روح القدس

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

رُوح‌ُ القُدُس کے معنی پاک روح کے ہیں لیکن اس کی حقیقت کے بارے میں اختلاف‌ نظر پایا جاتا ہے۔ جبرئیل، عالم امر کا ایک موجود، غیبی طاقت، عقل فعال، روح‌الارواح اور فرشتوں کے سردار اس کے مصادیق کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اسلامی منابع میں انبیاء تک وحی کا ابلاغ، مؤمنین کی مدد، انبیاء اور ان کے اولیاء تک علوم اور احکام الہی پہنچنے کا مبداء و منشاء اور قیامت کے دن شفاعت جیسے وظائف کی نسبت روح‌القدس کی طرف دی گئی ہے۔

روح‌القدس عیسائی تعلیمات میں "اُقنوم ثلاثہ" میں سے تیسرا اقنوم ہے لیکن بعض عیسائی متکلمین اس کی الوہیت کے قائل نہیں ہیں۔

مقام و منزلت

روح‌‌القدس کے معنی پاک روح کے ہیں جو ہر قسم کے عیب و نقص سے پاک و منزہ ہوتا ہے۔[1] کتاب مقدس کے قاموس میں آیا ہے کہ روح‌القدس کو مقدس کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا کام مؤمنین کے قلوب کی تقدیس ہے اور خدا اور حضرت مسیح کے ساتھ رکھنے والے رابطہ اور واسطہ کی وجہ سے اسے روح اللہ اور روح مسیح بھی کہا جاتا ہے۔[2]

یہ لفظ قرآن اور کتاب مقدس میں استعمال ہوا ہے؛ قرآن میں قرآن کا نزول[3] اور حضرت عیسی کی تائید [4] من جملہ ان امور میں سے ہیں جو روح‌القدس کے توسط سے انجام پائے ہیں۔

روح‌القدس کی حقیقت

روح‌القدس کی حقیقت اور ماہیت کے بارے میں مختلف احتمالات دئے گئے ہیں:

  • جبرئیل: بعض مفسرین نے روح‌القدس سے مراد جبرئیل لئے ہیں۔[5] جبرئیل کو روح‌القدس کہنا ان کی روحانیت اور قداست نیز دین کو زندہ رکھنے میں ان کے کردار کی وجہ سے ہے۔[6]
  • عالم امر کا ایک موجود: علامہ طباطبایی روح‌القدس کو ملائکہ کے علاوہ عالم امر کا ایک اور موجود قرار دیتے ہیں جو انبیاء تک وحی پهنچانے میں ملائکہ کا ساتھ دیتے تھے۔[7]
  • فرشتوں کا سردار: امام صادقؑ سے مروی ایک حدیث میں روح القدس کو جبرئیل اور میکائیل سے بڑا ایک فرشتہ قرار دیا گیا ہے جو پیغمبر اسلامؐ کے ساتھ ہوتے تھے اور پیغمبر اکرمؐ کے بعد ائمہ معصومینؑ کے ساتھ ہیں۔[8] بعض احادیث میں روح‌القدس کو وہی روح قرار دیتے ہیں جو قرآن کے مطابق[9] شب قدر کے دن ملائکہ کے ساتھ نازل ہوتے ہیں۔[10]
  • غیبی طاقت: "روح‌القدس" اسم اعظم[11] یا غیبی طاقت[12] ہے جس کے توسط سے حضرت عیسی مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ یہ غیبی طاقت کمزور شکل میں تمام مؤمنین کے ساتھ ہوتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور ان کو گناہوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔[13]
  • مخلوق اول: سید حیدر آملی کے مطابق حکما اس بات پر اتفاق‌ نظر رکھتے ہیں کہ مخلوق اول عقل ہے البتہ اسے مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا ہے من جملہ ان میں روح‌القدس اور عقل فعال بھی ہیں۔[14]
  • روح الارواح: بعض عرفانی آثار میں روح‌القدس کو روح‌الارواح کے نام سے بھی یاد کیا گیا ہے جو خدا کا مخلوق نہیں بلکہ خدا تجلیوں میں سے ایک تجلی ہے جس کے ساتھ مخلوقات کی روح قائم ہے۔[15]

