مسودہ:عطر لگانا
| ویکی شیعہ میں مقالات «شیعہ نقطہ نظر» سے تحریر کئے جاتے ہیں، اس موضوع کے دیگر پہلوؤں سے آشنائی کے لئے دوسرے منابع کی طرف رجوع کریں۔ |
| بعض عملی اور فقہی احکام |
|---|
عطر لگانا یا خشبو لگانا، ایک مستحب عمل ہے جس کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ عطر لگانے کو انبیائے کرام کی سنت میں بھی شمار کیا گیا ہے۔ بعض مخصوص اوقات جیسے نماز کے وقت، مسجد میں داخل ہوتے وقت، روز جمعہ، عید فطر اور عید قربان کے موقع پر اس کی مزید تاکید کی گئی ہے۔
فقہاء کے فتوؤں کے مطابق عورت کا شوہر کے لئے خوشبو لگانا مستحب ہے؛ لیکن نامحرم کے لئے خوشبو استعمال کرنا اور عدّۂ وفات کے دوران عطر لگانا حرام ہے۔ اسی طرح حالت اِحرام میں عطر کا استعمال ممنوع ہے اور اگر کوئی شخص عمداً ایسا کرے تو اس پر کفّارہ واجب ہوتا ہے۔
روایات کے مطابق عطر کی خریداری اور اسے بطور ہدیہ دینا بھی مستحب ہے، اسی طرح عطر استعمال کرتے وقت صلوات بھیجنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ عبادت کے دوران خوشبو استعمال کرنا اس کے ثواب میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔
اہمیت
عطر کا استعمال ایک مستحب عمل ہے جو انبیاء کے اخلاق اور مستحبات میں بھی شمار ہوتا ہے۔[1] ’’عطر‘‘ ہر اس خوشبو دار مادّے کو کہا جاتا ہے جسے چھڑکنے، ملنے اور بخور دینے یا دھونی دینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔[2]
عطر پر خرچ کرنا مستحب قرار دیا گیا ہے،[3] اور احادیث میں آیا ہے کہ رسول اکرمؐ کھانے سے زیادہ خوشبو پر خرچ فرماتے تھے۔[4]
عطر لگانا صفائی اور زینت میں شمار ہوتا ہے[5] اور متعدد روایات میں اس کی سفارش کی گئی ہے۔[6]
آداب اور مستحبات
روایات میں عطر کے استعمال کے چند آداب بیان ہوئے ہیں،[7] جن میں مونچھوں کے مقام پر عطر لگانا[8] اور عطر استعمال کرتے وقت صلوات بھیجنا شامل ہے۔[9]
اسی طرح نقل ہے کہ عبادت کی حالت میں خوشبو استعمال کرنا اس کے ثواب میں اضافہ کا باعث ہوتا ہے۔[10] امام جعفر صادقؑ سے روایت ہے کہ خوشبو لگاکر پڑھی گئی نماز، بغیر خوشبو والی سات ہزار نمازوں پر فضیلت رکھتی ہے۔[11]
بعض لوگ غلط فہمی کی وجہ سے عطر کو بطور ہدیہ دینا پسند نہیں ہیں،[12] جبکہ اس کے برخلاف رسول خداؐ نے اسے بہترین تحفہ قرار دیا ہے،[13] اور اسے ردّ کرنے کو مکروہ قرار دیا گیا ہے۔[14] روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ معصومینؑ عطر کے ہدیے کو رد نہیں کرتے تھے۔[15]
عطر کا استعمال مستحب ہونے میں اس کے مختلف اقسام میں کوئی فرق نہیں ہے،[16] تاہم روایات میں معصومینؑ کی جانب سے مُشک،[17] عنبر،[18] گلاب[19] اور غالیہ (مشک، عنبر، عود اور روغن کا مرکّب) کے استعمال کی سفارش کی گئی ہے۔[20] امام صادقؑ نے مشک، عنبر، زعفران اور عود کو خوشبوؤں میں شمار کیا ہے[21] اور ان کے بخار دینے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔[22]
