کتب خانہ آصفی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
کتب خانہ آصفی
کتب خانہ آصفیہ
ابتدائی معلومات
استعمال: کتب خانہ
محل وقوع: حیدر آباد دکن
دیگر اسامی: کتب خانہ آصفیہ • اسٹیٹ سینٹرل لائبریری (حیدرآباد)
مشخصات
موجودہ حالت: فعال
سہولیات: خطی نسخے، مطبوعہ کتب
معماری


کتب خانہ آصفی یا حیدر آباد سینڑل لائبریری (1891 ء)، ہندوستان کے مشہور کتب خانوں میں سے ہے جو حیدر آباد دکن میں واقع ہے۔ اس کتب خانہ کی بنیاد حیدر آباد کی آصف شاہی حکومت کے دور میں رکھی گئی۔ اسی وجہ سے اس کی شہرت آصفیہ کے نام سے ہے۔ اس کتب خانہ کی شہرت اس میں موجود منحصر بفرد و نایاب خطی نسخوں اور مختلف زبانوں کی مطبوعہ کتابوں کی وجہ سے ہے۔ کتاب الغدیر کے مولف علامہ امینی نے اپنے سفر ھند کے دوران اس کتب خانہ کا دیدار کیا تھا۔ آصف شاہی حکومت کے خاتمہ کے بعد اس کا نام حیدر آباد مرکزی لائبریری ہوگیا۔

تاریخچہ تاسیس

کتب خانہ آصفی سنہ 1891 ء بمطابق 1308 ء میں آصف شاہی حکومت کے حاکم میر محبوب علی خان نظام (دور حکومت: 1869 سے 1911 ء) کے زمانہ میں سید حسین بلگرامی و ملا عبد القیوم کی کوششوں سے حیدر آباد میں قائم ہوا اور انہوں نے ذاتی کتب خانوں کی خرید کا آغاز کیا۔[1] اس کتب خانہ کی عمارت کی تعمیر کا آغاز سنہ 1932 ء میں میر عثمان علی خان بہادر (دور حکومت: 1911 سے 1948 ء) کی حکومت میں ان کے حکم سے افضل گنج نامی محلہ میں ہوا اور سنہ 1936 ء میں اس کی عمارت میں کی تعمیر کا کام مکمل ہوا اور اس میں 300 روپئے خرچ ہوئے۔ اس سال اس کتب خانہ کی کتابوں کی تعداد ایک لاکھ جلدوں تک پہچ گئی۔[2]، [3] کچھ عرصہ کے بعد دکن کی حکومت میں اسے اپنی تحویل میں لے لیا اور اس کے لئے سالانہ بجٹ متعین کیا۔[4]

نام کی تبدیلی

چونکہ یہ کتب خانہ آصف شاہی یا آصف جاہی دور حکومت میں تاسیس کیا گیا۔ اس لئے کتب خانہ آصفیہ کے نام سے مشہور ہوا۔[5] آصف شاہی حکومت کے خاتمہ کے بعد سنہ 1956 ء میں اس کا نام بدل کر کتب خانہ مرکزی اسٹیٹ، حیدرآباد ((Hydrabad) State Central Library) کر دیا گیا۔ یہ لائبریری اپنے مخفف یا شارٹ نام S.C.L سے بھی معروف ہے۔[6]

