میر سید علی ہمدانی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
میر سید علی ہمدانی
میر سید علی همدانی.jpg
کوائف
مکمل نام سید علی بن شہاب الدین حسن ہمدانی
لقب/کنیت شاہ ہمدان، امیر کبیر، علی ثانی
نسب علویان، امام زین العابدین(ع) کی نسل سے
تاریخ ولادت 713 یا 714 ھ
آبائی شہر ہمدان
رہائش ہمدان، ماوراء النہر، کشمیر
تاریخ وفات 786 ھ
مدفن شہر کولاب، تاجیکستان
علمی معلومات
تالیفات ذخیرہ الملوک اور عربی وفارسی میں مختلف عرفانی موضوعات پر رسالے اور کتابیں
خدمات

میرسید علی ہمدانی (714-786 ء) شاہ ہمدان کے عنوان سے مشہور تھے اور ان کا لقب امیر کبیر تھا۔ وہ اہل ہمدان کے ان عرفاء میں سے تھے جو برصغیر گئے اور وہاں بالخصوص کشمیر میں اسلام اور شیعیت کو پھیلانے میں ان کا بڑا کردار تھا۔ نیز فرقہ کبرویہ کے پیر طریقت تھے۔ ان کی موت کے بعد ان کے مریدوں کو ہمدانیہ کے نام سے جانا جاتا تھا۔

ان کے مذہب کے سلسلے سے اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ محققین، ان کے افکار میں اہل بیت علیہم السلام سے عشق و محبت کو ان کے شیعہ ہونے پر دلیل کے طور پر لیتے ہیں۔ زبان فارسی اور ایرانی تہذیب کو برصغیر میں منتقل کرنے کا کام بھی ان کے اور ان کے ساتھیوں کے ہندوستان سفر کرنے کے نتیجہ میں پیش آیا ہے۔

نسب

سید علی بن شہاب ‌الدین حسن ہمدانی، 713 یا 714 ھ حکومت اولجایتو کے دور میں شہر ہمدان میں پیدا ہوئے۔ ان کا نسب والد کی طرف سے امام سجاد علیہ السلام سے ملتا تھا۔[1] اور وہ اپنی ماں کی طرف سے بھی علوی تھے۔

سفر

کشمیر میں شاہ ہمدان خانقاہ اور مسجد

کشمیر کی خانقاہ شاہ ہمدان اور مسجد شاہ ہمدان کی آثار میں ملتا ہے کہ میر سید علی ہمدانی کی زندگی کا اکثر حصہ طولانی سفروں میں گزرا۔ ان کا سفر حج، ایران کے مختلف شہروں کے سفر اور ماوراء النہرنیر ہندستان اور سری لنکا کے سفر کے بارے مین ان کے حالات زندگی سے متعلق منابع میں اس سلسلے سے مطالب موجود ہیں۔[2]

ماوراء النہر میں حضور

میر سید علی آٹھویں صدی کے بیچ میں ہمدان سے ماوراء النہر گئے اور ختلان میں قیام کیا۔ ان کے سفر کی وجہ، حکومت ایلخانان کے سقوط کے بعد کی سیاسی اتھل پتھل کو بتایا گیا ہے۔ ان کے ماوراء النہر میں بہت زیادہ مرید جمع ہو گئے تھے اور تیمور گورگانی کہ جس کا تسلط ماوراء النہر پر تھا ان کے اثر ورسوخ سے گھبرا گیا تھا۔

نقل کیا جاتا ہے کہ علما کا ایک گروہ ان کی محبوبیت سے پریشان تھا اور آخر کار ان کو مارنے کا منصوبہ بنا لیا اور کو زہر کھلا دیا۔[3] اور بادشاہ کے سامنے ان کو برا بھلا کہا گیا۔ بہت سے محققین نے انھیں باتوں کو میر سید علی کے شیعہ ہونے سے جوڑا ہے۔[4] میر سید علی کو جب تیمور لنگ کے پاس بلایا گیا اور انھوں نے اس سے ملاقات کی تو اسی کے بعد وہ ماوراء النہر سے خارج ہوئے اور کشمیر کا سفر کیا۔[5]

