سید عارف حسین حسینی

wikishia سے
سید عارف حسین حسینی
Syed arif hussain.jpg
کوائف
تاریخ پیدائش سنہ 1946ء
آبائی شہر پاراچنار، پاکستان
سکونت پاراچنار، پشاور
ملک پاکستان
تاریخ/مقام شہادت پشاور، 5 اگست 1988ء
علت وفات/شہادت نامعلوم افراد کی فائرنگ
مدفن پیواڑ، پارا چنار
اولاد دو بیٹیاں 5 بیٹے
دین اسلام
مذہب شیعہ اثنا عشری
پیشہ عالم دین
سیاسی کوائف
مناصب قائد ملت جعفریہ پاکستان، تحریک جعفریہ پاکستان کے سربراہ۔
پیشرو مفتی جعفر حسین
جانشین سید ساجد علی نقوی
علمی و دینی معلومات
اساتذہ امام خمینی

سید عارف حسین حسینی (1946-1988ء) پاکستان کے مشہور شیعہ عالم، تحریک جعفریہ پاکستان کے صدر اور شیعہ قوم کے قائد تھے۔ آپ نجف اور قم کے حوزات علمیہ میں وہاں کے مشہور فقہاء من جملہ امام خمینی کے شاگردوں میں سے تھے۔ علامہ عارف حسین حسینی پاکستان میں عوام کے مذہبی، ثقافتی اور عبادی ضروریات فراہم کرنے کے علاوہ صحت اور معیشت کے لحاظ سے بھی ان کے مسائل کو حل کرتے تھے۔ انہوں نے 5 اگست سنہ 1988 کو پشاور میں اپنے مدرسے میں نماز فجر کے بعد نامعلوم افراد کی گولی کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کیا۔

ولادت اور نسب

سید عارف حسین بن سید فضل حسین 25 نومبر 1946 عیسوی کو پاکستان کے شمال مغرب میں واقع شہر پاراچنار کے نواحی گاؤں پیواڑ کے ایک مذہبی، علمی اور سادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی گاؤں پیواڑ پاک ۔افغان سرحد پر واقع ہے جس میں "غُنڈی خیل"، "علی زئی" اور "دوپر زئی" نامی قبائل آباد ہیں۔ سید عارف حسینی پختونوں کے طوری قبیلے کی شاخ "دوپرزئی" سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا سلسلۂ نسب شاہ شرف بو علی قلندر بن سید فخر ولی تک پہنچتا ہے جن کا نسب شرف الدین بوعلی شاہ قلندر ابن ابوالحسن فخر عالم تک پہنچتا ہے۔ بو علی شاہ کا مدفن ہندوستان کا شہر پانی پت اور فخر عالم کا مدفن پاراچنار کے نواحی گاؤں کڑمان ہے۔ چونکہ ان کا سلسلۂ نسب حسین الاصغر ابن علی بن الحسین (ع) تک پہنچتا ہے، لہذا ان کا خاندان "حسینی" کے عنوان سے مشہور ہے۔[1] ان کے آباء و اجداد ـ جن میں سے متعدد افراد علمائے دین اور مبلغین میں سے تھے ـ اسلامی معارف و تعلیمات کی ترویج کی غرض سے پیواڑ اور قریبی علاقوں میں سرگرم عمل رہے ہیں۔

حالات زندگی

سید عارف حسین حسینی نے اپنی طفولیت اپنے آبائی گاؤں میں گذارا جہاں انہوں نے قرآن کریم اور ابتدائی دینی تعلیمات اپنے والد کے حضور مکمل کیں۔ ان کے والد بھی علماء میں سے تھے۔ بعدازاں انہوں نے اسکول میں داخلہ لیا اور پرائمری اور متوسطہ کے بعد پاراچنار کے ہائی اسکول میں داخل ہوئے۔ سنہ 1964 میں ہائی اسکول سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد علوم آل محمد سے روشناس ہونے کیلئے مدرسہ جعفریہ پاراچنار میں داخلہ لیا جہاں انہوں نے "لقمان خیل" کے گاؤں "یوسف خیل" کے رہنے والے حاجی غلام جعفر سے کسب فیض کا آغاز کیا اور مختصر سے عرصے میں مقدمات (ادبیات عرب) مکمل کر لئے۔ آپ کو اپنی مادری زبان پشتو کے علاوہ فارسی، عربی اور اردو پر بھی عبور حاصل تھا ۔[2]