وظایف

قرآن کریم اور احادیث میں روح‌القدس کی طرف بعض وظائف کی نسبت دی گئی ہے۔

  • انبیاء کی طرف وحی کا ابلاغ: اگر روح القدس سے مراد جبرئیل ہو تو انبیاء تک خدا کا پیغام یعنی وحی پہنچانے کی ذمہ داری روح القدس کی ہے۔[حوالہ درکار]
  • انبیاء اور اولیائے الہی کا موئد: قرآن کی بعض آیات میں روح القدس کے ذریعے حضرت عیسی کی تائید کا تذکرہ آیا ہے، مفسرین کے مطابق تأیید سے مراد تقویت اور مدد کے ہیں۔[16] بعض نے یہاں پر انجیل کو روح‌القدس کا مصداق قرار دیا ہے۔[17]
  • مبدا علم انبیاء: بعض احادیث میں انبیاء اور ان کے اوصیا میں پانج روح کا نام لیا گیا ہے ان میں سے ایک روح‌القدس ہے جس کے ذریعے انبیاء اشیاء کو پہچان لیتے ہیں۔[18]
  • اہل‌ بیتؑ تک حکم الہی پہنچانا: بعض احادیث کے مطابق اہل‌بیت حکم خدا، حضرت داود کے فیصلہ جات اور روح‌القدس کے ذریعے ان کے دلوں پر نازل ہونے والی چیزوں کے ذریعے فیصلے کرتے ہیں۔[19]
  • قیامت کے دن شفاعت: پیغمبر اسلامؐ سے منقول ایک حدیث کے مطابق قیامت کے دن سب سے پہلے شفاعت کرنے والا روح‌القدس ہے۔[20]
  • مؤمنین کی مدد: احادیث کے مطابق جب تک مؤمنین پیغمبر اکرمؐ اور اہل بیتؑ کی حمایت کرتے ہیں روح‌القدس ان کی مدد کرتے ہیں۔[21]

الوہیت

عیسائی تعلیمات میں روح‌القدس "اقنوم ثلاثہ"(پدر، پسر و روح‌القدس) میں سے تیسرا اقنوم ہے۔[22] کتاب مقدس میں حیات کو ان کی طرف نسبت دی گئی ہے۔[23] کتاب مقدس کے مطابق مؤمنین توبہ کے وقت روح‌القدس کو حاضر پاتے ہیں اور وہ انہیں گناہ کی آلودگیوں سے پاک کرتا ہے۔[24] البتہ عیسائی متکلمین روح القدس کی الوہیت میں اختلاف‌ نظر رکھتے ہیں۔ ان میں سے بعض روح‌القدس کی الہی شخصیت کا انکار کرتے ہوئے انہیں فرشتہ قرار دیتے ہیں۔[25] لیکن بعض روح‌القدس کو مستقل موجود نہیں بلکہ خدا کی تجلیوں میں سے ایک تجلی قرار دیتے ہوئے ان کی الوہیت کے قائل ہیں۔[26]

مونو گرافی

فاطمہ علی‌ پور کی کتاب "تحلیل فلسفی و عرفانی روح‌القدس در متون دینی" میں زرتشتیوں، یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں کے یہاں روح القدس کی اہیمت پر روشنی ڈالی گئی ہے اسی طرح اس کتاب میں روح القدس کے بارے میں مسلمان دانشوروں کے فلسفی اور عرفانی بیانات کا تجزیہ تحلیل کیا گیا ہے۔[27]