کتابیں

فہرست کتب، کتب خانہ آصفیہ

اس کتب خانہ میں مختلف موضوعات پر مشتمل متعدد خطی و مطبوعہ کتب کے نسخے عربی، فارسی، اردو، انگریزی اور ہندوستان کی مختلف مقامی زبانوں میں موجود ہیں۔ عربی و فارسی آثار و تالیفات کی فہرست میں فقہ شیعہ و مذاہب چہارگانہ اہل سنت، علم کلام، حدیث، علم رجال، علوم قرآنی، ادبیات عرب، فلسفہ، منطق، تاریخ، جغرافیا، طب، ریاضیات و نجوم جیسے موضوعات پر کتابیں شامل ہیں۔ [7] آقا بزرگ تہرانی کے قول کے مطابق، علامہ کنتوری کے پوتے سید تصدیق حسین کنتوری (متوفی 1348 ھ) نے اس کتب خانہ میں موجود کتابوں کی فہرست آمادہ کرکے اسے سنہ 1332 ھ میں حیدرآباد دکن میں طبع کیا تھا۔[8] علامہ امینی نے اپنے ہندوستان کے سفر میں کتب خانہ آصفیہ (حیدر آباد) کے دیدار کے وقت اس میں موجود خطی نسخوں و مطبوعہ کتب کا مشاہدہ کیا تھا۔[9]

اس کتب خانہ میں کئی نادر اور نایاب کتابیں، پانچویں صدی ہجری سے دسویں صدی ہجری (گیارہویں صدی عیسوی سے سولہویں صدی عیسوی) کے قدیم نسخے، مصنفین یا ان کے بیٹوں اور شاگردوں کے قلم سے تحریر شدہ نسخے، اصل نسخوں سے استنساخ کئے گئے نسخے، سلاطین کے خزانوں کی کتب اور دانشمندوں کے کتب خانے ان کے حواشی و تعلیقات کے ساتھ موجود ہیں۔[10]

سنہ 1967 ء میں اس کتب خانہ کی 17 ہزار سے زیادہ نادر خطی کتابیں جن کا تعلق پانچویں اور چھٹی صدی ہجری سے تھا، ریاست آندھرا پردیش کے تحقیقاتی ادارے اور سرکاری کتب خانہ نسخہ شرقی (Oriental Version State Library) میں منتقل کر دی گئیں۔[11]

اس وقت کتب خانہ آصفیہ میں چار لاکھ چھیاسٹھ ہزار (466.000) سے زائد مطبوعہ کتابیں انگریزی، فارسی، عربی، اردو، ہندی، تلگو اور تمل زبانوں میں موجود ہیں۔ سنہ 1960 ء سے یہ کتب خانہ عوامی استفادہ کے لئے آزاد ہے۔ اس لائبریری کو ڈیجیٹل کرنے کا کام امریکہ کی کارنیگی میلن یونیورسٹی (Carnegie Mellon University) کے کتب خانہ کے تعاون سے انجام دیا گیا ہے۔[12]

مدیر و لائبریرین

اس کتب خانہ کے اولین انچارج مولوی سید علی حیدر طباطبائی تھے۔ ان کے انتقال کے بعد علامہ کنتوری کے پوتے مولوی سید تصدیق حسین اس کے رئیس بنے۔[13] 24 ربیع الاول 1314ھ کو انہیں اس کتب خانہ کا سرپرست منصوب کیا گیا۔ انہوں نے اس عرصہ میں کتاب شناسی، کتاب داری اور تحقیق کے لئے افراد کی تربیت کی۔ سید تصدیق نے ہزاروں کتابوں کے نسخہ بدل حاصل کئے اور ان کی فہرست تیار کی۔ انہوں نے بہت سی کتابیں اپنے بھائی کے ذریعہ سے لکھنو اور دکن میں طبع کی۔[14]