علمی سفر

سید عارف حسین حسینی سنہ 1967 میں نجف اشرف مشرف ہوئے اور نجف اور بعدازاں قم میں عربی ادب کے نامور استاد مدرس افغانی کے پاس عربی ادبیات کے تکمیلی مراحل طے کئے اور ساتھ ساتھ مختلف اساتذہ کے یہاں فقہ اور اصول فقہ کے اعلی مدارج طے کئے۔

عارف حسینی کی شہادت پر امام خمینی کے پیغام سے اقتباس


حجۃ الاسلام جناب آقائے سید عارف حسین حسینی ـ جو اسلام اور انقلاب کے ایک وفادار حامی، محروموں اور مستضعفوں کے مدافع، اور سید شھداء حضرت ابی عبداللہ الحسین علیہ السلام کے سچے فرزند تھے ـ کی شہادت پر آپ کے تغزیت و تبریک کے پیغامات اور ٹیلگرام موصول ہوئے۔ اسلامی معاشروں کے درد آشناؤں کو ـ وہی جو محرومین اور برہنہ پا انسانوں کے ساتھ میثاق خون باندھ چکے ہیں ـ جان لینا چاہئے کہ ابھی وہ جدوجہد کی اس راہ کی ابتداء میں قدم رکھے ہوئے ہیں اور استعمار و استحصال کے بند توڑنے اور خالص محمدی(ص) اسلام تک پہنچنے کے لئے انہیں طویل راستہ طے کرنا ہے۔ علامہ عارف حسین حسینی کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی بشارت نہیں ہو سکتی تھی کہ محراب عبادت سے اپنے پاک لہو میں غلطاں ارجعی الی ربک کی عروج کا نظارہ کریں اور شہد شہادت سے وصل یار کا جرعہ نوش کریں اور عدل کے ہزاروں پیاسوں کے سرچشمۂ نور تک پہنچ جانے کے گواہ بنیں۔ پاکستان کی شریف اور مسلم قوم ـ، جو بےشک انقلابی اور اسلامی اقدار کی وفادار قوم رہی ہیں، اور ہمارے ساتھ پرخلوص انقلابی، اعتقادی اور ثقافتی رشتوں میں منسلک ہیں، - کو اس شہید کے افکار کو زندہ رکھنا چاہئے اور اسے شیطانی چیلوں کو خالص محمدی(ص) اسلام کا راستہ روکنے کا موقع نہیں دینا چاہئے۔ «میں اپنے عزیز بیٹے سے محروم ہوا ہوں»۔ خداوند تعالی ہم سب کو پہلے سے زيادہ، مصائب جھیلنے کی توفیق اور شہیدوں کے روشن راستے کو دوام بخشنے کی زیادہ سے زیادہ قوت عطا فرمائے اور ستم گروں کی سازشیں اور مکاریاں ان ہی کی طرف پلٹا دے؛ اور اسلام کی باکرامت ملت کو جہاد و شہادت کے راستے میں ثابت قدمی عطا فرمائے۔

صحیفہ امام ج 21 ص 119 و 121.

عارف حسین حسینی نجف میں آیت اللہ مدنی کے حلقۂ درس میں شریک ہوئے اور ان کے توسط سے امام خمینی کی شخصیت اور کارناموں سے واقف ہوئے۔[3]۔[4] سنہ 1973 عیسوی میں انقلابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے الزام میں عراق کی بعثی حکومت نے انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا اور کچھ عرصہ بعد ملک بدر کر دیا۔ وطن واپسی کے بعد تقریبا 10 مہینوں تک پاراچنار میں تبلیغ دین میں مصروف رہے۔ انھوں نے اسی عرصے میں ازدواجی زندگی کا آغاز کیا۔[5] سنہ 1974 عیسوی میں انہوں نے دوبارہ اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے اور نجف جانے کا فیصلہ کیا لیکن حکومت عراق نے انہیں ویزا دینے سے انکار کیا؛ چنانچہ وہ اسی سال قم روانہ ہوئے اور حوزہ علمیہ قم کے اساتذہ شہید استاد مرتضی مطہری، آیات عظام مکارم شیرازی، وحید خراسانی، میرزا جواد تبریزی، محسن حرم پناہی اور سید کاظم حائری سے فلسفہ، کلام، فقہ، اصول اور تفسیر جیسے علوم میں کسب فیض کیا۔

