فاقد خانہ معلومات

میکائیل

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

میکائیل خدا کے مقرب فرشتوں میں سے ایک ہے جن کی ذمہ داری خدا کے بندوں تک رزق پہنچانا ہے اور قرآن میں بھی ان کا تذکرہ آیا ہے۔ احادیث میں میکائیل کو فرشتہ رحمت، حاملان عرش الہی اور سب سے پہلے حضرت آدم کو سجدہ کرنے والے فرشتوں میں شمار کیا گیا ہے۔

قوم لوط اور فرعون کی ہلاکت میں مشارکت، پیغمبر اکرمؐ کو شرح صدر عطا کرنا، لیلۃ المبیت کو آپؐ کی حفاظت، جنگ بدر میں مسلمانوں کی مدد اور معراج کے سفر میں پیغمبر اکرمؐ کو براق لے کر آنا ان کی دوسری ذمہ داریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ کتاب مقدس میں میکائیل کو فرشتوں کا سردار قرار دیا گیا ہے۔

مقام

میکائیل خدا کے مقرب فرشتوں میں سے ایک ہے جنہیں قرآن[1] میں "میکال" کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔[2] اہل سنت کے اکثر اور بعض شیعہ مفسرین نے احادیث کی روشنی میں میکائیل کو فرشتہ رحمت قرار دیا ہے۔[3] اسی طرح بعض احادیث کے مطابق لوح محفوظ کے چار رکن ہیں اور میکائیل ان میں سے رکن ارادہ کا مظہر ہے۔[4] اس کے علاوہ میکائیل خدا کے اسم اعظم "رب" کا مظہر اور حاملان عرش الہی میں سے ہیں۔[5]

میکائیل جبرئیل، اسرافیل اور عزرائیل کے ساتھ خدا کی بارگاہ میں چار مقرب فرشتوں میں سے ہیں جنہیں "رؤوس ملائکہ"(ملائکہ کے سردرا) سے تعبیر کی جاتی ہے۔[6] احادیث میں جبرئیل کے بعد میکائیل کو خدا کا دوسرا مقرب فرشتہ بھی کہا گیا ہے۔[7] قرآن میں میکائیل کے بارے میں آیا ہے کہ: "جو کوئی اللہ، اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں اور (خاص کر) جبرئیل و میکائیل کا دشمن ہو تو بے شک اللہ بھی کافروں کا دشمن ہے"۔[8]

بعض احادیث کے مطابق میکائیل، جبرئیل اور اسرافیل ایک تسبیح سے خلق ہوئے ہیں[9] اور پیغمبر اکرمؐ ہمیشہ نیمہ شب کی دعاؤں میں خدا سے یوں مخطاب ہوتے تھے "یا رب جبرئیل و میکائیل و اسرافیل"۔[10] امام علیؑ ایک حدیث میں فرماتے ہیں کہ میکائیل ملائکہ کا امام ہے اور فرشتے بیت المعمور پر ان کی اقتدا کرتے ہیں۔[11] امام سجادؑ نیز ان کے حق میں یوں دعا فرماتے ہیں کہ "خدایا میکائیل پر سلام و درود ہو جو تیری بارگاہ میں بلند مقام کا حامل ہے"۔[12]

ذمہ داریاں

شیعہ احادیث کے مطابق خداوند عالم میکائیل کے ذریعے اپنے بندوں تک رزق پہنچاتے ہیں۔[13] اسی طرح قیامت کے دن دوزخ پر پل صراط نصب کرنا بھی میکائیل کی ذمہ درای ہے۔[14] بعض احادیث میں نزول باران [15] اور بعض دوسرے امور کی ذمہ داری بھی میکائیل پر عاید کی گئی ہیں من جملہ ان میں سے بعض درج ذیل ہیں؛

احادیث میں آیا ہے کہ میکائیل اور جبرئیل حضرت آدم کو سجدہ کرنے والے سب سے پہلے فرشتے تھے۔[17] اسی طرح پیغمبر اکرمؐ کی شرح صدر بھی انہیں دو فرشتوں کے ذریعے انجام پائی۔[18]

دوسرے ادیان میں میکائیل کا تذکرہ

مسیحیت اور یہودیت کے منابع میں میکائیل کو خدا کے مقرب اور بڑے فرشتوں میں شمار کیا گیا ہے اور چہ بسا انہیں "میشل" کے نام سے یاد گیا ہے۔[19] یہودیوں کے یہاں میکائیل کو ہمیشہ سے قوم یہود کا مدافع اور حمایتی تصور کیا جاتا ہے اور ان کا رتبہ ان کے یہاں جبرئیل سے بھی بالاتر ہے۔[20] کتاب مقدس کے دسویں اور کتاب دانیال کے بارہویں باب میں میکائیل کو فرشتوں کا سردار قرار دیا گیا ہے جو دانیال کی مدد کے لئے آئے اور دشمنوں پر ان کو فتح دلا دی۔[21] یہودا کے رسالے میں آیا ہے کہ میکائیل فرشتوں کے سردار کی حیثیت سے حضرت موسی کی جسد خاکی کے بارے میں شیطان سے جھگڑا کرتے ہوئے اس سے کہتا ہے کہ "یہوہ" تمہیں توبیخ کرے۔[22] یوحنا کے مکاشفے میں بھی میکائیل اور فرشتوں کے لشکر کا تذکرہ آیا ہے جو اژدہا سے جنگ کرتے ہیں۔[23]

