اشاعت، 1416ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، انوار الاصول، مقرر: احمد قدسی، قم، انتشارات نسل جوان، 1416ھ۔
  • نراقی، احمد بن محمدمہدی، مستند الشیعۃ فی احکام الشریعۃ، قم، موسسہ آل‌البیت(ع) پہلی اشاعت، 1415ھ۔