وطن واپسی

قم میں رہائش اور حصول علم کے دوران وہ پہلوی حکومت کے خلاف علماء اور عوام کے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرتے تھے لہذا انہیں گرفتار کیا گیا۔ انہیں ایک ضمانت نامے پر دستخط کرنے کیلئے کہا گیا کہ "وہ مظاہروں اور انقلابی قائدین کی تقاریر میں شرکت نہیں کریں گے اور انقلابی راہنماؤں سے کوئی رابطہ نہیں رکھیں گے" لیکن انہوں نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کیا چنانچہ جنوری سنہ 1979 عیسوی میں انہیں ایران چھوڑ کر پاکستان واپس جانا پڑا۔ وہ سنہ 1974 سے 1979 عیسوی تک مدرسہ جعفریہ پاراچنار میں تدریس میں مصروف رہے۔ وہ جمعرات کے دن مدرسہ جعفریہ سے پشاور جاکر جامعۂ پشاور میں اخلاق اسلامی کی تدریس کیا کرتے تھے۔[6]

پاراچنار میں شہید عارف حسین حسینی کا مزار

نمائندہ ولی فقیہ

سید عارف حسین حسینی پاکستان میں امور حسبیہ اور وجوہات شرعیہ میں امام خمینی کے نمائندے اور وکیل تھے۔ [7] امام خمینی کی طرف سے نمایندگی ملنے پر عارف حسین کی قیادت مضبوط ہوگئی۔[8]

تحریک جعفریہ کی سرپرستی

مفتی جعفر حسین کے دور میں آپ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی سپریم کونسل کے رکن تھے اور اس جماعت کے ساتھ مختلف مشکل اوقات میں مفتی جعفر حسین کا ساتھ دیا اور مفتی کی وفات کے کچھ عرصہ بعد 10 فروری سنہ 1984ءعارف حسین الحسینی کو بھکر میں قوم کی قیادت کے لئے انتخاب کیا گیا اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کے سربراہ منتخب ہوئے۔[9] اور 12 فروری کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنا ہدف بیان کرتے ہوئے مفتی جعفر حسین کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے معاہدہ اسلام آباد پر عملدرآمد کرانے کا عزم ظاہر کیا اور ملک میں 1973ء کا آئین بحال کر کے عام انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔[10] اسی کانفرنس میں آپ نے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: کہ ہم ملک کے تمام شہریوں کے لئے فقہ جعفریہ کا مطالبہ نہیں کرتے بلکہ ہماری حکومت اسلامی نظام کے نام پر جو قوانین نافذ کر رہی ہے اس میں شیعیان پاکستان کے لئے فقہ جعفریہ کا اطلاق چاہتے ہیں۔ نہ ہم اپنے دیگر مسلمان بھائیوں پر اپنی فقہ نافذ کرنے کے خواہاں ہیں اور نہ ہی ہم چاہتے ہیں کہ ہم پر دوسری فقہ مسلط کی جائے۔[11] آپ کی قیادت کے دوران جن امور پر توجہ رہی ان میں سے بعض کام مندرجہ ذیل ہیں:

اتحاد بین المسلمین

آپ نے پاکستانی شیعوں کی قیادت سنبھالتے ہی اتحاد بین المومنین پر کام شروع کیا۔[12] ساتھ ہی ہر تقریر میں اتحاد بین المسلمین کی افادیت پر بھی زور دیا[13]آپ اتحاد بین المسلمین کو ضرورت کے تحت نہیں بلکہ آپ اسے ایک حقیقت سمجھتے تھے اسی لئے پوری زندگی میں کسی تحریر یا تقریر میں کسی مسلمان کو اذیت دینے والی بات نہیں کی۔ اس کی واضح دلیل یہی ہے کہ آپ نے افغانستان کی جہاد میں شہادت کی تمنا کی ہے۔[14] ذیل میں مختلف مواقع پر اتحاد بین المسلمین کے بارے میں آپ کے بعض اقوال کی طرف اشارہ کیا ہے:

  • مارچ سنہ 1984 کو بھکر میں آپ نے فرمایا: شیعہ اور سنی مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے تاریخی اختلافات کو حدود میں رکھیں کیونکہ وہ ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہیں؛ ان کا مشترکہ دشمن امریکہ، روس اور اسرائیل ہیں۔۔۔ لذہا ایسے میں ضروری ہے کہ ہم اپنے فروعی اختلافات کو بھولا کر اسلام دشمنوں کے خلاف مشترکہ موقف اختیار کریں۔[15]
  • اگست سنہ 1985ء کو ملتان میں کہا: ہم ہر ظالم کے خلاف آواز بلند کریں گے چاہے یہ مظالم فلسطین میں ہوں یا لبنا میں، فلپائن میں ہوں یا ایریٹریا میں، افغانستان میں ہوں یا ہندوستان میں۔[16]
  • سنہ 1986 کو لاہور میں فرمایا: ہمیں چاہئے کہ افغانستان، لیبیا، لبنان، فلسطین اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی آواز کے لئے مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیں۔ اگر ہم متحد ہونگے تو پھر دنیا بھر کی کوئی طاقت مسلمانوں کو شکست نہیں دے سکتی۔[17]
  • جب ڈیرہ اسماعیل خان میں روٹ کا مسئلہ ہوا اور انتظامیہ نے آپ سے اس مسئلے کو حل کرنے کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا: مجھے مولانا فضل الرحمان پر اعتماد ہے وہ اس معاملہ میں جو فیصلہ کریں گے ہم اس کا احترام کریں گے۔[18]
  • فروری سنہ 1986 کو لاہور میں فرماتے ہی: وقت کا تقاضا ہے کہ نوجوان نسل بلاتفریق مذہب اور تنظیم اٹھ کھڑی ہو اور دنیا بھر کے مظلومین اور محرومین کو اپنے ساتھ ملاکر مشرق و مغرب کی باطل قوتوں کو کرہ ارض میں سمٹ جانے پر مجبور کردے۔[19]
  • 6 جولائی سنہ 1987 کو قرآن و سنت کانفرنس لاہور سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اسلام کے نام پر انتشار پھیلانے والوں کو ذہنشین کرلینا چاہئے کہ وہ اسلام کی نہیں بلکہ امریکہ کی خدمت کر رہے ہیں۔[20]
  • ایک اور جگہ فرماتے ہیں: ہمیں ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ ساتھ عقائد اور مقدسات کا بھی احترام کرنا چاہئے کیونکہ ہم آپس کے جذبہ اخوت اور برادری کے ذریعے ہی اسلام دشمنوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔[21]

عبدالقدوس نامی اہل سنت عالم کہتے ہیں کہ اتحاد بین المسلمین کی سید عارف حسین الحسینی برصغیر کی تاریخ میں پلے شیعہ عالم دین اور رہنما تھے جو نہ صرف شیعہ اور سنی اتحاد کے قائل تھے بلکہ وہ دیوبندی اور بریلوی اور اہلدیث کے اتحاد کے دل سے خواہاں تھے۔ انہوں نے کئی بار اہلسنت علماء کے درمیا صلح کرائی۔[22] آپ نے فرقہ واریت کے پرآشوب دور میں 12 ربیع الاول سے 17 ربیع الاول تک کے ایام کو ہفتہ وحدت ے منسوب کیا۔[23]

قرآن و سنت کانفرنسوں کا انعقاد

آپ کی قیادت کے بعد ایک ملک گیر کنونشن طلب کئے جانے کی ہر طرف سے درخواست تھی جس کے نتیجے میں 6 جولائی سنہ 1987ء کو مینار پاکستان پر پہلی قرآن و سنت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں ملکی اور غیر ملکی صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔[24] اس کے بعد ملک کے مختلف شہر ملتان،[25] فیصل آباد،[26] ڈیرہ اسماعیل خان،[27] اور بعض دیگر شہروں میں بھی قرآن و سنت کانفرنس منعقد ہوئی۔[28]