کشمیر میں قیام

میر سید علی نے سنہ 774 ھ میں کشمیر کا سفر کیا۔ انھوں نے کشمیر اور اس کے اطراف کے تمام بادشاہوں کو اسلام اور احکام شرعی کی رعایت کرنے کے حوالے سے خطوط بھیجے۔[6] آپ سنہ ۷۸۱ھ میں دوبارہ کشمیر گئے اس سفر میں سات سو لوگوں نے ان کی ہمراھی کی۔ میر سید علی نے سرینگر کے علاء الدین پورہ محلہ میں سکونت اختیار کی۔ شیعیت اور زبان فارسی کو کشمیر میں نشرکرنا، ان کے کشمیر کے سفر کرنے کے نتیجے میں جانا جاتا ہے۔[7] ایرانی ہنر اور دستی صنعتوں کو بھی خوب رونق ملی جو کے ان کے سفر کشمیر کے دیگر نتائج میں سے تھے۔ میر سید علی ہمدانی اپنی زندگی کو ٹوپی بنا کر کے گزارتے تھے۔ البتہ ان کے وہاں جانے سے شال بافی کی صنعت کشمیر میں دوبارہ زندہ ہو گئی۔[8]

وفات

تاجیکستان میں میر سید علی ہمدانی کا مقبرہ

سید علی ہمدان سنہ 786 ھ میں جب کشمیر سے واپسی میں ترکستان جا رہے تھے تو پاخلی نامی جگہ پر انتقال کر گئے۔ ان کے جنازہ کو ختلان لے جایا گیا اور وہیں پر دفن کر دیا گیا۔[9] ان کے مقبرہ کی عمارت کولاب تاجکستان میں ہے۔ مقبرہ ایسے باغ میں ہے جہاں ان کی بہت سی اولادیں اور پوتے نواسے بھی دفن ہوئے ہیں۔ یہ عمارت ایسا کتبخانہ ہے کہ جو میر سید ہمدانی کے آثار میں سے قدیم قلمی نسخوں پر مشتمل ہے.[10] سرینگر کشمیر کی خانقاہ معلا جو ان کی قیام گاہ تھی اب مسلمانوں اور سلوک عرفانی کے ماننے والوں کی زیارت گاہ ہے۔

روش عرفانی

سید علی ہمدانی کا شمار فرقہ عرفانی کبرویہ میں ہوتا تھا۔ ان کو مذہبی عرفاء میں شمار کیا جاتا تھا انھوں نے اپنے آثار میں بھی شریعت کی پابندی پر تاکید کی ہے۔[11] ان کے ماموں سید علاء الدین نے بچپن میں ان کی تعلیم و تربیت کا ذمہ لیا تھا، میر سید علی اپنے ماموں کو اولیاء اللہ میں شمار کیا ہے۔[12]

سید کے اہم ترین استادوں میں سے علی شیخ مزدقانی ہیں جو علاء الدولہ سمنانی کے شاگرد اور فرقہ کبرویہ کے مشایخ میں سے تھے۔ نیز شیخ اخی علی دوستی سمنانی اور قطب الدین نیشاپوری بھی ان کے اساتذہ میں سے تھے۔ ان کے شاگردوں اور مریدوں میں سے جو ان کے ساتھ تھے مندرجہ ذیل افراد کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے:

  • نور الدین جعفر رستابازاری بدخشی (797-740ء) کہ جنھوں نے خلاصۃ المناقب نام کا رسالہ لکھا ہے جس میں میر سید علی کےحالات زندگی ہیں۔
  • خواجہ اسحاق بن امیر ارامشاہ علیشاھی ختلانی (731-827 ھ) کہ جو سید کے بعد ان کے جانشین بنے۔ یہ فرقہ ابو اسحاق کے بعد دو گروہ میں تقسیم ہو گیا، ایک گروہ ذہبیہ کے نام سے جانا جانے لگا اور دوسرا سید محمد نور بخش سے منسوب ہو گیا اور اس کا نام نور بخشیہ پڑگیا۔[13]

عبداللہ بن شیخ رکن الدین شیرازی، برہان الدین بن عبد الصمد، قوام الدین بدخشی، علاء الدین حصاری، باباکاء شیرازی، شمس الدین بدخشی، محمد طالقانی و محمد سرای ایستی بھی ان کے شاگردوں میں سے تھے۔

تشیع

مورخین کے نزدیک سید علی ہمدانی کے مذہب کے سلسلے سے اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ ان کے کچھ آثار، ان کے شیعہ ہونے پر دلالت کرتے ہیں ((المودة فی القربی و اھل العبا)) جو اہل بیت علیہم السلام کی فضیلت کے حوالے سے احادیث کا مجموعہ ہے۔[14] ان کے ان آثار کو مد نظر رکھتے ہوئے بہت سے شرح حال لکھنے والوں نے ان کو شیعوں کے زمرے میں جانا ہے۔ آقا بزرگ طہرانی نے الذریعہ میں قاضی نور اللہ شوشتری سے نقل کرتے ہوئے کتاب مودۃ فی القربی کومیر سید علی کے شیعہ ہونے پر دلیل جانا ہے۔[15] ان کے دوسرے آثار سے بھی ان کے شیعہ ہونے کا احتمال دیا جا سکتا ہے مثلا اس سلسلہ میں ان کے رسالے- انسان کامل اور اسرار وحی- کا نام لیا جا سکتا ہے۔[16]اس طرح کے اور دوسرے شواہد کی بنا پر بہت سے مؤرخین نے ان کے شیعہ ہونے میں کسی طرح کے شک و شبہہ کو جائز نہیں جانا ہے۔[17]