حوالہ جات

  1. سورہ بقرہ، آیہ۹۸۔
  2. رجالی تہرانی، فرشتگان تحقیقی قرآنی روایی و عقلی، ۱۳۷۶ش، ص۱۰۵۔
  3. زمخشری، کشاف، ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۳۹۴؛ کاشانی، زبدۃالتفاسیر، ۱۴۲۳ق، ج۶، ص۴۶۴، بہ نقل از رستمی و آل‌بویہ، سیری در اسرار فرشتگان، ۱۳۹۳ش، ص۲۴۱۔
  4. ابن فناری، مصباح الانس، ۱۳۷۴ش، ص۴۰۲۔
  5. موسوی خمینی، آداب الصلوۃ، ۱۳۸۷ش، ص۲۷۵۔
  6. رجالی تہرانی، فرشتگان تحقیقی قرآنی روایی و عقلی، ۱۳۷۶ش، ص۱۰۵۔
  7. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۸، ص۲۶۰۔
  8. مَنْ کانَ عَدُوًّا لِلَّہِ وَ مَلائِکَتِہِ وَ رُسُلِہِ وَ جِبْریلَ وَ میکالَ فَإِنَّ اللَّہَ عَدُوٌّ لِلْکافِرینَ؛(سورہ بقرہ، آیہ۹۸)۔
  9. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۷، ص۸۔
  10. پاکتچی، «اسرافیل» در دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی،‌ ۱۳۷۷ش، ج۸، ص۲۸۶۔
  11. رجالی تہرانی، فرشتگان تحقیقی قرآنی روایی و عقلی، ۱۳۷۶ش، ص۱۰۵۔
  12. صحیفہ سجادیہ، ۱۳۸۷ش، دعای سوم، ص۲۰۔
  13. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۸، ص۲۶۰۔
  14. طبرسی، مجمع البیان، ترجمہ علی کرمی، ۱۳۶۰ش، ج۲۰، ص۴۶۹۔
  15. پاکتچی، «اسرافیل» در دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی، ج۸، ص۲۸۸۔
  16. ر۔ک۔ ہاشمی رفسنجانی، فرہنگ قرآن، ۱۳۸۹ش، ج۳۰، ص۲۳۲-۲۴۳؛ پاکتچی، «اسرافیل» در دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی، ج۸، ص۲۸۸؛ رستمی و آل‌بویہ، سیری در اسرار فرشتگان، ۱۳۹۳ش، ص۲۳۹-۲۴۵۔
  17. خرمشاہی، «میکال» در دانشنامہ قرآنی، ۱۳۷۷ش، ص۲۱۹۵۔
  18. خرمشاہی، «میکال» در دانشنامہ قرآنی، ۱۳۷۷ش، ص۲۱۹۵۔
  19. ابراہیم، «جبرئیل» در دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی، ص۵۴۴۔
  20. ابراہیم، «جبرئیل» در دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی، ص۵۴۴۔
  21. کتاب مقدس، کتاب دانیال، فصل دہم بند ۱۳ و ۲۱؛ کتاب دانیال، فصل دوازدہم، بند ۱۔
  22. کتاب مقدس، رسالہ یہودا، بند ۸۔
  23. کتاب مقدس، مکاشفہ یوحنا، فصل دوازدہم، بند ۷۔


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی۔
  • ابن فناری، محمد بن حمزہ، مصباح الانس، تہران، نشر مولی، ۱۳۷۴ہجری شمسی۔
  • خرمشاہی، قوام‌الدین، «میکال» در دانشنامہ قرآنی، تہران، نشر دوستان، ۱۳۷۷ہجری شمسی۔
  • دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی،‌ بہ کوشش کاظم موسوی بجنوردی، تہران، مرکز دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی، ۱۳۷۷ہجری شمسی۔
  • رجالی تہرانی، علیرضا، فرشتگان تحقیقی قرآنی روایی و عقلی، قم، انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی، ۱۳۷۶ہجری شمسی۔
  • رستمی، محمد زمان و طاہرہ آل بویہ، سیری در اسرار فرشتگان با رویکردی قرآنی و عرفانی، قم، پژوہشگاہ علوم و فرہنگ اسلامی، ۱۳۹۳ہجری شمسی۔
  • زمخشری، محمود، الکشاف، بیروت، دارالکتب العربی، ۱۴۰۷ھ۔
  • صحیفہ سجادیہ، مشہد، انتشارات آستان قدس، ۱۳۸۷ہجری شمسی۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان، قم، انتشارات جامعہ مدرسین، ۱۴۱۷ھ۔
  • ترجمہ کتاب مقدس، عہد جدید، تہران، نشر نی، ۱۳۸۷ہجری شمسی۔
  • موسوی خمینی، روح‌اللہ، آداب الصلواۃ، تہران، مؤسسہ تنظیم نشر و آثار امام خمینی، ۱۳۸۷ہجری شمسی،
  • ہاشمی رفسنجانی، اکبر، فرہنگ قرآن، قم، بوستان کتاب، ۱۳۸۹ہجری شمسی۔