سانحہ کوئٹہ اور آپ کا موقف

شیعہ مطالبات پر عملدرآمد نہ ہونے پر 6 جولائی کو ملک بھر میں احتجاج کیا گیا اور اس دوران کوئٹہ میں سانحہ رونما ہوا اور 17 شہید ہوئے۔ آپ پشاور سے لاہور احتجاجی جلسے میں شریک ہوئے وہاں سے بعض دیگر علماء کے ساتھ کوئٹہ پہنچے تو آپ کو ائیرپورٹ پر جہاز سے اترنے نہیں دیا اور کراچی میں اتار دیا۔[29] وہاں سے اسلام آباد جاکر سپریم کونسل کا جلسہ طلب کیا اور جلسے کے دوران پولیس نے محاصرہ کیا اور آپ کو اسلام آباد بدر کیا گیا وہاں سے کوہاٹ لے جاکر نظر بند کیا گیا اور پھر پاراچنار پہنچا کر وہیں گھر پر محصور کیا۔ لیکن آپ روپ بدل کر چند دنوں کے اندر پشاور پہنچے اور پریس کانفرنس کی۔[30] شیعہ مطالبات پر عملدرآمد نیز سانحہ کوئٹہ کے اسراء کی رہائی کے لئے حکومت کو 19 اپریل سنہ 1986ء تک مہلت دی اور مطالبات منظور نہیں ہونے کی صورت میں یک مئی کو کوئٹہ کی طرف ملک بھر سے لانگ مارچ ہوگا۔[31] 22 مئی کی شام کو گورنمنٹ نے تحریک جعفریہ کے تمام مطالبات منظور کردئے اور لانگ مارچ منسوخ ہوئی۔[32]

جماعت کی ملکی سیاست میں شرکت

عارف حسین الحسینی نے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے قومی پلیٹ فارم سے ملکی سطح پر سیاسی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا تو لاہور میں ایک اجلاس کے دوران آپ کو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا مگر آپ ڈٹے رہے اور فرمایا کہ میں جو کہہ رہا ہوں وہ امام خمینی کے کہنے پر کہہ رہا ہوں۔ اجلاس سے باہر نکل کر سب سے پہلے محمد علی نقوی کو بلوایا اور آپ سے پوچھا کہ اجلاس میں میری بات نہیں مانی گئی تم مجھے بتاو تم میرے ساتھ ہو یا نہیں؟ ڈاکٹر نقوی نے بے ساختہ کہا کہ آغا "آپ کو چھوڑنا اسلام کو چھوڑنا ہے میں آپ کے ساتھ ہوں"۔ الیکشن والی بحث نے بعد میں بہت شدت اختیار کی۔[33]

سنہ 23 مارچ 1986 کو لاہور میں وفاق المدارس کے اجلاس ہوا جس میں اس موضوع کو بھی دانستہ طور پر ایجنڈے کا حصہ بنایا گیا اس اجلاس میں اس وقت کے تمام علماء کرام اور مدارس کے طلاب بھی جمع تھے سب نے مل کر شہید حسینی کے سیاسی میدان میں اترنے کی شدید مخالفت کی اور بہت سخت تقاریر کی گئیں لیکن شہید قائد اس مشکل کو بھی عبور کرگئے۔[34]

بین الاقوامی مسائل پر توجہ

آپ پاکستان مسائل کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کے مسائل پر پوری توجہ رکھتے تھے جس کی چند ایک مثالیں درج ذیل ہیں:

جہاد افغانستان

افغانستان اور روس کے جنگ کے بارے میں آپ نے عوام سے کہا کہ وہ افغان بھائیوں کی اس قدر خدمت کریں کہ رسول خدا کے دور کے انصار کی یاد تازہ ہو جائے، اور آپ نے پشاور میں افغانستان کے مجاہدین کے لئے قرآن فہمی، تقوی اور جہاد کا درس دیا۔ اور افغان مجاہدین کے رہنماؤں سے کئی بار ملے۔[35] اسی سبب آیت اللہ آصف محسنی فرماتے ہیں: پاکستان میں سید عارف حسین الحسینی سے بڑھ کر جہاد شناس اور شہادت کا شیدائی کوئی نہیں۔[36]

گلبدین حکمت یار آپ سے ملنے مدرسہ جعفریہ پاراچنار آئے اور اس ملاقات میں یہ فیصلہ کیا کہ مستقبل قریب میں گلبدین ایران کا دورہ کریں اور وہاں کے قائدین سے تبادلہ خیال کریں اور اس دورے کی کامیابی میں عارف حسینی نے اہم کردار ادا کیا۔[37] آپ نے افغان مجاہدین کو سراہتے ہوئے فرمایا: روس کی فوج جہاں کہیں داخل ہوئیں وہ علاقہ ان کی جغرافیائی حدود کا حصہ بن گیا جیسے: ثمرقند، بخارا، بلخ و آذربائیجان۔ مگر افغانستان کے غیور مسلمانوں نے سوویت یونین کے تسلط سے چھٹکارے کے لئے اپنے خون سے جدوجہد کی وہ داستان رقم کی کہ میخائل گورباچوف بھی اس بات کے معترف ہیں۔ اور کہتا ہے کہ روسی فوجیں افغان مسلمانوں کے جذبہ جہاد کے مقابلہ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔[38]