آثار

میر سید علی نے مختلف عرفانی، اعتقادی، اورادبی موضوعات پر قلم فرسائی کی ہے۔ ان کے زیادہ تر آثار فارسی میں ہیں اورکچھ رسالے زبان عربی میں بھی موجود ہیں۔ ذخیرۃ الملوک کو چھوڑ کر ان کے اکثر آثار کتابچہ کی صورت میں ہیں۔ ان کے کچھ آثار مندرجہ ذیل ہیں:

فارسی رسالے:

  • ذخیرہ ‌الملوک؛ جو ان کی مشھور اور مفصل ترین تصنیف اور ایک سیاست نامہ بھی ہے۔ زیادہ تر اس کے مطالب غزالی کی کتاب احیاء العلوم سے لئے گئے ہیں۔
  • مرآة التائبین؛ موضوع توبہ پر
  • سیر الطالبی؛ عرفانی سلوک کے آداب میں
  • رسالہ اعتقادیہ؛ معرفت خدا میں
  • مشارب الاذواق؛ شرح قصیدہ میمیہ ابن فارض
  • رسالہ دہ قاعدہ؛ خدا تک پہونچنے کے راستے
  • رسالہ منامیہ؛ خیال اور سونے اور خواب کے مراتب کی کیفیت کے بارے میں
  • رسالہ حل مشکل؛ عرفانی موضوع میں
  • واردات امیریہ؛ مناجات و کلمات قصار
  • رسالہ درویشیہ؛ سلوک عرفانی میں پیر کے ہاتھ خود سپردگی کی ضرورت کے بارے میں
  • رسالہ فتوتیہ؛ شرح فتوت میں
  • رسالہ ذکریہ؛ تفسیر اذکار میں
  • رسالہ عقل؛ عقل کے مراتب، معنا اور فضیلت کے بارے میں
  • رسالہ فقریہ؛ اولیاء اور ان کے حالات بارے میں
  • اسرار وحی؛ خدا کے ساتھ شب معراج پیغمبر کے مکالمہ کے سلسلے سے
  • چہل حدیث؛
  • رسالہ چہل مقام صوفیہ؛
  • رسالہ حقیقت ایمان؛ عرفانی اور خدا شناسی کے مطالب
  • رسالہ‌ موچلکہ؛ ما من حرف من القرآن الا و لہ ستون الف فہم کی وضاحت میں
  • رسالہ حق الیقین؛ تفسیر آیہ للہ ملک السماوات و الارض
  • نوریہ؛ آداب عرفانی میں
  • رسالہ تلقینیہ؛ تزکیہ نفس کے بارے میں
  • رسالہ ہمدانیہ؛ توضیح مسائل عرفانی
  • رسالہ بہرامشاہیہ؛ نصیحت بہرام بدخشانی
  • رسالہ عقبات؛ حقیقت ایمان
  • وجودیہ؛ وجود مطلق کے بارے میں
  • چہل اسرار یا غزلیات؛ غزلیات سید کا مجموعہ
  • منہاج العارفین؛ پند نامہ

عربی رسالے:

  • اسرار النقطہ؛ اسرار حروف
  • رسالہ در باب علمائے دین؛
  • رسالہ صفہ الفقراء؛ شرح فقر میں
  • اربعین امیریہ؛ چالیس حدیثیں
  • ذکریہ عربیہ؛ فضیلت ذکر
  • رسالہ انسان الکامل؛ وحدت وجود کے موضوع پر ایک رسالہ
  • اورادیہ؛ اوراد و اذکار کی فضیلت اور ضرورت کے سلسلہ میں
  • المودہ فی القربی؛ اہل بیت علیہ السلام کے سلسلہ میں احادیث پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ
  • حل الفصوص؛ فصوص الحکم کی شرح میں[18]

تقریبات اور سیمینار

میر سید علی ہمدانی کی (۷۰۰) سات سو ویں سالگرہ کے موقع پر آپ کا نام یونسکو کے اندر سنہ ۲۰۱۴-۲۰۱۵ء میں رجسٹرڈ ہوا۔[19] اسی مناسبت سے ایران کی سازمان فرہنگ و ارتباطات اسلامی اور یونسکو قومی کمیشن نیز دیگر ثقافتی اداروں کے تعاون سے ۲۵ نومبر سنہ ۲۰۱۴ء کو ایک بڑی تقریب منعقد ہوئی۔[20]