سید تصدیق کے بعد ان کے بیٹے مولوی سید عباس حسین اس کے مدیر بنے۔ اس کتب خانہ کی عربی و فارسی کتب کی فہرست کی تدوین کا کام ان کے اور ان کے بیٹے کے ذریعہ سے انجام پایا۔[15] اس کتب خانہ کی عربی، فارسی اور اردو کتب کی فہرست تدوین ہو چکی ہے۔[16]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. بخش ادبیات دائرة المعارف بزرگ اسلامی، «آصفیہ»، ج۱، ص۴۳۶.
  2. کتابخانہ مرکزی ایالت در هند‎، پایگاه خبری نسخ خطی.
  3. شهر حیدرآباد و قدمت ۵۰۰ سالہ شیعیان ایرانی، پایگاه اطلاع ‌رسانی حوزه.
  4. کتابخانہ مرکزی ایالت در هند‎، پایگاه خبری نسخ خطی.
  5. کتابخانہ مرکزی ایالت در هند‎، پایگاه خبری نسخ خطی.
  6. پایگاه خبری نسخ خطی، کتابخانہ مرکزی ایالت در هند‎.
  7. بخش ادبیات دائرة المعارف بزرگ اسلامی، «آصفیہ»، ج۱، ص۴۳۶.
  8. آقا بزرگ تهرانی، الذریعہ، دار الاضواء، ج۱۶، ص۳۹۱.
  9. رجایی، الادباء من آل ابی‌ طالب، ۱۴۳۴ق، ج۳، ص۴۰۶.
  10. بخش ادبیات دائرة المعارف بزرگ اسلامی، «آصفیہ»، ج۱، ص۴۳۶.
  11. بخش ادبیات دائرة المعارف بزرگ اسلامی، «آصفیہ»، ج۱، ص۴۳۶؛ شهر حیدرآباد و قدمت ۵۰۰ ساله شیعیان ایرانی، پایگاه اطلاع‌ رسانی حوزه.
  12. شهر حیدرآباد و قدمت ۵۰۰ سالہ شیعیان ایرانی، پایگاه اطلاع‌ رسانی حوزه.
  13. بخش ادبیات دائرة المعارف بزرگ اسلامی، «آصفیہ»، ج۱، ص۴۳۶.
  14. آشنایی اجمالی با فرزندان مرحوم مفتی محمد قلی، بنیاد فرهنگی امامت.
  15. بخش ادبیات دائرة المعارف بزرگ اسلامی، «آصفیہ»، ج۱، ص۴۳۶.
  16. کیخا، «فهرست نسخہ ‌های خطی در کتابخانه‌های هند»، ص۱۹۹.


مآخذ

  • آقا بزرگ تهرانی، محمد محسن، الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، بیروت، دار الاضواء، بی‌تا۔
  • رجایی، مهدی، الادباء من آل ابی ‌طالب، قم، کتابخانہ آیت ‌الله مرعشی، ۱۴۳۴ھ۔
  • کیخا، بتول، فهرست نامہ ‌های نسخ خطی فارسی در هند، مطالعات شبہ قاره، سال ششم، شماره۲۰، پاییز ۱۳۹۳شمسی ہجری۔
  • بخش ادبیات دائرةالمعارف بزرگ اسلامی، آصفیہ در دائرة المعارف بزرگ اسلامی، تهران، مرکز دائرة المعارف بزرگ اسلامی، ۱۳۷۴شمسی ہجری۔
  • شهر حیدر آباد و قدمت ۵۰۰ سالہ شیعیان ایرانی، پایگاه اطلاع ‌رسانی حوزه، مجلہ اخبار شیعیان فروردین ۱۳۸۷ش، شماره ۲۹.
  • کتابخانہ مرکزی ایالت در هند‎، پایگاه خبری نسخ خطی، تاریخ درج مطلب، ۱۷ تیر ۱۳۹۷ش، تاریخ بازدید، ۱۵ اردیبهشت، ۱۳۹۹شمسی ہجری۔
  • آشنایی اجمالی با فرزندان مرحوم مفتی محمد قلی، بنیاد فرهنگی امامت، تاریخ بازدید، ۱۵ اردیبهشت، ۱۳۹۹شمسی ہجری۔
  • فهرست مشروع بعض کتب نفیسہ قلمیہ مخزونہ کتب خانہ آصفیہ، بنیاد محقق طباطبایی، تاریخ بازدید، ۱۵ اردیبهشت، ۱۳۹۹شمسی ہجری۔