آپ نے لاہور میں ایک موقعے پر فرمایا کہ «روس اور امریکہ آپس میں اختلاف یا اتفاق کر سکتے ہیں مگر یہ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں بن سکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ روس اور امریکہ کسی بھی وقت اپنے مفادات کے پیش نظر صلح کر لیں اور افغانستان کے جہاد کو سبوتاژ کردیں۔»[39] افغانستان کے معاملے میں حکومت پاکستان کے بارے میں آپ نے اپنا شفاف موقف پیش کرتے ہوئے جنیوا معاہدے کو ماننے پر شدید تنقید کیا۔[40]

جہادِ افغانستان کے حوالے سے آپ نے بین الاقوامی شخصیات اور قائدین سے بھی رابطے کئے۔ ایران کے سابق صدر اور روحانی پیشوا سید علی خامنہ ای اور افغانستان کے معاملات کے لئے وزارت خارجہ ایران کے ذمہ دار نجفی، لبنان کے مہدی شمس الدین، جزب اللہ لبنان کے سید عباس موسوی، عراق حزب الدعوۃ کے قائدین اور دیگر ممالک کی شخصیات سے رابطہ کیا:[41]

اسی لئے افغانستان کی شخصیات نے آپ کی شہادت پر کچھ یوں درد و غم کا اظہار کیا: احمد شاہ احمد زئی سابق صدر عبوری حکومت مجاہدین افغانستان: سید عارف حسین جہاد افغانستان کے مخلص پشت پناہ تھے ان کی قدر و منزل ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رےگی۔[42] مولوی نصر اللہ منصور امیر حرکت انقلاب اسلامی: افغان جہاد کے نڈر سپور کی شہادت عالم اسلام کے تمام مجاہدوں کے لئے باعث رنج و الم ہے۔[43] برہان الدین ربانی، رہنما جمعیت اسلامی: علامہ شہید جارحیت کے مقابلے میں افغان عوام کے زبردست حامی تھے اس لئے وہ ہمیشہ محسن افغانستان کی حیثیت سے یاد رکھے جائیں گے۔» [44]

آصف محسنی رہنما حرکت اسلامی: مرحوم کی شہادت سے جہاد افغانستان کی روح کو دھچکا پہنچا ہے کیونکہ آپ نے افغان مجاہدین کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرکے اسلام کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔»[45]

ایران میں اسلامی انقلاب

ایران میں اسلامی انقلاب سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے البتہ یہ عقیدت انقلاب سے پہلے سے تھی جب امام خمینی نے تحریک کا آغاز کیا تھا۔ نجف اور قم میں آپ ہمیشہ شہنشاہ ایران کے خلاف ہر مظاہرے میں شریک ہوتے تھے۔[46] آپ نے ملکی دورہ جات میں ایران پر مسلط جنگ اور عراق کی جارحیت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسلامی انقلاب کی حمایت کی۔[47] آپ نے جہان اپنے ملک میں اسلامی انقلاب متعارف کرایا وہاں ایران کے محاذوں پر لڑنے والے مجاہدین سے بھی رابطہ استوار کیا۔[48]

سنہ 1986 میں کاروان کربلا تشکیل دیا جو افغانستان اور ایران کے مجاہدین کے دوش بدوش جہاد میں حصہ لینے کا عزم کیا۔[49]

جب عراق نے ایران کے خلاف کیمیائی گیس استعمال کیا تو آپ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام خط لکھا اور اس میں عراق کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔[50]

مسئلہ فلسطین اور لبنان

بیت المقدس کی آزادی اور لبنانی و فلسطینی مسلمانوں کے حقوق کے لئے ہر ممکن جد و جہد کی اور حزب اللہ کے قائدین سے رابطہ کیا اور ہر مرحلے پر حمایت کا یقین دلایا۔[51] آپ فرماتے ہیں: قدس کی آزادی اقوام متحدہ کی قراردادوں سے نہیں بلکہ ایک مسلح جہاد اور مستحکم قیام کے ذریعے ممکن ہے۔[52] یوم القدس کی اہمیت کے پیش نظر آپ نے لاہور میں تمام علما اور آئمہ مساجد کو اکھٹا کیا جبکہ مارشل لاء کا دور تھا جس میں امریکہ کے خلاف بات کرنا بھی جرم تصور کیا جاتا تھا۔[53] ایک موقعے پر آپ نے فرمایا: تمام مسلمان ایک جسم کے اعضاء کی مانند ہیں ہم افغانستان، لبنان، فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔»[54] آپ نے فلسطینی حریت پسندوں کی تحریک کی حمایت میں ملک بھر میں قدس کمیٹیاں تشکیل دینے کا حکم دیا۔[55]