مستحب مواقع
اگرچہ عطر کا استعمال ایک مستحب عمل ہے،[23] لیکن بعض مخصوص اوقات جیسے دن کی ابتدا،[24] نماز کے وقت، دعا سے پہلے،[25] وضو کے بعد،[26] مسجد میں داخل ہوتے وقت، [27] عید فطر اور عید قربان[28] نیز جمعہ[29] کے دن اس کی مزید تاکید آئی ہے۔ بعض احادیث میں مذکورہ اوقات میں خوشبو کے استعمال پر زیادہ ثواب کا ذکر کیا گیا ہے۔[30]
فقہی احکام
خواتین کے لئے خوشبو کا استعمال
خاتون کا شوہر کے سامنے خوشبو لگانا مستحبِ مؤکد،[31] زوجہ پر شوہر کے حقوق اور شوہرداری کے آداب میں شمار ہوتا ہے۔[32] لیکن نامحرم کے سامنے عورت کا خوشبو استعمال کرنا حرام ہے۔[33] ایک روایت کے مطابق جو عورت شوہر کے علاوہ کسی اور کے لئے خوشبو لگا کر گھر سے نکلے تو وہ واپسی تک لعنت کا نشانہ بنتی ہے۔[34] بعض فقہاء احادیث[35] سے استناد کرتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ غیر شوہر کے لئے خشبو لگانے کی صورت میں عورت پر غسل کرنا مستحب ہے؛[36] لیکن محقق بحرانی کے نزدیک یہاں غسل سے مراد شرعی غسل نہیں بلکہ بدن سے خوشبو کو دھو کر زائل کرنا ہے۔[37]
عدّۂ وفات کے دوران بھی عورت کے لئے عطر استعمال کرنا حرام ہے۔[38]
روزہ دار کے لئے عطر لگانے کا حکم
روزہ دار کے لئے خوشبو لگانا مستحب ہے؛[39] لیکن خشبودار پھولوں خاص طور پر گل نرگس یا مشک وغیرہ کو سونگھنا مکروہ قرار دیا گیا ہے۔[40] اسی طرح ایسی تیز معطر اشیاء سے پرہیز کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے جن کی بو حلق تک پہنچنے کا اندیشہ ہو۔[41]
حالتِ احرام میں عطر لگانے کا حکم
احرام کی حالت میں خوشبو کا استعمال حرام ہے،[42] جس میں خوشبودار مادوں کا سونگھنا، ملنا یا انہیں کھانوں میں استعمال کرنا سب شامل ہیں۔[43] اگر کوئی شخص احرام کی حالت میں عمداً عطر استعمال کرے تو اس کا کفّارہ ایک بھیڑ ہے۔[44]
حوالہ جات
- ↑ کاشف الغطاء، کشف الغطاء، 1422ھ، ج2، ص420_421۔
- ↑ لغتنامہ دہخدا، ذیل مادہ «عطر»۔
- ↑ سبزواری، مہذب الاحکام، 1413ھ، ج4، ص486۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج6، ص512؛ بحرانی، الحدائق الناضرہ، 1405ھ، ج5، ص577۔
- ↑ حسینی شیرازی، الفقہ، النظافہ، ص93۔
- ↑ حر عاملی، وسائل الشیعہ، 1409ھ، ج2، ص141_144۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج6، ص510؛ حر عاملی، وسائل الشیعہ، 1409ھ، ج2، ص141_156۔
- ↑ بحرانی، الحدائق الناضرہ، 1405ھ، ج5، ص576۔
- ↑ مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج76، ص144۔
- ↑ اشتہاردی، مدارک العروہ، 1417ھ، ج14، ص109۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج6، ص511۔
- ↑ کیوں عطر سے دوری پیدا ہوتی ہے؟/ عطر تحفہ دینے سے آپس میں دوری پیدا ہونے کے پسِ پردہ حقیقت کیا ہے؟»،جوان صحافیوں کا نیوز کلب۔
- ↑ حرانی، تحف العقول، 1404ھ، ص60۔
- ↑ کاشف الغطاء، کشف الغطاء، 1422ھ، ج2، ص421۔
- ↑ کاشف الغطاء، کشف الغطاء، 1422ھ، ج2، ص421؛ حر عاملی، وسائل الشیعہ، 1409ھ، ج2، ص147۔