۲۰/۲۱/اکتوبر سنہ ۲۰۱۵ء کو پہلا میر سید علی ہمدانی بین الاقوامی سیمینار شہر ہمدان میں پیام نور یونیورسٹی کی جانب سے اور ہمدان بلدیہ نیز دیگر متعدد تحقیقی اداروں کے تعاون سے منعقد ہوا۔ [21]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. ہمدانی، شاہ ہمدان میر سید علی ہمدانی، ص۱۲۔
  2. ریاض، احوال و آثار و اشعار میر سید علی ہمدانی، ص۲۸۔
  3. خلاصہ المناقب، ص۲۶۸۔
  4. اذکائی، مروج اسلام در ایران صغیر، ص۷۸۔
  5. خلاصہ المناقب، ص۳۶۹-۳۷۰۔
  6. اذکائی مروج اسلام در ایران صغیر، ص۴۶۔
  7. ہالیستر، تشیع در ہند، ص۱۶۳۔
  8. عطایی، نقش میر سید علی ہمدانی در توسعہ ہنر و صنایع دستی در کشمیر، ص۲۱۰-۲۱۱
  9. اذکایی، مروج اسلام در کشمیر، ص۸۷؛ ریاض، احوال و آثار و اشعار میر سید علی ہمدانی، ص۷۳۔
  10. «شاہ ہمدانی» شاعر و عارف ایرانی آرمیدہ در تاجیکستان، فارس خبر رساں ایجینسی۔
  11. اذکائی، مروج اسلام در ایران صغیر، ص۲۳-۲۴ و ۳۲
  12. بدخشی، خلاصہ المناقب، ص۱۳۔
  13. اذکائی، مروج اسلام در ایران صغیر، ص۲۰-۳۰.
  14. هالیستر، تشیع در هند، ص۱۶۴؛ انواری، میر سید علی همدانی و تحلیل آثار او، ص۳۶۱-۳۶۲
  15. طہرانی، الذریعہ، ج۲۵، ص۲۵۵ و ج۱۰، ص۲۱
  16. انواری، میر سید علی ہمدانی و تحلیل آثار او، ص۳۳۰، ۳۵۹
  17. اذکائی، مروج اسلام در ایران صغیر، ص۲۵-۲۹
  18. میر سید علی ہمدانی و تحلیل آثار او، از ص۲۰۳ بہ بعد۔
  19. Celebration of anniversaries in 2014
  20. ایران میں قومی یونسکو کمیشن کی سائٹ
  21. میر سید علی ہمدانی بین الاقوامی سیمینار کی سائٹ: http://www۔mirsah۔ir/


مآخذ

  • «شاہ ہمدانی» شاعر و عارف ایرانی آرمیدہ در تاجیکستان، خبرگزاری فارس، تاریخ انتشار: ۸ مرداد ۱۳۹۱ش۔
  • اذکائی، پرویز، مروج اسلام در ایران صغیر، احوال و آثار میر سید علی ہمدانی بہ انضمام رسالہ ہمدانیہ، انتشارات دانشگاہ بوعلی سینا با ہمکاری انتشارات مسلم ہمدان، ۱۳۷۰ش۔
  • انواری، سید محمود،میر سید علی ہمدانی و تحلیل آثار او، نشریہ دانشکدہ ادبیات و علوم انسانی تبریز، شمارہ ۱۲۳، پاییز ۱۳۵۶ش۔
  • ریاض، محمد، احوال و آثار و اشعار میر سید علی ہمدانی، اسلام‌آباد پاکستان، مرکز تحقیقات فارسی ایران و پاکستان، ۱۹۸۵م۔
  • عطایی، عبداللہ، نقش میر سید علی ہمدانی در توسعہ ہنر و صنایع دستی در کشمیر، مجلہ، آینہ میراث، سال ششم، شمارہ چہارم، زمستان ۱۳۷۸ش۔
  • ہالیستر، جان نورمن، تشیع در ہند،‌ آزرمیدخت مشایخ فریدنی، تہران، مرکز نشر دانشگاہی،‌ ۱۳۷۳ش۔
  • ہمدانی، سید حسین شاہ، ترجمہ محمد ریاض خان، شاہ ہمدان، میر سید علی ہمدانی، اسلام آباد پاکستان، مرکز تحقیقات فارسی ایران و پاکستان، ۱۹۹۵م۔
  • ہمدانی، میر سید علی، رسالہ اعتقادیہ، تحقیق احسان فتاحی اردکانی، فصلنامہ میثاق امین، پیش شمارہ سوم،‌ تابستان ۱۳۸۶ش۔