آمریت کے خلاف جدوجہد

آپ نے ضیاء کی آمریت کے خلاف بہت کوشش کی اور ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا۔۔۔

اخلاقی خصوصیات

سید عارف حسین نہایت ملنسار، خوش اخلاق اور خاضع اور اخلاقی صفات کی حامل شخصیت تھے جس کی بعض مثالیں پیش کرتے ہیں:

سادہ زیستی

جس دن آپ قائد منتخب ہوئے اسی رات جب سناٹا چھاگیا اچانک حاجی کمال کی آنکھیں کسی آواز سے کھل گئیں تو دیکھا سید عارف حسینی سجدہ ریز ہیں اور زار و قطار رو رہے ہیں، حاجی نے کہا کہ یہ تو خوشی کا مقام ہے اور آپ رو رہے ہیں تو جوابا فرمایا: حاجی تم تو جانتے ہو پاراچنار مدرسے سے بطور مدرس 1200 روپے تنخواہ لیتا ہوں اور اس محدود آمدنی سے آج تک ہفتے میں دو دفعہ اپنے بچوں کو گوشت نہیں کھلایا ہے جو شخص اپنے مختصر گھر کی کفالت سے عاجز ہے تو پوری قوم کی کفالت اور رہنمائے کیسے کرے گا۔[56]

ملازمین سے آپ کا رویہ[57]

آپ کا ملازم حسین علی کہتا ہے کہ ایک رات پشاور دفتر میں آپ نماز شب کے لئے جاگے ہیں تو اور پھر نماز کے بعد سونا چاہا تو دیکھا آپ کے دوسرے کسی ملازم کی ٹانگیں آپ کے بستر پر ہیں تو آپ نے اسے جگانا گوارا نہیں کیا اور میلی سی دری پر اخبار بچھا کر اپنی عباد ڈال دی اور بازو سر کے نیچے رکھ کر سوگئے۔[58]

  • اپنے چوکیدار کو ایک سفارشی خط دیتے ہیں کسی ادارے کے لئے مطلوبہ شخص نے جب خط کھولا اور کرسی پر بٹھا کر بتایا کہ سید عارف نے خط میں تمہیں بھائی لکھا ہے۔[59]
  • ایک بار آپ ملکی دورے پر تھے آپ کے گھر کے خادم نے بچوں کو تھپڑ رسید کر دیا آپ دورے سے واپس تشریف لائے تو آپ کے بیٹے نے ماجرا سنایا اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ وہ کون ہوسکتا ہے ہمیں تھپڑ مارنے والا! تو آپ نے دونوں کو پکڑ کر عبداللہ کے پاس لے آئے اور ان سے وجہ پوچھے بغیر اپنے بچوں سے کہا کہ عبداللہ سے معافی مانگو، بچوں معافی مانگی۔[60]
  • آپ کے ڈرائیور کا کہنا ہے کہ جب کبھی گاڑی چلاتے ہوئے میوہ کھانے کا موقع ملتا تو آپ میوہ کاٹ کر میرے منہ میں دیدیتے تھے اور کئی بار معذرت کی مگر آپ فرماتے تھے کہ «آپ کے دونوں ہاتھ مصروف ہیں اس لئے ایسا کرنا ہمارا فریضہ ہے۔»[61]

بیت المال کا خیال آپ تنظیمی وسائل کا استعمال صرف تنظیم کی حد تک کرتے تھے۔ لذا جب کبھی سفر پر گئے تو تنظیم کی گاڑی گھریلو امور میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔[62] آپ کے گھر پر آنے والے بیش بہا تحفے گھر پر استعمال کے بجائے مستحقین میں بانٹتے تھے۔[63]