حوالہ جات

  1. زمخشری، الکشاف، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۱۶۲۔
  2. ہاکس، قاموس کتاب مقدس، ۱۳۹۴ش، ص۴۲۴۔
  3. سورہ نحل، آیہ ۱۰۲۔
  4. سورہ بقرہ، آیات۸۷، ۲۵۳؛ سورہ مائدہ، آیہ ۱۱۰۔
  5. ملاحظہ کریں: طوسی، التبیان، بیروت، ج۱، ص۳۴۰؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۱، ص۳۳۹۔
  6. ملاحظہ کریں: ابوحیان اندلسی، البحر المحیط، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۴۸۱؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۱، ص۳۳۹۔
  7. طباطبایی، المیزان، ج۱۳، ص۱۹۶-۱۹۸۔
  8. قمی، تفسیر القمی، ۱۴۰۴ق، ج۲، ص۲۷۹۔
  9. سورہ قدر، آيہ۴۔
  10. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۹۴، ص۱۴۔
  11. ابوحیان اندلسی، البحر المحیط، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۴۸۱۔
  12. ملاحظہ کریں: مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۱، ص۳۳۹۔
  13. ملاظہ کریں: مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۱، ص۳۳۹۔
  14. آملی، جامع الاسرار، ۱۳۴۷ش، ج۱، ص۶۸۸۔
  15. جیلی، الانسان الکامل فی معرفۃ الاواخر و الاوائل، ۱۴۱۸ق، ص۱۵۰۔
  16. فخر رازی، مفاتیح الغیب، ۱۴۲۰ق، ج۳، ص۵۹۶؛ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱، ص۲۰۷۔
  17. نگاہ کنید بہ: مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۱، ص۳۳۹؛ طوسی، التبیان، بیروت، ج۱، ص۳۴۰۔
  18. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۲۷۲۔
  19. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۳۹۸۔
  20. حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، بیروت، ج۴، ص۴۹۶-۴۹۸۔
  21. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۱۰۲۔
  22. ہاکس، قاموس کتاب مقدس، ۱۳۹۴ش، ص۴۲۴۔
  23. ہاکس، قاموس کتاب مقدس، ۱۳۹۴ش، ص۴۲۴۔
  24. ہاکس، قاموس کتاب مقدس، ۱۳۹۴ش، ص۴۲۴۔
  25. مک‌گراث، درآمدی بر الہیات مسیحی، ۱۳۸۵ش، ص۳۰۹-۳۱۰۔
  26. سلیمانی اردستانی، درآمد بر الہیات تطبیقی اسلام و مسیحیت، ۱۳۸۲ش، ص۱۲۶-۱۲۷۔
  27. «تحلیل فلسفی و عرفانی روح‌القدس در متون دینی، منتشر شد»

مآخذ

  • آملی، سید حیدر بن علی، جامع الاسرار و منبع النور، تہران، چاب ہانری کوربن و عثمان اسماعیل یحیی، ۱۳۴۷ش۔
  • ابوحیان اندلسی، محمد بن یوسف، البحر المحیط فی التفسیر، تحقیق صدقی محمد جمیل، بیروت، دارالفکر، ۱۴۲۰ق۔
  • جیلی، الانسان الکامل فی معرفۃ الاواخر و الاوائل، عبدالکریم بن ابراہیم، عویضہ صلاح محمد، بیروت، دارالکتب العلمیہ منشورات محمدعلی بیضون، ۱۴۱۸ق/۱۹۷۷م۔
  • حاکم نیشابوری، محمد بن عبداللہ، المستدرک علی الصحیحین، بیروت، دارالمعرفۃ، بی‌تا۔
  • دیوان غزلیات حافظ۔
  • زمخشری، محمود، الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل، بیروت، دارالكتاب العربی، ۱۴۰۷ق۔
  • سلیمانی اردستانی، عبدالرحیم، درآمدی بر الہیات تطبیقی اسلام و مسیحیت، قم، کتاب طہ، ۱۳۸۲ش۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۰ق۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران،‌ ناصرخسرو، ۱۳۷۲ش۔
  • طوسی، محمد بن حسن، التبيان فى تفسير القرآن، بیروت، دار احياء التراث العربى، بی تا۔
  • فخر رازی، محمد بن عمر، مفاتیح الغیب، بیروت، دار احياء التراث العربى، ۱۴۲۰ق۔
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، تصحیح طيّب‏ موسوى جزائرى، قم، دارالکتاب، ۱۴۰۴ق۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دارالكتب الإسلاميۃ، ۱۴۰۷ق۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، بیروت، دار إحياء التراث العربی، ۱۴۰۳ق۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۳۷۴ش۔
  • مک‌گراث، الیستر، درآمدی بر الہیات مسیحی، ترجمہ عیسی دیباج، تہران، کتاب روشن، ۱۳۸۵ش۔
  • ہاکس، مستر جیمز، قاموس کتاب مقدس، تہران، انتشارات اساطیر، ۱۳۹۴ش۔