- ↑ سبزواری، مہذب الاحکام، 1413ھ، ج4، ص486۔
- ↑ حر عاملی، ہدایۃ الامہ، 1412ھ، ج1، ص163۔
- ↑ طبرسی، مکارم الاخلاق، مؤسسہ اعلمی، ج1، ص33_34۔
- ↑ طبرسی، مکارم الاخلاق، مؤسسہ اعلمی، ج1، ص42_43۔
- ↑ حر عاملی، وسائل الشیعہ، 1409ھ، ج2، ص146و151۔
- ↑ حر عاملی، وسائل الشیعہ، 1409ھ، ج2، ص152۔
- ↑ حر عاملی، وسائل الشیعہ، 1409ھ، ج2، ص155_156۔
- ↑ کاشف الغطاء، کشف الغطاء، 1422ھ، ج2، ص420۔
- ↑ سبزواری، مہذب الاحکام، 1413ھ، ج4، ص485۔
- ↑ شیخ بہایی، مفتاح الفلاح، دار الاضواء، ص302۔
- ↑ کاشف الغطاء، کشف الغطاء، 1422ھ، ج2، ص421۔
- ↑ یزدی، العروۃ الوثقی (المحشی)، 1419ھ، ج2، ص408۔
- ↑ حلی، الجامع للشرائع، 1405ھ، ص107۔
- ↑ علامہ حلی، نہایۃ الاحکام، 1419ھ، ج2، ص49۔
- ↑ طبرسی، مکارم الاخلاق، مؤسسہ اعلمی، ج1، ص41_43۔
- ↑ بحرانی، الحدائق الناظرہ، 1405ھ، ج23، ص121۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج31، ص147۔
- ↑ مکارم شیرازی، احکام النساء، 1426ھ، ص250۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج5، ص518۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج5، ص507۔
- ↑ یزدی، العروۃ الوثقی (محشی)، 1419ھ، ج2، ص158؛ فاضل لنکرانی، جامع المسائل فارسی، امیر قلم، ج2، ص104؛ مکارم شیرازی، احکام النساء، 1426ھ، ص81۔
- ↑ بحرانی، الحدائق الناظرہ، 1405ھ، ج4، ص237۔
- ↑ محقق حلی، شرائع الاسلام، 1408ھ، ج3، ص27؛ سیستانی، المسائل المنتخبہ، 1422ھ، ص422؛ «سوال و جواب (طلاق و عدہ)»، پرہبر معظم کی آفیشل ویب سائٹ۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج16، ص321۔
- ↑ امام خمینی، تحریر الوسیلہ، دارالعلم، ج1، ص288۔
- ↑ گلپایگانی، ہدایۃ العباد، 1413ھ، ج1، ص263؛ بہجت، وسیلۃ النجاۃ، 1423ھ، ص309۔
- ↑ طوسی، الخلاف، 1407ھ، ج2، ص302۔
- ↑ علامہ حلی، تذکرۃ الفقہاء، 1414ھ، ج7، ص303۔
- ↑ طوسی، المبسوط، 1387ھ، ج1، ص351؛ شہید اول، الدروس الشرعیہ، 1417ھ، ج1، ص375۔
مآخذ
- اشتہاردی، علیپناہ، مدارک العروہ، تہران، دار الاسوہ، 1417ھ۔
- امام خمینی، سید روحاللہ، تحریر الوسیلہ، دارالعلم، قم، ایران، بیتا۔
- بحرانی، یوسف بن احمد، الحدائق الناضرہ فی احکام العترۃ الطاہرہ، قم، جامعۂ مدرسین حوزۂ علمیہ قم سے وابستہ اسلامی نشریات کا دفتر، 1405ھ۔
- بہبہانی، محمدباقر بن محمداکمل، مصابیح الظلام، قم، مؤسسۃ العلامۃ المجدد الوحید البہبہانی، 1424ھ۔
- بہجت، محمدتقی، وسیلۃ النجاۃ، قم، انتشارات شفق، 1423ھ۔
- «سوال و جواب (طلاق و عدہ)»، پرہبر معظم کی آفیشل ویب سائٹ، تاریخ اخذ: 8 جون 2025ء۔
- «کیوں عطر دوری کا سبب بنتا ہے؟/ عطر ہدیہ دینے سے آپس میں دوری پیدا ہونے کی اصل حقیقت کیا ہے؟»، جوان صحافیوں کا نیوز کلب، تاریخ درج مطلب: 13 اگست 2018ء، تاریخ اخذ: 2 جون 2025ء۔
- حسینی شیرازی، سید محمد، الفقہ، النظافہ، نرمافزار فقہ اہل البیت(ع) 2.
- حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعہ، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، 1409ھ۔
- حر عاملی، محمد بن حسن، ہدایۃ الامہ الی احکام الائمہ، مشہد، مجمع البحوث الاسلامیہ، 1412ھ۔
- حرانی، ابنشعبہ، تحف العقول عن آل الرسول، قم، جامعۂ مدرسین حوزۂ علمیہ قم سے وابستہ اسلامی نشریات کا دفتر، 1404ھ۔
- حلی، یحیی بن سعید، الجامع للشرائع، تصحیح: جعفر سبحانی تبریزی، قم، مؤسسہ سیدالشہداء العلمیہ، 1405ھ۔
- دہخدا، علی اکبر، لغتنامہ دہخدا۔
- سبزواری، سید عبدالاعلی، مہذب الاحکام فی بیان الحلال و الحرام، قم، موسسہ المنار، 1413ھ۔
- سیستانی، سید علی، المسائل المنتخبہ، قم، دفتر آیتاللہ سیستانی، 1422ھ۔
- شہید اول، محمد بن مکی، الدروس الشرعیۃ فی الفقہ الامامیہ، قم، مؤسسہ نشر اسلامی، 1417ھ۔
- شیخ بہایی، محمد بن حسین، مفتاح الفلاح فی عمل الیوم و اللیلہ، بیروت، دار الاضواء، بیتا۔
- شیخ صدوق، محمد بن بابویہ، الخصال، قم، جامعۂ مدرسین حوزۂ علمیہ قم سے وابستہ اسلامی نشریات کا دفتر، 1362ہجری شمسی۔
- طبرسی، حسن بن فضل، مکارم الاخلاق، لبنان، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، بیتا۔
- طوسی، محمد بن حسن، الخلاف، قم، جامعۂ مدرسین حوزۂ علمیہ قم سے وابستہ اسلامی نشریات کا دفتر، 1407ھ۔
- طوسی، محمد بن حسن، المبسوط فی فقہ الامامیہ، تہران، المكتبۃ المرتضويہ لاحياء الآثار الجعفريہ، 1387ھ۔
- علامہ حلی، حسن بن یوسف، تذکرۃ الفقہاء، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، 1414ھ۔
- علامہ حلی، حسن بن یوسف، نہایۃ الاحکام فی معرفۃ الاحکام، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، 1419ھ۔
- فاضل لنکرانی، محمد، جامع المسائل فارسی، قم، انتشارات امیر قلم، بیتا۔
- کاشف الغطاء، جعفر بن خضر، کشف الغطاء عن مبہمات الشریعۃ الغراء، قم، انتشارات دفتر تبلیغات حوزہ علمیہ قم، 1422ھ۔
- گلپایگانی، سید محمدرضا، ہدایۃ العباد، قم، دارالقرآن الکریم، 1413ھ۔
- مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، تہران، مؤسسۃ الوفاء، 1403ھ۔
- محقق حلی، جعفر بن حسن، شرائع الاسلام، قم، مؤسسہ اسماعیلیان، 1408ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، احکام النساء، قم، انتشارات مدرسہ امام علی بن ابیطالب(ع)، 1426ھ۔
- نجفی، محمدحسن، جَواہر الکلام فی شرحِ شرائعِ الاسلام، تصحیح عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دارُ اِحیاء التُّراثِ العربی، ساتویں اشاعت، 1404ھ۔
- یزدی، سید محمدکاظم طباطبایی، العروۃ الوثقی (المحشی)، قم، جامعۂ مدرسین حوزۂ علمیہ قم سے وابستہ اسلامی نشریات کا دفتر، 1419ھ۔