شہادت

علامہ سید عارف حسین حسینی نے مورخہ 5 اگست سنہ 1988ء بمطابق 21 ذی‌الحجہ 1408ھ کو اپنے مدرسے، دار المعارف الاسلامیہ میں نامعلوم افراد کی گولی کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کیا۔ آیت اللہ جنتی کی سربراہی میں ایک اعلی سطحی ایرانی وفد آپ کی آخری رسومات میں شرکت کے لئے پشاور پہنچا۔ آپ کی نماز جنازہ آیت اللہ جنتی نے پڑھائی۔ بعدازاں شہید کی میت ہیلی کاپٹر کے ذریعے ان کے آبائی شہر پاراچنار منتقل ہوئی وہاں سے انہیں اپنے آبائی گاؤں پیواڑ لے جایا گیا جہاں انہیں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپر خاک کیا گیا۔ پاکستان کے اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق نے بھی ایک اعلی سطحی وفد کے ہمراہ پشاور جاکر شہید کے جنازے میں شرکت کی۔

امام خمینیؒ کا پیغام

امام خمینی نے شہید کے جنازے میں شرکت کے لئے آیت اللہ جنتی کی سربراہی میں ایک اعلی سطحی وفد پاکستان روانہ کیا اور ان کی شہادت کے موقع پر پاکستان کے علماء اور قوم و ملت کے نام جاری ایک مفصل پیغام میں[64] انہیں اپنا "فرزند عزیز" قرار دیا۔[65]

تصویری گیلری

حوالہ جات

  1. رضا خان، سفیر نور، ص23۔
  2. نقوى، تذكره علماى امامیہ پاكستان، ص 155، 159۔
  3. رضا خان، سفیر نور، ص33۔
  4. نقوى، تذکرہ علمای پاکستان، ص155۔
  5. رضا خان، سفیر نور، ص44۔
  6. رضا خان، سفیر نور، ص56ـ57۔
  7. صحیفہ امام ج14 ص506، موضوع: مجوز استفاده از سهم امام (ع) در امور تبلیغات اسلامی در پیشاور پاکستان؛ مخاطب: سید عارف حسین، حسینی۔
  8. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص114
  9. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص91۔
  10. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص100۔
  11. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص100۔
  12. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص170
  13. ملاحظہ کریں: تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص170 تا ص190۔
  14. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص171
  15. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص173۔
  16. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص173۔
  17. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص174۔
  18. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص176۔
  19. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص177۔
  20. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص177۔
  21. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص185۔
  22. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص187۔
  23. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص183۔
  24. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص254۔
  25. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص266۔
  26. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص268۔
  27. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص271۔
  28. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص271۔
  29. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص139۔
  30. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص133۔
  31. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص145۔
  32. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص146۔
  33. افکار شہید قائد(رح)کے منابع، حوزہ نیوز ایجنسی۔
  34. افکار شہید قائد(رح)کے منابع، حوزہ نیوز ایجنسی۔
  35. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص196۔
  36. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص197۔
  37. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص197۔
  38. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص198۔
  39. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص199۔
  40. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص200۔
  41. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص202۔
  42. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص203۔
  43. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص203۔
  44. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص203۔
  45. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص205۔
  46. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص206۔
  47. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص207۔
  48. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص209۔
  49. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص210۔
  50. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص212۔
  51. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص217۔
  52. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص217۔
  53. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص219۔
  54. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص219۔
  55. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص220۔
  56. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص94۔
  57. ملاحظہ فرمائیں تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص281 تا ص290۔
  58. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص282۔
  59. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص282۔
  60. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص284۔
  61. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص287۔
  62. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص293۔
  63. تسلیم رضا خان، سفیر نور، ص294۔
  64. صحیفہ امام ج 21، ص 119۔
  65. صحیفہ امام ج 21، ص 121۔


مآخذ

  • زندگی نامہ علامہ شہید عارف حسین الحسینى از ولادت تا شہادت، تہیہ كنندہ: مؤسسہ شہید الحسینى، قم: نشر شاہد، 1369 ہجری شمسی۔
  • تسلیم رضا خان، سفیر نور، لاہور 1998 عیسوی.
  • حسین عارف نقوى، تذكرہ علماى امامیہ پاكستان، ترجمہ محمد ہاشم، مشہد 1370 ہجری شمسی۔
  • صحیفہ امام، تہران، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1378 ہجری شمسی۔

بیرونی روابط